متفرقات

احساس ذمہ داری اور غیرفعالیت

سیدعبدالوہاب شیرازی

ذمہ داری کا احساس یا احساس ذمہ داری ایک خاص ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت جس وقت کسی انسانی پر سوار ہوتی ہے تو وہ شخص اس کام کے بارے سخت بے چینی محسوس کرتا ہے، ہر وقت اسی کام کے بارے سوچتا رہتا ہے، اپنی توجہ کسی دوسری طرف کرنا محال ہوجاتا ہے، یہ کیفیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ کام مکمل نہ ہوجائے، جب کام ہوجاتا ہے تو تب انسان سکون کا سانس لیتا ہے۔چنانچہ جب یہ کیفیت طاری ہوتی ہے اس وقت انسانی ذہن چند باتیں مسلسل سوچ رہا ہوتا ہے۔ یہ کام کیسے ہو، یہ کام جلداز جلد ہو، یہ کام ضرور ہو، یہ کام سب کریں وغیرہ۔

شدید بے چینی کی اس کیفیت میں ہمارے ذہن پر صرف تین باتیں سوار رہتی ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ کسی کام میں تاخیر احسان ذمہ داری کے فقدان سے ہی ہوگی، کبھی کبھی اس کے کچھ دیگر عوام بھی ہوتے ہیں، مثلا: اگر کوئی شخص وہمی قسم کا ہے تو وہ ہروقت سوچتا ہی رہے گا، اسے کام ہونے کے بعد اطمینان نہیں ہوگا وہ پھر کرے گا، پھر اطمینا نہیں ہوگا تو پھر کرے گا اور اس طرح سارا وقت برباد کربیٹھے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص ریاکار یا شیخی باز ہے تو وہ بھی کام نہیں کرسکے گا کیونکہ وہ دکھلاوے کے لئے ہرکام اپنے ذمہ لے لے گا اور پھر کرنہیں سکے گا۔ اسی طرح بعض لوگ حد اعتدال سے زیادہ فرماں برداری کرتے ہیں وہ بھی کام کے بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں، یعنی جب انہیں کوئی کام سپرد کیا جاتا ہے تو فورا قبول کرلیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ آیا یہ کام میری طاقت کے بقدر ہے یا نہیں، یا کبھی کبھی ہرکام لیتے رہتے ہیں کبھی ناں نہیں کرتے اور اتنا زیادہ کام لے لیتے ہیں کہ پھر اسے کرنا محال ہوجاتا ہے۔

            قیادت

انسان کی بہت سی ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت اجتماعیت ہے، اس میں اللہ نے برکت رکھی ہے اور اس میں اس کی مدد بھی شامل حال رہتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے: ید اللہ علی الجماعة (ترمذی) جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے اجتماعیت سے الگ ہوکر زندگی گزارنا پسندیدہ نہیں ہے۔ایسی حالت میں خاتمے کو میتہ الجاہلیہ (جاہلیت کی سی موت) سے تعبیر کیا گیا۔ اجتماعیت ہوگی تو لازما اس کا ایک امیر اور سربراہ ہوگا جو اس کی قیادت کا فریضہ انجام دے گااور عوام اس کی راہ نمائی میں اپنا سفر حیات جاری رکھتے ہوئے منزل کی طرف کام یابی کے ساتھ گامزن ہوں گے۔ قیادت وسربراہی کی اس ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے آپﷺکا ارشاد ہے: اذاکان ثلاثة فی سفرفلےو ¿مراحدہم (ابوداو ¿د)جب تین آدمی سفرمیں ہوں تو ان میں ایک کو امیربنالیناچاہیے۔

            ذمہ داری کا احساس

 قوم کا سربراہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ قوم کی خیر خواہی کرنا ،ہر طرح کی ضرویات کا خیال رکھنا اور اس کی بہتری کی فکر کرنا ،اس کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ عین فرض منصبی ہے۔ اسے اس کا احساس ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: والذین ہم لامانٰتہم وعہدہم راعون (مومنون)

امانتیں اللہ کی ہوں یا لوگوں کی، اسی طرح عہد اللہ کے ہوں یا لوگوں کے ان کا خیال رکھنا مومن کا وصف ہے۔ ذمہ داری قبول کرنا بھی اللہ اور لوگوں سے عہد ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: لا ایمان لمن لا امانة لہ، ولا دین لمن لا عہد لہ (ابن ماجہ) اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو اور اس شخص میں دین کا پاس ولحاظ نہیں جس کے اندر عہد کی پاس داری نہ ہو۔

ہم نے کلمہ پڑھ کا اللہ اور اس کے رسول سے کچھ عہد کرلیا ہے اس کلمے کی برکت سے ہمارے کاندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری آن پڑھی ہے اور وہ ذمہ داری وہی ہے جو پہلے انبیائے کرام کی ہوتی تھی لیکن اب اللہ نے اس امت کو اس ذمہ داری کے لئے چن لیا ہے، چنانچہ کلمہ پڑھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہو گئے اور بس۔ بلکہ کلمہ پڑھ کر ہم نے عہد کرلیا کہ ہم نبیوں والا کام کریں گے ، اگر ہمیں اس کا احساس نہیں تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔

             آپﷺ کا ارشاد ہے: الاکلکم راع وکلکم مسﺅل عن رعیتہ۔(متفق علیہ) تم میں کا ہرشخص ذمہ دار ہے، ہرایک سے اس کی رعیت کے بارے باز پرس ہوگی۔

            ایک روایت میں ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اس نے اس کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا اللہ اس پر جنت کو حرام کردیگا۔(بخاری جلد2)

            ایک روایت میں ہے جو نگران اپنے ماتحتوں سے خیانت کرے وہ جہنم میں جائے گا۔(مسند احمد)

            ایک روایت میں ہے جو آدمی دس آدمیوں پر بھی نگران بنادیا گیا قیامت کے دن اس طرح پیش کیا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے پھر اس کا عدل اسے چھڑائے گا یا اس کا ظلم اسے عذاب شدید میں ڈال دے گا۔ (السنن الکبریٰ بیہقی)

             احساس جوابدہی کا یہی وہ محرک تھا جس نے صحابہ کرامؓ کو ذمہ دارشخصیت بنادیا، جو دنیاوالوں کے لیے نمونہ بنے۔ پھر دنیا نے آپﷺکے تربیت یافتہ خلفائے راشدین کا دور بھی دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب امیر بنے تو ان کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ رعایا کے احوال سے نہ صرف باخبر رہتے تھے بلکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود پیٹھ پر غلوں کا بوجھ اٹھالیتے تھے۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے قائد سرور عالم کو بدست خودخندق کھودتے دیکھا تھا۔

            1۔یہی احساس حضرت عمررضی اللہ عنہ کو رات سونے نہیں دیتا تھا، چنانچہ وہ رات کو گشت کرتے تھے، ایک دن ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز آئی، گھر والوں سے پوچھا تو پتا چلا بچے بھوکے ہیں اور گھر میں کچھ کھلانے کے لئے نہیں، ماں نے بچوں کو بہلانے کے لئے خالی دیکچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے کہ کھانا پک رہا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر فورا واپس آئے اور غلے کی ایک بوری اپنے کندھوں پر اٹھائی، خادم نے کہا میں اٹھاتا ہوں تو فرمایا قیامت والے دن سوال مجھ سے ہوگا تم سے نہیں اس لئے میں خود ہی اٹھاوں گا۔ بوری اس گھر میں پہنچائی، پھر جتنی دیر ان کی ماں کھانا تیار کرتی رہی اتنی دیر بچوں کے سامنے ایسے بیٹھ گئے جیسے کوئی جانور بیٹھتا ہے، کھانا تیار ہوا، بچوں نے کھایا اور پھر جب تک بچے ہنسی خوشی کھیلنے نہیں لگے وہیں رکے رہے۔

            2۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے زخمی اونٹ کا زخم دھورہے تھے اور فرمارہے تھے کہ میں ڈرتا ہوں قیامت والے دن مجھ سے اس زم کی پوچھ نہ ہو۔(تاریخ الخلفا110)

            3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک باغ میں گیا وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ:

عمر۔۔۔خطاب کا بیٹا۔۔۔امیرالمومنین کا منصب۔۔۔واہ کیا خوب۔۔۔اے عمر اللہ سے ڈر ورنہ سخت عذاب ہوگا تجھے۔(تاریخ الخلفا102)

یہ وہی عمر ہیں جن کے بارے حضور نے فرمایا: اللہ نے عمر کے دل اور زبان پر حق جاری کردیا ہے(ترمذی)

