دیگر نثری اصنافمتفرقات

اردو دشمنی کاایک اورکُھلم کُھلا مظاہرہ

اردوکےحقوق اس ملک میں کیااورکتنےہیں یہ اردو کےطالبِ علم کاسوال ہےجوآپ سے فی الفور جواب کامطالبہ کرتاہے۔

سالک ادیؔب بونتی

این .آئی.او.ایس کےتحت زیرِملازمت اساتذہ کےلئے ڈی .ای ایل.ای.ڈی کی جانب سے سال ۱۹-۲۰۱۸کےلیےٹیچرٹریننگ کےاعلان کے بعد ملک بھرسے اسکول اور مدارس سے وابستہ معلمین ومعلمات نے کثیرتعداد میں اس کورس میں داخلہ لیا،ابتدامیں یہ بات سامنے آئی کہ ہندوستان کی ساری زبانوں میں یہ کورس کیاجاسکتاہے لیکن نیٹ میں این.او.آئی.ایس کی جانب سے جارہ کردہ کسی بھی نوٹِس کی فہرست میں اردو شامِل نہیں کی گئی۔

کچھ لوگوں نے اس کےلیےکوشش کی بالآخر اردو کی اجاذت بھی دےدی گئی جس سے اردو طبقےکوتھوڑی سی راحت مِلی لیکن جب تفویضات جمع کرنےکی نوبت آئی تو اردو میں کوئی مواد نہیں دِیاگیاتاہم اردو کےطلباءنےہمت نہیں ہاری اور کچھ بہی خواہوں کی مددسےاپنےطور ہر تفویضات مکمل کرلی سب سے بڑامسئلہ اب یہ درپیش تھاکہ امتحان کی تیاری کےلیے مواد کہاں سےلایاجائے۔ پریشانی بڑھتی چلی گئی نیٹ میں مسلسل تلاش کے بعدبھی اردو کا کوئی آپشن نہیں مِلاجبکہ ہندوستان کی دوسری تمام زبانوں میں مطلوب مواد اپلوڈکردیاگیاتھا…. اردو دان طبقے کی جانب سے کیاکوشش کی گئی اس کی مجھےکوئی اطلاع نہیں ہاں اگرکوشش کی گئی ہےتوادھوری ہے اگرنہیں کی گئی ہے تویہ ہماری اردومحبت کےبطلان کی دلیل ہے۔

خیرجیسےتیسے کچھ خیرخواہوں معاوضےکےساتھ امتحان کےموادکااردومیں کم ازکم لفظی ترجمہ کردیا…دردِسرمیں اضافہ تب ہوگیاجب ہال ٹیکٹ میں اردومیڈم کوجگہ نہیں دی گئی گرچہ کہ امتحان لکھنےکی اجاذت دےدی گئی اس پرمزیدبرآں امتحانات کےمراکزمیں اردو طلباءکوقدرےپریشان کیاگیااور انڈرٹیکنگ اپلیکیشن کامطالبہ کیاگیاحدتویہ کہ سوالات کےپرچےمیں ساری زبانیں شامِل کی گئیں سوائے اردو کے۔

ایساکیوں؟  کیایہ صرف لسانی عصبیت ہے یااس کے ہیچھےبھی مسکم دشمنی کاپر پھڑپھڑارہاہے۔

ہندوستان میں گجراتی، بنگالی، کنڑا، تیلگو،تمل اور اُڑیہ زبان کے طلبہ زیادہ ہیں یا اردوکے؟

اگرایمان داری سے مشاہدہ کیاجائے توان سب کی بہ نسبت اردو کے طلبہ کی تعداد اوسطاً اسّی% فیصدزیادہ  ہے توپھرکیوں اردو سوال پرچےمیں شامِل نہیں کی گئی؟ اب اس مہربانی کو کونسانام دِیاجائے؟

اس پریشانی میں مخالف طبقےکےبرابرہماراکرداربھی ہے۔ ہاتھ اور سنکھ یا کنول کے بینرتلے ہاتھ جوڑ کر رواداری کااظہار کرنےواکےبےغیرت مسلمانوں کواس کی خبرنہیں کہ تعصب پرست انھیں صرف اپنے مطلب کےلیے استعمال کررہاہے…. آزادی کی دوڑ میں آگے رہنےوالو اور جان وتن کی قربانی پیش کرنےوالوکب ہوش میں آؤگے؟

کیوں چپ ہو… تمھاری خموشی سیاست کی غلامی نہیں تواور کیاہے؟

اگرتمھیں اسی طور اچھےدِن مِل گئے ہیں تو میرامشورہ ہےکہ یہ اچّھےدِن واپس کردو اپنےوہی پرانے(خراب)دن  ہی بھلےتھے۔

امتحان کےحال میں اردوکےطالبِ علم کوجب ترچھی نظرسےدیکھاجاتاہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہےاس کاتمھیں اندازہ نہیں۔ تعلیمی مرکز میں جب اردو کاطالبِ علم ہاتھ اٹھاتاہے کہ سرمیں اردوکاطالبِ علم ہوں تو ذمہ داروں کی مسکراہٹ سےدل پرکیاگزرتی ہے وہ مجھ جیساہی کوئی طالبِ علم سمجھ سکتاہے۔

اردوکےحقوق اس ملک میں کیااورکتنےہیں یہ اردو کےطالبِ علم کاسوال ہےجوآپ سے فی الفور جواب کامطالبہ کرتاہے۔ اگرآپ کےپاس اس کاکوئی جواب نہیں تو اردو کےنام چلنےوالی اکیڈمیاں بندکردو…کیا اردو بورڈ صرف برائےنام ہے؟

اردو کےتئیں اس کی کیاذمےداریاں ہیں اوربورڈ نےاپناحق کس حدتک اداکیا؟

اس طرح کے اوربھی کئی سوالات آپ سے جواب کامطالبہ کرتےہیں۔

یادرکھیے لفظ اردو کامعنیٰ صرف لشکری زبان نہیں بلکہ اس کاایک ڈیجیٹل معنیٰ مسلمانوں کی زبان بھی باورکیاجاتاہے جوکہ جمہوریت پرحرف اور ملک کی روادری اور سالمیت پرخطرےکی گھنٹی ہے۔ بہرکیف اردو اپنےہی گھرمیں آج بےامان زندگی گزار رہی ہے اور زبانِ حال سے شکوہ کناں ہے کہ مجھے کس خطاکی سزادی گئی؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close