متفرقات

اردو میں حج کے سفرنامے

تحریر: ڈاکٹر محمد شہاب الدین… ترتیب:عبدالعزیز

اردو میں حج کے سفر نامے لکھے ضرور ہیں مگر باقاعدہ طور پر اس پر تحقیقی کام نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر شہاب الدین نے اس موضوع پر تحقیقی انداز سے کام کیا اور اسی موضوع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت عرق ریزی اور محنت سے کام کیا ہے جس کی وجہ سے کتاب بہت اچھی اور قابل قدر ہوگئی ہے۔ سفر حج سے پہلے اگر کوئی اسے پڑھتا ہے تو سفر کے دوران اسے اچھی خاصی مدد ملتی ہے۔ صاحب کتاب نے اپنے ’پیش لفظ‘ میں لکھا ہے:
اردو ادب کی تقریباً سبھی اہم نثری و شعری اصناف پر مختلف پہلوؤں سے کثیر اور وقیع تحقیقی و تنقیدی کام ہوچکے ہیں اور موجودہ عہد میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ان اصناف پر کام جاری ہے۔ سفر نامہ کی صنف بھی اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے اور اس پر اردو میں خاصا وقیع سرمایہ موجود ہے۔ اس موضوع پر جو تحقیقی کام ہوئے ہیں ان کی اہمیت مسلّم ہے ، لیکن یہ کام ابھی تشنہ ہیں۔ جبکہ اسی صنف کی ایک ذیل قسم حج کے سفرنامے ہیں، جن کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے اور یہ بھی اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں، لیکن اس موضوع پر تاحال کوئی باقاعدہ اور مستقل تحقیقی کام نہیں ہوا ہے۔ عام سفر ناموں پر ہندستان میں ڈاکٹر قدسیہ قریشی، ڈاکٹر خالد محمود اور ڈاکٹر بشریٰ رحمن نے اور پاکستان میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور ڈاکٹر انور سدید وغیرہ نے کام کیا ہے اور ان کے مقالات کتابی شکل میں شائع بھی ہوچکے ہیں، جن کی بدولت اس صنف کی حیثیت خاصی حد تک نمایاں ہوئی ہے، لیکن راقم الحروف کی ناقص معلومات کے مطابق حج کا سفر نامہ، اب تک کسی ایسے باقاعدہ تحقیقی کام سے محروم تھا، جس میں اس کی فنی و ادبی خصوصیات کی تلاش کی گئی ہو، البتہ ضمنی طور پر سفر نامہ پر کام کرنے والے مذکورہ محققین و ناقدین میں سے چند نے اپنی تصنیفات میں حج کے بعض سفرناموں کا تعارف کرایا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر انور سدید کا نام زیادہ قابل ذکر ہے، جنھوں نے اپنی کتاب ’’اردو ادب میں سفر نامہ‘‘ میں تقریباً اسّی حج کے سفر ناموں کابھی مختصر تعارف پیش کر دیا ہے، لیکن اردو کے سیکڑوں حج ناموں کی موجودگی میں یہ کام بھی ناکافی، تشنہ اور محض تعارفی نوعیت کا ہے۔ واضح ہو کہ انور سدید کا کام بھی آج سے بیس سال قبل کا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ صنف اس امر کی متقاضی تھی کہ اس کی جانب توجہ مرکوز کی جائے اور ان حج ناموں کے مطالعہ و تحقیق کے ذریعہ ان کی قدر و قیمت کا تعین کیا جائے۔
چنانچہ راقم سطور نے اس جانب توجہ کی اور ایک تفصیلی خاکہ بناکر کام شروع کر دیا۔ چند سال کی مستقل محنت، توجہ، لگن اور انہماک کے نتیجے میں اور اللہ کے فضل و کروم سے پانچ ابواب پر مشتمل یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا اور اب کتابی شکل میں موجود ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اس کتاب میں آغاز سے 2009ء تک کے حج کے سفر ناموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں حج کے ان سفر ناموں کا مطالعہ کیا گیا ہے، جو باقاعدہ کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔ البتہ کچھ ایسے حج نامے جو بعض مصنّفین کی خود نوشت سوانح کا جز ہیں یا بیسویں صدی کی ستر کی دہائی کے بعد کے عام سفر ناموں میں پائے جاتے ہیں یا رسائل میں شائع ہوئے ہیں، انھیں اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے، اس لئے کہ یہ علاحدہ سے کام کے متقاضی ہیں۔ ستر کی دہائی کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ اس دہائی تک حج ناموں اور سفر ناموں کو ایک ساتھ لکھے جانے کا رجحان موجود تھا، البتہ اس کے بعد اس رجحان میں بہت کمی واقع ہوگئی۔
