متفرقات

بہار میں اردو صحافت (آخری قسط)

بہار میں اردو صحافت (آخری قسط)

صفدر امام قادری

بہار کی اردو صحافت ’الپنچ‘ کے ساتھ ہی 20ویں صدی میں داخل ہوتی ہے۔ 1910ء کے پریس ایکٹ کے سبب ہندستان کے دوسرے اخبارات کی طرح بہار کے اردو اخبارات بھی مشکل دور میں پہنچ گئے۔ بڑی تعداد میں اخبارات و رسائل بند ہوئے اور صحافیوں نے حکومت کے سامنے سپرڈال دی۔ اس دوران بہار شریف سے 1912 ء میں ’’اتحاد‘‘ نام سے ایک اخبار جاری ہوا۔ اس کے بانی مدیر شیخ نُور محمد تھے۔ ابتدائی عہد میں یہ ہفتہ وار تھا۔ حکومت مخالف رویّے کی وجہ سے اخبار کی ضمانت ضبط ہوئی اور پھر جناب شفیع داؤدی کی کوششوں سے اس کا دفتر بہار شریف سے پٹنہ منتقل ہوا۔ اس اخبار سے عبدالجبّار حیدری، پروفیسر اسماعیل وحشی، راغب احمد وغیرہ بہ طور مدیر اور معاون مدیر وابستہ تھے لیکن 1935ء سے 1951ء کے دوران تقریباً 16برس تک اس اخبار کے مدیر سلطان احمد تھے۔ یہ اخبار اپنے حلقۂ اثر کے اعتبار سے نہایت اہم تھا۔ ہندستان کی جنگِ آزادی کی تحریک اپنے فیصلہ کُن دور میں پہنچ چُکی تھی۔ اس وجہ سے بھی اس اخبار نے بہار میں اپنی خاص جگہ بنالی۔ ڈاکٹر عبدالخالق نے ’مقالاتِ سلطان احمد‘ ترتیب دے کر شایع کردیا جس میں ’اتحاد‘ کے وہ اہم مضامین جو ایڈیٹر سلطان احمد کے قلم سے نکلے، یکجا ہوگئے ہیں۔ ’اتّحاد‘ کے مزاج کو سمجھنے کے لیے مدیر سلطان احمد کی ایک تحریر کافی ہے :
’’1942ء کے ابتدائی ایّام تھے۔ گاندھی جی نے ’’بھارت چھوڑو‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور سارے ملک میں ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوا۔ کانگریسی کارکنوں نے ہندکا چپّہ چپّہ چھان ڈالا۔ قومی اخبارات نے پورا تعاون کیا۔ پُرجوش مضامین ومقالوں کی بھرمار ہوئی۔ خبروں کی وہ اودھم مچی کہ داستانوں کا مزا جاتا رہا۔ اس وقت اُردو صحافت کا نمائندہ بہار کا کثیر الاشاعت اخبار ’’اتحاد‘‘ تھا۔ اخبار عوام کی رہنمائی کرتے ہیں اور ترجمانی بھی۔ ’اتحاد‘ اس تحریک سے وابستہ ہوگیا۔ پھر کیا تھا، ہر جگہ سفرو حضر میں اسی کا ذکر تھا، نئی نئی خبروں، پُرزور مقالوں اور مسلسل مضامین نے قوم میں زندگی وحرکت کی لہریں دوڑا دیں۔ چنانچہ تحریک پروان چڑھی، مُلک کو آزادی ملی۔‘‘
آزادی سے قبل ’’دیہات‘‘ نام سے ایک اخبار جنوری 1940 میں شروع ہوا۔ یہ حکومتِ بہار کا ترجمان تھا اور اس کا مطمحِ نظر یہ تھا کہ دیہاتی حلقے میں رہنے والے لوگوں سے دنیا جہان کی خبروں کو متعارف کرانا ضروری ہے۔ برقی پریس، سبزی باغ، بانکی پور، پٹنہ سے یہ اخبار شایع ہوتا تھا۔ حکومت بہار اسے مفت تقسیم کرتی تھی۔ یہ اخبار کمپنی حکومت کے لیے اپنی خاص باتیں دیہی عوام تک پہنچانے کے مقصد سے ایک پلیٹ فارم تھا۔ اس اخبار میں دوسری جنگِ عظیم کے سلسلے سے خبروں کی بہتات ہے۔ بہار میں ریڈیو اسٹیشن کے آغاز کے سلسلے سے 19مارچ 1940 کے شمارے میں یہ اطلاع شایع ہوئی ہے :
’’بہاری اس خبر کو بڑی خوشی سے سنیں گے کہ عنقریب پٹنہ میں ایک ریڈیو اسٹیشن کھلنے والا ہے۔ عرصے سے یہ تجویز تھی۔ لیکن اب اس سلسلے میں انتظامی کاروائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب کہ بہار کا صدر مقام بہار کی آبادی سے قریب تر ہوجائے گا۔‘‘
