اردو سرگرمیاں

شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام اردو فیسٹیول اور عالمی اردو سمینار

اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام اس سال 22 جنوری کو فن تحقیق کے موضوع پر عالمی اردو سمینار منعقد کیا جائے گا جس میں نامور محقق و ماہر اقبالیات اور شعبہ اردو کے وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر سید تقی عابدی کناڈا سے شرکت کریں گے. اسی طرح ماہ فروری کی 22 تاریخ کو یونیورسٹی و ڈگری کالج کے طلباء کے بین جامعاتی ادبی مقابلوں کے اردو فیسٹیول کا انعقاد عمل میں آئے گا. ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اطہر سلطانہ صدر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد نے شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ شعبہ جاتی کانفرنس سے کیا.

مزید پڑھیں >>

بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام شاعرِ خلیج جلیلؔ نظامی کی الوداعی تقریب

 بزمِ اردو قطر کے خازن جناب غلام مصطفی انجم نے کثیر تعداد میں تشریف لائے  با ذوق سامعین و شعراے کرام اور مختلف تنظیموں کے نمائندو ں کا تہہِ دل سے استقبال کیانیز بزمِ اردو قطر کا مختصر تعارف بھی پیش فرمایا۔اِس موقع پر بزمِ اردو قطر  کی جانب سے جناب جلیلؔ نظامی کی شعری و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک شیلڈ پیش کی گئی۔ قطر کے اردو حلقہ میں محمد رفیع کی یاد تازہ کراتے رہنے والے خوش گلو جناب عبد الملک قاضی کو کون نہیں جانتا۔ جناب عبدالملک قاضی کی پُر کیف آواز ہو اور جناب جلیلؔ نظامی کی غزل، تو سامعین کی کیفیت اور پروگرام کے آہنگ کا اندازہ  لگانا مشکل نہیں ہے۔ حسب توقع کچھ لمحوں کے لیے سامعین وادیِ غزل میں کھو سے گئے تھے اور بے خودی کے عالم میں داد و تحسین کے کلمات سے مسلسل نوارتے جا رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

مجتبیٰ حسین ہندو پاک میں اردو ظرافت کی آبرو ہیں!

 بزمِ صدف کے دو روزہ بین الاقوامی ادبی اور ثقافتی جشن کے موقعے پر بہار اردو اکادمی، پٹنہ میں کافی بہترین پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ بزمِ صدف انٹرنیشنل کی جانب ہر سال ادبی خدمات کے لیے بین الاقوامی ایوارڈ دیا جاتاہے۔ اس سال ’’بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ‘‘ جناب مجتبیٰ حسین(حیدرآباد) کو، ’’ بزمِ صدف بین الاقوامی نئی نسل ایوارڈ ‘‘ محترمہ عشرت معین سیما کو اور بزمِ صدف خصوصی ایوارڈ براے ادبی خدمات‘‘ ڈاکٹر ایس۔ پی۔ سنگھ اوبراے کو ملے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

انور مرحوم بڑے فخر سے اپنے کو ڈاکٹر ملک زادہ منظور کا شاگرد کہتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے نظامت میں ملک زادہ کا ہی انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کبھی نظامت میں لطیفے نہیں سنائے اور نہ مشاعرہ کو نوٹنکی بننے دیا۔ یہ ضرور ہے کہ انہیں اس کی تکلیف تھی کہ شاعروں کی جو ٹیم نظامت کیلئے ان کے استاذ کو ملی کہ ان کے علم فن اور اشعار کے بارے میں جو بھی کہا جاتا وہ کم تھا وہ ٹیم انور جلال پوری کو نہیں ملی اور خود اُن کے کہنے کے مطابق آدھی رات انہیں جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

