ابوالکلام آزاد وادیٔ صحافت میں

شمس تبریز

 یہ دنیا ایسی ہے کہ یہاں کسی کوبھی عمرِجاوداں میسرنہیں ،بل کہ ہرکسی کوایک نہ ایک دن یہاں سے جاناہے اورہرزندگی کوموت کا مزہ چکھ کرفنا کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے دفن ہوجاناہے’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘۔مگرجب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اورہمارے سامنے ہزاروں سال پہلے کے انسان تاریخ کے صفحات پرزندۂ وجاویدنظر آتے ہیں ،توعقل حیران رہ جاتی ہے کہ آخراس شخص کوتاریخ نے کیوں کر فنا کی گمنام وادی سے اٹھاکرحیاتِ ابدی سے ہم کنار کردیاہے؟تویکایک حافظے کیے ا فق پر علامہ اقبال کایہ شعرٹمٹماتاہوانظرآنے لگتاہے؎

ہے آبِ حیات اسی جہاں میں

شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی

 انھیں نابغۂ روزگارہستیوں میں سے ایک عبقری شخصیت ’’امام الہند حضرت مولاناابوالکلام آزاد‘‘کی ہے،جوبلاشہبہ مسلمانوں کے لیے کڑی دھوپ میں ٹھنڈچھاوں تھے، نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو، پاک دل وپاک باز،۔فلک برسوں پھرتاہے، تب اس طرح کے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔جن کے متعلق شاعرکایہ شعربالکل حق بہ جانب معلوم ہوتاہے   ؎

مدت کے بعدہوتے ہیں پیداکہیں وہ لوگ

مٹتے نہیں ہیں جن کے زمانے سے نقشِ  پا

  مولانا آزادنے اس دنیائے رنگ وبوکی پہلی صبح  ۱۱؍نومبر۱۸۸۸  کومکۃ المکرمہ میں دیکھی۔ان کے والد محترم نے ان کانام’’فیروزبخت‘‘رکھااورمصرعۂ ذیل سے ہجری سال کااستخراج کیاتھا:

’’جواں بخت وجواں طالع،جواں باد‘‘

 مولاناہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک متبحرعالم دین،معروف ادیب،مشہورصحافی،بہترین شاعرانہ صلاحیتوں کے مالک،مذہبی حقائق میں مثل چٹان،مفسرِقرآن،شعلہ کو شبنم اور پتھرکوموم کردینے والے خطیب ومقراوربہت سی ان گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے،کہ ان میں سے اگرایک بھی کسی کے اندرآجائے،تووہ اس انسان کوزندہ وتابندہ رکھنے کے لیے کافی ہوجائے۔

مولاناآزادکی ذات واقعی بڑی جامع صفات کی حامل تھی۔ان کی تمام خوبیوں کا بیک وقت ذکریک قلم مُحال ہے،لہذا آج صرف ان کی صافتی خوبیوں پرروشنی ڈالتے ہیں ۔

 جب ہم مولاناآزاد کی صحافتی دنیا کاجائزہ لیتے ہیں ،توتعجب ہوتاہے کہ انھوں نے صرف گیارہ سال کی عمرمیں صحافت جیسی عظیم اورپرخاردنیامیں قدم رکھ دیاتھا۔ان کی صحافت مختلف پھولوں کاایک گلدستہ،بل کہ ایک باغ ہے،جس کاہرپھول اپنے اندرایک الگ رنگینی اورجاذبیت کامختلف اندازرکھتاہے۔ان کی تصنیفات -تذکرہ،جامع التوحید،مسئلۂ خلافت،ترجمان القرآن،غبارِخاطر؛یہ تمام ان کے کمالات کے الگ الگ مظہرہیں ؛لیکن جب ہم ’’الہلال‘‘اور’’البلاغ‘‘کودیکھتے ہیں ،تومحسوس یہ ہوتا ہے، کہ ان کے تمام کمالات ان کے ایک ایک صفحے پر بکھرے پڑے ہیں ۔کہیں وہ بے مثال خطیب نظرآتے ہیں تو کسی جگہ عقابی تخیل کے حامل مفکر،تو کہیں چیتے کی نگاہِ تجسس رکھنے والا،فقیدالمثال قائدورہنمامعلوم ہوتے ہیں ۔