جیسا کہ عرض کیا گیا ، یہ مقالہ کل پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب سفر نامہ اور حج نامہ کے فن پر مشتمل و مرکوز ہے۔ اس میں سفر نامہ کے معنی اور مفہوم پیش کرنے کے علاوہ سفر نامہ اور حج نامہ کی تعریف متعین کرنے اور اس کی خصوصیات واضح کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ اسی ضمن میں سفر نامہ اور حج نامہ کے بنیادی عناصر کی وضاحت کے ساتھ حج کے سفر ناموں کی تکنیک پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
دوسرے باب میں حج ناموں کے پس منظر، آغاز اور ابتدائی حج ناموں کے کوائف سے بحث کرتے ہوئے انیسویں صدی کے اختتام تک کے حج ناموں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس دور میں اب تک جو حج نامے دریافت ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر کی حیثیت سفری گائیڈ بک کی ہے۔ ان میں جو حج نامے دریافت ہوئے ہیں، ان میں جو حج نامے زیادہ نمایاں اور ادبی و فنی خصوصیات کے حامل ہیں، زیر بحث باب میں ان کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور ان میں موجود فنی و ادبی خصوصیات کی نشان دہی کی گئی ہے۔
تیسرا باب بیسویں صدی کے آغاز سے 1947ء تک کے حج ناموں کے مطالعہ پر مشتمل ہے۔ اس دور کی تیسری دہائی کے نصف اول تک حج نامے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے ربع ثانی میں بتدریج فنی تکمیلیت کے عہد میں داخل ہوئے ہیں۔ اس دور کے حج ناموں میں مصنّفین نے گزشتہ دور کے خشک بیانیہ سے نکل کر حج ناموں میں جان پیدا کرنے اور خود کو اپنی تصنیف کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے اور زبان و اسلوب کے اعتبار سے بھی ادبی پیش کش پر توجہ کی ہے، نتیجتاً پہلی بار حج ناموں کو داخلی شناخت اور استحکام حاصل ہوا ہے۔
چوتھے باب میں 1947ء سے 2009ء تک کے حج کے منتخب و ممتاز سفر ناموں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس دور کے مصنّفین نے حج ناموں میں داخلی کیفیات و واردات کو فکری و فنی توازن اور منفرد ادبی زبان و اسلوب میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس عہد کے حج ناموں میں ماضی سے مکمل انحراف نظر آتا ہے۔ اس عہد کے منتخب و ممتاز حج ناموں کے زیر نظر مطالعے میں زیادہ گہرائی، تنوع اور کثیر جہتی واضح طور پر نظر آئے گی اور اس لحاظ سے یہ باب پوری کتاب کا کلیدی باب کہا جاسکتا ہے۔
پانچواں اور آخری باب حج ناموں کے تراجم پر مشتمل ہے۔ اس میں عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں سے اردو میں منتقل کئے گئے حج کے سفر ناموں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ مترجمہ حج نامے بھی ادبی و فنی اعتبار سے بہت اہم اور وقیع حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر شاہ کار تصنیفات ہیں۔
چونکہ ہر مصنف کا طرز و اسلوب مختلف ہوتا ہے۔ کوئی اختصار سے اپنی بات پیش کرتا ہے اور کسی کے یہاں تفصیل نگاری کا رجحان پایا جاتا ہے، اس لئے مصنف کی فکر و پیش کش اور اسلوب نگارش کے تجزیاتی مطالعہ کیلئے دلیل کے طور پر گوناگوں اقتباسات پیش کرنا، ناگزیر ہوتا ہے۔ اس لئے زیر نظر مطالعے میں بسا اوقات حوالوں اور اقتباسات کی بہ ظاہر کثر محسوس ہوسکتی ہے، لیکن انھیں ممکن حد تک کم کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور خیال رکھا گیا ہے کہ اسی قدر اقتباسات پیش کئے جائیں، جن سے زیر گفتگو حج ناموں کی مجموعی حیثیت و اہمیت واضح ہوسکے۔
