اردو سرگرمیاں

 قاضی عبدالستار کی ناول نگاری پر  کتاب کا رسم اجرا

گذشتہ روزمسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں   ایک تاریخ ساز ادبی پروگرام کاانعقاد کیا گیا۔ موقع تھا بین الاقوامی شہرت یافتہ فکشن نگار پدم شری قاضی عبدالستار کی ناول نگاری پر ڈاکٹر عبدالغفور،  وزیراقلیتی فلاح بہار کی کتاب کے رسم اجرا اور گفتگو کا۔  البرکات ایجوکیشن سوسائٹی اور ویژن لٹریٹری سوسائٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام ان کے وسیع ترین ہال میں   علی گڑھ کے تمام معتبر ومحترم ادباء، دانشور،  اور اہل علم وہنر کی موجودگی میں   اس عظیم ترین پروگرام کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ تخلیق کار ڈاکٹر قاسم خورشید نے کی،  پورا کیمپس جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صحت مند روایتی تہذیب سے لبریزہوکر اس پروگرا م کوبلند معیار واقدار کے ساتھ کامیابی کی بلندی پر دیکھنا چاہتا تھا۔  البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی ہال تمام تر تابندہ چہروں   سے بھر چکا تھا۔  اسٹیج پر پدم شری قاضی عبدالستار،  ڈاکٹر عبدالغفور،  ڈاکٹرقاسم خورشید، پروفیسر سید محمد امین،  پروفیسر صغیر افراہیم،  ڈاکٹر نمیتا سنگھ،  پروفیسر سید محمد ہاشم،  ڈاکٹر عابد رضا بیدار،  ڈاکٹر احمدیحییٰ اور دوسرے دانشور جلوہ افروز ہوچکے تھے۔  جبکہ پروفیسر طارق شطاری،  پروفیسر مولانا بخش،  ڈاکٹر پریم کمار، ڈاکٹر راشد احمد راشد، ڈاکٹر قمر سنبھلی،  جناب محمد اسلام،  پروفیسر ظفر احمد صدیقی،  ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی،  ڈاکٹر مشتاق صدف،  ڈاکٹرسیما صغیر،  پروفیسر قمرالہدی فریدی،  سید محمد عثمان،  اور کثیر تعداد میں   دوسرے خواتین وحضرات اس ادبی تاریخ کے محرک اور گواہ بنے۔

ڈاکٹرعبدالغفور کی کتاب ’’ قاضی عبدالستار -بحیثیت ناول نگار‘‘ انتہائی خوبصورت معیاری اور تاریخی رسم اجرا،  ڈاکٹر قاسم خورشید اور ڈاکٹر عبدالغفور کے حوالے سے تفصیلی تعارفی سپاس نامہ گل پیشی شال کے ساتھ اعزاز بخشنے کے بعد باضابطہ طور پر تہذیب الاخلاق کے مدیر نامور نقاد اور دانشور پروفیسر صغیر افراہیم نے قاضی عبدالستار کی فکشن کے حوالے سے اپنا بہترین مقالہ پیش کرتے ہوئے بہت مدلل انداز میں   کہا کہ ڈاکٹر عبدالغفور نے قاضی عبدالستار کے ناولوں   کا جس انداز میں   محاسبہ کیا ہے اس سے قاضی صاحب کے اسلوب کو سمجھنے میں   مدد ملتی ہے،  قاضی صاحب حقیقت فسانہ اور فسانہ کوحقیقت بنانے میں   ماہر ہیں  ۔  جس انداز میں   انہوں   نے میدان جنگ کے قصے بیان کئے ہیں   وہ صرف ان ہی کا حصہ ہے۔  آج کی یہ محفل علی گڑھ کی تاریخ میں   اس لئے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ پدم شری قاضی عبدالستار کے فن کے مداح ڈاکٹر عبدالغفور نے بہت ہی عرق ریزی اور لگ بھگت دس برسوں   کی ریاضت کے بعد ایسی خوبصورت اور دلچسپ کتاب تحریرکی اور اس بہتر ین پروگرام کی صدارت ہمارے بیحد پسندیدہ اور گذشتہ تین دہائیوں   سے لگاتار اردو ہند ی فکشن،  میڈیا،  ڈرامہ او رشاعری میں   عالمگیرسطح پر شناخت رکھنے والے ڈاکٹرقاسم خورشید نے کی ہے۔