پندرہ روزہ ’’روشنی‘‘ اس اعتبار سے ایک تجرباتی اخبار تھا کیوں کہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ایک ساتھ شایع ہوتا تھا۔ ماس لٹریسی کمیٹی کے زیرِ اہتمام اس کی اشاعت ہوتی تھی اور اس کے چیف ایڈیٹر عبدالمنان اور مدیران میں دھرمیندر برھمچاری شاستری، سیّد حسن اور رگھونندن پرساد سنہا شامل تھے۔ یکم اپریل 1940 سے دسمبر 1941 تک کے شمارے کتب خانے میں دستیاب ہیں۔ یہ اخبار بھی ’’دیہات‘‘ کی طرح ہی حکومت کا طرف دار تھا۔ اس کے صفحات سے دوسری جنگِ عظیم کی بعض توجّہ طلب تفصیلات معلوم ہوتی ہیں۔ دو اقتباسات ملاحظہ ہوں جو ’روشنی‘ میں 15 اگست 1941ء کے شمارے میں شایع ہوئے ہیں:
(1) ’’روس دیس میں روسیوں اور جرمنوں میں گھماسان کی لڑائی ہورہی ہے۔ ا س وقت دونوں طرف کے نوّے لاکھ آدمی لڑرہے ہیں۔ جرمنوں نے لینن گراد، کیو اور روس کی راجدھانی ماسکو کو لے لینے کے لیے سراور دھئر کی بازی لگادی ہے۔ لیکن سورماروسیوں کے آگے ان کی ایک نہیں چل رہی ہے۔ اب تک جرمنوں کو پندرہ لاکھ اور روسیوں کو چھ لاکھ سپاہیوں سے ہاتھ دھو نا پڑا ہے۔ ہٹلر نے جب روس پر چڑھائی کرنے کے لیے حکم دیا تھا تو اس کے دوبڑے بڑے سینا پتیوں نے، جو اس کے ہاتھ پاؤں سمجھے جاتے تھے، اسے بہت منع کیا۔ ہٹلر نے کسی کی بات نہ مانی۔ اس نے ایک کو ایسا ذلیل کیا کہ اس نے اپنی جان دے دی اور دوسرا نظر بند کرلیا گیا لیکن وہ کسی طرح بھاگ کر لاپتہ ہو گیا۔‘‘
(2) ’’ہندستان کے بڑے لاٹ صاحب لڑائی کے خزانہ سے ہندستان کے بنے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مرہم پٹّی کے سامان ، اوزار اور دوائیں روس بھیجنے والے ہیں۔‘‘
آزادی کے آس پاس روزناموں کی بابت غور کریں تو 9ستمبر 1942 سے شایع ہونے والا اخبار ’صداے عام‘ واضح اہمیت کا حامل ہے۔ ’صدائے عام‘ تقسیمِ ہند سے پہلے مسلم لیگ کی حمایت میں تھا اور بعد میں وہ اخبارکانگریس کی طرف داری میں شامل ہوگیا۔ اس کے اوّلین ایڈیٹر سیّد نظیر حیدر تھے۔ بعد میں سیّد رضی حیدر نے ادارت کی ذمّے داری سنبھالی اور محمد مرغوب اور شبیر احمد کارکن صحافی کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ’صدائے عام‘ کے خصوصی نمبر شایع ہوا کرتے تھے اور اُن کی اچھی خاصی شہرت بھی رہی لیکن تکنیکی ترقّی میں یہ اخبار دوسرے اخباروں کی طرح وقت کی گرد بن گیا۔ کانگریس رہنما عبدالقیوم انصاری کے ایما سے معروف افسانہ نگار سُہیل عظیم آبادی نے اپریل 1949 میں روز نامہ ’’ساتھی‘‘ شایع کیا۔ بعد میں غلام سرور، و لایت علی اصلاحی، نور محمد، خالد رشید صبا، حق ندوی اور شاہد رام نگری اس اخبار سے متعلّق ہوئے۔ ’صدائے عام‘ کی طرح ’ساتھی‘ کے بھی خصوصی نمبر علمی حلقے میں توجّہ کے ساتھ پڑھے جاتے تھے۔ ابتدا میں یہ اخبار متوازن تھا لیکن بعد میں یہ کانگریس حکومت کی ہم نوائی میں گرفتار ہوگیا۔ رفتہ رفتہ یہ اخبار بھی وقت کی تحویل میں سماگیا۔
جناب غلام سرور نے ہفتہ وار کی شکل میں ’’سنگم‘‘ اخبار‘‘ نکالا جو بعد میں 1962 سے روزنامہ کی شکل میں شایع ہونے لگا۔ اس اخبار کے صحافیوں میں بیتاب صدیقی، شاہ مشتاق احمد، سیّد شہباز حُسین (جو بعد میں رسالہ ’آج کل‘ کے ایڈیٹر ہوئے)، شاہد رام نگری، عبدالمغنی اور معین انصاری جیسے افراد شامل تھے۔ اس اخبار میں غلام سرور نے اپنی صحافتی تحریروں سے ایک بڑے حلقے کو متاثر کیا۔ وہ صحافی کے ساتھ ساتھ سیاست داں بھی ہوئے لیکن قلم پیشگی کو انھوں نے ایک عرصے تک نہیں چھوڑا۔ اس وجہ سے آزادی کے بعد اُبھرنے والے اردو صحافیوں میں وہ سب سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دوسرے اخباروں کی طرح صرف نام کے مدیر نہیں تھے بلکہ مُلک اور صوبے کی سیاست اور سماجی صورتِ حال پر وہ اپنی واضح رائے دینے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے تھے۔ سیاست میں اُن کی مشغولیت نے اخبار کی طرف سے توجہ کم کی اور آٹھویں دہائی سے یہ اخبار اپنی کشش کھونے لگا۔
پندرہ روزہ کے طور پر در بھنگا سے ’قومی تنظیم‘ کا آغاز ہوا۔ اس کے بانی ایڈیٹر سیّد محمدعمر فرید تھے۔ 1965 میں یہ عظیم آباد منتقل ہوگیا اور 1975 تک ہفت روزہ کی شکل میں شایع ہوتا رہا۔ یہ اخبار مارچ 1975 سے روزنامہ کی صورت میں نکلنے لگا، جو اَب تک جاری ہے۔ اب اس کی اِدارت سیّد محمد اشرف فرید اور سیّد محمد اجمل فرید کے ذمّے ہے۔ بہار سے نکلنے والے اخبارات میں یہ پہلا اخبار ہے جس نے مختلف شہروں اور صوبوں کے علاحدہ ایڈیشن شایع کیے۔ اپریل 1981ء سے قومی آواز نے پٹنہ ایڈیشن شروع کیا۔ عثمان غنی اور شاہین محسن نے اس اخبار کو صحافتی قیادت بخشی۔ جس طرح ملک گیر پیمانے پر حیات اﷲ انصاری اور اُن کے ساتھیوں نے مل کر ’قومی آواز‘ کی اشاعت سے مُلک میں اردو صحافت کا ایک نیا مذاق پیدا کیا تھا، ’قومی آواز‘ نے بہار میں صحافت کی یہ نئی روشنی بہم پہنچائی۔ پچھلے تیس پینتس برسوں میں وہ صحافی جو سوجھ بوجھ کے ساتھ بہار میں سرگرمِ عمل رہے ہیں، اُن میں بلاشبہ ’قومی آواز‘ کے تربیت یافتہ افراد کی ایک بڑی جماعت ہے جو اخبار کے بند ہوجانے کے بعد دوسرے اخباروں سے منسلک ہوگئے۔
1974 میں رضوان احمد نے ہفتہ وار کی شکل میں ’عظیم آباد ایکسپریس‘ شایع کیا۔ 1980 سے یہ روزنامہ میں تبدیل ہوگیا۔ ’عظیم آباد ایکسپریس‘ اپنی سنسنی خیزی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ رضوان احمد کے اِداریے غیر منطقی اندازِ فکر اور سیاسی کھیل تماشے کا حصّہ بننے کی وجہ سے تذکرے میں ہوتے تھے۔ 26 فروری 1985 سے روزنامہ ’ایثار‘ شایع ہونا شروع ہوا۔ اس کے بانی مدیر شاہین محسن تھے اور شاہد رام نگری اس کے پرنٹر پبلشر تھے۔ 8اپریل 1987 کو یہ اخبار بند ہوگیا۔ طباعت اور پیش کش کے اعتبار سے اُس وقت تک کے سب سے خوب صورت اخباروں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ 1974 میں ہفت روزہ ’پندار‘ کا آغاز ہوا۔ جولائی 1988 سے یہ روزنامہ ہوگیا۔ 1984ء میں ہفتہ وار فاروقی تنظیم شروع ہوا جو دو برسوں کے بعد روزنامہ کی شکل میں بدل گیا۔ 1992 میں اس اخبار نے رانچی سے اپنا علاحدہ ایڈیشن شروع کیا۔ فی الوقت رانچی اور پٹنہ دونوں جگہوں سے یہ اخبار شایع ہو رہا ہے۔ روزنامہ ’انقلابِ جدید‘ 10 ستمبر 1995 سے شروع ہوا لیکن تھوڑے دنوں میں ہی یہ اخبار اپنی عمومی رفتار قائم نہ رکھ سکا۔ اور اب تو اس کی اشاعت بھی بہت معمولی ہے۔
اس دوران قومی اخبارات میں روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ نے پٹنہ سے اپنی اشاعت شروع کی۔ صحافت کے قومی معیار کے پیشِ نظر اس اخبار نے اپنی شناخت قائم کی لیکن توسیعِ اشاعت کے سلسلے سے اس اخبار نے موثر پیش رفت نہیں کی جس کی وجہ سے ایک معیاری اخبار مقبولیت کے معاملے میں وہ جگہ نہیں بناسکا جو اس کا حق تھا۔ 27 مئی 2013 سے روزنامہ ’انقلاب‘ 16 صفحات پر مشتمل مکمل رنگین اخبار کی شکل میں شایع ہونا شروع ہوا جو اپنے اندازِ پیش کش اور صحافت کے قومی معیار کی پاسداری کی وجہ سے مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ملٹی سٹی ایڈیشن کے سبب ہر خطے میں اخبار کے پہنچ جانے سے بھی روزنامہ ’انقلاب‘ مختصر مدّت کے باوجود بہار میں کامیاب تسلیم کیا جارہا ہے۔ اخبار کے خصوصی فیچر اور سیاسی وسماجی موضوعات پر خصوصی تبصرے شایع کرنے کی روش نے بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ اس اخبار میں ایڈیٹر سے لے کر عام رپورٹر تک سبھی صحافت پیشہ افراد کام کررہے ہیں جب کہ بہار کے دوسرے اخبارات کے مدیران حقیقت میں غیر صحافی مالکان ہیں اور اکثر و بیش تر ان کے نام سے شایع شدہ تحریریں حقیقت میں ان اخباروں کے کارکن صحافیوں کی ہوتی ہیں۔
بہار کی ادبی صحافت پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو انجم مانپوری کے ’ندیم‘، قاضی عبدالودود کے ’معیار‘، کلیم الدین احمد کے ’معاصر‘ وفاملک پوری کے ’صبحِ نو‘، قیوم خضر کے ’اشارہ‘، کلام حیدری کے ’آہنگ‘، ظفر اوگانوی کے ’اقدار‘،بہار اردو اکادمی کے ’زبان وادب ‘، عبدالمغنی کے ’مریخ‘ اور سہیل عظیم آبادی، عبدالقیوم انصاری کے رسالہ ’تہذیب‘، طارق متین کے ’علم و ادب‘ اور وہاب اشرفی کے ’مباحثہ‘ وغیرہ کا تذکرہ لازم ہے۔ ان رسائل میں تقریباً نصف کی حیثیت علاقائی سے زیادہ نہیں رہی۔ لیکن ان رسائل نے اپنے عہد میں قومی سطح پر لکھنے والوں کو ایک مستحکم پلیٹ فارم عطا کیا۔ ’ندیم‘، ’معیار‘، ’معاصر‘، صبحِ نو‘، ’اقدار‘، ’آہنگ‘ اور ’مباحثہ‘ کو قومی سطح پر توجہ سے پڑھاجاتا رہا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ملک کے کسی بھی صوبے سے زیادہ ادبی رسائل کی فروخت بہار میں ہوتی ہے لیکن بہار میں تواتر سے نکلنے والا ایک بھی بہترین ماہانہ ادبی رسالہ ایسا نہیں ہے جسے ملک کے نمائندہ ادبی رسائل میں شامل کیا جا سکے۔
بہار کی اردو صحافت کی ڈیڑھ صدی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات بھی افسوس ناک ہے کہ آزادانہ طور پر بہار کے اردو صحافیوں نے اپنی قومی پہچان اس اعتبار سے قائم نہ کی جس کے لیے وہ ہر اعتبار سے موزوں تھے۔ اخبارات و رسائل کا یہ مقدر ہے کہ ان کے صفحات پر روز ایک دنیا پیدا ہوتی ہے اور پھر نئے شمارے کی آمد تک وہ دفن ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے بڑے صحافیوں کا یہ دستور رہا ہے کہ اپنے کالم اور مضامین کا انتخاب جِلد بند طریقے سے منظرِ عام پر لائیں۔ بعض اخبارات و رسائل نے بھی اپنے اداریے یا مضامین کتابی شکل میں شایع کیے۔ غلام سرور نے اپنے مضامین کا انتخاب شایع کیا لیکن صحافت سے متعلّق ان کے ہزاروں نوشتہ جات اخبار کی گرد ہو کر رہ گئے۔ رضوان احمد کے ابتدائی مضامین تو ’’مجھے بولنے دو‘‘ کے عنوان سے شایع ہوئے لیکن اس سے زیادہ ان کے مضامین اخبار میں ہی پڑے رہ گئے۔ شاہد رام نگری، عبدالرافع،ریاض عظیم آبادی، مشتاق احمد، ریحان غنی، راشد احمد وغیرہ ایسے صحافی ہیں جن کے مضامین جمع کردیے جائیں تو سب کی کئی جلدیں تیار ہوجائیں گی لیکن اس جانب کسی کی خاص توجہ نہیں ہے۔ کلام حیدری نے اپنے اداریے یکجا کیے تھے لیکن ان کی بھی بعد کی صحافیانہ تحریریں جمع نہ کی جا سکیں۔
ہندستان کی اردو صحافت رِوایت اور جدّت کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ روایت سے اسے ادبی شان اور سماجی جواب دہی کی پونجی حاصل ہوئی تھی۔ اس نے جفاکشی کے ساتھ بے باکی سیکھی تھی۔ لیکن ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ لازمیت نے اردو صحافت کو ایک الگ زمین پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب ادب اور ادبیت کی کون کہے، عام قواعد اور انشا کے کھلواڑ روزانہ صبح سے ہمارا امتحان لیتے ہیں۔ جلدی میں خبریں یا اُن پر تاثرات پیش کردینے کا جبر ہمیں روزانہ حقائق کی بھول اورمعیار کی پستی میں پہنچا رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ رنگین اور روشن چھپائی نے ہم سے دھیرے دھیرے جتنا کچھ چھین لیا ہے، اس کی بھرپائی ابھی ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ بہار کے اردو اخبار اور ادبی رسائل کو سامنے رکھیں اور ہندی اور انگریزی جرائد سے ان کا موازنہ کریں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ حقیقی صحافت کے میدان میں ہماری جگہ کہاں ہے؟ ’انقلاب‘ اور ’راشٹریہ سہارا‘ اخبار کے علاوہ دوسرے اخبارات کے پاس اپنے خصوصی کالم نگار نہیں ہیں۔ انھیں جو کچھ پکا پکایا آگیا، انھی پر ان کی زندگی ٹِکی ہوئی ہے۔ اس سے ان کی ترقّی رُکی ہوئی ہے اور معیار کے بارے میں روزانہ سوالات قائم ہو رہے ہیں۔ اردو صحافیوں کا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ وہ دوسرے ہر ادارے کا احتساب تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے صحافتی اعمال اور معیارو مرتبے کے لیے کسی متواتر جائزے کی اہمیت کے وہ قائل معلوم نہیں ہوتے۔ سب کی ڈیڑھ اینٹ کی جدا مسجدیں ہیں۔ اس لیے صحت مند طریقے سے ایک دوسرے کے دامن میں جھانکنا انھیں زیادہ معقول معلوم نہیں ہوتا۔ ان وجوہات سے بھی بہار کی اردو صحافت معیار کے اعتبار سے اب بھی قومی اوسط سے کم تر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ موجودہ دور کے صحافی اخبار کی نہ صرف تکنیکی ترقیوں پر توجّہ دیں گے بلکہ اس کے معیار اور مرتبے کے سلسلے سے بھی بیدار ذہنی کا ثبوت پیش کریں گے اور اپنی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کے بہترین وارث ثابت ہو پائیں گے۔
[اس مضمون کی تکمیل میں قاضی عبدالودود، پروفیسر سیّد مظفر اقبال، ڈاکٹر سیّد احمد قادری اور ڈاکٹر افضل مصباحی کی کتابوں سے خصوصی طور سے رجوع کیا گیا ہے جس کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔]

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close