متفرقات

عرب دنیا کا جدید ترین فیشن:  پردے کے پیچھے

خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور بالخصوص دبئی عبایا کی صنعت کا خاص مرکز ہیں، جو اپنی عبائیں مشرق وسطٰی، شمالی افریقہ اور کچھ افریقی مسلم ممالک کو بھی برآمد کرتے ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں انقلابی تحریکوں کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے مصر، تیونس، شام اور لیبیا جیسے ممالک کو ویزے جاری کرنا کافی حد تک کم کر دیے ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>

شایاں ہے مجھے غمِ جدائی

امّی جان کی سیرت وشخصیت کا ایک کمال یہ تھا کہ کسی حالت میں اپنی حدود سے متجاوز نہ ہوتی تھیں۔ اوپر والے نے ایسا متوازن دل ودماغ دیا تھا اور شخصیت اتنی دل آویز تھی کہ ان کو اپنے مقام ومرتبے کی آڑ پکڑنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور نہ انہوں نے کسی کے سامنے اپنے طور طریقوں سے کبھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ اتنے بڑے مدرسے کے مہتممِ تعلیم وتربیت یا عالمِ دین کی بیوی ہیں، حالانکہ اس قسم کے اکثر مواقع پیش آتے رہتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

مغربی تہذیب کا زوال اور اسلامی لائحہ عمل

اس صورت حال کا مقابلہ کسی فوجی طاقت اور احتساب ونگرانی سے مشکل ہے، البتہ اسلام اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ مغرب کی کن چیزوں سےاستفادہ ممکن ہے، اور کن چیزوں کا ازالہ ضروری ہے، اس کیلئے اصلاحی، تعلیمی تحریک کا آغاز اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پیش قدمی کی جائے، اور ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈالی جائے جوبنیادی عقائد واصول کے ساتھ عصری ودینی ضروریات سے ہم آہنگ ہو،

مزید پڑھیں >>

اک آئینہ ہوں جو تصویر کے مقابل ہے!

جو بچے اپنے ماں باپ کو لڑتے جھگڑتے اور گالم گلوچ کرتے دیکھتے ہیں اور جو بچے ماں باپ کے جھگڑے میں، اُن میں سے کسی  ایک یا دونوں کے غصے کا شکار بن کر مار کھاتے ہیں اور جو بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں روز شور و غل اور ہنگامہ دیکھتے ہیں، اُن سے یہ توقع فضول ہے کہ وہ آگے چل کر ایسے ہی مواقع پر تحمل اور برداشت سے کام لیں گے۔

مزید پڑھیں >>

سگریٹ کی انکہی کہانی

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تو اگلے تیس سال میں دس کروڑ افراد تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ تعداد ایڈز، ٹی بی، کار حادثوں اور خودکشی سے ہونے والی کل اموات سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

علم روشنی ہے، جہل اندھیرا

عمل سمجھ ہے تو جہل ناسمجھی۔ علم کے بغیر نہ قول کا بھروسہ نہ عمل کا ٹھکانہ۔ بے شک علم کا مقام عمل سے پہلے ہے۔ لیکن، عمل نہ ہو تو علم بیکار۔ حضرت علی ؑ   کاقول ہے کہ ’’علم عمل سے وابستہ ہے، جسے علم ہوگا وہ عمل بھی کرے گا۔اور علم تو عمل کو پکارتا ہے۔ اگر عمل اس پر لبیک کہے تو خیر، ورنہ علم وہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

تم چاہے تو ہو جائیں ابھی کوہ منحن پھول

  مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ طاقتورمسلمان زیادہ بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے کمزور مسلمان سے اورہرایک میں بھلائی ہے اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں (دینی) نفع پہنچائے اور اللہ سے مدد مانگو اور کم ہمتی مت دکھائو (مسلم ابن ماجہ)۔اسی طرح اعلیٰ کردار انسان کے لیے شجاعت کا وصف بھی ضروری ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انبیا ء وسابقین کے مکارم اخلاق ومحاسن افعال بیان فرماتا ہے۔ اس میں ان کوایسی تمام اعلیٰ چیزوں کا حاصل بتاتا ہے کہ وہ مکمل نمونہ ہوا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

نیشنل ازم (NATIONALISM)

ایک مسلمان کیلئے سب سے پہلے اور سب سے قیمتی چیز ایمان ہے اور ایمان کااولین تقاضا ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مفاد کے تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دے اور کسی صورت ان سے پیچھے نہ ہٹے، ان کا سایہ ان دوسرے مسلمان بھائیوں پر بادل کے سائبان اور آسمان کی چھت کی طرح چھایا رہے، وہ کسی بھی میدان میں خود کو تنہا اور بے یارو مددگار تصور نہ کریں۔

مزید پڑھیں >>

اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ (2)

پاکستان، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، کمبوڈیا، کمیرون، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایتھوپیا، جرمنی، گانا، ہیٹی، بھارت کینیا، مالی، موریشس، موروکو، فلسطین، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سائوتھ افریقہ، سری لنکا، تھائی لینڈ، ٹوگہ، یوگانڈا، ویتنام، زامبیا، زمبابوے، عراق، یمن، شام، افغانستان وغیرہ میں سٹریٹ چلڈرن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا میں اس وقت ایک ملین سٹریٹ چلڈرن ہیں۔

مزید پڑھیں >>

وطن پرستی کا مہلک حصار

اسلامی اتحاد واتفاق اوروحدت کے خلاف مغربی سازشوں کے درمیان مصری اقوام کا فراعنہ نسل پر غرور نے نیشنلزم اور وطن پرستی کو ہوا دی، جس نے عالم اسلام کو عالم عربی میں تبدیل کردیا، جبکہ یوروپ سالہا ساس سے اس مرض کا مریض ہے، ہولو کاسٹ اور بادشاہت کی کشمکش ؛جہاں عوام غلامی وبے بسی اور بے اختیاری پر مجبور ہوگئی تھی لیکن ’’ریفارمیشن کی تحریک‘‘ نے مذہبی تسلط کو نہ صرف کم کردیا بلکہ ان کی حیثیت بے گانے کی سی ہوگئی۔

مزید پڑھیں >>