جذبات سے لبریز مگر انتہائی پر اعتماد لہجہ میں   قاضی عبدالستار نے تفصیلی تقریر کے دوران اس بات پر زور دیا کہ یوں   تو میرے چھ سات دہائیوں   پر محیط ادبی سفرکے دوران کئی پی ایچ ڈی ہوئی۔  کتابیں   بھی آئیں  ،  مگر میں   پورے وثوق،  پورے اعتماد اور انہماک کے ساتھ کہہ سکتا ہوں   کہ اپنے ناولوں   کو لکھنے کے بعد ہم نے جو توقع کی تھی کہ کاش کوئی میرے ویژن کو بہتر ڈھنگ سے قاری تک پہنچائے،  مگر سات دہائیوں   کے دوران جس نے مجھے تقویت پہنچائی ان میں   ہندی میں   اگرپریم کمار ہیں   تو اردو میں   بلاشبہ ڈاکٹر عبدالغفور ہیں ۔  میں   اپنے قاری تک جس طور پر تک پہنچنا چاہتا تھا اس میں   ڈاکٹر عبدالغفور کی کتاب نے یقینامیرے موقف کی کامیاب ترین ترسیل کی ہے،  اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹرعبدالغفورنے میرے ناولوں   کو میری نگاہ سے دیکھا ہے،  میں   جو کہنا چاہتا تھااس کے یہاں   بہترین ترجمانی ملتی ہے،  اس طرح ایسا معلوم ہورہا تھا کہ قاضی صاحب کے اندر بھر پور توانائی آگئی ہے کیونکہ لمبے وقفے کے بعد ان کے چہرے کواس طرح روشن اور تابندہ محسوس کیا گیا تھا۔  وہ بنفس نفیس نہ صرف یہ کہ پورے پرواگرام میں   موجود رہے بلکہ بہت باریک بینی سے تمام نکات پر گفتگو بھی کرتے رہے۔  قاضی صاحب کے مداح بھی ششدر تھے کہ انہیں   پہلی بار اتنا شاداب امیدوں   سے بھرا ہوا محسوس کیا گیا تھا۔  پوری شدت کے ساتھ ان کے اعتراف نے صاحب کتاب کو بے حد تقویت عطا کی۔  علی گڑھ کا ماحول مزید روشن ہوا۔

ڈاکٹر عبدالغفور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی مقام اور دنیائے ادب وتاریخ کے معیاری افراد کی موجودگی کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم ترین اعزاز ہے۔  میں   نے کبھی سوچا بھی نہیں   تھا کہ اس تاریخی مقام پر میری کتاب کا رسم اجرا ہوگا۔  اور اس میں   خود قاضی عبدالستار  صاحب موجود ہوں   گے اور اپنی دعائوں   اور محبتوں   سے اس طرح نوازیں   گے،  میں   نے سوچا ہی نہیں   تھاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایسے اعلیٰ ترین مقام،  ایسے محبان اردو اوربہترین دانشوروں   کی موجوگی میں   میری کتاب کو مرکزیت حاصل ہوگی۔  دراصل میں   بہت خائف تھا، برسوں   کی کاوش کے بعد میں   اپنی استطاعت کے ساتھ اس کام کو کرنے کی کاوش کی۔ پی۔  ایچ۔  ڈی مل گئی بعد میں   بہتوں   کے پاس مسودہ شائع ہونے سے پہلے بھیجا،  لوگ کچھ ماہ اپنے پاس رکھ لیتے پھر یوں   ہی واپس کردیتے۔  میں   سوچنے لگا کہ یا تو یہ مسودہ اشاعت کے قابل نہیں   ہے یا پھر تصحیح کی ضرورت نہیں   ہے۔ میں   پھر میں   نے اپنے دوست اور بہت ہی بہترین تخلیقار ڈاکٹرقاسم خورشید کو یہ مسودہ دیا انہوں   نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ تمام تر مواد کے مطالعہ کے بعد ایک بہترین مضمون بھی تحریر کیا،  ڈاکٹراسلم آزاد صاحب نے بھی لکھا، پھر کوششوں   کے بعد کتاب شائع ہوئی تو میری ہمت نہیں   ہوئی کہ قاضی عبدالستار صاحب کوبھیجوں   کیونکہ ان کے حوالے سے جانتا تھا کہ ان کے معیار پر پورا اترنا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں   ہے۔  قاسم خورشید صاحب نے کہا کہ آپ انہیں   کتاب ضرور بھیجیں  ،  مجھے یقین ہے کہ وہ کتاب پسند کریں   گے۔  ان کے کہنے پر بہت ہمت جٹا کر میں   نے کتاب قاضی صاحب کو بھیج دی اور پھر ذہنی طو رپر تیار تھا کہ کب ان کی تنقید کا نشانہ بنو ں  ،  میری تشویش غلط بھی نہ تھی،  کتاب ارسال کئے ہوئے لگ بھگ ایک ماہ گذر گئے،  مگر قاضی صاحب کوئی تاتر موصول نہ ہوا میں   ذہنی طورپر اپنی تشویش پر اعتمادکیلئے تیار ہوگیا تھا۔  مگر اسی اثنا میں   پہلے قاضی صاحب کا فون ڈاکٹر قاسم خورشید کے پاس آیا،  انہوں   نے فرمایا کہ میں   اپنے بیٹے کے پاس آگرہ میں   تھا جب علی گڑھ آیا تو غفور صاحب کی کتاب ملی۔  پڑھنے میں   کچھ وقت لگا اب جب کتاب ختم ہوئی ہے تو آپ سے رابطہ کررہا ہوں  ۔  قاضی صاحب نے نہ صرف یہ کتاب پسندکی بلکہ مختلف ابواب کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی،  مجھے یقین نہیں   ہوا مگر پھر براہ راست انہوں   نے مجھے کئی بار باتیں   کیں   او راپنی بیحد پسندیدگی کا اظہار کیا۔  تو مجھے بیحد تقویت ملی اور اعتماد کو زندگی بھی عطا ہوئی۔ ہم لوگ سماجی سروکار کے آدمی ہیں  ۔  زمینی حقیقتوں   سے ہی رشتہ ہے۔  ایسے میں   قاضی صاحب ہی میرے لئے واحد امید تھے کیونکہ جس طرح ان کے ناولوں   میں   زندگی جیتی ہے جاگتی ہے،  سوچتی ہے، مسکراتی ہے،  روتی ہے،  ہم بھی زمینی طو رپر ایسا ہی محسوس کرتے ہیں ۔  ہماری زبو حالی پر قاضی صاحب سے بہتر کہاں   کسی کی نگاہ ہے۔ وہ جانتے ہیں   کہ دوسروں   کواپنی زبوحالی کا ذمہ دار تصور کرنے سے پہلے اگر خود احتسابی کا جذبہ ہمارے اندر کارفرما ہوجائے تو قوم کبھی تنزلی کی شکار نہیں   ہوسکتی ہے۔  ہمارے بہترین رہنما سرسید احمد خاں   سے زیادہ بہتر آئیڈیل کون ہوسکتا ہے کہ  ان کے جذبے نے آج قوم کے وقار کوبلند رکھا ہے۔

 اپنے صدارتی خطبہ سے تمام سامعین کو سحر زدہ کرتے ہوئے اردو ہندی کے محترم تخلیق کار ڈاکٹر قاسم خورشید نے علی گڑھ کی تہذیب،  بے اعزاز واحترام کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ فرط جذبا ت سے لبریزہوں   کہ ایسی محترم ومعتبر شخصیتوں   کی موجودگی میں   مجھے صدارت کا شرف حاصل ہوا ہے۔  مگر میرے احترام کی زمین پر شجر سایہ دار کی قاضی عبدالستار کی صورت میں   یہاں   موجود ہے تو ہم سب کے معنوی صدر تو قاضی صاحب ہی ہی۔

 ڈاکٹر قاسم خورشید نے اپنے خطبہ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹر عبدالغفورکی یہ کتاب اگر قاضی عبدالستار کی تخلیقی موقف کی بہترین وضاحت ہے تو یوں   بھی اس کی دستاویزی حیثیت ہوجاتی ہے۔  قاضی صاحب کبھی کسی لابی سے وابستہ نہیں   رہے یہی وجہ رہی ہے کہ ان کی تحریریں   زندہ وتابندہ ہیں  ۔  میں   تو گذشتہ کئی دہائیوں   سے دیکھ رہا ہوں   کہ بہترین ادب کوحاشیہ پر رکھے جانے کی سازشیں   ہورہی ہیں   اور لام بندیوں   کی نذر ہمار ا بہترین ادبی شہ پارہ ہورہا ہے،  حالانکہ ادبی اقتدار میں   رہنے والے لوگوں   پر اس کا کوئی اثر نہیں   پڑے گا کیوں  کہ وہ آئندہ بھی اپنی فطرت سے باز نہیں   آئیں   گے،۔ قاضی صاحب نے صحیح فرمایا کہ کیسے تخلیقی فنکار ہیں   کہ ہر سال ان کا ناول آرہا ہے،  ہمیں   تو ایک صفحہ لکھنے میں   کئی راتیں   گزارنی پڑتی تھیں  ،  اورکچھ لوگ تو ہر ملاقات میں   نیا بوجھ دے جاتے ہیں ۔  ڈاکٹر خورشید نے اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا کہ بہترین شہ پارہ خود اپنی جگہ بناتا ہے اور اسے نہ تو بیساکھی کی ضرورت ہے اورنہ ہی کسی لابی کی۔  آج اس کتاب نے قاضی صاحب سے سند اس لئے حاصل کرنے میں   کامیابی حاصل کی ہے کہ قاضی عبدالستار کی فکشن نگاری پر کوئی عام یا اوسط درجے کا ادیب ونقاد قلم نہیں   اٹھا سکتا۔  اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قاضی عبدالستار کو پڑھتے ہوئے پرت در پرت کئی ایسی حقیقتیں   واضح ہوتی ہیں   جو ہمارے فکشن میں   عموماً پہلے سے موجود نہیں   رہی ہیں   یا کبھی کبھی زیر بحث آئی بھی تو محض سطحی طورپر۔  قاضی عبدالستار ایک لیجنڈ ہیں   او ران کی نگاہ صرف ماضی پر نہیں   ہے بلکہ وہ صرف ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں   جنہیں   ہم مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھ کر کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں   جو ہمارے افکار کے دریچوں   کو وا کرتے ہوئے مزید روشن کرنے کا متقاضی ہے۔  اس لئے قاضی عبدالستار کی ناول نگاری سے متعلق ڈاکٹر عبدالغفورکی کتاب دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔  قاضی صاحب کے تمام معتقدین نے میری آرا کو استحکام عطاکیا ہے۔ بہتر عزت افزائی اور پذیرائی نے میرے وجود کوروشن کردیا ہے اس لئے شکریہ کی رسم مزید وسعت چاہتی ہے۔

