اردو جرنلٹس ایسو سی ایشن کا چونکانے والا فیصلہ !

گذشتہ دنوں ’’اردو صحافت کے دو سو سال، فنڈ اکٹھاکرنے کا پروگرام! کے عنوان سے ایک خبر نظر سے گذری کہ جس میں اردو جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے شدید علیل اردو صحافیوں کو فوری طورپر مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی ایسے صحافیوں کے لئے فنڈ اکٹھا کئے جانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔اردو جرنلٹس کے ذمہ داران نے اس بات پر اظہار کیا کہ اس ایسو ایشن کا مقصد ہے اردوصحافیوں کی ہرممکن مدد کرنا ، مثلاً اگر کوئی اردو زبان سے تعلق رکھنے والا صحافی اپنے اہل وعیال کے طبی اخراجات برداشت نہیں کرسکتا ہے تو اردو جرنلٹس ایسو سی ایشن اس کی ہرممکن مددکرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے گی ۔کیونکہ ایسوسی ایشن کا مقصد ہی اردو زبان کے صحافی کی فلاح وبہبود گی ہے اور اس کو مالی دشواریوں کے دلدل سے نکالنا۔اور ان کے بچوں کو اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کی فیس مہیاکرانا وغیرہ ۔
ذرائع کے مطابق اس سمت بہتر پیش رفت بھی ہوئی ہے،ایسا خبر وں میں آرہا ہے ۔قارئین کو بتادیں ابھی حال ہی میں اردو جرنلٹس ایسو سی یشن کی جانب سے تین شدید علیل صحافیوں کو طبی امداد دینے کا اعلان سامنے آیا ہے جس میں ایک نام منظر عام پر آیا ہے جس میں سے دوناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔جس طرح ایک نام کا اعلان ہو ا،طریقہ تو یہی ہے کہ بقیہ دونوں ناموں کا بھی اعلان کیاجاتا۔باقی دونام پوشیدہ رکھنے کا کیا مطلب؟۔
کیا یو جے اے نے شدید علیل صحافیوں کی طبی امداد کا اعلان کرنے سے پہلے کوئی پریس نوٹ، اشتہار یا کسی قسم کا اعلان کیا تھا کہ جو بھی ضرورتمند اردو صحافی ہیں وہ اپنے درخواست فارم فلاں تاریخ تک فلاں مقام پرجمع کرادیں جس سے یوجے اے کو آسانی سے پتہ چل سکے کہ حقیقی ضرورتمند کون ہے؟۔
ایسو سی ایشن کو چاہیے کہ کسی بھی طرح اعلان کرے اور درخواست فارم منگوائے کہ مستحقین کتنے ہیں اور اصلی مستحق کون ہیں؟
یا درخواست فارم موصول ہونے کے بعد یو جے اے اپنی تحقیقات وتفتیش کے ذریعہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ درخواست فارم دہندہ میں اصلی مستحق کون ہے؟مجھے اس طرح کی کوئی خبر یا اعلان پڑھنے یا سننے کو نہیں ملی۔اگر یہ تنظیم صحیح معنوں میں اردو صحافی کی فلاح وبہبود اور اس کو مضبوط بنانے کے لئے بنی ہے تو اس کے فیوض وبرکات جو مستحقین ہیں(چھان بین اور بررسی کے بعد)انہیں کو ملنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ساری چیزیں جو اردو جرنلٹس ایسو سی ایشن لے کر چل رہی ہے یہ سہولیات ہر اس اردو صحافی کیلئے ہیں جس کا اردو صحافت سے ذرہ برابر بھی رشتہ ہے یا صرف ایسوسی ایشن کی سہولیات مشہور ومعروف یابزرگ صحافیوں کے لئے ہیں ۔اردو صحافت سے تعلق رکھنے والا ہر وہ شخص ہے جو بھی اس سے متسمک ہے چاہے وہ کسی اخبار کا ملازم ہی کیوں نہ ہو۔جہاں تک سوال ہے ڈی ٹی پی آپریٹر کا وہ بھی ایک ورکنگ جرنلٹس کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ آج کے زمانے میں بعض اخباروں کے دفتروں میں جوڈی ٹی پی آپریٹر ہیں وہی سب ایڈیٹر کی ذمہ داریاں بخوبی نبھارہے ہیں۔میں ذاتی طورپر اردو جرنلٹس کے بانیان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ جنھوں نے اردو صحافیوں کی ضرورتوں اور ان کی پریشانیوں کو اور ان کی فلاح بہبودگی کے لئے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے۔جہاں تک میرا اپنا نظریہ ہے کہ اگر اردو سے تعلق رکھنے والے کو جو ضروری دستاویزات چاہئے ہوتے ہیں(مثلاً اپائٹمنٹ لیٹر،سیلری سلپ وغیرہ) اگر یہ سب اس کو مل جائیں تو اردوصحافی خود بخود مستحکم ہونا شروع ہوجا ئے گا۔قارئین کو بتادیں کہ جب سے اردوجرنلٹس کا قیام عمل میں آیا ہے وہ افرادجن کا اردو صحافت سے دور ۔دور کا رشتہ نہیں تھاوہ بھی کسی نہ کسی ذریعہ خود ساختہ صحافی بن کر اس تنظیم کا حصہ بن رہے ہیں لہٰذا یو جے اے کو اس بات پر خاص دھیان دینا ہوگا کہ جو واقعی اردو صحافت سے وابستہ ہیں انھیں کے لئے سہولیات کا راستے ہموار کرے ۔



⋆ مصباح شہزاد

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