 مولاناآزاد کی زندگی کامطالعہ اوران کی صحافتی خدمات کاجائزہ لینے سے یہ بات بہت ہی واضح طورسے سامنے آتی ہے،کہ ان کی دیگرخوبیاں اورخصوصیات جوکچھ بھی ہوں ،وہ علم وعرفان کی جس بلندیوں پرپہنچ گئے ہوں ،فکروعمل کی جن منزلوں کوپالیا ہوں ؛وہ ایک صحافی کادل ودماغ لے کرپیداہوئے تھے؛اسی وجہ سے ابھی وہ نثر کی ابتدائی منزل میں ہی تھے کہ ’’المصباح‘‘جاری کرکے صحافت کی راہ پرچلنے کااعلان کردیاتھااوراس راہ پر تقریبااٹھائیس سال، بے باک مثلِ شیر چلتے رہے۔

 ’’المصباح‘‘کے بند ہوجانے کے بعدمولاناآزاد ہفتہ وار’’احسن الاخبار‘‘سے منسلک ہوگئے۔یہ اخباراحمداحسن کی ادارت میں ۱۹۰۰   یا   ۱۹۰۱  سے نکلناشروع ہواتھا۔مولاناآزاد کی دو نثری تحریریں :’’فن اخبارنویسی‘‘(مئی ۱۹۰۲ء)اور’’حکیم خاقانی شیروانی‘‘(اگست ۱۹۰۲ء)شائع ہوئی تھیں ۔اس کم عمری میں ان تحریروں نے اس وقت کے بڑے بڑے اہل علم حضرات کو مولاناآزاد کی طرف متوجہ کردیاتھا۔’’فن اخبارنویسی‘‘میں مولاناآزاد کاجوپہلامضمون تھا،اس سے ان کی صحافت سے گہری دل چسپی اورباخبری کاپتہ چلتاہے ۔ اس عمرمیں ان کی یہ باتیں واقعی حیرت انگیز تھیں :

 ’’یورپ اورامریکہ نے آج کل جوحیرت انگیزترقی ہے اور علوم وفنون، تہذیب وشائستگی میں جوان کاطوطی بول رہاہے،ان میں منجملہ اوراسبابِ ترقی کے،ایک بڑاسبب اخباردیکھناہے،جسے اعلی سے لے کر ادنی تک اوربچے سے لے کر بوڑھے تک،روزانہ ہرایک دیکھتاہے اور علمی عملی فیوضات حاصل کرتاہے‘‘۔

 طالب علمی کے زمانے کی نثرنگاری اورصحافتی تجربوں نے ہمت بندھائی اورآزاد ایک بامقصدماہنامہ نکالنے کی فکرکرنے لگے۔دھن کے پکے تھے،حوصلہ مند تھے۔خواہشات کوعملی جامہ پہناناجانتے تھے؛اس لئے خواب کی تعبیرمیں زیادہ وقت نہیں لگا۔اختتام تعلیم کے چندماہ بعدہی ۲۰؍نومبر۱۹۰۳؁ء  کوکلکتہ سے ایک سولہ صفحات کاماہنامہ’’لسان الصدق‘‘کے نام سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔یہ ماہنامہ ’’ہادی پریس ‘‘ہریسن روڈ،دارالسلطنت کلکتہ سے شائع ہوا،جس میں عام علمی، اخلاقی،تاریخی اور سائنٹفک موضوعات کے علاوہ حسبِ ذیل چار مقاصد سے

 متعلق تحریریں شائع کرنے کااعلان کیاگیاتھا:

(۱)سوشل ریفارمر

(۲)ترقی اردو

(۳)تنقید

(۴)علمی مذاق کی اشاعت

  نومبر؍۱۹۰۳ء سے ۱۹۰۵ء اس رسالے کے کل تیرہ شمارے نکلے،جن میں ’’جون ‘‘اور ’’جولائی ‘‘۱۹۰۵ء۔ ’’اگست ‘‘اور’’ ستمبر‘‘۱۹۰۴ء  ’’اپریل ‘‘اور’’مئی ‘‘۱۹۰۵ء  کے شمارے مشترک تھے۔آزاد کے علاوہ اس کے مضمونگاروں میں ’’محمد یوسف‘‘، ’’ابوالنصرہ آہ دہلوئی ‘‘،’’شمس العلماء شبلی نعمانی‘‘، ’’رضاء علی وحشت‘‘، ’’سیدمحمد سعید بلگرامی‘‘، ’’محسن الملک ‘‘اور’’سیدشاہ حسین اثیم امروہوئی ‘‘کے نام اہم ہیں ۔اس طرح مولاناآزاد کاوہ صحافتی سفرجو۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں ’’المصباح‘‘سے شروع ہواتھا،اس کا پہلامرحلہ جولائی؍۱۹۰۸ء میں ’’وکیل امرتسر‘‘کی ادارت پر ختم ہوا۔یہ زمانہ جوتقریبا آٹھ سالوں پر محیط ہے،مولانا آزادکی صحافتی اڑان کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔ان دنوں انھوں نے صحافتی تجربات حاصل کیے،مدیرکی ذمہ داریوں سے واقفیت ہوئی، لیتھوں کی خوبی اورخامی کااندازہ کرکے وہ ایک معیاری اورمعتبرہفتہ وار نکالنے کے لیے ہمت کی اور بالآخرکامیابی نے ان کے قدم چومی۔۱۳؍جولائی ۱۹۰۲ء ماضی کے آٹھ سالہ تجربہ ’’الہلال‘‘کی صورت میں طلوع ہوا،جس نے مولاناآزد کے نام کو گھرگھر پہنچایااورہر دل عزیزبنادیا۔یہ اخبار اس وقت کے تمام اخباروں سے کچھ بل کہ بہت ہی زیادہ الگ ہَٹ کے تھا،اس کی تحریروں میں بلاکی جاذبیت اورکشش پائی جاتی ہے۔مولاناآزاد الفاظ وزبان کے سہارے قارئین کے بربطِ دل سے کھیلتے، ان کو الفاظ کے نشتر سے عوام کے دل میں چھپے جوش وحمیت کے جذبے کوبھڑکانے کابہت ہی البیلا اور کسک آمیزاندازآتاتھااور یہی وجہ ہے کہ ان کا آبدارقلم پڑھنے والے کے دل میں پیوست ہوجاتاتھا۔مولاناآزاد نے ’’الہلال‘‘اور’’البلاغ‘‘کے ذریعہ قوم وملت کے دلوں میں جوش وخروش کی آگ، عزم وحوصلہ کی توانائی بھردی اور ان کے دلوں کو شوکت وجلال کااحساس اورعظمتِ رفتہ کو حاصل کرنے کے جذبۂ بے کراں سے معمورکردیاتھا۔

 مولاناعبدالماجددریابادی’’الہلال‘‘کے باے میں یوں رقم طرازہیں :

   ’’اس نے اردوصحافت کی جیسے دنیاہی بدل دی۔سیرت وصورت اورمغزوقالب سب میں اپنے پیش رواورمعاصرہفتہ واروں سے بالکل جدااورکہیں زیادہ پرکشش اورشاندارتھا۔چھپائی،کاغذاورتصویر؛سب کامعیاراعلیٰ۔ رنگین سرِورق پراڈیٹرکانام یوں درج ہوتا’’احمدالمکنیٰ بابی الکلام الدھلوی‘‘۔۔۔۔۔اورجاذبیت کاعالم یہ تھاکہ نکلتے ہی سکۂ رائج الوقت بن گئے۔حالیؔ وشبلی کی سلاست وسادگی سرپیٹتی رہی اوراکبرالہ آبادی اوربابائے اردو

 مولوی عبدالحق سب ہائے ہائے کرتے ہیں ‘‘۔(آئینۂ ابوالکلام آزاد،ص:۵۱)

  مولاناآزادکے اندرصحافت وادب کاحسین اوردل آویزسنگم پایاجاتاتھا؛لیکن وہ دونوں کی حدودِاربعہ سے بہ خوبی واقف تھے؛چناں چہ وہ ’’الہلال‘‘کے پہلے ہی شمارے میں اپنے صحافت کے میدان میں آنے کی مقصدکچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کی صحافتی تحریر سے ادب چھلکتاہوادکھائی دیتاہے۔آئیے !مولاناآزاد کی صحافت میں ادب کاموجزن سمندرآپ بھی دیکھیں :

 ’’اے کاش!مجھے وہ صورِقیامت ملتا،جس کومیں لے کرپہاڑوں کی بلندچوٹیوں پرچڑھ جاتا،اسی ایک صدائے رعدآسائے غفلت شکن سے سرگشتگانِ خواب ذلت ورسوائی کو بیدارکرتااورچیخ چیخ کرپکارتا،کہ اٹھو!کیوں کہ بہت سوچکے اوربیدارہو؛کیوں کہ تمہاراخداتم کوبیدارکرناچاہتاہے اورتمہیں موت کی جگہ حیات،زوال کی جگہ عروج اورذلت کی جگہ عزت بخشناچاہتاہے‘‘۔

 مولاناآزادنے اپنی صحافت کوملک ملت کی فلاح وبہبود کے لیے وقف کررکھی تھی۔ صحافت کی راہ انھوں نے تجارت ومنفعت کے لیے اختیارنہیں کی تھی؛بل کہ اس کے ذریعہ قومی وملی بیداری کے متمنی تھے،جیساکہ ’’الہلال‘‘کے اندر جاری کردہ ان کے بیان سے مترشح ہوتاہے:

  ’’ہم اس بازارمیں سودائے نفع کے لیے نہیں ؛بل کہ تلاشِ زیاں ونقصان کے لیے آئے ہیں ،صلہ وتحسین کے لیے نہیں ؛بل کہ نفرت ودشنام کے طلب گار ہیں ،عیش کے پھول نہیں ؛بل کہ خلش واضطراب کے کانٹے ڈھونڈتے ہیں ‘‘۔

          موت وحیات کے تین مراحل سے گزنے والااخبار’’الہلال‘‘کا پہلااجرا ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ کو ہوا۔ ۱۸؍نومبر۱۹۱۴ء تک یہ نکلتارہا،پھربند ہوگیا۔دوبارہ یہ ۱۲؍نومبر۱۹۱۵ء’’البلاغ‘‘کی صورت میں سامنے آیا۔یہ ۱۳؍مارچ ۱۹۱۶ء تک جاری رہا۔گیارہ سال کے وقفے کے بعد ۱۰؍جون ۱۹۲۷ء کوپھر’’الہلال‘‘کی تجدید ہوئی اور اسی سال ۹؍دسمبر ۱۹۲۷ء یہ بند ہوگیا۔

 ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ہندوستانی صحافت میں بقائے دوام کی مسند پرمتمکن ہیں ۔’’الہلال‘‘گھٹاٹوپ اندھیرے میں روشنی کی تیزکرن بن کرپھوٹاتھا،جس نے خواص کے دل دماغ کو جھنجھوڑااور عوام کے لہوکوگرمایا۔آزادیٔ ہند کی تاریخ میں ’’الہلال‘‘کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔

 مولاناآزاد بلاشبہ ایک عجوبۂ روزگار تھے اور اپنی وضع کے طرح دار دانشور تھے،جوآخری دور میں آئے ؛مگربہ قول ’’ابو العلا المعری‘‘وہ چیزلے کرآئے،جوان کے پیش رو نہ لاسکے ؛مگریہ وہ زمانہ تھا جب مولاناآزاد جیسے دانشوروں کی منڈی میں کساد بازاری کا سکہ چل رہاتھا،طوقِ زریں کے لیے’’گردنِ خر‘‘ہی کو حق دار سمجھاجاتاتھا۔عربی کے مشہور شاعر’’ابوالطیب المتنبی‘‘نے شاید اسی المیہ کو اپنے خاص اندازمیں کچھ یوں بیان کیا ہے:

ذوالعقل یشقی فی النعیم بعقلہٰ

واخوالجہالۃ فی الشقاوۃ ینعم

 (قصائدمنتخبہ، ص:۹۴)

یعنی ایک دانشورنعمتوں میں رہ کربھی روحانی کرب واذیت میں مبتلارہتاہے اورایک جاہل انسان اذیتوں میں بھی عیش کرلیتاہے۔مولاناآزاد کی تحریروں سے ان کی ذہنی کرب کا اندازہ لگانادشوارنہیں ۔انھوں نے اپنی پوری زندگی مسلمانوں کی قومی،ملی،سماجی،سیاسی اوراقتصادی حالات کی بہتری کے لیے وقف کردی تھی اورانھیں اس مقصد کے حصول کے لیے بے پناہ مشقتوں کاسامنا بھی کرناپڑا؛یہاں تک کہ عمرعزیزکا ایک بہترین حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردی اورایثارقربانی کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ان تمام قربانیوں کے باوجود اس طرح چلے گئے، جیسے کوئی درویش دامن جھاڑکرچلاجاتاہے۔سحرخیزی کے عادی ا’’مام الہند حضرت مولاناابوالکلام آزاد‘‘نے ۲۲؍فروری ۱۹۵۸ء کی رات سوا دو بجے سرمایۂ حیاتِ مستعار اس مالک حقیقی کے سپردکردیا،جس نے یہ زندگی دی تھی۔اس طرح قیادت وسعادت کی وہ شمعِ فیروزاں ،جس نے ۱۹۱۲ء سے لے کر۱۹۵۸ء تک مسلسل ہندوستان کی وسعتوں کونورِعرفان سے منوراورنغمہ ہاے صداقت وصداہاے دعوت وتذکیرسے معمورکیاتھا،بالآخرگل ہوگیا۔

 جان کرمنجملہ خاصانِ میخانہ تجھے

 مدتوں رویاکریں گے جام وپیمانہ تجھے



⋆ شمس تبریز

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے