متفرقاتمذہبی مضامین

اسلام میں جھاڑ پھونک کی حقیقت (آخری قسط)

ترتیب: عبدالعزیز

{’سورۃ الفلق‘  اور’ سورۃ الناس‘ قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ہیں ، مُصحف میں الگ ناموں سے لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترکہ نام مُعَوِّذَتَیْن (پناہ مانگنے والی سورتیں ) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہوئی ہیں ، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی ناممُعَوِّذَتَیْن ہے}۔

 اس معاملہ میں بہت سے لوگ حضرت ابو سعیدؓ خدری کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں منقول ہوئی ہے اور اس کی تائید بخاری میں ابن عباسؓ کی بھی ایک روایت کرتی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضورؐ نے ایک مہم پر اپنے چند اصحابؓ کو بھیجا جن میں حضرت ابوسعیدؓ خدری بھی تھے۔ یہ حضرات راستہ میں عرب کے ایک قبیلے کی بستی پر جاکر ٹھیرے اور انھوں نے قبیلے والوں سے کہاکہ ہماری میزبانی کرو۔ انھوں نے انکار کردیا۔ اتنے میں قبیلے کے سردار کو بچھونے کاٹ لیا اور وہ لوگ ان مسافروں کے پاس آئے اور کہاکہ تمہارے پاس کوئی دوا یا عمل ہے جس سے تم ہمارے سردار کا علاج کردو؟ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا ہے تو سہی مگر چونکہ تم نے ہماری میزبانی سے انکار کیا ہے، اس لئے جب تک تم کچھ دینا نہ کرو، ہم اس کا علاج نہیں کریں گے۔ انھوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ (بعض روایات میں ہے 30 بکریاں ) دینے کا وعدہ کیا اور حضرت ابو سعیدؓ نے جاکر اس پر سورۂ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور لعابِ دہن اس پر ملتے گئے۔ آخر کار بچھو کا اثر زائل ہوگیا اور قبیلے والوں نے جتنی بکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ لاکر دے دیں ۔ مگر ان حضرات نے آپس میں کہا ان بکریوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیا جائے۔ نہ معلوم اس کام پر اجر لینا جائز ہے یا نہیں ؛ چنانچہ یہ لوگ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضورؐ نے ہنس کر فرمایا ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ سورۃ جھاڑنے کے کام بھی آسکتی ہے؟ بکریاں لے لو اور ان میں میرا حصہ بھی لگاؤ‘‘۔

  اس حدیث سے تعویذ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کے مطب چلانے کا جواز نکالنے سے پہلے عرب کے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہئے جن میں حضرت ابو سعید خدریؓ نے یہ کام کیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ صرف جائز رکھا تھا بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا حصہ بھی لگاؤ، تاکہ اس کے جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان اصحاب کے دلوں میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ عرب کے حالات اس زمانے میں بھی یہ تھے اور آج تک یہ ہیں کہ پچاس پچاس، سو سو، ڈیڑھ سو میل تک آدمی کو ایک بستی سے چل کر دوسری بستی نہیں ملتی۔ بستیاں بھی اس وقت ایسی تھیں جن میں ہوٹل، سرائے یا کھانے کی دکانیں موجود ہوں اور مسافر کئی کئی روز کی مسافت طے کرکے جب وہاں پہنچے تو سامانِ خورد و نوش خرید سکے۔ ان حالات میں یہ بات عرب کے معروف اصولِ اخلاق میں شامل تھے کہ مسافر جب کسی بستی پر پہنچیں تو بستی کے لوگ ان کی میزبانی کریں ۔ اس سے انکار کے معنی بسا اوقات مسافروں کیلئے موت کے ہوتے تھے اور عرب میں اس طرزِ عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کے اس فعل کو جائز رکھا کہ جب قبیلے والوں نے میزبانی سے انکار کردیا تھا تو ان کے سردار کا علاج کرنے سے انھوں نے بھی انکار کردیا اور اس شرط پر اس کا علاج کرنے پر راضی ہوئے کہ وہ ان کو کچھ دینا کریں ۔ پھر جب ان میں سے ایک صاحب نے اللہ کے بھروسے پر سورۂ فاتحہ اس سردار پر پڑھی اور وہ اس سے اچھا ہوگیا تو طے شدہ اجرت قبیلے والوں نے لاکر دے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجرت کے لینے کو حلال و طیب قرار دیا۔

 بخاری میں اس واقعہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی جو روایت ہے اس میں حضورؐ کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ان احق ما اخذتم علیہ اجراً کتاب اللہ‘‘یعنی بجائے اس کے کہ تم کوئی اور عمل کرتے، تمہارے لئے یہ زیادہ برحق بات تھی کہ تم نے اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر اجرت لی۔ یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ دوسرے تمام عملیات سے اللہ کا کلام بڑھ کر ہے، علاوہ بریں اس طرح عرب کے اس قبیلے پر حق تبلیغ بھی ادا ہوگیا کہ انھیں اس کلام کی برکت معلوم ہوگئی جو اللہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں ۔ اس واقعہ کو ان لوگوں کیلئے نظیر قرار نہیں دیا جاسکتا جو شہروں اور قصبوں میں بیٹھ کر جھاڑ پھونک کے مطب چلاتے ہیں اور اسی کو انھوں نے وسیلۂ معاش بنا رکھا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرامؓ و تابعین اور ائمہ سلف کے ہاں نہیں ملتی۔

سورۂ فاتحہ اور ان سورتوں کی مناسبت: آخری چیز جو معوذتین کے بارے میں قابل توجہ ہے وہ قرآن مجید کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ اگر چہ قرآن مجید ترتیب نزول پر مرتب نہیں کیا گیا ہے مگر 23 سال کے دوران میں مختلف حالات اور مواقع اور ضروریات کے لحاظ سے نازل ہونے والی آیات اور سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خود نہیں بلکہ ان کے نازل کرنے والے خدا کے حکم سے اس شکل میں مرتب فرمایا جس میں ہم اب اس کو پاتے ہیں ۔ اس ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوذتین پر۔ اب ذرا دونوں پر ایک نگاہ ڈالئے۔ آغاز میں اللہ رب العالمین، رحمن و رحیم، اور مالک یوم الدین کی حمد و ثنا کرکے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی بندگی کرتا ہوں اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کیلئے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کیلئے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو رب الفلق، رب الناس، ملک الناس اور الٰہ الناس ہے، عرض کرتا ہے کہ میں ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کیلئے آپ ہی کی پناہ لیتا ہوں اور خصوصیت کے ساتھ شیاطین جن و انس کے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کیونکہ راہ راست کی پیروی میں وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں ۔ اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی‘‘۔                            (تفہیم القرآن)

 مولانا مودودیؒ درج بالا عنوان کے ایک حاشیہ میں لکھتے ہیں مادہ پرست دنیا کے بھی بہت سے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ دعا اور رجوع الی اللہ مریضوں کی شفایابی میں بہت کارگر چیز ہے۔ اور اس کا خود مجھے ذاتی طور پر اپنی زندگی میں دو مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔ 1948ء میں جب مجھے نظر بند کیا گیا تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں آکر اڑگئی اور 16 گھنٹے تک پیشاب بند رہا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں ظالموں سے علاج کی درخواست نہیں کرنا چاہتا، تو ہی میرا علاج فرمادے، چنانچہ وہ پتھری پیشاب کے راستے ہٹ گئی اور 20 برس تک ہٹی رہی یہاں تک کہ 1968ء میں اس نے پھر تکلیف دی اور اس کو آپریشن کرکے نکالا گیا۔ دوسری مرتبہ جب 1953ء میں مجھے گرفتار کیا گیا تو میری دونوں پنڈلیاں کئی مہینے سے داد کی سخت تکلیف میں مبتلا تھیں اور کسی علاج سے آرام نہیں آرہا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ سے پھر وہی دعا کی جو 1948ء میں کی تھی اور کسی علاج اور دوا کے بغیر پنڈلیاں داد سے بالکل صاف ہوگئیں ۔ آج تک پھر کبھی وہ بیماری مجھے نہیں ہوئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close