متفرقات

بہار میں اردو صحافت (دوسری قسط)

صفدر امام قادری

دسمبر 1870 سے جو شمارے ملے، ان پر ایڈیٹر کی حیثیت سے منشی قربان علی خاں صاحب کا نام درج ہے۔
سرورق پر ہی اس اخبار میں یہ درج ہوتا تھا کہ یہ صوبۂ بہار کی سائنٹفک سوسائٹی کا ترجمان ہے۔ 15 جون 1869ء کے شمارے میں سائنٹفک سوسائٹی کی سالانہ روداد کی اشاعت سے اس کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے جس کا درج ذیل حصّہ تحقیقی جہت سے نہایت کارآمد ہے:
’’پانچواں منشا اس سوسیٹی (؟) کا یہ ہے بملاحظہ اخبار انگلستان و ہندوستان اور دیگر ممالک واقالیم کے ایک اخبار جو واسطے ترقّی فہم و فراست اہل ہند کے کافی ہو اور جس سے روز بروز اتحاد و محبت فیمابین رعایہ اور گورنمنٹ کے زیادہ ہو،چھاپ کر مشتہر کیا جاوے۔ تاریخ 15ستمبر 1868ء ایک اخبار باسم ’اخبار الاخیار‘ اسی صنعت کا مہینے میں دوبار اس سوسیٹی (؟) سے نکلتا ہے۔‘‘
اس اخبار کے سلسلے سے قاضی عبدالودود نے دو مضامین ’فکرو نظر‘ علی گڑھ اور ’مجلس‘، حیدرآباد، میں 1960ء میں شایع کرائے تھے۔ ان مضامین میں اس اخبار سے متعلّق بے حد اہم اقتباسات درج ہوئے ہیں۔ غالب کی وفات پر ایک جون 1869ء کے شمارے میں شاہ محمد یحییٰ ابوالعلائی کا قطعۂ تاریخ شایع ہوا ہے۔ مرزا رجب علی بیگ سرور کی وفات کے سلسلے سے اسی شمارے میں جو خبر شایع ہوئی، وہ کچھ یوں ہے:
’’مرزا رجب علی بیگ، سرور کی وفات سے نہایت رنج ہوا۔ مرزا صاحب مہاراجہ بنا رس کے پاس نوکر تھے، اور اس زمانے میں بڑے نامی گرامی شعر اے اردو میں شمار کیے جاتے تھے، جن کی کتاب ’فسانہ عجائب‘ بھی اردو میں شہرۂ آفاق ہے۔‘‘
اس اخبار کے 15 جولائی 1869ء کے شمارے سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس سال انڈین سول سروس میں چار امیدوار کا میاب ہوئے۔ ان کے نام بھی اخبار میں شایع ہوئے ہیں: رمیش چندر دت، بہاری لال گپتا، سریندر ناتھ بنرجی، شری پدماباجی ٹھاکر۔ انگریزی اخبار پایونیر کے حوالے سے 15 جولائی 1869ء کے شمارے میں اس اخبار نے لکھا ہے کہ ’’وہابیوں سے جیل خانہ آباد ہوتا جارہا ہے‘‘۔ اسی طرح شمارہ بابت 25 اکتوبر 1869ء میں یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ ’’ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر اس امر پر مامور ہوئے تھے کہ ایک کتاب تالیف کریں جس میں ……… مشہورو شریف خاند ان ہائے اہلِ اسلام کا احوال بخوبی بیان کیا جائے‘‘۔ 15 اکتوبر کے شمارے میں ایک خبر شایع ہوئی ہے : ’’بمبئی میں ایک نیا مذہب معراج پنتھ جاری ہوا۔ ہندو اور مسلمانی مت دونوں کی شرکت سے اور معتقدین اس کے شری کرشن جی کو بھی مانتے ہیں اور حضرت محمد کو بھی‘‘۔
’اخبار الاخیار‘ چوں کہ سائنٹفک سوسائٹی، صوبۂ بہار کا ترجمان تھا، اس لیے اس اخبار کے مشمولات میں سرسیّد احمد خاں کے امور زیرِ بحث نہ آئیں، یہ کیسے ممکن تھا؟ قاضی عبدالودود نے اپنے مضمون (اخبارالاخیار، مظفرپور اور سیّد احمد خاں) میں ایسے اہم نوشتہ جات جمع کرنے کی کوشش کی ہے جس سے سرسیّد، سائنٹفک سوسائٹی اور دیگر متعلقات واضح ہوجائیں ۔’ اخبارالاخیار‘ کی اشاعت کا یہ وہی زمانہ ہے جب سرسیّد احمد خاں ہندستان سے انگلینڈ گئے اور پھر واپس ہوئے۔ اس اعتبار سے اس اخبار کے بعض مندرجات قومی اور سماجی معاملات میں ہمیں نئے سرے سے تجزیہ کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ 15 جولائی1869ء کے شمارے میں سرسیّد کو حکومتِ برطانیہ کی طرف سے کے۔ایس۔آئی۔ کا اعزاز ملنے پر مبارک باد دی گئی ہے اور پھر ولایت کے سفر کے اسباب و علَلْ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سلسلے سے یکم ستمبر کے اخبار سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’سفرِ ولایت کی ترغیب!‘‘…فی زماننا ہماری سوسیٹی کے لیف آنریری سکریٹری جناب مولوی سیّد احمد خاں صاحب بہادرکے۔ ایس۔ آئی۔….اپنی ذاتی ہمت کی بدولت لندن میں پہنچے اور اولوالعزمی ہندستانیوں کی جبلی عادت کے برخلاف ہوئی،….جب تک ہندستانی رعایا خاص لندن میں جاکر اپنی ملکہ معظمہ کی دلی توجہ اور اہل یورپ کے اس ذاتی اخلاق کو جو وہ اپنے ملک میں مسافروں کے حال پر مبذول فرماتے ہیں، آنکھ سے نہ دیکھ لیں گے، ہر گز اس کے جی میں اپنی گورنمنٹ کا پکّا خلوص پیدا نہ ہوگا۔ اور جو حق گورنمنٹ کا اس پرواجب ہے، اس سے پورا ادانہ ہوگا۔جب مولوی صاحب لندن گئے تو تمام ممبران انڈیا کونسل سے ملاقات ہوئی اور چند ممبران پارلیمنٹ بھی ان سے ملے اور یہ سب صاحب نہایت…اخلاق کے ساتھ پیش آئے اور یقین ہے کہ اب وہ بہ حضور…سکریٹری آف اسٹیٹ بھی باریاب ہوئے ہوں گے۔ جب مولوی صاحب.. وہاں کسی جلسے میں بلائے جاتے ہیں تو ارباب جلسہ ان کی خاطرداری میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے۔ سرجان لارڈ بہادر گورنر جنرل سابق کی عنایتیں ہرگز بیان میں نہیں آسکتیں۔ دو مرتبہ خاص مولوی صاحب کی فرودگاہ پر تشریف لائے اور ایک جلسے میں خاص مولوی صاحب کی نسبت اپنی ایک اسپیچ میں بہت کچھ فرمایا اور بدرجۂ غایت تعریف و توصیف کی‘‘
اس شذرہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غدر کے بعد کے زمانے میں برطانوی حکومت سے تعاون کرنے کی جو مہم چلائی گئی تھی، اس کے پیچھے کون سے نفسیاتی عوامل کام کر رہے تھے۔ ہندستانِ جدید کی تاریخ سے نسبت رکھنے والوں اور بالخصوص علی گڑھ تحریک کے مورخین کے لیے مذکورہ عوامل تجزیے کی نئی راہ تلاش کرنے میں امداد پہنچائیں گے۔ ’اخبارالاخیار‘ میں خطباتِ احمدیہ کے اشتہارات اور اس کے مشمولات کے بارے میں بھی واضح طور پر گفتگو کی گئی ہے۔ پروفیسر شاہ مقبول احمد کلکتّہ کی تحویل میں ’اخبار الاخیار‘ مظفر پور کے 43 شمارے بابت 15 اپریل 1869ء تا 15 دسمبر 1870 ء محفوظ تھے جن سے قاضی عبدالودود اور سیّد مظفر اقبال نے استفادہ کیا تھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد اب وہ شمارے کس حال میں ہیں، اس کا اندازہ مشکل ہے۔