2017 اور ریختہ کی حصولیابیاں

ہماری ایک اہم کوشش یہ بھی ہے کہ ابتدا سے اب تک کے تمام شاعر ،ادیب  اورنثر نگار   اپنے ضروری کوائف کے ساتھ ریختہ   ویب سائٹ پر موجود ہوں۔ آپ کسی بھی شاعر و ادیب کا نام ریختہ  پر لکھیں  اور اس سے متعلق ضروری معلومات آپ کے سامنے ہوں۔ ریختہ شاعری کی طرح فکشن کا بھی ایک گوشہ تیار کر رہا ہے جس میں اردو اور دیگر کئی زبانوں کی نمائندہ کہانیاں  اور افسانے موجود ہوں گے۔ آخر میں ہم ان تما م حصولیابیوں کے لیے  پورے اردو معاشرے کے شکر گزار ہیں ، ہمیں امید ہے کہ نیا سال بھی ہمارے لیے اسی طرح قابل ذکر ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

ممتاز شاعر اور ناظمِ مشاعرہ انور جلال پوری کی وفات

 انور جلال پوری 6؍جولائی 1947 کو پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے (انگریزی) اور اودھ یونی ورسٹی فیض آباد سے ایم اے (اردو) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انور جلال پوری کی ایک درجن سے زائد مطبوعات ہیں جن میں کھارے پانیوں کا سلسلہ، خوشبو کی رشتہ داری، جاگتی آنکھیں، جمالِ محمد  ﷺ، ضربِ لاالٰہ، بعد از خدا، حرفِ ابجد، روشنائی کے سفیر، اپنی دھرتی اپنے لوگ، راہرو سے رہنما تک، اردو شاعری میں گیتا اور رابندر ناتھ ٹیگور کی گیتانجلی کا اردو ترجمہ قابلِ ذکر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

کتاب ’طلبہ کے تین دشمن‘ کی رسم رونمائی

 وقت گذرنے کے ساتھ اردوزبان جوکئی شعبوں پرمحیطہ ہواکرتی تھی آج وہ سکڑ کر شعر وسخن تک ہی محدود ہوکر رہ گئی۔ آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔جب ہم اس اسباب وعلل کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے ذمہ دارہم خود نظرآتے ہیں کیونکہ ہم نے مذہب اسلام میں جواعلیٰ وارفع تعلیم بالخصوص علم کے حوالے سے ہمیں بتلائی گئی تھیں ہم نے اسے روگردانی کی۔ جس کی وجہ سے آج ملت اسلامیہ تعلیمی طورپرپسماندگی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے مگران ناگفتہ بہ حالت میں بھی ایسے کچھ جری حضرات ہمیں نظرآتے ہیں جواردوکوصرف شعروسخن کے تناظرمیں دیکھنانہیں چاہتے بلکہ اس کو ایک علمی زبان کے طورپرفروغ دینا چاہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کامظاہرہ بھی کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

دہلی ایک تہذیب وتمدن و تاریخ کانام ہے!

اس موقع پر دہلی کے ادیب و شاعر اور بڑی تعداد میں با ذوق سامعین موجود تھے جن میں ظہیر برنی، سید محمد نظامی،وسیم احمد سعید، ریاض قدوائی،مظہر محمود،خالد علوی، فضل بن اخلاق،اسد رضا،عزیز احمد، نگار عظیم، منیر ہمدم،وقار مانوی، منوج بیتاب،سیماب سلطان پوری،ظفر مراد آبادی، ترنم جہاں،چشمہ فاروقی، تسنیم کوثر،شیام سندھرا،تاج الدین انصاری،شہلا نواب، انیس صدیقی،سرفراز فراز،کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اردو اکادمی دہلی کے نو منتخب چیرمین پروفیسر شہپر رسول کا استقبال

 فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر عادل حیات نے دہلی کے وزیراعلیٰ شری ارونڈ کیجریوال کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پروفیسر شہپر رسول کو دہلی اردو اکادمی کا وائس چیرمین بنائے جانے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پروفیسر شہپر رسول صاحب نے کہا کہ دہلی سرکار اردو اکادمی کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کچھ ایسے کام کرنا چاہتی ہے، جن سے اردو اور اس کی رنگارنگی تہذیب گھر گھر تک پہنچ جائے اور اردو بچے بچے کی زبان پر ہو۔ میں اور ہماری گوورنگ کونسل اس سلسلے میں تمام ضروری اقدام کرے گی اور انشا اللہ دہلی سرکار اور اردو اکادمی کو کامیابی بھی حاصل ہوگی۔

مزید پڑھیں >>