 معروف نقاد شاعر پروفیسر مولا بخش نے اس کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ تاریخی ناول لکھنا کوئی آسان مرحلہ نہیں   ہے مگر قاضی صاحب نے تو تخلیقی توانائی کے ساتھ اسے منفر داو رمعتبر بنادیا ہے۔  ہندی کے نامور ادیب جناب پریم کمارنے قاضی عبدالستار پر تحریر کردہ پنی ہندی کتاب سے ایک مختصر باب پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار میری نظر میں   ہندوستان کے ایسے ادیب ہیں   جن کی تاریخ پر دلائل اور حقائق کے ساتھ گہری نگاہ ہے اورہمیں   ہر اعتبار سے اسے مستند ماننا چاہئے۔  سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر محمد امین کے مطابق قاضی عبدالستار پر ڈاکٹر عبدالغفور کی کتاب ان کے فکشن کو سمجھنے کیلئے مشتعل راہ ہے۔ ایسی بہترین کاوش سے یقیناادب کا وقار بھی بلند ہوا ہے۔ جن وادی لیکھک سنگھ سے وابستہ ترقی پسند ادیبہ ڈاکٹرنمیتا سنگھ کے قاضی صاحب کے ترقی پسند ی کونئے زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ہم جس سماج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں   وہ سماج آج بھی قومی دھارے میں   شامل نہیں   ہے۔  کئی سطحوں   پر ہم نے ایسی آبادیوں   کو حاشیوں   پر رکھ چھوڑا ہے،  اس میں   وہ آبادی بھی ہے جو اپنی قدروں   کانوحہ کرتی ہے اور کوئی اس کی طرف نگاہ نہیں   کرتا۔  قاضی صاحب نے اپنی تحریروں   میں  یہ کام کیا ہے کہ روایت کی سچی تصویر پیش کی ہے۔  ڈاکٹر عبدالغفورکی کتاب کیلئے انہیں   مبارک باد کے ساتھ ڈاکٹر قاسم خورشید سے نجی تبادلہ خیال کے دوران بھی میں   بیحد متاثر ہوئی ہوں  ۔

  ڈاکٹر احمد مجبتیٰ صدیقی جوائٹ سکریٹری البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی کی بہترین نظامت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا گیا کہ پروگرام کی تیاری میں   ان کی بے پناہ عرق ریزی شامل تھی،  کیونکہ صدر جلسہ مہمان خصوصی اور دوسرے اراکین کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی وہ عمیق مطالعہ کا حصہ ہے یعنی تہذیب اور خلوص کا نمونہ ہر جگہ،  ہر لمحہ دیکھنے کوملا،  سینکڑوں   لوگوں   کی بہترین ضیافت سے بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مشروط محبت کسی قلندری سے کم نہیں  ۔  علی گڑھ نے  اپنی ادبی وثقافتی وراثت سے اسے مزید استحکام بخشا۔  اس طرح لگ بھگ پانچ گھنٹے تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی کے وسیع ترین ہال میں   موجود ادیبوں  ،  دانشوروں ،  محققوں   او رشائقین نے ہمہ تن گوش کوہراس تقریب کو علی گڑھ کی ادبی تاریخ کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ کیونکہ صوبائی سطح پر یا قومی سطح پر اتنے معیاری اور انتہائی خوبصورت ادبی پروگراموں   کا انعقاد شاید ہی کبھی وجود میں  آیا ہو۔  فنکشن سے قبل اور اس کے بعد بھی بحث ومباحثہ کا طویل سلسلہ جاری رہا اور اردو ہندی میڈیا نے بھر پور پذیرائی کے ساتھ اہمیت بھی دی۔

مزید دکھائیں

کامران غنی صبا

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان

متعلقہ

Close