متفرقات

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا! 

دنیا میں مشہور ہونے کے دو ہی طریقے ہیں ایک نیک نامی کے ذریعے مشہور ہوا جاتا ہے اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی اچھے ناموں سے یاد کیاجاتا ہے۔ ان کے اخلاق حسنہ اورنیک کارناموں کو یاد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کی جاتی ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘ ۔ یہ بہت پرانی کہاوت ہے جس میں اس بات کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نام تو بہر صورت ہوگا، دنیا پہچانے گی،اپنا سکہ چلے گا چاہے غلط راستہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ بدنام ہونے کے لئے کچھ لوگ چوری،ڈاکہ زنی میں نام کماتے ہیں تو کچھ غلط بیانی سے کام لینے میں نام کماتے ہیں۔ مثلاً موجودہ دور میں کچھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایسے ہیں جو حقائق کا خون کرنے کو ہنر سمجھتے ہیں،جو اپنی ٹی آر پی اور عوام میں پروپیگنڈہ کرکے غلط طریقے سے اپنی دھاک جمانے کیلئے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہیں،جن کیلئے انسانیت سے زیادہ پیسہ معنیٰ رکھتا ہے، جوامن و آشتی کی بجائے نفرت کوبڑھاوادینے میں پیش پیش رہتے ہیں،انہیں میں سے ایک زی نیوز چینل ہے،جس نے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اپنے بدبختانہ کردار سے عوام کو ورغلایا ہے اور اب پھر اسی روش پر چل پڑا ہے۔

ویسے تو اس چینل نے بہت سارے نفرت انگیز شو کیے ہیں لیکن اب اس نے بدنام زمانہ رشدی ثانی ’’طارق فتح‘‘کے ساتھ’’فتح کافتویٰ‘‘ کے نام سے ایک شو شروع کیا ہے۔ یہ فتوی کیا ہے ؟ وہ کون سے اسلام کی شبیہ پیش کررہا ہے اس سے ہر وہ مسلمان واقف ہے جو دین اسلام کو صحیح صورت میں جانتا ہے۔ اس شو میں چند لوگوں کو بلاکر اسلامیات پر بحث ہوتی ہے… مسلمانوں کے عقائد کے متعلق بات کی جاتی ہے…  مسلم عورتوں کو نام نہاد آزادی کی ترغیب دی جاتی ہے…تعدد ازواج، طلاق ثلاثہ، جہاد، پردہ،اسلامی سلاطین،تفہیم قرآن، تاریخ اسلام، صحابہ کرام ؓ کی زندگی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات، اور اس جیسے بے شمار پیچیدہ مسائل جیسے استوی علی العرش، کے متعلق مباحثہ ہوتا ہے اور یہ دشنام طراز طارق فتح نامی شخص ہر چیز پر اپنی حتمی رائے دیتا ہے،اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا میں مجھ سے زیادہ قابل اورماہراسلامیات کوئی اور ہے ہی نہیں،ہم جو کہے دیتے ہیں وہی سچ ہے،وہی حق ہے اسی پر عمل کیا جانا چاہیے ۔

حالانکہ اگر دیکھا جائے تو طارق کی حیثیت ایک شرابی اور عیاش ومکارشخص سے زیادہ کچھ نہیں ہے،یوں تو اس کی پوری ذاتی زندگی ایک ملحدانہ نظر یہ سے بھری پڑی ہے،اسے نہ تو اسلام سے لگاؤ ہے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کا کسی بھی درجہ میں خیر خواہ ہے،مگر کچھ لوگوں کی غلط پالیسی کی بنا پر اسے اتنی زیادہ شہرت مل گئی ہے جس کا تصور بھی محال ہے، کچھ جذباتی قسم کے مولویوں نے ابتدا میں کوشش بھی کی کہ اس ملعون کا منہ توڑ جواب دیا جائے لیکن زی نیوز ایسی باتوں کو جس سے ملعون طارق لاجواب ہوجاتا یا اس کی حقیقت آشکارا ہوجاتی ایسے ویڈیو کو ایڈٹ کرکے منظر سے نکال دیتا ہے،پھر عوام کا کیا اسے تو مرچ مسالہ لگا ہوا کوئی موضوع چاہیے جس پر دل کھول کر گفتگو کرسکے۔ طارق کی معلومات کا جغرافیہ اتنا بھی نہیں ہے کہ وہ کسی سے مناظرہ کرسکے چنانچہ چند دنوں قبل مشہور عالم دین مولانا ندیم الواجدی کے فرزنداورماہراسلامی اسکالر مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب نے ٹویٹر پر اسے کھلے عام چیلینج کیا تھا مگر یہ شخص میدان میں آنے سے انکار کردیا حتی کہ یہ ملعون تو زی نیوز کے ڈبہ سے بھی باہر آنے کو تیار نہیں ہے،اور نہ ہی کسی سے براہ راست بات کرتا ہے۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا ہے کہ جب ان سے میری ملاقات دہلی کے ایک ہوٹل میں ہوئی اور وہاں میں نے ان کی لغویات کو سنا تو اسے سمجھانے کے ارادہ سے اس کے پاس گیا، اسے سمجھانے کی کوشش شروع کی تو اس کا جواب آیا کہ آپ میرے ہوٹل میں تشریف لائیں ۔

افسوس ہوتا ہےا ن لوگوں پر جو اب مکمل طور پر اس ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے در پے ہیں، جنہوں نے اس بدبخت کو اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے، جو ملک کے قانون سے کھلواڑ کررہے ہیں،جنہیں عدلیہ کا کوئی خوف نہیں ہے جو ایک وزٹ ویزا پر رہ رہے شخص کو اپنی دکان چمکانے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانے کے لئے تمام تر سہولیات مہیا کررہے ہیں۔ بدبخت طارق کی باتوں کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ہندوستان کی جمہوریت ہے،اور جمہوریت کیلئے آزادی اظہار رائے ضروری ہے،اور یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے آزادی اظہار رائے سے زیادہ کچھ اور نہیں کہا جاسکتا ہے،ایسے لوگوں سے ایک بہت معمولی سا سوال یہ ہے کہ کیا پوری دنیا میں ہندوستان والی جمہوریت ہے،ظاہر ہے ایسا نہیں ہے،پھر کیا کسی دوسرے ملک کے شہری کو کسی دوسرے ملک میں جاکر اپنی رائے اور وہ بھی ایسی رائے جس سے ملک کے امن وامان کو خطرہ لاحق ہوجائے اس کی اجازت ہے؟ جس طرح کی لغویات طارق نے صحابہ کرام ؓکے متعلق کیا ہے اگر کسی دوسرے مذہب کے متعلق کیا ہوتا تو کیا اس کا اسی طرح استقبال کیا جاتا۔ اگر طارق ہندو تہذیب کے خلاف بولتا ، ان کی مقدس ہستیوں کو نشانہ بناتا ، تو کیا اس کیلئے الگ سے ایک شو کا انعقاد ہوتا، ایسا بالکل بھی نہیں ہے اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا ہے۔ ہندوستان میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے ،ہم اسے تسلیم کرتے ہیں ۔

لیکن مذہبی معاملات میں غلط پروپیگنڈہ کا نام آزادی اظہار رائے نہیں ہے۔ یہ کون سی آزادی اظہار رائے ہے جس سے ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت پریشان ہے ، کیا صحابہ کرام جیسی مقدس ہستیوں کو اپنے ناپاک زبانوں سے مطعون کرنے کا نام آزادی اظہار رائے ہے ؟ اگر اسی کا نام آزادی اظہار رائے ہے تو ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی سوچ پر … ! اگر مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کو ہی آزادی اظہار رائے کا نام دیا گیا ہے تو ہم ملک کی موجودہ حکومت سے اور ذمہ داروں سے عرض کرتے ہیں کہ اس فتنہ کا سد باب کریں اس غلیظ کو ملک سے باہر نکالا جائے تاکہ ہندو مسلم کے درمیان جو خلیج پیدا ہورہی ہے اسے پاٹا جاسکے۔ مسلمانوں سے التماس ہے کہ وہ زی نیوز کا بائیکاٹ کریں ان کے فتنے کے شو کو دیکھنے سے گریز کریں تاکہ جو شیطان ملعون کی طرف سے غلط وساوس آپ کی ذہنوں میں پنپ رہے ہیں اس سے چھٹکارہ مل سکے۔ اس ضمن میں ہمارے محترم دوست مولانا مہدی حسن عینی نے پر زورتحریک چلائی ہے اور اس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ ان کی تحریک کو آگے بڑھائیں اور ملعون کے خلاف پرزور احتجاج درج کرائیں تاکہ رشدی ثانی ہندوستان چھوڑکر بھاگنے پر مجبور ہوجائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close