            4۔ ایک بار آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی ے کہا کچھ نصیحت فرمائیں۔ تو فرمایا: سنو جب میں نے دیکھا میرے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے تو مجھے دور دراز کے بھوکوں ضرورت مندوں اور مفلسوں کا خیال آیا، اور میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قیامت والے دن اللہ مجھ سے میری رعایہ کے بارے پوچھے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان مفلوک الحا ل لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دیں گے۔ یہ سوچ کر میرے دل میں خوف طاری ہوگیا کہ اللہ میرا کوئی عذنہیں قبول کرے گا۔ پھر یہ سوچ کر مجھے خود پر ترس آیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اب میں اس حقیقت کو جتنا یاد کرتا ہوں اتنا ہی احساس ذمہ داری بڑھتا چلا جاتا ہے۔( تاریخ الخلفا 189)

            جب ایک ذمہ دار شخص کا احساس ذمہ داری ختم ہوتا ہے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں، مامورین اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں، غیر فعالیت پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا ہوگاکہ آیا ہماری قربانی اللہ کے لئے ہے یا نہیں۔

            سوچنے کی تین باتیں

دین کے کاموں میں ایک فعال اور متحرک مسلمان کے لئے مایوسی کے ان اندھیروں میں امید کی تین کرنیں روشن ہیں۔

            1۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان دوسرے انسانوں کی ہدایت، اور اخروی نجات کا ذریعہ بن کر اپنے لئے صدقہ جاریہ کا سامان بنا لیتا ہے۔

            2۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان اپنے دوسرے رفقاءکے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ایثار وقربانی سے دوسرے رفقاءکو بھی قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلے کی فضا قائم ہوتی ہے۔

            3۔ چونکہ محاسبہ اخروی انفرادی ہوگا،(وکلہم آتیہ یوم القیامة فردا۔مریم) اس لئے ایک فعال اور متحرک مسلمان اللہ کہ سامنے کہہ سکے گا کہ اے اللہ میں نے اپنے حصے کا کام پورا کیا تھا۔

اس کے مقابلے میں وہ مسلمان جو حقیقی عذر کے بغیر غیر فعال ہیں انہیں بھی تین باتیں سوچنا چاہیے کہ:

            1۔ اللہ نے اس پر کتنا بڑا احسان کیا کہ اسے مسلمان بنایا،پھر قرآن وسنت کی روشنی میں فرائض دینی کے ایسے تصور کا فہم دیا جو قرآن وسنت کی واضح تعلیمات پر مبنی ہے، پھر توفیق عطا فرمائی کہ ان فرائض کی ادائیگی بھی کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اب غیر فعال ہونا اللہ کے احسانات کی ناشکری ہے، اور اللہ کا فرمان ہے: لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم فان عذابی لشدید۔

            2۔ غیر فعال مسلمان فرائض دینی میں کوتاہی کرکے نہ صرف خود گناہ گار ہوتا ہے بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی مایوس کرتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ کلمہ پڑھ کر ہم اس خوش فہمی میں رہیں کہ سیدھے جنت میں جائیں گے مگر حساب کتاب کے وقت ہماری پکڑہوجائے،

            3۔ مسلسل کوتاہی بھی بہت بڑی محرومیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

            تین ہی بڑی محرومیاں

            1۔یاایہاالذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم، واعلموا اَن اللہ یحول بین المرء وقلبہ وانہ الیہ تحشرون(انفال24)۔

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو لبیک کہو اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جبکہ وہ اللہ تمہیں پکارے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ تمہیں زندگی دے، جان لو کہ اللہ حائل ہو جایا کرتا ہے بندے اور اس کے دل کے درمیان اور اسی کی طرف تم سب جمع کیے جاو گے۔

            2۔واللہ الغنی وانتم الفقراءواِن تتولوا یستبدل قوما غیرکم، ثم لایکونوا امثالکم(محمد38)۔

ترجمہ: اور اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو اور اگر تم نے پیٹھ دکھائی تو وہ بدل کر لے آئے گا تمہارے سوا کسی اور قوم کو اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوگی۔

            3۔رب لولااخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین(منافقون10)۔

ترجمہ: اے میرے پروردیگار مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہیں دے دیتا کہ میں صدقہ کرلوں اور ہو جاوں بالکل نیک۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close