انیسویں صدی کے اخبارات میں بہار سے نکلنے والے ’انڈین کرانیکل‘ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ہفتہ وار اخبار تھا اور 16صفحات پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہر سوموار کو یہ شایع ہوتا تھا۔ اس کے اوّلین ایڈیٹر منشی رحمت اﷲ تھے۔ کچھ زمانے تک یہ ہفتے میں دوبار بھی شایع ہوتا تھا۔ 1885 میں اس کا نام ’اردو انڈین کرانیکل‘ ہوا اور اس کے ایڈیٹر عبدالغنی استھانوی ہوگئے تھے۔ اس دوران یہ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شایع ہونے لگا تھا۔ 26 فروری 1886ء کے بعد کچھ دنوں کے لیے یہ اخبار بند ہوگیا۔ اور پھر ’اردو بہار ہرلڈ و انڈین کرا نیکل‘ کے بدلے ہوئے نام سے جاری ہوا اور سوموار کی جگہ اس کی اشاعت کا دن سنیچر مقرر ہوا۔ اس اخبار کے مالک پٹنہ کے مشہور بنگالی وکیل بابو گرو پرساد ہوئے۔ یہ آخری طور پر کب بند ہوا، اس کی اطلاع کسی محقق کے پاس نہیں ہے۔
رسالہ معاصر، پٹنہ کے حصّہ تین بابت ماہ دسمبر 1959ء میں قاضی عبدالودود نے اس اخبار کے متعدّد شماروں کا بہ تفصیل تعارف کرایا تھا۔ معاصر کے حصّہ پانچ میں ’اردو بہار ہرلڈوانڈین کرانیکل‘ کے چند شماروں کا تعارف قاضی عبدالودود نے اپنے ایک دوسرے مضمون میں کرایا۔ یہ دونوں مضامین رسالہ معاصر کی تقطیع کے اعتبار سے 99صفحات پر مشتمل ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ قاضی عبدالودود نے 1884، 1885 ، 1886اور 1887 کی اشاعتوں کی معقول تلخیص اپنے اس مضمون میں پیش کر دی ہوگی۔
اس اخبار کے ایڈیٹر کا نام شایع نہیں ہوتا تھا لیکن 13اپریل 1885 کے شمارے میں اخبار کے مدیر کی ترجمہ شدہ ایک کتاب کا اشتہار چھپا ہے جس میں مدیر اور مترجم کا نام سیّد عبدالغنی درج ہے۔ قاضی عبدالودود نے یہ بھی قیاس کیا ہے کہ دسمبر 1884 میں شاد عظیم آبادی کی تصنیف ’نوائے وطن‘ پر جو تفصیلی تبصرہ شایع ہوا ہے، وہ بھی سیّد عبدالغنی کا ہی لکھا ہوا ہے۔ قاضی صاحب کا اندازہ ہے کہ ’’یہ غالباً وہی بزرگ ہیں جو استھاواں ضلع پٹنہ کے رہنے والے تھے اور بعد کو ریاستِ حیدر آباد میں ملازم ہوگئے تھے۔ قاضی عبدالودود نے اس اخبار کے مشتملات کی تعریف کی ہے اور اسے صحافت کے معیار پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے:
’’کرانیکل خبریں بھی دیتا تھا اور جمہور کے خیالات کی ترجمانی اور رہنمائی بھی کرتا تھا۔ عموماً اہم امور کی طرف زیادہ اور غیر اہم کی طرف کم توجہ کی جاتی تھی۔ مگر خبروں کے متعلّق اتنی احتیاط نہ ہوتی تھی کہ کوئی غلط بات شایع ہی نہ ہونے پائے………. مقالات افتتاحی عموماً بصیرت افروز ہوا کرتے تھے اور بڑی بے باکی سے لکھے جاتے تھے۔ میرے نزدیک اس زمانے کے اردو اخباروں میں شاید ہی کسی کے مقالاتِ افتتاحی کرانیکل کے مقالاتِ افتتاحی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اور ان میں متعدّد ایسے ہیں کہ اس زمانے میں بھی کسی کے قلم سے نکلیں تو مستحقِ تحسین قرار پائیں۔ اس اخبار کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ہندو مسلمان دونوں کا اخبار تھا۔‘‘
1885 کے 21ستمبر کے شمارے میں مدیر کی طرف سے جو مضمون بعنوان ’’لڑکوں کے اخلاق اور ٹھیئٹر‘‘ شایع ہوا ہے، وہ مدیر کے بالغ نظر اور سنجیدہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس مضمون سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ سرسیّد کی تحریک اور اس کے اثرات میں افادہ بخش ادب کی ترویج و اشاعت کا زور یہاں بھی قائم تھا۔ مدیر اُن کے اثرات سے لاتعلّق نہیں دکھائی دیتے۔ مدیر کے یہ خیالات جو ٹھئیٹر کے بارے میں ہیں، قاضی عبدالودود کا خیال ہے کہ یہ فنونِ لطیفہ کی دیگر شاخوں پر بھی منطبق ہو سکتے ہیں۔
اس اخبار نے صحافت اور صحافیوں کے معیار اور مزاج کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ 2مارچ 1885 کے اخبار میں دیسی اخباروں کے بارے میں لفٹیننٹ گورنر، بنگال کی رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے مدیر نے دیسی اخباروں کے سلسلے سے سرکار کی لعنت وملامت پر اختلاف درج کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انگریزی اور دیسی دونوں اخبارات حکومت کے کاموں کے احتساب میں ایک جیسی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس حالت میں صرف دیسی اخباروں کو نشانہ بنانا درست نہیں۔ قاضی عبدالودود نے اس اخبار کے مدیر کے نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مدیرِ کرانکل کے نزدیک ایڈیٹر کو اعلا اخلاقی صفات کا حامل ہونا چاہیے…… اس کا خیال تھا کہ آزاد اخبار نویسی خطرے سے خالی نہ تھی، اس لیے کہ حکومت نکتہ چینی کو پسند نہیں کرتی‘‘
اخبار ’رفیقِ ہند‘ کے مقدمے کے سلسلے سے، جس میں اخبار کے مدیر محرم علی چشتی کو ایک ماہ کی سزا ہوئی تھی، 13 اپریل 1885کے کرانیکل میں مدیر نے بہت صفائی سے اپنی بات درج کی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ’اردو کرانیکل‘ کیسا سلیقہ شعار اور ہوش مند اخبار تھا۔ صحافت کے معیار اور ذمہ داریوں پر غور کرتے ہوئے اردو کرانیکل کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ ’رفیق ہند‘، لاہور کے نوجوان ایڈیٹر محرم علی چشتی کا واقعہ ایسا نہیں ہے جس پر افسوس نہ آئے۔ جن لوگوں نے دیوان داس مل کے مقدمے کی کاروائیاں پڑھی ہیں، وہ بہ خوبی جانتے ہیں کہ یہ ایڈیٹر اس سزا کا مستحق نہ تھا۔ مسٹر پارکر کا دل بُرے جذبات سے خالی ہوتا تو صرف جرمانے کی سزا بھی کافی ہوتی، اور اگر ان کے دل کے پھپھولے بغیر قید کے نہیں ٹوٹ سکتے تھے، توقید ہی کی ایسی سزا کیوں نہیں دی جو اپیل کے قابل ہوتی؟ عموماً اردو اخباروں اور پنجاب کے عوام وخواص نے مظلوم ایڈیٹر کی ہمدردی کی۔ جو دیسی ایڈیٹر آزادی کا دل دادہ، سچائی کا عاشق ،پبلک کا بہی خواہ، حکّام کا نکتہ چیں، خوش آمد سے بیزار، جھوٹ سے متنفر ہوگا، وہ اس تعصب کے زمانے میں ضرور… ایسے روزِ بد کے لیے آمادہ ہو گا؛ البتہ جس نے اپنے اخبار کو صرف ٹکا کما کھانے کا ذریعہ اور بھیک کا ٹھیکرا بنا رکھا ہے، وہ اپنے کو محفوظ کر ایسے آزاد منشوں پر ہنسے گا۔ ’کوہ نور‘ کی جگر خراش تحریروں کو جو اس مقدمے کے بارے میں چھپی ہیں، ہم نے برابر نہایت حیرت و افسوس کے ساتھ پڑھا …..کسی شریف اور فیاض دل سے ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی انسان کی مصیبت پر، گو وہ اس کا دشمن ہی کیوں نہ ہو، خوشی منائے۔‘‘
’اُردو انڈین کرانیکل‘ کے 19 جنوری 1884ء کے شمارے میں ہندستان کی نوکرشاہی کے بارے میں خاصی تنقیدی گفتگو کی گئی ہے۔ سِول سروس کے عہدے داران کے مزاج پر اس اخبار نے ایک احتسابی رویّہ قائم کررکھا ہے۔ اخبار نے شمارۂ مذکور میں لکھا ہے :
’’ہندستان کی زندگی کے لیے سول سروس آفتِ ناگہانی ہے….ہمارا مطلب خود سول سروس کا عہدہ نہیں … بلکہ ایسے سویلین ہیں جن کے دماغ میں خیالاتِ بے ہودہ بھرے ہوئے ہیں اور جن کا دبانا….بڑے بڑے قوانین….. اور ملکی حقوق، باقاعدہ آزادی کی لمبی چوڑی تقریروں سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ سویلین کی زیادتیوں…کی مثالیں …فطرتِ انسانی کی معمولی ابتری و خرابی کی مثالیں نہیں بلکہ وہ لگاتار اور بلاارادہ اصرار وہٹ کی مثالیں ہیں۔‘‘
یکم جون 1884ء کے کرانیکل میں سول سروس کے افراد کے کام اور اُن کی تنخواہوں سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے پھر ایک تنقیدی خبر شایع کی گئی ہے۔ اسے ملاحظہ کیا جائے :
’’باوجود اس کے کہ ڈال کے ٹپکے ہوئے سویلین اس قدر زیادہ تنخواہیں پاتے ہیں کہ کسی ملک میں نہیں ملتیں، اس پر بھی اپنی بدنصیبی کی شکایت ہی کرتے ہیں۔ آسام اور اضلاع متوسطہ کے چیف کمشنر اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چھوٹے چھوٹے جج…… برطانیہ کے وزیراعظم کے برابر اور اوّل درجے کے مجسٹریٹ ضلع…….. جرمنی کے چانسلر کے برابر تنخواہیں پاتے ہیں۔‘‘
اِن شذرات سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ اخبار معاملات کو غور وفکر کے ساتھ پیش کرتا تھا۔ 10 اگست 1884ء کی ایک خبر اور جس میں انگریز حاکم کی جانب سے ہندستانیوں کے بارے میں نامناسب الفاط استعمال کرنے کا تنازعہ سامنے آتا ہے، اس کے مطالعے سے اخبار کے خبرنویس کی سُوجھ بُوجھ اور صحیح تناظر میں واقعات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔ اصل اقتباس ملاحظہ ہو
’’سول سروس کے ایک لائق ممبرلیڈمین کی عادت تھی کہ اُن کی عدالت میں جو…داد خواہ ہوا کرتے تو ان سے نہایت مہربانی کے ساتھ لفظ بدمعاش، سور، حرام زادہ وغیرہ سے خطاب فرمایا کرتے….. کپتان ہیرسے کو ایسے غیر مہذّبانہ الفاظ چند مقتدر دلیسیوں کے حق میں استعمال کرتے دیکھ کر رنج ہوا، اور انھوں نے……. گورنمنٹ… کو اطلاع دی۔ سرالفرڈ لائل صاحب نے یہ سمجھ کر کہ سول سروس کے ممبر پر ایسے سخت الزام لگانا نہایت معیوب ہے، حکم دیا کہ کپتان پر ہتک عزّت کی نالش کریں..مگر…کپتان نے ثابت کردیا کہ مسٹر لیڈمین فی الواقع الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اور مقدّمہ خارج ہوگیا۔ ہم کپتان…کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں…دیکھا چاہیے کہ اب گورنمنٹ مسٹر لیڈ مین سے کیا برتاؤ کرتی ہے۔ اگر وہ…. دیسی ہوتے تو ہم کہہ سکتے کہ گورنمنٹ…کیا….کرے گی۔‘‘
