اردو سرگرمیاں

پاک قافکو کمیونٹی کی جانب سے تقریبِ استحسان و پذیرائی اور مشاعرے کا انعقاد

تدوینِ رپورٹ:  ساؔنول عباسی

 پاک قافکو کمیونٹی کی جانب سے 13 جولائی 2018 بروز جمعہ بمقام البنوش کلب مسعید میں تقریبِ استحسان و پذیرائی اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں دوحہ قطر میں قیام پذیر انڈیا، نیپال اور پاکستان کے بہترین شعراء کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔

تقریب کے مہمانانِ خصوصی جناب فاروق احمد صاحب، جناب محمد نواز اکرم صاحب، جناب رانا محمد ایوب صاحب اور جناب فرقان احمدپراچہ صاحب تھے۔

راقم نے تقریب کا باقاعدہ آغاز اللہ کے نام سے کچھ اس طرح کیا:

شروع اللہ کے نام سے جس کے قبضہ ء  قدرت میں زمامِ کائنات ہے جسکی ذات و صِفات کا بیان زبان و قَلَم سے ماوراء ہے جسکے بابرکت ناموں کی صداؤں سے ریگزار و گلزار گونج رہے ہیں، جس کے جلوے سُپیدَہ سَحَر كى خوابيده آنکھوں سے سرخیِ شام کی بوجھل پلکوں تک، چڑیوں کی چہچہاہٹ سے آبشاروں کی گنگناہٹ تک بکھرے ہوئے ہیں جس کی محبت و کرم فرمائی کے بغیر آدم کی حیاتِ جاوداں میں سرخروئی ممکن نہیں۔

تو آئیے ہم بھی حریمِ  دل کے ویراں نہاں خانوں کو اُس نورِمُطلَق كے ذکر سے منور کریں۔

سناؤ نغمئہ قرآن کہ ہم بیدار ہو جائیں
اندھیروں سے نکل کر صاحبِ انوار ہو جائیں

تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت کے لئے جناب مختار احمد صاحب سے گزارش کی گئی کہ وہ ذکر خدا سے محفل کو منور فرمائیں۔

تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد راقم  نے تقریب کا باقاعدہ  آغاز کچھ اس انداز سے کیا۔

اہلِ منطق  سربسجدہ رہ گئے
پڑھ لیا جب فلسفہ قرآن کا

عزیزانِ کرام سب سے پہلے تو پاک قافکو کمیونٹی کی جانب سے آپ تمام احباب کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں کچھ لمحے عطا کئے۔ اس شام اس محفل کا مقصد فقط محبتوں کی ترویج ہے۔

مکرمینِ کرام ہماری آج کی یہ تقریب دو حصوں پہ مشتمل ہے۔ پہلا حصہ قافکو پاک کمیونٹی کی جانب سے ہمارے پاک کمیونٹی کے محسنوں کی تحسین و پذیرائی ہے مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں مشاعرہ ہو گا جس میں قطر کے مایہ ناز سخنور اپنے جادوئے سُخَن سے ہمارے دلوں کو مسحور کریں گے۔

جنابِ میر سے معذرت کے ساتھ!

عجب انداز ہے ان کا عجب رنگ
قیامت شعر کہتے ہیں ادابند

معزز سامعینِ کرام نظامِ کائنات مربوطِ محبت ہے اور اس کشش نے اجرامِ فلکی کو بکھرنے سے روکا ہوا ہے سماج میں بھی فی زمانہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو نہ صرف مجسمِ محبت ہوتے ہیں بلکہ اپنے اعلی اخلاق سے لوگوں کے دلوں میں دبے شرارہء محبت کو بھی بجھے نہیں دیتے جس سے سماجی بندھن مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ہمارے پاک قافکو کمیونٹی میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنکی پذیرائی کے لئے یہ محفل سجائی گئی ہے۔ سب سے پہلے میں گزارش کروں گا انتہائی منکسر المزاج سادگی و بےباکی کا مظہر اور نوجوانوں کے ہردلعزیز جناب فاروق احمد صاحب سے کہ وہ آئیں اور سٹیج کو عزت بخشیں۔ اس کے بعد درخواست کروں گا سراپاء محبت و اپنائیت بےلوث دوست جناب محمد نواز اکرم صاحب۔

جس شخصیت کو اب زحمت دینے جا رہا ہوں وہ نا صرف ادبی حلقوں میں کا فی مقبول ہیں بلکہ آبیارئ سخن کے لئے دامے درمے قدمے سخنے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں کسی بھی محفل کی جان بنتے انہیں وقت نہیں لگتا اپنی ذات کی حد تک میں ان سے کافی انسپائر ہوں جناب رانا محمد ایوب صاحب۔

آخر میں جس دوست کو زحمت دینے جا رہا ہوں نہایت نفیس انسان ہیں اور قافکو کمیونٹی ہی نہیں بلکہ مکمل پاکستانی کمیونٹی کے ایمبیسیڈر شمار ہوتے ہیں اور بہت سی علمی ادبی و سماجی تنظیموں کے روح رواں کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں  جناب فرقان احمد پراچہ صاحب۔

جنابِ فیض صاحب کے شعر کے ساتھ مشفق رضا نقوی صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ آئیں اور تحسین و پذیرائی کی محفل کو آگے بڑھائیں۔

رقصِ مے تیز کرو ساز کی لو تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آئے ہیں

جناب مشفق رضا نقوی صاحب

اس کے بعد جناب مشفق رضا نقوی صاحب نے تقریبِ استحسان و پذیرائی کو احسن انداز سے کچھ اس طرح نبھایا۔

سن 2009 پاکستان سے قطر آتے ہوئے دل و دماغ خیالات و سوالات میں الجھا ہوا تھا کہ ناجانے دیارِ غیر میں ماحول کیسا ہو گا لوگ کیسے ہوں گے۔ پھر وہ وقت آیا جب ہم دوحہ آ پہنچے وہاں HR کے کچھ نمائندوں کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کے کچھ دوست جن میں حافظ آصف اللہ پاک غرقِ رحمت کرے بھی موجود تھے، ان دوستوں نے اتنے تپاک سے خوش آمدید کہا تو دل کو کافی اطمینان ہوا۔
کچھ دن بعد ہمارے اعزاز میں ویل کم پارٹی کا اہتمام کیا گیا وہاں سب سینئر دوستوں نے شرکت کی۔

اس دن سے لے کر کے آج تک ان سینئر دوستوں نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا ہر مشکل گھڑی میں وہ ہمارے ساتھ کھڑے رہے ان کی محبت شفقت ہمیشہ شاملِ حال رہی۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ جس سے محبت ہو اس کا کھل کے اظہار بھی کرنا چاہیے سو آج ہم یہاں اپنی محبت کے اظہار کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہی دوستوں کی بدولت آج ہم  اتنی پر رونق محفل سجانے کے قابل ہوئے ہیں۔

جناب عتیق انظر صاحب نے جناب فاروق احمد صاحب کو لوحِ سپاس پیش کی اور جناب فاروق احمد صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار تشکر کی صورت میں کیا۔ جناب محمد الیاس مغل صاحب نے جناب محمد نواز اکرم صاحب کو لوحِ سپاس پیش کی اور جناب محمد نواز اکرم صاحب نے اپنے خیالات کے اظہار میں اپنی محبت سے نوازا اور قافکو پاک کمیونٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ جناب سجاد صاحب نے جناب رانا محمد ایوب صاحب کو لوحِ سپاس پیش کی اور جناب رانا محمد ایوب صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار و تشکر انتہائی خوبصورت کلمات کے ساتھ کیا اور انتہائی قسم کے اشعار و مزاح سے محفل کو گرما دیا۔ جناب ڈاکٹر فیصل حنیف صاحب نے جناب فرقان احمد پراچہ صاحب کو لوحِ سپاس پیش کی اور جناب فرقان احمد پراچہ صاحب نے اپنے ادبی قدوقامت کے مطابق انتہائی بلیغ انداز میں محبت سے بھرپور الفاظ کے ساتھ قافکو پاک کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جناب مشفق رصا نقوی صاحب نے جاوید احمد صاحب کے اس شعر کے ساتھ مائک راقم  کے حوالے کیا گیا ۔

چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں  وہ نفرت ہے کہ دل بیٹھتے ہیں

 مشاعرہ

اس کے بعد ج  باقاعدہ مشاعرے کا آغاز ان ابتدائی الفاظ کے ساتھ کیا۔ میرا مشاعرے کی نظامت کا پہلا موقع ہے-  ڈاکٹر ملک زادہ منظور صاحب فرماتے تھے “نظامت اور ندامت میں تھوڑا سا فاصلہ ہوتا ہے”  میں کوشش کروں گا کہ اس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھوں۔ عزیزانِ من جب احساسات و جذبات کی حدت لہو کو کشید کرتی ہوئی ذہن و دل میں ہیجان برپا کرتی ہے تو لفظ صفحئہ قرطاس پہ موتی پروئے لڑیوں کی مانند اترنے لگتے ہیں جسے اہلِ دل شاعری کہتے ہیں اور جس احساس و جذبات میں ڈوب کر لفظ شعری اسلوب میں ڈھلتے ہیں انہیں سمجھنے کے لئے بھی لفظوں کے ساتھ جڑے احساس و چھپے جذبات کو جب تک محسوس نہیں کریں گے شعر کا مزہ دوبالا نہیں ہو سکتا۔ اور آپ جیسے اہل علم باذوق سامعین شاعروں کی خوش نصیبی ہے۔

مشاعرے میں دوحہ قطر کے استاد الشعراء، صف اوّل کے شعرا کرام اور کولکتہ سے آئے ہوئے مہمان شاعر نے اپنے کلام سے سامعین کے دل گرمائے۔ مشاعرے میں درج ذیل شعراء کرام نے شرکت کی۔

دانیال احمد صاحب، مشفق رضا نقوی صاحب، ساؔنول عباسی (راقم)، اتفاق انمول صاحب، اشفاق دیشمکھ صاحب، راقم عظمی صاحب، ندیم جیلانی صاحب، سید شکیل احمد صاحب، وزیر احمد صاحب، آصف شفیع صاحب، عزیز نبیل صاحب، فرقان احمد پراچہ صاحب، شاد رفیق آکولوی صاحب، احمد اشفاق صاحب، افتخار راغب صاحب، عتیق انظر صاحب۔

مشاعرے میں پڑھا گیا شعرائے کرام کا منتخب کلام حاضر خدمت ہے۔

ساؔنول عباسی (پاکستان)

ہم سے کیوں اجتناب اے ساقی
اف یہ تیرا حجاب اے ساقی
دل کی دنیا اجاڑ دو لیکن
ہائے میرے وہ خواب اے ساقی

مشفق رضاؔ نقوی(پاکستان)

جب تخیل میں ابھرتا ہے کوئی نقش نیا
میز پر رکھی وہ تصویر پرانی بولے

دانیال احمد(پاکستان)

دل جو پتھر ہیں گر پگھل جائیں
نفرتیں پیار میں ہی ڈھل جائیں
ہم نے ہٹ کر جو خواب دیکھے ہیں
کیسے تعبیر میں بدل جائیں

اتفاق انمول (نیپال)

اٹھ رہی ہے نظر غیر کی
رخ پہ پردہ لگا لیجئے
آنچ آئے نہ اسلام پر
دین و ایماں بچا لیجئے

راقم عظمی (انڈیا)

بھیگی بھیگی پلکیں لے کر خوابوں میں جب آتے ہیں
آپ کی آنکھوں کے یہ آنسو دل کا درد بڑھاتے ہیں

اشفاق دیشمکھ (انڈیا)

سات بچوں کی مرے گھر میں ہے اب پھلٹن
کس کا ہے کیا نام یہ رہتی ہے بس الجھن
دھو رہا ہوں روز ہی میں جھوٹے سب برتن
کرکے شادی میں نے اپنا لی ہے خود ٹینشن

وزیر احمد (انڈیا)

بس ایکبار تیرا نام آگیا لب پہ
کوئ بھی نام زباں پر کبھی رواں نہ ہُوا
تُو اتنی کیوں ہے پشیمان زندگی مجھ سے
ہے کون جو تیری چاہت میں رائیگاں نہ ہُوا

ندیم جیلانی دانش (انڈیا)

اس بیت کا پھر مصرعہِ ثانی نہیں کہتے
آنکھوں نے جو کہہ دی ہو، زبانی نہہں کہتے
گو رنگ میں ، خوشبو میں ہر اک پھول ہے یکتا
ہر پھول کو ہم رات کی رانی نہیں کہتے

سید شکیل احمد (انڈیا)

صبح نو آئے بھی گر دست کرامات کے ساتھ
وہی ہونا ہے جو ہوتا رہا حالات کے ساتھ
ستارے چاند شفق اور بہار کرتے ہیں
یہ سب تمہارے ہیں تم پر نثار کرتے ہیں

آصف شفیع (پاکستان)

ضرب فرقت کی ابھی اور لگاءو اس پر
شوق مرتا ہی نہیں ایک محبت کر کے
وہ تو اک بار ہوا تھا کبھی رخصت، لیکن
یاد کرتا ہوں اسے روز میں رخصت کر کے

عزیز نبیل (انڈیا)

جس طرف چاہوں پہنچ جاوں مسافت کیسی
میں تو آواز ہوں آواز کی ہجرت کیسی

عادتاً سلجھا رہا تھا گتھّیاں کل رات مَیں
دل پریشاں تھا بہت اور مسئلہ کوئی نہ تھا

ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیل
اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

فرقان احمد پراچہ (پاکستان)

غم زندگی کے سفر میں ہوں
میں محبتوں کے اثر میں ہوں
کہ یہ خواب کیسا دکھا دیا
مجھے ہنستے ہنستے رلا دیا

شاد رفیق آکولوی (انڈیا)

شوقِ منزل نہ ہو اگر دل میں
فاصلہ   مختصر    نہیں ہواتا
مختصر ہو مگر زمیں پر ہو
آسمانوں میں گھرنہیں ہوتا
ایک سی شکل، ایک سی ہیئت
زیر لیکن زبر نہیں ہوتا

احمد اشفاق(انڈیا)

لہو لہان پرندہ اڑان سے بھی گیا
قبیلے میں نہ رہا خاندان سے بھی گیا
جو کل تلک تھا مرے ساتھ سائے کی مانند
عجب ہوا مرے وہم و گمان سے بھی گیا

افتخار راغب(انڈیا)

تمھارے دل میں کیا ہے کچھ تو بولو
تمھارا کچھ نہیں بھی کم نہیں ہے
ستم سہہ کر بھی دل رہتا ہے راغبؔ
کہ وہ ظالم حسیں بھی کم نہیں ہے

بے وزن شاعری کی یوں راغب پڑی ہے لت
مصرع جو گر گیا تو اٹھانے سے ہم رہے

عتیق انظر (انڈیا)

شاخ سے پھول جھڑتے جاتے ہیں
تیر  سینے  میں  گڑتے جاتے ہیں
کیسی آندھی چلی زمانے میں
باغ  سارے  اجڑتے  جاتے ہیں

بڑا نقصان کیا دونوں نے نفرت کرکے
آؤ اب دیکھ لیں تھوڑی سی محبت کرکے
ہجر کے زہر سے دونوں کے بدن ہیں نیلے
آ چمک جائیں کوئی وصل کی صورت کرکے

اور آخر میں جناب ڈاکٹر فیصل حنیف صاحب (پاکستان) نے اختتامی کلمات میں مقصدِ تقریب و محفل مشاعرہ ، ترویجِ محبت کو بہت سراہا اور جوش ملیح آبادی صاحب کی نظم پڑھ کر محفل کا رنگ دوبالا کر دیا۔

ندی کا موڑ، چشمۂ   شیریں کا  زیر و بم
چادر شبِ نجوم کی   شبنم کا    رختِ نم
موتی کی آب گُل کی مہک   ماہِ  نو  کا  خم
تِتلی کا  رقصِ ناز،  غزالہ کا  حُسنِ رم

اِن سب کے امتزاج سے پیدا ہوئی  ہے تو
کتنے  حسیں  اُفق  سے ہویدا   ہوئی   ہے تو

لہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں    ترا
صحت  زبان میں ہے کہ بیمار ہوں ترا
آزادِ شعر ہوں کہ گرفتار  ہوں  ترا
ہشیار اس لیے ہوں کہ میخوار ہوں ترا

تیرے کرم سے شعر و سُخن  کا   اِمام   ہوں
شاہوں پہ خندہ زن ہوں  کہ تیرا غُلام ہوں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close