متفرقات

اسلامی تناظر میں مالیاتی پالیسی 

ڈاکٹر اوصاف احمد
جدید اقتصادیات میں بازارِ زر (Money market) کی نگرانی (Regulation) نگہبانی (Supervision) اور انتظام و انصرام (Management) کو محض ایک فقرے ’مالیاتی پالیسی‘ (Monetary Policy) میں سمیٹ لیا جاتا ہے، جس کے ذریعہ ذمہ دار افراد، معیشت کو چلانے اور اس کی نگرانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مالیاتی پالیسی اب ایک ایسا اہم ذریعہ بن گئی ہے جس کے ذریعہ جدید معیشت کو ہموار بنانے کا (Fine-tuning) کام کیا جاتا ہے۔ اسلامی بنک کاری کے ظہور اور بعض مسلم ممالک کے اس اعلان کے بعد کہ وہ اپنے ملک میں اسلامی بنک کاری کا نفاذ پورے طور پر کرنا چاہتے ہیں، اسلامی نقطۂ نظر سے مالیاتی پالیسی کا سوال اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ اسلامی بینکوں کی موجودگی میں مالیاتی پالیسی کا نفاذ کس طور پر ہوگا ؟ کیا اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کا نفاذ اسی طرح ہوگا جیسے کہ کسی جدید سرمایہ دارانہ معیشت میں ہوتا ہے یا اس سے کچھ مختلف ہوگا؟ اگر اس سوال کاجواب اثبات میں ہے تو اختلاف کی صورتیں کیاہوں گی؟ اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کے مقاصد کیا ہوں گے؟ اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کے نفاذ کے لیے کون سے ذرائع / آلات (Instruments) فراہم ہوں گے؟ کیا یہ ذرائع ان ذرائع کے مماثل ہوں گے جو آج کل کسی بھی جدید معیشت میں مستعمل ہوتے ہیں یا ان میں کچھ ترامیم درکار ہوں گی؟ یا ہم کو بالکل نئے ذرائع وضع کرنے ہوں گے؟ اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کی مجوزہ تشکیل سے قبل یہ اور اس قسم کے بعض دوسرے سوالات کے مناسب اور تشفی بخش جوابات ڈھونڈنا لازم ہوگا۔
اسلامی معیشت میں مرکزی بینک کا کردار
جدید معاشی نظام میں مرکزی بینک مندرجہ ذیل وظائف ادا کرتا ہے:
1۔ معیشت کی ضروریات کے مطابق زر کی فراہمی پر کنٹرول اور نگرانی۔
2۔ بینکوں کے ذریعہ فراہم کیے جانے والے قرضوں کی مناسب جہتوں میں منتقلی۔
3۔ محفوظ بینگ کاری کے مقاصد کا حصول۔ 
اسلامی معاشیات کے ماہرین کا قیاس یہی ہے کہ اسلامی معیشت میں بھی مرکزی بینک کو یہ وظائف انجام دینا ہوں گے۔ اسلامی معیشت میں بھی مرکزی بینک کو اعلیٰ قوت زر (High Powered Money) کی فراہمی جاری رکھنی ہوگی۔ مالیات اور سرمایہ کاری کو ایسے زمروں میں لے جاناہوگا جو سماجی نقطۂ نظر سے زیادہ قابل ترجیح ہوں اور سماجی ترجیحات کے مطابق قومی وسائل کی تقسیم پر اثر انداز ہونا ہوگا ، نیز تجارتی بینک کاری نظام کی کارکردگی پر نظر رکھنی ہوگی، اُسے مزید موثر بنانا ہوگا۔ تاہم تجزیہ کاروں کو اس حقیقت پر بھی نگاہ رکھنی ہوگی کہ اسلامی معیشت میں بھی تجارتی بینک منافع کمانے والے نجی اداروں کی حیثیت رکھیں گے، جس طرح کہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ان کے شریک کار بینک منافع کمانے والے ادارے (Profitmaking entitles) ہوتے ہیں ۔ گوکہ اسلامی معیشت میں بینک اپنے اعمال اسلام کے سماجی اور معاشی فلسفہ کی رہنمائی میں رنجام دیں گے اور شریعت کے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے کوشاں رہیں گے، لیکن ان کے تجارتی اعمال میں سے بیش تر کا محرک منافع کا حصول ہوگا۔ اس لیے کسی ایسے ادارے کی ضرورت ہوگی جو کہ ان مختلف النوع تجارتی اداروں کے درمیان توازن او راعتدال پیدا کرسکے اور مشترکہ سماجی و معاشی مقاصد کے حصول میں ان اداروں کا ممد و معاون ہوسکے۔ طبعاً، ملک کا مرکزی بینک ایک ایسا مناسب ادارہ ہوگا جو اس کردار کو کما حقہٗ نبھا سکے۔
