متفرقات

ایک یادگار و حوصلہ بخش ملاقات

شعیب اقبال خان

 ہم نے 20 ویں صدی کے متکلم اسلام سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کی تحریریں خوب پڑھی ہیں۔۔۔۔ ان تحریروں نے نہ جانے کتنے افراد کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا، بے مقصد ہستیوں کو مقصد سے روشناس کرادیا ۔ مولانا  اپنا حق ادا کرنے کی انتھک جدوجہد کرتے رہے اور اس مقصد کی خاطر ایک تحریک کی بنیاد بھی رکھی جو آج بر صغیر میں جماعت اسلامی کی شکل میں موجود ہے۔

ہر دور میں اللہ کے کچھ صالح بندے اسلامی جدوجہد کیلئے سامنے آئے اور علمی وعملی میدان میں ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے، تحریک اسلامی ہند کے پاس مرحوم مولانا ابواللیث ندوی، مرحوم مولانا امین احسن اصلاحی، مرحوم مولانا صدرالدین اصلاحی، مرحوم مولانا محمد یوسف، مرحوم مولانا عبدالقیوم( جالنہ)، مرحوم عبدالعزیز(حیدرآباد) وغیرہ عظیم افراد کی ایک طویل فہرست ہے….. یہ وہ افراد تھے جنھوں نے احکام خداوندی کو روئے زمیں پر جاری وساری کرنے کے لیےاپنا سب کچھ قربان کردیا… دور حاضر میں بھی اسلامی جدوجہد کا یہ قافلہ رواں دواں ہے، اللہ کے بہت سے صالح بندے ہیں جو قافلہ حق کے ساتھ منزل کی جانب قدم بڑھائے جارہے ہیں، انہی بندگان خدا میں سے ہمارے وہ عزیز بھائی ہیں جن سے ہماری ملاقات 2 جنوری 2018 کو ہوئی۔

صبح 10 بجکر 50 منٹ پر بس اسٹاپ پر ہم گاڑی نمبر5807 کے انتظار میں کھڑے ہوئے تھے، اپنے بھائی کے استقبال کے لیے سراپا انتظار۔۔۔۔ ہمارے جذبات نقطہ عروج پر تھے، تبھی ایک گاڑی بس اسٹاپ کے دروازہ سے اندر آتی نظر آئی۔۔۔۔  یه وہی گاڑی تھی جس کا ہمیں انتظار تھا۔

گاڑی رکنے کے بعد لوگ نیچے اترنے لگے، آنکھیں کسی کو تلاش کررہی تھیں کہ اچانک ایک مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا، سادہ لباس زیب تن کیے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ لئے نیچے اتر رہا تھا۔۔۔ تبھی خوشی سے ایک آواز منہ سے بے ساختہ نکل پڑی؛ ابوالاعلی بھائی آگئے.. جی ابوالاعلی بھائی sioآف انڈیا کی مرکزی مجلس شوری کے رکن ابوالاعلی سید سبحانی …. پہلے ہی ہم جذبات سے لبریز تھے لیکن بعد میں جذبات انتہا کو پہنچ گئے… سبھی کا تعارف ہوا اور آرام گاہ کی طرف افراد تنظیم کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوگئے۔

کم و بیش 25 گھنٹہ کی مسافت بذریعہ بس طے کرنے کے بعد بھی چہرہ اطمینان سے لبریز تھا، سفر کی تکان کو مسکراہٹ میں چھپائے خداوند قدوس کا شکر ادا کر رہے تھے اور افراد تنظیم سے بہت ہی بے تکلف ہوکر تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔

اتفاق سے اسی دن sio ممبر برادر عامرالمجاہد کے بڑےبھائی باسط المجاہد( کارکن جماعت) کا ولیمہ بھی تھا جو اپنی سادگی کے سبب گاؤں میں ایک مثال قائم کرچکا تھا ۔۔۔ اس میں ہم سب کی شرکت ہوئی۔ وہاں دیگر افراد سے بھی ملاقات ہوئی۔

ظہر کی نماز میں مجھے امامت کا موقع ملا، مقتدین میں ابوالاعلی بھائی اور عمران بھائی تھے… بعد نماز ایک تنظیمی نشست افراد تنظیم کے ساتھ ہوئی۔ اس گفتگو میں ابوالاعلی بھائی سماج کی تشکیل نو کیلئے سماجی زبان اور سماجی انداز میں کام کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری صاحب کی تحریروں کا تذکرہ آیا تو انہوں نے کہا کہ تحریک اسلامی کا جو لٹریچر مولانا مودودی اور مولانا صدرالدین اصلاحی وغیرہ نے تیار کیا تھا، مولانا عمری صاحب نے اس لٹریچر کو مزید آسان اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کا کام کیا ہے، یہ مولانا کی تحریر کی بڑی خوبی ہے کہ جو مولانا مودودی اور مولانا صدر الدین اصلاحی کی تحریروں کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے وہ مولانا کی تحریروں کو بآسانی سمجھ سکتا ہے۔

شام میں ابوالاعلی بھائی کا مقامی مکہ مسجد میں sio عمر کھیڑ کے زیر اہتمام خطاب عام کا پروگرام ہوا۔ جس میں بعنوان ” سماجی جدوجہد کا خاکہ سورہ کہف کی روشنی میں”  آپ کا خطاب تھا… خطاب عام مقامی عوام(مردو خواتین) کے لیے مشعل راہ رہا… پروگرام کا فیس بک لائیو بھی کیا گیا جس سے ملک و بیرون ملک کے افراد مستفید ہوئے۔

پروگرام کے بعد ابوالاعلی بھائی کے ساتھ اجتماعی سیلفی لی گئی۔ دوران سیلفی لگا ہی نہیں کہ ہم کسی مہمان کے ساتھ کھڑے ہے، وہ ہم سب کو اپنے سے بہت قریب اور بہت ہی زیادہ مانوس معلوم ہورہے تھے۔

خطاب عام سے واپس ہوئے تو اس دوران میں کچھ عالمی تحریکات اسلامی پر بھی گفتگو ہوئی جو ہم سب کے لیے حوصلہ بخش تھی۔

پروگرام کے بعد اجتماعی طعام (دال، چاول، روٹی، سبزی، میٹھا) ہوا…انتہائی خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا گیا، دوران طعام حضرت طلحہ انصاری کی جیتی جاگتی مثال بھی دیکھنے میں آئی۔

 طعام کے بعد ابوالاعلی بھائی کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی جس میں قابل توجہ بات "نکاح” رہی جس پر ابوالاعلی بھائی نے آج کے طریقہ نکاح پر شدید تشویش ظاہر کی۔ دوران میں ہم نے سوال کردیا کہ "آپ کا نکاح کیسا ہوا تھا ؟” اس پر جواب میں ملا کہ ” نکاح اباجان (مولانا عنایت الله اسد سبحانی) نے پڑھایا تھا… عصر کی نماز کے وقت وہاں پہنچے، نماز عصر ادا کی اور نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد کچھ چائے پانی ہوا اور مغرب کی نماز ادا کرکے واپس گھر آگئے” .. آج سماج کےہر فرد کو اس آسان طریقہ نکاح کو قبول کرنا چاہیے… مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی اور کب رات کا ایک بج گیا پتہ ہی نہیں چلا.۔

 ہم صبح 4:45 بجے اٹھے اور 5:00 بجے ابوالاعلی بھائی کو جگا دیا کیونکہ بس کا وقت 5:30 بجے تھا… ہم 5:25  پربس اسٹاپ پر آگئے..تبھی چائے کا اشتیاق ہوا اور وہیں موجود چائے خانے کا رخ کیا۔

تبھی وہ ہوا جو ہم چاہ کر بھی نہیں چاہتے تھے۔ ناندیڑکوجانے والی بس آ گئی۔  ہم ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملے…. ابوالاعلی بھائی گاڑی میں سوار ہو گئے اور نکلتے وقت اونچے ہاتھ سے سلام کیا اور گاڑی منزل کی طرف گامزن ہو گئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close