متفرقات

ایک روزہ شہید انسانیت کانفرنس 2017

ایک ہی اسٹیج پر جب ہندو مسلم سکھ سنی شیعہ بریلوی اجمیری دیوبندی اہل حدیث خطیب جب علاقے میں امن آشتی محبّت پیار دوستی کی بات کر رہے تھے تو یوں لگ رہا تھا کہ سارا قصبہ اس اجتماعی گفتگوکا صدیوں سے منتظر تھا۔ خواتین مرد بچوں جوانوں کالجوں اور مدرسوں کے طلبہ کے اس مخلوط مجمع میں جہاں سکھ کھڑا تھا وہیں ہندو پانی پلا رہا تھا، سنی قیادت کر رہا تھا تو شیعہ نظامت کر رہا تھا۔ ایک غضب کا منظر تھا جس کو زمانوں تک یاد رکھا جائے گا ۔

مزید پڑھیں >>

قوت برداشت ہی کامیابی کی شاہ کلید

ہرسال 16/نومبر کو دنیا بھر میں برداشت کا عالمی دن منایاجاتاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں برداشت ورواداری کی ضرورت، صبر و تحمل کی اہمیت، دوسروں کے فرائض و حقوق کا احترام اور عدم برداشت کے معاشرے پر رونما ہونیوالے منفی اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ برداشت کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیمیں خصوصا اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی روک تھام کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>

کف ِافسوس

  ایک دن اسے بخارلاحق ہوا، علاج ومعالجہ ہوا؛ لیکن جب مسبب الاسباب ہی نہ چاہے توسبب سے کیافائدہ ہوسکتاہے؟ کسی نے ڈاکٹربدلنے کامشورہ دیااور کسی نے چھاڑپھونک کرانے کا، ڈاکٹربھی بدلاگیااورچھاڑپھونک بھی کرایاگیا؛ حتی کہ سفلی عامل سے بھی رابطہ کیاگیا؛ لیکن ہوتاوہی ہے، جوپیداکرنے والاچاہے۔

مزید پڑھیں >>

سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں

اللہ نے جس بات کی تعلیم دی ہے وہ عین فطرت انسانی کے موافق اور مطابق ہے۔ اور جن چیزوں سے گریز کرنے کی تلقین کی وہ اس سے بچنا فطرت سلیم کی ضرورت ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ ہم اور آپ اسلامی کلچر اسلامی تہذیب و ثقافت کے بغیر کسی دوسری چیز سے ذرہ برابر بھی سکون و اطمینان نہیں حاصل نہیں کر سکتے ہیں  چاہے سکون کی حصولیابی کے لئے کتنی ہی موج و مستی کر لی جائے چاہے کتنی ہی  ہنسی اور مزاق کی محفلوں میں شرکت کر لی جائے بجائے سکون کے غم اور رنج و الم ہی ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

اجالوں کو نگلتے اندھیرے

مادیت اور صارفیت کی زد میں آنے کے بعد دنیا کا رنگ تیزی سےبدلتاجارہاہے اس کے اثرات بد سب سے زیادہ اخلاقی اقدار پر پڑے ہیں اور اس میں اس قدر گراوٹ آگئی ہے کہ آج انسان کو انسان سمجھنا بھی مشکل ہوتاجارہا ہے۔ حصول زر اور تعیش کی جستجو اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم اپنے فائدے کیلئے انسانیت کے معیار سے  گرجانے میں بھی دریغ نہیں کرتے کبھی کبھی ان حرکات کا بھی ارتکاب کربیٹھتے ہیں جس سے خود ہماری روح بھی شرمسار ہوجاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

دیا سکہ پایا خزانہ

فقیر کی دعا کا اثر اس قدر ہوا ہے کہ آج تک اس کی شکل میرے سامنے محسوس ہوتی ہے۔ ان فقراء ومساکین کی مدد کر کے کس طرح اپنی پریشانیوں سے نجات اور عاقبت درست ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اچھی طرح ہو چکا ہے۔ ایک دعا کے بدلے میں میرے رب نے میری لاڈلی بیٹی کی بیماری کافور کر دی۔ گویا پچاس روپے کے بدلے میں مجھے ایسا خزانہ عطا کیا گیا کہ آج تک اس خزانے کو دیکھ دیکھ کر ہی خوشیوں کے پھول میرے آنچل میں نذر آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پتھر کا دور

 انسان کے قریبی رشتے دار مزید ''دور ''کے رشتے دار بنتے گئے,اور پڑوسی ازلی دشمن کا روپ دھار گئے۔ ایک ہی بستر پر دراز دو لوگ ہاتھوں میں فون تھامے اجنبیوں کی ماننداپنی اپنی دنیا میں کھوگئے۔انسانیت,محبت,خیر خواہی اور غمگساری جیسے الفاظ اب اس ڈیجیٹل دنیا سے عنقاء ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اعترافِ حق

  شب کے تقریباً تین بجے وہاں سے گزرتی ہوئی گشتی پولیس سیماکے کراہنے کی آوازسن کراُس کی طرف متوجہ ہوئی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں اُسے ہاسپٹل میں داخل کیا۔ دودن تک سیما پر غنودگی کی کیفیت طاری رہی، پھرشدہ شدہ اُسے سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یادآنے لگا۔سیما کی طبیعت جب کچھ بحال ہوگئی توانویسٹی گیشن افسرنے تفصیل پوچھی اوراپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرجلدہی مجرمین کی گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔پہلے توخود ہی اُن کی خوب خبرلی، پھرعدالت کے روبروپیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

ابوالکلام آزاد وادیٔ صحافت میں

 مولاناآزاد کی زندگی کامطالعہ اوران کی صحافتی خدمات کاجائزہ لینے سے یہ بات بہت ہی واضح طورسے سامنے آتی ہے،کہ ان کی دیگرخوبیاں اورخصوصیات جوکچھ بھی ہوں ،وہ علم وعرفان کی جس بلندیوں پرپہنچ گئے ہوں ،فکروعمل کی جن منزلوں کوپالیا ہوں ؛وہ ایک صحافی کادل ودماغ لے کرپیداہوئے تھے؛اسی وجہ سے ابھی وہ نثر کی ابتدائی منزل میں ہی تھے کہ ’’المصباح‘‘جاری کرکے صحافت کی راہ پرچلنے کااعلان کردیاتھااوراس راہ پر تقریبااٹھائیس سال، بے باک مثلِ شیر چلتے رہے۔

مزید پڑھیں >>

مغربی تہذیب کی تنقید یا خود احتسابی

ہمیں تنقید کے بجائے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا کی بھلائی کے لئے کیاکام کر رہے ہیں ، اگر نہیں کر رہے ہیں اور نہیں کرنا چاہتے تو اپنی بے وقعتی کا شکوہ کرنا بے جا ہے کیونکہ ہمیں اپنا کھویا ہو اوقار اسی وقت ملے گا جب ہم انسانی سماج کی خاطرخود کاوش کریں گے۔ یقینا ہمیں بطور امت، بطور قوم ایک نئی پرواز کی ضرورت ہے ایک نئی اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>