اس مقالے کے سلسلے میں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تیاری میں تقریباً ڈھائی سو حج کے سفر ناموں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے حج ناموں کی بڑی تعداد موجود ہے، جو معیاری حیثیت کے حامل ہیں۔ چونکہ ان کے موضوعات کم و بیش یکساں ہیں، فکری نہج اور طرز اظہار کے سبب ممتاز مصنّفین سے قطع نظر اگر یہاں تمام حج ناموں کا مطالعہ پیش کیا جاتا تو مضامین کی یکسانیت کے سبب غیر معمولی تکرار ہوجاتی اور اس صورت میں مقالے کی ضخامت میں بھی غیر ضروری طور پر کئی گناہ اضافہ ہوجاتا، لہٰذا کوشش یہ کی گئی ہے کہ ہر عہد کے نمائندہ اور ممتاز ترین حج ناموں کا مطالعہ پیش کیا جائے، تاکہ موضوع کا مکمل طور پر احاطہ بھی کیا جاسکے اور کوئی گوشہ تشنہ نہ رہ سکے؛ چنانچہ ان حج ناموں کے مطالعہ کے ذریعہ اردو حج ناموں کے عہد بہ عہد ارتقا کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصیات اور امتیازات بھی بخوبی نمایاں ہوگئے ہیں، البتہ ان حج ناموں کے تعین قدر میں مطالعہ کردہ مذکورہ بالا ان حج ناموں کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، جن کو تفصیلی مطالعہ کے دائرہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
حج ناموں کے سلسلے میں یہ عرض کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع پر تحقیق کے دوران وقتاً فوقتاً مختلف ذرائع سے ایسے حج ناموں کے نام اور ان کی تفصیلات بھی دستیاب ہوئی ہیں، جن تک رسائی نہیں ہوسکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر و بیشتر اور نمائندہ پاکستان سے شائع ہوئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک فرد کیلئے تمام مطبوعہ حج ناموں کو حاصل کرلینا کوئی آسان کام نہیں ہے، چنانچہ ان کی ایک فہرست تیار ہوگئی، جسے کتابیات کے بعد ضمیمے کے طور پر شامل کیا گیا ہے، تاکہ آئندہ کام کرنے والوں کیلئے یہ مفید ہوسکے، البتہ حج ناموں کے ذخیرے میں سے اکثر و بیشتر اور نمائندہ حج ناموں کے مطالعے سے یہ اطمینان ضرور ہے کہ بحیثیت مجموعی حج ناموں کے تعین قدر کے سلسلے میں راقم ناکام نہیں رہا ہے۔
اب میں ان تمام اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کرنا اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں جن کا میری اس کتاب کی تیاری میں کسی نہ کسی طرح کا تعاون شامل رہا ہے، چنانچہ اس کی تیاری کے سلسلے میں مجھے ہندستان کی متعدد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سب سے زیادہ اہم اور قابل ذکر ہے، جس میں کئی سال تک مسلسل کام کرتے رہنے اور اس سے بھر پور استفادہ کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے علاوہ مختلف شعبہ جات کی لائبریریوں سے بھی موقع بہ موقع استفادہ کیا۔ اسی سلسلے میں علی گڑھ سے باہر کی لائبریریوں کے نام جن کا مجھے بطور خاص شکریہ ادا کرنا ہے، درج ذیل ہیں:
رام پور رضا لائبریری، صولت پبلک لائبریری، رام پور؛ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، گورنمنٹ اردو لائبریری؛ پٹنہ، سندریہ و گنانا کیندرم؛ حیدر آباد، سالار جنگ میوزیم لائبریری؛ حیدر آباد، لائبریری ادارۂ ادبیات اردو، کتب خانہ آصفیہ (گورنمنٹ سنٹرل لائبریری)، عثمانیہ یونیورسٹی لائبریری، لائبریری: اردو ڈاکیومنٹیشن سنٹر؛ حیدر آباد، حکیم محمد سعید سنٹرل لائبریری، جامعہ ہمدرد؛ نئی دہلی، ذاکر حسین لائبریری، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ نئی دہلی، سنٹرل ریفرینس لائبریری، دہلی یونیورسٹی، لائبریری: انجمن ترقی اردو (ہند)، ریفرینس لائبریری، جماعت اسلامی ہند؛ نئی دہلی اور کتب خانہ دارالعلوم دیوبند۔ میں ان تمام لائبریریوں کے ذمہ داران کا انتہائی مشکور ہوں جنھوں نے اپنا مخلصانہ تعاون دے کر مجھے ہر طرح کی ممکن سہولت عطا فرمائی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close