اجالوں کو نگلتے اندھیرے

وصیل خان

مادیت اور صارفیت کی زد میں آنے کے بعد دنیا کا رنگ تیزی سےبدلتاجارہاہے اس کے اثرات بد سب سے زیادہ اخلاقی اقدار پر پڑے ہیں اور اس میں اس قدر گراوٹ آگئی ہے کہ آج انسان کو انسان سمجھنا بھی مشکل ہوتاجارہا ہے۔ حصول زر اور تعیش کی جستجو اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم اپنے فائدے کیلئے انسانیت کے معیار سے  گرجانے میں بھی دریغ نہیں کرتے کبھی کبھی ان حرکات کا بھی ارتکاب کربیٹھتے ہیں جس سے خود ہماری روح بھی شرمسار ہوجاتی ہے. اس کے باوجود ہم اس سے منحرف ہونے کی جرأت اپنے اندر نہیں پاتے اور بار بار انہی حرکات کو دوہراتے ہیں اور مسلسل مادیت کے حصول میں لگے رہتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اخلاقی اور انسانی سطح پرمستقل نقصان اٹھاتے رہتے ہیں۔

گذشتہ دنوں اخبارات میں شائع ایک خبر پڑھ کر ہمارے رونگٹے کھڑےہوگئے جس نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تواس دنیا کا کیا ہوگا  اوریہ سماج زوال کی کتنی گہری کھائی میں اتر جائے گا۔خبر تھی کہ یکم نومبرکی دوپہر کو ۱۷؍سالہ اننیا گائتونڈے نامی ایک طالبہ اندھیری ۴بنگلہ سگنل کے قریب سے گذر رہی تھی کہ اچانک ایک تیز رفتار کار نے اسے شدید ٹکر ماردی کہ وہ وہیں بے ہوش ہوکر گرپڑی۔ ہوناتو یہ چاہیئے تھا کہ لوگ فوری اس کی مدد کو دوڑ پڑتے اسے کسی مقامی اسپتال میں پہنچاتے جہاں اسے طبی سہولیات پہنچائی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا خبروں میں بتایا گیا کہ وہ طالبہ گھنٹوں بے ہوش پڑی رہی لیکن کوئی اس کی مدد کو نہیں پہنچا  یہ حادثہ اگر رات کے پچھلے پہر ہوا ہوتا تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ اس وقت عموما ً سنا ٹا ہوجاتا ہےاس لئے فوری مدد کا امکان مشکل تھا لیکن نہیں صاحب یہ حادثہ ٹھیک دوپہر کو ہوا جب سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف شور برپا ہوتا ہے اور انسانوں کا ریلا سیلاب کی مانند بہتا نظر آتا ہے ایسے میں اس لڑکی کا بے یارو مددگار پڑا رہ جانا حیرت انگیزہی نہیں بلکہ اسے انسانی بے حسی، خود غرضی اور حیوانیت سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم انسانی ہمدردی اور پیار و محبت کی دنیا چھوڑکرکہیں اور بھاگے جارہے ہیں۔

 عجیب بات ہے کہ مدد کو تو کوئی نہیں آیا لیکن ایک چور ضرور پہنچ گیا اور اس نے طالبہ کا موبائل اچک لیا اور فرار ہوگیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس وقت بھی اسے روکنے کیلئے کوئی آگے نہیں بڑھا۔طالبہ کے والد وشوناتھ نے فیس بک پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کافی دیر ہی سے سہی لیکن دو خواتین فرشتہ بن کر پہنچیں اور انہوں نے طالبہ کو فوری طور پر بے ہوشی سے نجات دلائی اور اس کی ہر ممکن مدد کی اور اسے لے کر اپنے گھر پہنچیں ، پھر انہوں نےاس کے پرس سےنمبر تلاش کیا اور مجھے اطلاع دی،میرے پہنچنے تک انہوں نے میری بیٹی کو اپنے گھر پر رکھا اور اسے فرسٹ ایڈ کے طور پر کچھ دوائیں بھی دیں۔ بعد میں میں نے اسے کوکیلا بین اسپتال میں داخل کروادیا جہاں ڈاکٹروں نےمجھے اطمینان دلایا کہ آپ کی بیٹی ٹھیک ہے اور کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔

فون چوری کرنے والے شخص پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وشوناتھ نے لکھا ہے کہ ’’ ہم کہاں اور کس شہر میں رہتے ہیں جہاں ہم بے حسی اور درندگی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں ایک ایسے وقت میں جب ایک انسان انتہائی قابل رحم حالت میں زخمی ہوکر بے ہوش پڑا ہو تو اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کے پاس موجود روپئے اور قیمتی اشیاءاچک لینے کی کوشش کی جاتی ہے دراصل یہ لوگ معاشرے میں رہنے والے ان کفن چوروں سے کم نہیں جو قبروں کے اندر اتر کر لاشوں پر سے کفن گھسیٹ لے جاتے ہیں ۔ ان سب باتوں کے باوجو د انہوں نے بہر حال فیس بک پر سماج کے ان اچھے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہمجھے معلوم ہے کہ ممبئی آج بھی کچھ اچھے لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے اور جب تک ایسے لوگ باقی رہیں گے سماج اور معاشرہ زندہ رہے گا۔ گذشتہ دنوں ممبئی کے پورٹ ٹرسٹ علاقے میں گندے نالے کی صفائی کے دوران بھی وہی بے حسی، خود غرضی اور انسانیت سے چشم پوشی کی ایک اور مثال دیکھنے کو ملی جب دوصفائی ملازم ایک کے بعد ایک نالے میں اترے لیکن واپس نہ آئے اسٹاف کے لوگوں کے علاوہ راہگیروں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا تشویش سبھی کو تھی لیکن اتنے سارے لوگوں میں سے کوئی ہمت نہ کرسکا کہ ان دونوں ملازمین کی جان بچانے کیلئے کوئی تدبیر کرتا۔

پکارتا رہا اک اک کو ڈوبنے والا

خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا

تبھی قریبی دوکان پر کام کرنے والے ایک ملازم کی انسانیت جاگ اٹھی اس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی جان بچانے کیلئے دوڑپڑا اور نالے میں اتر گیا اس کے بروقت پہنچنےسے اتنا ہوا کہ ان میں سے ایک کی جان بچ گئی لیکن دوسرے کو وہ نہیں بچا سکا کیوں کہ اس کے مطابق اتنی دیر میں وہ مہلک گیس اپنا کام کرچکی تھی،نوجوان نے بتایا کہ اندر گیس اتنی زیادہ تھی کہ جب وہ اترا تو وہ دونوں ہی بے ہوش تھے اور کچھ دیر کیلئے وہ خود بھی بے ہوش ہوگیا تھا لیکن جلد ہی ٹھیک ہوگیا اور جیسے تیسے اس نے ایک کی جان بچالی۔ نالے کے باہر کافی مجمع تھا اور تھوڑی ہی دیر میں صفائی محکمے کے دیگر اہلکار اور پولس عملے کے لوگ پہنچ گئے اورمتاثرین  کواسپتال لے گئے۔ بچ جانے والے ملازم کا کہنا ہے کہ وہ اندر پھنسے تھے لیکن کافی دیر تک کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا آخر کا ر وہ نوجوان ایک فرشتہ کی صورت میں آیا اور اس کی جان بچ گئی جبکہ وہاں موجود ہزاروں لو گ صرف تماشا دیکھ رہے تھے۔

اس طرح کے واقعات آے دن ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئےہیں اورہر واقعہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ ہم اتنے بے حس اور خود غرض کیوں ہوتے جارہے ہیں لوگوں کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ کیوں مفقود ہوتا جارہا ہے بہت پہلے ایک نظم نظروں سے گزری تھی جواس وقت بے ساختہ یاد آگئی جس کے کچھ الفاظ اس طرح تھے ’’  وہ آئے اور انہوں نے عیسائیوں کا قتل عام شروع کردیا میں چپ رہا کیونکہ میں عیسائی نہیں تھا وہ پھر آئے اور اس بار انہوں نے یہودیوں کا خاتمہ کرڈالامیں چپ رہا کیونکہ میں یہودی بھی نہیں تھا وہ پھر آئے اور اس بار انہوں نے مجھے قتل کردیا میں مدد کیلئے کسےپکارتا کیونکہ وہاں اب کوئی موجود ہی نہیں تھا۔ آج ہم سب اسی کشتی کے مسافر ہیں جوکسی وقت بھی ڈوب سکتی ہےاوراس سے بچنے کی ترکیب اور تیراکی کا ہنرہم بھول چکے ہیں !کیا  ہم ایسے ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں اور کیا یہ سوال تشنہ ہی رہ جائے گا۔ ؟ رہے نام اللہ کا۔



⋆ وصیل خان

وصیل خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے