متفرقات

اولمپک گیمز- تاریخ اور شریعت کے آئینے میں

مولانا سید احمد ومیض ندوی

            ان دنوں ہر طرف اولمپک گیمز کا چرچا ہے، 5؍اگست کو ان آغاز ہورہا ہے، عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ کھیلوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، انہیں مذہبی تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، یہ بات دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے توقابل قبول ہوسکتی ہے جن کے یہاں مذہب کا دائرہ محدود ہے اور جو مذہب کو انسان کا انفرادی معاملہ تصور کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے یہ تصور قابل قبول نہیں ہوسکتا، مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی اصولوں کے پابند ہیں، وہ ہر اس عمل سے اعلانِ براء ت کریں گے جو ا سلامی اصولوں سے ٹکرانے والا یا مشرکانہ بنیادوں پر قائم ہواولمپک گیمز کی اس وقت جو نوعیت ہے و ہ طویل تاریخی مراحل طے کرنے کے بعد ہوئی ہے، اولمپک کھیلوں کے آغاز وارتقاء کا جائزہ بتاتا ہے کہ اس کی بنیاد بت پرستی اور بت پرستانہ تصورات پر ہے۔

            یونان کے قدیم باشندے بت پرست تھے، ان کے مذہب کی بنیاد معبودوں کی کثرت پر رکھی گئی ہے، جن باطل خداؤں کی وہ پرستش کرتے تھے ان میں سب سے بڑا خدازیوس کہلاتا ہے، یونانی اور اغریقی مذہب میں عبادت اور کھیل کے درمیان امتزاج پایا جاتا ہے، ان کے یہاں خداؤں کی عبادت اور کھیل ایک ساتھ چلتے ہیں، اولمپک کھیلوں کا آغاز بڑے خدا’’زیوس‘‘ کے اعزاز میں کیا گیا، یونانیوں کا عقیدہ ہے کہ اس قسم کے کھیلوں سے ان کے خداؤں کی ارواح خوش ہوتی ہیں، اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولمپک کھیل صرف کھیل نہیں ہیں بلکہ ان کے آغاز کا بنیادی مقصد ان کے باطل خداؤں کی پرستش ہے اور اولمپک دوڑ کا مقصد بھی معبودوں کی رضا اور خوشنودی ہے۔

            اولمپک اولمپیا کی طرف منسوب ہے، یہ در اصل قدیم یونان کے ایلیس نامی علاقہ کی ایک ہموار زمین کا نام ہے، اور اولمپیا نامی یہ زمین یونانیوں کی عبادت کا مرکز تھی جہاں ان کے خداؤں کے مجسموں کا ذخیرہ تھا، اس ز مین میں ایک چھوٹی سی بستی آباد ہوئی جس کا نام اس زمین میں موجود خدائی مجسموں کی مناسبت سے اولمپیا پڑگیا، چنانچہ یہ گاؤں اغریقی معاشرہ کی اجتماع گاہ اور زیارت گاہ بن گیا جہاں لوگ ہر چار سال میں ایک مرتبہ جمع ہونے لگے، یونانیوں کے سب سے بڑے خدا زیوس کا مجسمہ جس پہاڑ پر رکھا گیا ہے اس کا نام اولمپک ہے، اہل یونان کی نظر میں یہ سب سے مقدس پہاڑ اور یہاں کی وادی سب سے مقدس وادی اور یہ گاؤں سب سے مقدس گاؤں سمجھا جاتا ہے، اولمپک جشن اپنے تمام تر مذہبی رسومات اور شعائر کے ساتھ Altis نامی مقدس میدان میں منعقد کیا جاتا ہے، یہ میدان کرونوس کے ٹیلوں کے دامن میں واقع ہے جس کے بارے میں یونانیوں کا عقیدہ ہے کہ اس مقام پر ان کے رب کا باپ زیوس پیدا ہوا جب اس جشن کے ایام قریب آتے ہیں تو مقدس علاقہ میں خیمے نصب کیے جاتے ہیں اور محترم علاقہ کے ارد گرد کھیل کے میدان آراستہ کیے جاتے ہیں اور انہیں میدانوں میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد عمل میں لایا جاتا تھا، یونانی شہراولمپیا میں آج تک وہ جبری معاہدہ محفوظ ہے جو 884ء میں اغریقی عوام کے درمیان طے پایا تھا جس میں صراحت ہے کہ جس کسی نے اس مقام میں اسلحہ کے ساتھ داخل ہونے کی جرأت کی اس نے اس کی بے حرمتی کی۔

            اولمپک کھیلوں کے مذہبی تناظر کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کھیلوں کی تواریخ بھی متعین تھی، موسم گرما کے پہلے چاند کے موقع پر اولمپک جشن کا انعقاد ہوا کرتا تھا یعنی ماہ جولائی کے اوائل میں، چنانچہ ان تواریخ کے آغاز سے قبل ا ولمپیا گاؤں سے قاصد روانہ ہوتے تھے اور محترم دنوں کے آغاز کا اعلان کرتے تھے، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا کہ آنے والے زائرین کے لیے ہر طرف امن وامان کی فضا ہو اور کوئی انہیں تکلیف نہ پہنچائے، مقدس ایام کے آغاز کے ساتھ سارے تنازعات اور آپسی خصومات ختم کرلیے جاتے تھے اور جنگوں کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا تھا، اولمپک کھیلوں کا قدیم یونانی مشرکانہ وبت پرستانہ عقائد سے تعلق ان کے ’’لوگو‘‘ سے بھی جھلکتا ہے یہ ’’لوگو‘‘ جو آج بھی استعمال ہوتا ہے پانچ آپس میں ملے ہوئے دائروں سے مرکب ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ در اصل پانچ بر اعظموں کی طرف اشارہ ہے’’لوگو‘‘ کے ان پانچ حلقوں کی یونانیوں کے یہاں قدیم بنیاد ہے، یہ صرف پانچ بر اعظموں کا رمز نہیں ہے جیسے کہ عام طور پر یونانیوں کی جانب سے تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ یہ در اصل ان پانچ ٹکیوں کے دائرہ ہیں جن کے ذریعہ ’’ابلیس‘‘ کا بادشاہ ابودس مشق کیا کرتا تھا۔

            اولمپک کھیلوں کے مذہبی تناظر کی ایک علامت یہ ہے کہ ان کھیلوں پر بت پرستانہ مذہبی رنگ کی گہری چھاپ ہے، یونانیوں کے مشہور خطیب ایسوقراط نے جسے وحدت ِ یونانی کا پیغمبر کہا جاتا ہے، صد سالہ اولمپک جشن کے موقع پر اپنی تقریر میں کہاتھا’’ہمیں ان حضرات کا مشکور ہونا چاہیے جنہوں نے ہمارے لیے اس قسم کی مذہبی عیدوں کی بنیاد رکھی جن میں ہم ہمارے خداؤں کی حمدوثناء کرتے ہیں اور جنہوں نے ہمارے لیے اس عظیم ورثہ کو چھوڑا، چنانچہ انہیں کا احسان ہے کہ آج ہم جنگوں اور قتل وقتال کو موقوف کرتے ہیں، عبادتوں کا اہتمام اور اپنے خداؤں کے لیے چڑھاوے پیش کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک اصل سے تعلق رکھتے ہیں، یونانی شروع سے اولمپک کھیلوں میں کامیاب ہونے والے کھلاڑیوں کو سراہا کرتے تھے، حتی کہ شعراء اپنے قصیدوں میں تعریف کے پُل باندھا کرتے تھے، قدیم زمانہ کے مشہور کھلاڑیوں میں دیا غورس تھا اس کی شان میں بنڈر نامی شاعر نے پورا قصیدہ لکھا جس قصیدے کو منیرفہ نامی عبادت گاہ میں اپنی عبادتوں میں پڑھا کرتے تھے، منیرفہ عبادت گاہ لینڈی میں واقع ہے جس کی دیواروں پر سنہرے حروف میں نقش ہے کہ اس جگہ بکریاں ذبح کی جاتی ہیں۔

            یونانیوں کے یہاں قدیم زمانہ سے اولمپگ کھیلوں کے لیے مکمل ہفتہ و قت رکھا گیا ہے، پہلا دن قربانیوں اور چڑھاوے کے لیے مختص ہے جب کہ بقیہ دنوں میں کھیلوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ان کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی اور ان کے رشتہ دار عبادت ِ شکرانہ ادا کیا کرتے تھے اور اپنے اوراپنے میزبان ملک کی جانب سے چڑھاوے پیش کرتے تھے، علاوہ ازیں کھیلوں میں شرکت کرنے والے کھلاڑی سب سے بڑے خدازیوس کی محراب کے سامنے کھڑے ہوکر قسمیں کھاتے تھے، قسم کھانے سے پہلے خنزیر کا چڑھاوا پیش کیا جاتا تھا، جسے ذبح کرکے چار ٹکڑے کیے جاتے تھے، قسم کی اس رسم میں کھلاڑیوں کے قرابت دار بھی شریک ہوتے تھے، حصہ لینے والے کھلاڑی کھیلوں کے آغاز سے قبل اپنے کپڑے اتار دیا کرتے تھے اور سارے جسم پر تیل مل لیا کرتے تھے پھر مادر زاد ننگے ہوکر کھیل کے میدان میں آتے تھے اس کے بعد یونانیوں کے سب سے بڑے معبود زیوس کے مجسمہ کے سامنے کھڑے ہو کر قسم کھاتے تھے اور اقرار کرتے تھے کہ و ہ مقدس کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے ہر قسم کے دھوکہ فریب سے گریز کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ان کھیلوں کو جمناسٹک کا نام دیا جاتا ہے جس کے معنی یونانی زبان میں بے لباس اور ننگے کے آتے ہیں۔

            عصر حاضر کے اولمپک کھیلوں میں سب سے پہلے 1920میں قسم کھانے کی رسم کو سرکاری سطح پر تسلیم کرلیا گیا اور اس پر باقاعدہ عمل بھی ہونے لگا، لیکن نوعیت تھوڑی سی بدل گئی ہے اس کی موجودہ شکل یہ ہے کہ جس ملک میں ان کھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے اس ملک کا ایک کھلاڑی آتا ہے اس کے بازو اسی ملک کا ایک اور کھلاڑی اپنے ملک کا پرچم تھامے کھڑے ہوتا ہے اور یہ دونوں اولمپک پرچم تھامے ہوئے کھلاڑیوں کی جانب جاتے ہیں، سامنے اسٹیج ہوتا ہے جس پر انٹر نیشنل اولمپک گیمز کمیشن کے ارکان اور گیمز کھلانے والے ذمہ دار ا ن بیٹھے ہوتے ہیں، کھلاڑی اپنے بائیں ہاتھ میں اولمپک پرچم تھامے اور داہنا اوپر کی جانب اٹھاکر بلند آواز سے کہتا ہے’’میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کی جانب سے وعدہ کرتاہوں کہ ہم سب اولمپک کھیلوں میں پورے وقار کے ساتھ شرکت کریں گے، اولمپک کے قواعد اس کے قوانین اور کھیل کی روح کا بھر پور لحاظ رکھیں گے، تاکہ گیمز کے کردار کو بلند کیا جاسکے، اور کھیل ٹیموں کا وقار مجروح نہ ہو۔

            اولمپک کھیلوں کا شروع سے یہ نظام رہا ہے کہ ان میں حصہ لینے والے کھلاڑی معبودانِ باطل کو خوش کرنے کے جذبہ کے ساتھ حصہ لیتے ہیں، ان گیموں کے دوران زبردست میوزک کا سلسلہ ہوتا ہے تاکہ حصول شہرت کی خواہش کے تحت کھلاڑی پورے ولولے کے ساتھ کھیلیں اور کھلاڑیوں میں یہ تصور کار فرما ہوتا ہے کہ ان کے عمدہ کھیل سے ان کے خدا راضی ہوں گے۔

            اولمپک گیموں کے اختتام پر کامیاب کھلاڑیوں کے نام پکارے جاتے ہیں  اور کامیاب کھلاڑی اپنے انعامات کے حصول کے لیے آگے آتے ہیں، یہ انعامات مقدس زیتون کے درخت کی ٹہنیاں ہوتی ہیں جن کے تعلق سے یونانیوں کی داستانوں میں ہے کہ ان ٹہنیوں کو ہراکلیس مقدس مقام اولمپیا میں لے آیا تھا، زیتون کی ان ٹہنیوں کو مخصوص مذہبی طریقہ سے کاٹا جاتا ہے، معز خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے چھوٹے بچے کے ذریعہ یہ ٹہنیاں کاٹی جاتی تھیں، جس کا باپ بقید حیات ہو، زیتون کی ٹہنیوں کو کاٹنے کی رسم سونے اور ہاتھی کے دانتوں سے مرصع چڑھاوے کے دستر خوان پر انجام دی جاتی تھی، پھر اولمپک گیموں کو ایک بڑے اجلاس کے ذریعہ اختتام کو پہنچایا جاتا تھا جس میں کامیاب کھلاڑی زیوس کی ذبح گاہ پر اپنے چڑھاوے پیش کرتے تھے، اولمپک گیموں میں کامیاب ہونے والا کھلاڑی اول تو سب کے لیے مقدس بن جاتا تھا پھر اسے خدا اور معبود کی حیثیت دی جاتی تھی، اولمپک گیمز میں شامل کسی کھلاڑی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہ تھا کہ اس کی اولمپک اجلاس میں تاج پوشی کی جائے، جس دن وہ تمام مقابلوں میں کامیاب ہوجاتا تو اس دن خود کواپنے مقصد میں کامیاب سمجھتا تھا، اس لیے کہ یہ اعزاز اسے تقدس تک پہنچانے والا ہوتا تھا، جب جزیرہ تھا سوس کا کھلاڑی تھیالینس کشتی کے تمام مقابلوں میں کامیاب ہوا تو اس کی عوام نے اسے تقدس کا مقام دیا اور اسے ان کے معبودابولوکا بیٹا قرار دیا، چنانچہ مقدس شہر اولمپیا اور دلفی میں اس کے مجسمہ نصب کیے گئے۔

اولمپک مشعل

            اولمپک مشعل کی تاریخ کافی قدیم ہے اس کا تعلق عہد اغریقی سے ہے، جب کہ یونانیوں کی نظر میں آگ کو مذہبی مقام کی حیثیت حاصل تھی، اور اسے تقدس اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اغریقی عبادت گاہوں میں ہمیشہ آگ کے شعلے بھڑکتے رہتے تھے، بالخصوص قدیم اولمپک گیمز کے نگراں زیوس عبادت گاہ میں آگ کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا اور جب زیوس عبادت گاہ میں آگ بھڑکتی تو سارے علاقوں میں جنگیں موقوف ہوجایا کرتی تھیں اور زبردستی جنگ بندی ہوتی تھی، دور جدید کے اولمپک گیمز میں سب سے پہلے 1928ء میں اولمپک مشعل کا اہتمام کیا گیا، پھر1936ء میں برلین کے گیارہویں اولمپک گیموں میں باری باری اولمپک مشعل لے جانے کا اہتمام ہوا، قدیم زمانہ میں اولمپیا کی مقدس ذبح گاہ میں یہ مشعل جلائی جاتی ہے، موجودہ دور کے اولمپک گیموں کے دوران سب سے اہم لمحات  وہ ہوتے ہیں جب افتتاحی اجلاس میں اولمپک مشعل جلائی جاتی تھی، آج بھی اولمپک مشعل کو بڑے اہتمام کے ساتھ طیاروں اور کشتیوں کے ذریعہ مختلف ملکوں کو لے جایا جاتا ہے۔

            اولمپک گیمز کا قدیم یونانی بت پرستانہ مذہب سے کس قدر گہرا ربط ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں بھی دنیا کے جس ملک میں بھی ان گیمز کا انعقاد ہو کھیل کے میدان میں سب سے پہلے یونانی کھلاڑی داخل ہوتا ہے تاکہ قدیم یاد تازہ کی جاسکے، پھر اس کے بعد دوسرے ممالک کے کھلاڑی داخل ہوتے ہیں، حروف تہجی کے حساب سے مختلف ممالک کے کھلاڑی داخل ہوتے ہیں، اخیر میں اولمپک پرچم بلند کیا جاتا ہے اور کھیلوں کے آغاز کی علامت کے طور پر توپ داغا جاتا ہے۔

            اس میں شک نہیں کہ قدیم اولمپک کھیلوں کے تعلق سے قدیم یونانی جوبت پرستانہ اور مشرکانہ عقائد رکھتے تھے اور جن چیزوں کو بطور شعائر اپناتے تھے ان میں سے اکثر موجودہ اولمپک گیموں میں ترک کیے جاچکے ہیں، جیسے بتوں کے لیے چڑھاوے پیش کرنا اور جانور ذبح کرنا اور کامیاب کھلاڑی کو معبود کا درجہ دینا وغیرہ، اس قسم کی رسمیں دور حاضر سے میل نہیں کھاتیں لیکن ان کے علاوہ بہت سی قدسم رسومات اولمپک گیموں میں اب بھی رائج ہیں، موجودہ اولمپک گیمز در اصل قدیم اولمپک گیموں کا تسلسل ہے، اس کے لیے درج ذیل شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں۔

            (1) 1896ء میں جب کو بیرتان نامی فرانسیسی شخص کے ہاتھوں ان گیموں کا احیاء کیا گیا تو یہ ا حیاء گیموں کے اصل مرکز یونان ہی سے کیا گیا، جب کہ اس وقت گیموں کے منتظمین کو زبردست مالی مشکلات کا سامنا تھا اور ایسا محض اس لیے کیا گیا کہ گیموں کے تسلسل کی حفاظت کی جائے اور ان کے حال کو ماضی سے مربوط رکھا جائے۔

            (2) موجودہ اولمپک گیموں میں قدیم اصطلاحات جوں کی توں برقرار رکھی گئی ہیں، ان گیموں کے لیے اولمپک ہی کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور ان میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کو اولمپک کھلاڑی کہا جاتا ہے، اسی طرح ٹیموں کے ساتھ اولمپک کا لفظ چسپاں کیے جانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا، اولمپک یونانیوں کے اس مقدس گاؤں کا نام ہے جس میں ان کے معبودوں کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔

            (3) موجودہ دور میں جن تواریخ میں ان گیموں کا انعقاد عمل میں آتا ہے یہ وہی تواریخ ہیں جن میں قدیم زمانہ میں یونانی عید منایا کرتے تھے، ان گیموں کا وقت اور ہر چار سال بعد ان کا انعقاد سب کچھ قدیم طریقہ پر ہے۔

            (4) موجودہ دور کے اولمپک گیمز میں یونانیوں کا قدیم ’’لوگو‘‘ ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ پانچ گول حلقوں پر مشتمل ’’لوگو‘‘ جو در اصل ان کھیلوں کی تواریخ کے آغاز پر قدیم زمانہ میں اپنایا جاتا تھا، جس کے منظر پر آتے ہی جنگیں موقوف کردی جاتی تھیں۔

            (5) قدیم یونانیوں میں مقدس ذبح گاہ کے پاس جو اولمپک مشعل جلائی جاتی تھی آج بھی ان گیموں کے افتتاحی اجلاس میں جلائی جاتی ہے، یہ اولمپک مشعل یونان سے چلتی ہے اور مختلف ملکوں کا سفر طے کرتے ہوئے اس ملک کو پہنچتی ہے، جہاں گیموں کا انعقاد ہوتا ہے اور گیموں کے اختتام تک اس مشعل کو باقی رکھا جاتا ہے۔

            (6) آج بھی جہاں کہیں اولمپک گیموں کا انعقاد ہوتا ہے کھیل کے میدان میں سب سے پہلے یونانی کھلاڑی اترتے ہیں، ان کے بعد دیگر ممالک کے کھلاڑیوں کو اجازت ملتی ہے، گویا عالمی برادری اپنے اس طرز عمل کے ذریعہ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ یہ گیمز در اصل یونانیوں کے لیے مذہبی تہوار کا درجہ رکھتے ہیں۔

            (7) اولمپک گیموں کی تاریخ او ران کی حقیقت سے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے اور جن جن افراد نے لکھا ہے سب کا اتفاق ہے کہ موجودہ اولمپک گیمز قدیم اولمپک گیمز کا تسلسل ہے، جب ایسی بات ہے تو پھر کسی مسلم ملک میں ان گیموں کا انعقاد گویا ایک ایسی رسم میں تعاون کرنا ہے جس کی بنیاد بت پرستی اور مشرکانہ عقائد ہے، پیغمبر اسلامﷺ نے ہر اس عمل سے بچنے کا حکم فرمایا ہے جس میں غیر اللہ کی معبود کے طورپر تعظیم کا پہلو پایا جاتا ہو، نبی رحمتﷺ کے زمانہ میں کسی نے بوانہ نامی مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی منت کرلی اور آپؐ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی منت کرلی تھی، آپؐ نے فرمایا کیا اس مقام پر دورِ جاہلیت کے بت رکھے جاتے تھے؟لوگوں نے کہا نہیں، پھر آپؐ نے دریافت فرمایا کہ اس مقام پر اہل جاہلیت کا کوئی تہوار ہوتا تھا؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپؐ نے اس شخص سے فرمایا تب تو تم اپنی منت پوری کرو، اللہ کی معصیت والی منت کو پورا کرنا نہیں اور نہ ایسی نذر پوری کرنا واجب ہے جس کی ابن آدم طاقت نہیں رکھتا۔

            اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نبیؐ نے مقام کی اصل کا اعتبار کیا نہ کہ آدمی کی نیت کا، آپؐ نے یہ نہیں پوچھا کہ اس جگہ اونٹ ذبح کرنے سے تمہاری نیت کیا ہے اور نہ آپؐ نے یہ دریافت کیا کہ اس کاذبح کرنا کس کے لیے ہے، اللہ کے لیے یا پھر اس مقام کی خاطر، ایسا کوئی سوال نہیں کیا، بلکہ آپؐ نے اس مقام کی تاریخ دریافت کرتے ہوئے فرمایا کیا اس مقام پر کوئی بت رکھا جاتا تھا، یا وہاں اہل جاہلیت کا کوئی تہواروغیرہ ہوتا تھا، جب نفی میں جواب دیا گیا تو آپؐ نے اس کی اجازت دی۔

            موجودہ دور کے ا ولمپک گیمز اگر چہ خالص اسپورٹ کے مقابلے ہوتے ہیں مگر ان گیموں کو ان کی بت پرستانہ بنیاد سے الگ نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ موجود اولمپک گیموں میں بھی قدیم اولمپک گیموں کے بہت سے رسوم باقی ہیں، نام تواریخ اور ’’لوگو‘‘ پھر یہ کہ آج ہم جن اولمپک گیموں کو محض اسپورٹ مقابلے خیال کرتے ہیں یہ در اصل یونانیوں کی نگاہ میں ایک ایسی عبادت ہے جو انہیں ان کے معبودوں سے قریب کرتی ہے، اس لیے کہ اولمپک گیموں میں ہونے والے سارے پروگرام کشتی  وغیرہ سے ان کے معبود خوش ہوتے ہیں اس سے ان کی ارواح کو خوشی حاصل ہوتی ہے، موجودہ دور کے اولمپک گیموں میں سابقہ ناموں اور سابقہ تاریخ اور سابقہ مشعل کی برقراری صاف بتاتی ہے کہ یہ گیمز قدیم یونانی گیمز کا تسلسل ہیں، موجودہ اولمپک گیمز کے ذمہ داروں کے نزدیک صرف کھیل مطلوب ہوتے تو وہ انہیں تواریخ’’لوگو‘‘ اور دیگر رسومات کا ا ہتمام کرکے قدیم یونانی گیمز سے مربوط نہ کرتے، اور سارے خرافات ختم کرکے صرف کھیل کے طور پر انجام دیتے، اگر کوئی شخص قدیم عرب ورثہ کے احیاء کے لیے لات وعزیٰ اور منات کے مقامات کی تعین کرکے وہاں مشرکین عرب کے شعائر کا احیاء کرے اور ان بتوں کی تعظیم کے طریقے ایجاد کرے، پھر اس کے ساتھ کھیلوں کا ایک مسابقہ بھی رکھے اور اس مقابلہ کا ’’لوگو‘‘ دور جاہلیت کے ان بتوں کی جانب منسوب ہو تو ظاہر ہے اس کا یہ عمل دور جاہلیت کی بت پرستی کا احیاء سمجھا جائے گا اور اس قسم کے کھیل کے مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی، اولمپک گیمز کا بھی وہی حال ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سید احمد ومیض ندوی

مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و صدر شعبہ دعوۃ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد ہیں۔

متعلقہ

Close