اسلامی بینک اور تخلیق زر
عام طور پر کسی جدید معیشت میں مالیاتی پالیسی کی کارکردگی اور تجارتی بینکوں کے کنٹرول کی وسعت اور پھیلاؤ کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ تجارتی بینک تخلیقِ زر میں حصہ لیتے ہیں اور معیشت میں زر کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اسلامی معیشت کے حوالہ سے ہمیں ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا کہ کیا اسلامی بینک بھی اپنے تجارتی اعمال کے ذریعہ تخلیقِ زر کرتے ہیں؟ کیا اسلامی بینک کاری نظام میں مضاعف تخلیق جمع (Multiple Deposit Creation) اسی طرح ہوسکتی ہے جس طرح کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نجی بینک کاری میں ہوتی ہے۔ اس نکتہ پر اسلامی معاشیات کے ماہرین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ اسلامی بینک کاری ، روایتی بینک کاری سے یکسر مختلف ہے، اس لیے اسلامی بینک کاری میں مضاعف تخلیق جمع ممکن نہیں ہے۔ اس گروہ کی دلیل یہ ہے کہ روایتی بینک کاری نظام کا انحصار قرض کے تصور پر ہے۔ روایتی نظام میں بینک کی تعریف یہی ہے کہ یہ (بینک) جمع وصول کرنے اور قرض دینے والا ادارہ ہے۔ چونکہ روایتی نظام میں بینک منافع حاصل کرنے والا ادارہ بھی ہوتا ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی فکر میں تجارتی بینک زیادہ سے زیادہ قرض دینے کی دھن میں لگ جاتے ہیں۔ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ زر کی طلب و رسد کا توازن بگڑ جاتا ہے، معیشت میں زر کی رسد میں اضافہ ہوجاتا ہے، شرح سود گرتی ہے جس سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ آمدنی، اور روزگار کی سطح بھی نیچے آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے بر عکس اسلامی بینک کاری میں قرض کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا، قرض کے بجائے اسلامی بینک ’مضاربۃ‘ کے تصور پر کام کرتے ہیں اور تجارتی لوگوں کو ’مضاربۃ‘ کی بنیاد پر وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ ہر مضاربۃ کے ساتھ معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اسی تناسب سے اضافہ ہوتا ہے۔ جب معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کا امکان نہیں ہوتا تو مضاربہ فنڈس کی طلب بھی رک جاتی ہے۔ اس لیے اسلامی بینک کاری نظام میں بینکوں کے ضرورت سے زیادہ قرض دینے کا امکان نہیں ہوتا۔ ’مضاربۃ‘ کے ذریعہ نظام بینک کاری فقط اتنی مقدار میں مالی وسائل فراہم کرے گا جس کو معیشت کی پیداواری صلاحیت بخوبی جذب کرسکے۔ اس لیے ان مفکرین کی رائے میں اسلامی بینک کاری نظام میں غیر ضروری تخلیق زر کے ذریعہ پیدا ہونے والے معاشی عدم استحکام کی گنجائش نہیں۔
اس کے بر عکس اسلامی اقتصادیات کے ماہرین کا دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اسلامی بینک کاری میں بھی تخلیق زر اسی طرح ممکن ہے جس طرح کسی جدید معیشت میں۔ ان مفکرین کی نگاہ میں اوپر دیے گئے دلائل ناقابل تردید نہیں ہیں۔ یہ ماہرین اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ نظام بینک کاری خواہ روایتی ہو یا اسلامی، تخلیق زر کسی ایک بینک کا کام نہیں ہے۔ تخلیق زر کی اساس اس حقیقت پر ہے کہ بینک کے ذریعہ اُدھار دیا گیا۔ روپیہ گھوم پھر کر بینک کاری نظام کے اندر ہی رہتا ہے۔ اس لیے تخلیق زر، پورے نظام بینک کاری کی کارکردگی کا نتیجہ ہوتی ہے نہ کہ کسی ایک بینک کا۔ ان مفکرین کا اصرار ہے کہ مضاعف تخلیق جمع (Multiple Dipcsit Creation) مندرجہ ذیل دو عوامل کے باعث ظہور میں آتا ہے:
۱۔ کسی ایک بینک کے ذریعہ دیا گیا قرض (خواہ وہ سودی قرض ہو یا مضاربۃ کی بنیاد پر ہو) نظام بینک کاری سے باہر جاہی نہیں سکتا۔ وہ کسی دوسرے بینک میں جمع (deposit) کی شکل میں واپس آجاتا ہے جس کے مقابلہ میں مزید قرض دیا جاسکتا ہے۔
۲۔ اصل میں یہ جزوی نظام محفوظ اثاثہ جات (Fractional Reserve system) مضاعف تخلیق جمع کااصل سبب ہے۔ اس لیے بعض اصحاب، جو معاشی استحکام کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، وہ نظام بینک کاری میں سوفی صد محفوظ اثاثہ جات کا نظام (100% Reserve Requirement System) قائم کرنے کے حق میں ہیں۔
اگر اسلامی نظام بینک کاری میں مندرجہ بالا دو خصائص پائے جائیں تو اس کو بھی مضاعف تخلیق جمع کی قوت حاصل ہوگی۔ اگر اسلامی بینک کاری کا نظام کلیۃً مضاربت کے نظام پر قائم ہو تو اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ وہ شرائط تبدیل ہوگئی ہیں جن کی بنا پر بینک رقوم کی پیشگی ادائیگی کیا کرتا تھا۔
اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کے مقاصد
کسی بھی معیشت میں مرکزی بینک کی مالیاتی پالیسی کی تشکیل و تنفیذ حکومت کیعام معاشی پالیسی کے خطوط کے اندر ہی ہوسکتی ہے، تاکہ دونوں پالیسیوں میں کسی قسم کا تناقض نہ رہے اور دونوں پالیسیاں ایک دوسرے کی ممد و معاون ہوں۔ ایک بااختیار مالیاتی پالیسی (Discretionary Monetary Policy) کے وجود کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ نظام بینک کاری سے تعلق رکھنے والے ہر تجارتی بینک کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ جس راہ پر چاہے گامزن ہو۔ ضروری ہے کہ معیشت میں کوئی ایسا طریقہ موجود ہو جس کے ذریعہ مختلف بینکوں کی قرض پالیسی (Credit Policy) اور سرمایہ کاری پالیسی (Investment Policy) میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکے اور اس طرح معاشی پالیسی کے عام سماجی مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مالیاتی پالیسی کے بعض مقاصد متعین کیے جائیں، جن کا حصول سماجی نقطۂ نظر سے پسندیدہ ہو۔ ایک مرتبہ مقاصد کا تعیّن ہوجائے تو ان ذرائع کی نشان دہی بھی ضروری ہے جن کے ذریعہ ان مقاصد کو حاصل کیا جائے گا۔
قیمتوں میں استحکام، ادائیگی کے نظام میں توازن، معاشی نمو، اور معاشی انصاف، کسی جدید معیشت میں مالیاتی پالیسی کے عام مقاصد کہے جاتے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال اٹھانا مناسب ہوگا کہ کسی اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کے مقاصد یہی ہوں گے یا اس سے مختلف ہوں گے؟ اسلامی معاشیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ اسلامی معیشت میں یہ مقاصد مختلف ہوں ، تاہم دوسری معیشتوں کی طرح اسلامی معیشت میں بھی مالیاتی پالیسی کے مقاصد، حکومت کی عام معاشی پالیسی سے اخذ کیے جائیں گے ۔ آج کل زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں، جن میں بیش تر اسلامی ممالک بھی شامل ہیں، مالیاتی پالیسی کے عام مقاصد میں مندرجہ ذیل امور شامل ہوتے ہیں:
1۔ ملک میں مسلسل اور متوازن معاشی نمو کا فروغ اور معاشی ترقی کے لیے ضروری
وسائل کی فراہمی ۔
2۔ زر کی قدر میں استحکام کا حصول، تاکہ افراط و تفریط زر کے نقصان دہ نتائج سے بچا سکے۔
3۔ ملک کی کرنسی کی بیرونی قدر میں استحکام۔
4۔ آمدنی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا حصول
اسلامی معیشت میں مالیاتی پالیسی کے ذرائع
[INSTRUMENTS OF MONETARY POLICY IN ISLAMIC ECONOMY]
آج کل کسی جدید معیشت میں مالیاتی پالیسی کا نفاذ اس ملک کے مرکزی بینک کے ذریعہ کیا جاتا ہے جو اس کے مقاصد کے حصول کی خاطر متعدد ذرائع (یا تدابیر) کا استعمال کرتا ہے۔ ان تدابیر کو موٹے طور پر تین قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے:
1۔ مقداری تدابیر (Quantitative Measures)
2۔ کیفیاتی تدابیر (Qualitative Measures)
3۔ احتیاطی تدابیر (Prudential Measures)
مقداری تدابیر کی مثالیں یہ ہیں: قانونی حفاظتی نسبت (Legal Reserve Ratio) بینک شرح کی پالیسی (Bank rate Policy) ، کھلے بازار کے اعمال (Open market operations) اور قرض کی جبری تقسیم (Credit Rationing) ۔ کیفیاتی تدابیر میں حاشیائی شرطیں ، زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم شرح سود کی حد بندی، امدادی قرضہ اسکیمیں (Subsidized credit schemes) وغیرہ شامل ہیں۔ احتیاطی تدابیر میں متعدد ایسی تدبیریں شامل ہیں جن کا مقصد حصہ داروں (Share holders) اور جمع کنندگان (depositors) کے مفادات اور تجارتی بینکوں کا تحفظ ہے۔ مثلاً مرکزی بینک ایک حد مقرر کرسکتا ہے جس سے زائد رقم کسی گاہک کو نہ دی جائے۔ اسے Maximum Exposure Requirment کہتے ہیں۔ ان میں سے بعض ذریعے مثلاً بینک شرح پالیسی کا اسلامی معیشت میں وجود نہ ہوگا اور نہ اس سے کام لیا جاسکے گا، کیونکہ واضح طور پر اس کا تعلق شرح سود سے ہے۔
مالیاتی پالیسی کے روایتی آلات کی موزونیت 
یہاں ہم مالیاتی پالیسی اور قرض پر کنٹرول کرنے والے بعض آلات کا تذکرہکریں گے اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ آلات کس حد تک کسی اسلامی معیشت کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں
(الف) قانونی حفاظتی تناسب: (Legal Reserve Ratio)
بینکوں کے ذریعے دیے جانے والے قرض پر کنٹرول رکھنے کے لیے یہ ایک مقبول عام اور موثر طریقہ ہے ۔ اس طریقہ میں مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی کل جمع رقم (Total deposits) کا ایک حصہ محفوظ (Reserve) رکھیں اور اسے اپنے تجارتی اعمال میں استعمال نہ کریں۔ کل جمع رقم سے ان تحفّظات کا تناسب، قانونی یا مطلوبہ حفاظتی تناسب (Legal or Required Reserve Ratio) کے نام سے جانا جاتا ہے جو اپنے مخفّف RRR سے زیادہ مشہور ہے۔
چونکہ مطلوبہ حفاظتی تناسب میں شرح سود کی آمیزش کسی طرح بھی نہیں ہوتی، اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ اس طریقے کو اسلامی نظام بینک کاری میں بخوبی استعمال کیا جاسکے۔ اس اسکیم کے تحت اسلامی بینکوں کو اپنی کل جمع شدہ رقم کا ایک مخصوص تناسب محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس تناسب میں تبدیلی کے ذریعہ مرکزی بینک اس قابل ہوسکے گا کہ اسلامی بینکوں کے اعمال میں مطلوبہ تبدیلیاں کرسکے۔
اسلامی معیشت میں اس تدبیر کے اطلاق کے سلسلے میں دو خاص تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مطلوبہ تناسب حفاظت (Required Reserve Ratio) کو بڑھاکر ۱۰۰ فی صد کردیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس تجویز کا اطلاق صرف جاری جمع Current deposit یا demand deposit پر کیا جائے اور سرمایہ کاری جمع Investment deposits کو ان سے مستثنٰی قرار دیا جائے ۔
سوفی صد تناسب حفاظت کی دلیل یہ ہے کہ یہ نظام تخلیق زر ، افراط زر اور بالآخر معاشی عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ان مفکرین کے خیال میں تخلیق زر کی قوت انفرادی بینکوں کے بجائے اجتماعی طورپر پورے معاشرے کے پاس ہونا چاہیے اور ایک اجتماعی ادارہ ہونے کی حیثیت سے مرکزی بینک کو اس بات کا مجاز ہونا چاہیے کہ وہ اس قوت کا مناسب استعمال کرے۔ اگر صدفی صد تناسب حفاظت کی شرط عائد کردی جائے تو تجارتی بینک صرف اُسی قدر قرض جاری کرسکیں گے جو ان کی مالی بنیاد (Monetary bases) کے مساوی ہو۔ وہ تخلیق قرض (Credit creation) نہیں کرسکیں گے ۔ تخلیق قرض کی قوت مرکزی بینک کو منتقل ہوجائے گی جو قرض کی ضرورت پڑنے پر اعلیٰ درجہ کے زر (high powered money) کا مناسب طور پر اجراء کرے گا۔ اسلامی بینک کاری میں دلچسپی رکھنے والے تمام دانش ور اور علمائے اقتصاد ان خیالات سے متفق نہیں۔ ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ صدفی صد تحفّظات کا اطلاق (Imposition of 100% Reserve Requirement) بینکوں کے پَر کترنے کے مرادف ہوگا۔ جیسے پرندے پَر کترے جانے کے بعد اڑنے کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح تجارتی بینک بھی کوئی مفید سماجی کردار ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ ان کی حیثیت محض تجوریوں (safe deposit boxes) جیسی ہوجائے گی۔
اس ضمن میں ایک اور نکتہ جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ نظام تحفظات (Reserve system) کا اطلاق صرف عند الطلب جمع کھاتوں (demand deposit accounts) پر ہی کیا جائے اور مضاربت جمع کھاتوں یا سرمایہ کاری جمع کھاتوں کو ان سے مستثنٰی قرار دیا جائے۔ یہاں دلیل یہ ہے کہ مضاربۃ کھاتے تجارتی کمپنیوں کے حصص (Equities) سے مماثل ہوتے ہیں۔ اگر تجارتی کمپنیوں کے حصص نظام تحفّظات کے تابع نہیں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مضاربۃ جمع کھاتوں کو ان کاتابع بنایا جائے۔ اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ جمع کھاتوں کی حفاظت اور بینک کی نقد ضروریات کو ایک دوسرے سے علاحدہ رکھنا چاہیے اور ان کی خاطر نظام تحفظات کے سوا دوسری تدابیر کام میں لائی جانی چاہیے۔
یہ تجاویز بھی تنقیدی تحلیل سے بالا نہیں ہیں۔ ان تجاویز کے ناقدین یہ کہتے ہیں کہ نظام تحفظات کے دوہرے مقاصد ہیں۔ ایک جانب تو اس سے نقد ضروریات (Liquidity Requirement) پوری کرنے میں مدد ملتی ہے، دوسر ی جانب تخلیققرض پر کنٹرول بھی رکھا جاسکتا ہے ۔ تناسب نقد (Liquidity Ratio) کے ذریعہ صرف ضروریات نقد کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، تخلیق قرض پر کنٹرول کا نہیں۔ مزید برآں، اسی طرح یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ مضاربت کی بنیاد پر کی جانے والی جمع کے لیے قانونی نظام تحفظ کی ضرورت ہے ۔ چونکہ مضاربت کی شرائط پر کی جانے والی جمع کو جمع کار (depositors) فوراً نہیں نکال سکتے، اس لیے بینک یہ پسند کریں گے کہ ان رقوم کی سرمایہ کاری ایسے طویل مدتی مشروعات میں گی جائے جن میں مستقبل میں زیادہ منافع کی توقع ہو۔ یہ امکان بھی ہے کہ زیادہ منافع کی توقع میں بینک ’مناسبت‘ کی حدو د سے نکل جائیں اور مناسب نقدی رکھنے کی احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کردیں۔ ایسی صورت حال میں قانونی نظام تحفظ بینکوں کو اس امر پر مجبور کردے گا کہ وہ اپنے مضاربت جمع کا ایک حصہ نقد کی صورت میں محفوظ رکھیں۔ ایسی صورت میں اسلامی بینک بھی اُسی طرح قرض کے پھیلاؤ کا کام کر سکتے ہیں جس طرح سودی تجارتی بینک کرتے ہیں۔
(ب) کھلے بازار کے اعمال (Open Market Operations)
آج کل ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں مالیاتی پالیسی کے نفاذ کا سب سے اہم اور مقبول ترین طریقہ مرکزی بینک کے ذریعہ سر انجام دیے جانے والے کھلے بازار کے اعمال ہیں۔ اسلامی معیشت میں اس طریقہ کے استعمال میں کم از کم دو اہم دشواریاں حائل ہیں۔ ان میں سے ایک دشواری تو تصوّراتی ہے اور دوسری ادارہ جاتی۔ تصوّراتی دشواری یہ ہے کہ کھلے بازار کے اعمال میں استعمال ہونے والے تمام ذرائع مثلاً سرکاری تمسّکات (Government Securities)، قصیر مدتی بانڈس، سرکاری تمسکات (Treasury bills) وغیرہ سودی کاغذات ہیں جو اسلامی نظام بینک کاری و مالیات سے میل نہیں کھاتے۔ اس لیے ان کی موجودہ شکل میں اسلامی معیشت میں ان کا استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ ان ذرائع میں بنیادی تبدیلیاں کی جانی ہوں گی،تاکہ ایک غیرسودی معیشت میں ان کا استعمال کیا جاسکے۔ ادارہ جاتی دشواری یہ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں مالیاتی بازار (Financial market) ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہیں۔ وہ اتنی ترقی یافتہ شکل میں نہیں ہیں کہ ان میں کھلے بازار کے اعمال کااستعمال پورے اعتماد کے ساتھ کیاجاسکے۔
ادارہ جاتی دشواریوں کے علی الرغم ، مسلم ماہرین معاشیات نے متعدد ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن کا استعمال غیر سودی بنیادوں پر کھلے بازار کے اعمال سر انجام دیے جانے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی ایک تجویز ہے کہ مرکزی بینکوں کو تجارتی حصص رکھنے، خریدنے اور بیچنے کا مجاز کردیا جائے۔ اگر مرکزی بینک معیشت میں زر کا پھیلاؤ چاہتا ہے تو وہ افراد، ادراوں اور بینکوں سے تجارتی حصص خریدے گا۔ اس طرح بینک کے پاس مزید حصص جمع ہوجائیں گے اور معیشت کے زرِ نقد میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح اگر معیشت کے زر نقد میں تخفیف مقصود ہے تو مرکزی بینک حصص فروخت کرے گا، جو کہ افراد، ادارے اور تجارتی بینک خریدیں گے اور ان سے زر نقد مرکزی بینک کی طرف منتقل ہوگا۔ اس طرح معیشت میں زرِ نقد کی تخفیف عمل میں آئے گی۔ گوکہ اس تجویز کے مطابق حصص کی خرید و فروخت کے ذریعہ فراہمی نقد پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے، لیکن بعض دوسرے ماہرین معاشیات کا یہ بھی خیال ہے کہ اس طرح مرکزی بینک کے اعمال بازار حصص اور حصص کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوں گے، جو ہو سکتا ہے کہ بیش تر حالتوں میں مقصود نہ ہو۔
گذشتہ برسوں میں اس تجویز کے علاوہ اس سلسلہ کی بعض دوسری تجاویز بھی سامنے آئی ہیں، مثلاً مضاربت بانڈ، مشارکت بانڈ، اجارہ بانڈ وغیرہ۔ یہ بانڈ بیع السلم کے اصول پر جاری کیے جائیں گے۔ ان میں سے بیش تر بانڈز غیر سودی ہوں گے۔ ان غیر سودی تمسکات کے پس پشت بنیادی خیال یہ ہے کہ یہ تمسکات کسی اصل اثاثے یا اس کے کسی جُز (Real asset) کی نمائندگی کریں گے اور کاملاً کسی مالی دعوے (Financial claim) کی خرید و فروخت پر مبنی نہیں ہوں گے۔ گوکہ ابھی یہ تجاویز صرف نظریاتی سطح پر ہیں، لیکن شاید ایک ایسا دن آئے گا جب مرکزی بینک ان تمسکات کو استعمال کرسکے گا۔
(ج) شرح بینک (Bank rate)
شرح بینک سے مراد سود کی اُس شرح سے ہے جس پر مرکزی بینک دوسریتجارتی بینکوں کو قرض دیتا ہے۔ اس طرح شرح بینک میں اتار چڑھاؤ کے ذریعہ مرکزی بینک اُس شرح کو بھی متاثر کرسکتا ہے جس پر عام تجارتی بینک ، تاجروں اور عام آدمیوں کو قرض فراہم کرتے ہیں۔ اس شرح میں تبدیلی کے ذریعہ مرکزی بینک میں معاشرے میں رسدِ زر میں تبدیلی لاسکتا ہے۔
شرح سود پر اس کے انحصار کے باعث یہ طریقہ اسلامی معیشت کے لیے سودمند نہ ہوگا۔
(د) قرض کی راشننگ (Credit Rationing)
اس طریقے میں مرکزی بینک اہم تجارتی بینکوں کے لیے قرض دینے کی ایک حد مقرر کردیتا ہے۔ یہ حد عام طور پر بینک کے کُل سرمایہ، اور کُل جمع کی روشنی میں متعین کی جاتی ہے۔ اگر کوئی بینک اس حد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو اتنی ہی رقم مرکزی بینک کے کھاتے میں جمع کرانی ہوتی ہے جتنی رقم خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ موجودہ نظام میں خلاف ورزی کرنے والوں کی شرح سود میں اضافہ کردیا جاتا ہے ۔ اسلامی نظام میں اس طریقے میں تبدیلی کی جاسکتی ہے ، تاہم اس طریقے کو استعمال میں لائے جانے کا امکان موجود ہے۔
اسلامی معیشت میں روایتی طریقوں کی مناسبت

نمبر شمارقرض پر کنٹرول کا ذریعہاسلامی معیشت کے لیے مناسبت
1حفاظتی تناسبمناسب
2شرح بنکغیر مناسب
3کھلے بازار کے اعمالتبدیلی کے ساتھ مناسب
4قرض کی حدود کا تعیّنمناسب
5قرض پر کنٹرول کے انتخابی طریقےمناسب
6آخری امداد کا قرض مہیا کرناتبدیلی کے ساتھ مناسب
7ہدایات جاری کرنامناسب
8اخلاقی رہبریمناسب

(ہ) قرض پر کنٹرول کے انتخابی طریقے (Selective Control)
اس طریقے کے ذریعہ مرکزی بینک قرض کی سمت (Direction of credit) کو متاثر کرتا ہے۔ بینک ترجیحی زروں کی ایک فہرست شائع کرتا ہے اور جو بینک ان کی ترجیح کے مطابق قرضے مہیا کردیتے ہیں ان کو مختلف طرح کی سہولتیں اور امداد (Matching grant) دی جاتی ہیں۔ اس طریقے کو بھی اسلامی معیشت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(و) آخری امداد کا قرض مہیا کرانا (Lender of last resort)
اگر کوئی تجارتی بینک ادائیگی کی مشکلات میں پھنس جائے تو مرکزی بینک اس کو آخری امداد کے طور پر قرض فراہم کرکے اس کی مدد کرتا ہے۔ مناسب تبدیلی کے ساتھ یہ طریقہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(ز) ہدایات جاری کرنا
مرکزی بینک وقتاً فوقتاً تجارتی بینکوں کو مختلف قسم کی ہدایات جاری کرتا ہے۔ کوئی وجہ ایسی نظر نہیں آتی جس کی بنا پر اس طریقے کو اسلامی معیشت میں استعمال نہ کیا جاسکے۔
(ح)اخلاقی رہبری
اس طریقے کے تحت مرکزی بینک ، تجارتی بینکوں سے غیر رسمی رابطے قائم کرتا ہے، اجتماعات منعقد کرتا ہے اور انھیں مختلف طرح کے مشورے دیتا ہے۔ ان اجتماعات میں بینک اپنے طریق کار او ر پالیسیوں کی وضاحت کرتا ہے ، کوئی بات مانع نہیں کہ یہ طریقے کیوں نہ جاری رکھے جائیں۔
ان طریقوں کے علاوہ بھی نئے طریقوں کا استعمال ممکن ہے ۔ طوالت کے خوف سے ان طریقوں کی وضاحت یہاں نہیں کی جارہی ہے ، تاہم ان نئے طریقوں سے قطع نظر مالی پالیسی کے روایتی طریقوں میں بھی اتنی لچک موجود ہے کہ ان کو غیر سودی نظام میں مفید طریقہ پر استعمال کیا جاسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close