22 جنوری 1887 ء کے شمارے میں ایک طویل مراسلہ ہندو مسلمانوں کے سلسلے سے بعض انگریزوں یا طرف دارانِ انگریز کے خیالات سے شدید اختلاف کرتے ہوئے شایع کیا گیا ہے۔ اس میں سیّد احمد خاں کے اُس نقطۂ نظر سے بھی اختلاف کیا گیا ہے جو بالآخر دو قومی نظریے کی شکل میں آدھی صدی کے بعد اُبھر کر سامنے آیا۔ اخبار نے لکھا :
’’اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں ہے کہ ہندو اور مسلمانوں میں عداوت اس سے بڑھ کر ہے جو انگلستان میں متفرق مذہبوں میں نظر آتی ہے، ہوگی یا ہو سکے گی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ دس میں نو ہندو مسلمانوں میں کوئی عداوت نہیں ہے، گویہ ….چھوٹا سا فرقہ…ہر ایک کوشش اس کے پیدا کرنے کی کررہا ہے..پھر یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ایک پارلیمنٹ میں سب ہندو ایک جانب ہوں گے اور مسلمان ایک جانب…. میں ایڈیٹر علی گڑھ اِنسٹی ٹیوٹ گزٹ سے عرض کرتا ہوں کہ وہ لکھ رکھے کہ، نہ تو کسی شخص نے اب تک تجویز کی اور نہ خیال کیا اور نہ جہاں تک مُجھ کو واقفیت ہے ہندستان میں پارلیمنٹری گورنمنٹ کا ذکر کیا ہے۔‘‘
19 ویں صدی کے آخر میں نکلنے والے اُردو اخبارات جو بہار سے شایع ہوئے، اُن میں ’’الپنچ‘‘ کی واضح اہمیت ہے۔ یہ اخبار 5 فروری 1885ء کو پٹنہ سے نکلنا شروع ہوا؛ اور تھوڑے سے تعطّل کے ساتھ 1907ء تک شایع ہوتا رہا۔ 1890 سے لے کر 1907 ء تک کے متعدّد شمارے اور اخبار کی فائلیں خدابخش لائبریری میں بہت حد تک محفوظ ہیں۔ اس کے مالکان اور ایڈیٹر بدلتے رہے اور پریس میں بھی تبدیلی ہوتی رہی۔ تعدادِ صفحات بھی مختلف اوقات میں چھ، آٹھ، دس اور بارہ ملتی ہے۔
’’اودھ پنچ‘‘ کو نگاہ میں رکھ کہ ہی یہ اخبار اس عجیب وغریب نام سے نکلنا شروع ہوا ہوگا، اس لیے اس اخبارکی دو باتیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس کی عمومی پالیسی میں حبّ الوطنی اور انگریزی حکومت کی نکتہ چینی شامل تھی۔ اسی کے ساتھ اس اخبار کے بیشتر مشمولات کا اسلوب ظریفانہ ہوتا تھا۔ اس اخبار نے بڑی تعداد میں لکھنے والوں کو متوجّہ کیا اور بعض اہلِ قلم بہت تواتر کے ساتھ یہاں شایع ہوتے تھے۔ اس میں ادبی حِصّہ بھی اچھّا خاصا شامل ہوتا تھا۔ اُس زمانے کے شعرا میں صُوفی منیری، اکبرداناپوری، فضلِ حق آزاد، نسیم ہلسوی اور عبدالغفور شہباز عظیم آبادی کا کلام اور دیگر تخلیقات کی لگاتار اشاعت ہوتی تھی۔ اس کی زبان اور اندازِ تحریر کی ایک جھلک 4فروری 1898ء کے شمارے سے ملاحظہ ہو :
’’انگلشمین کا نامہ نگار بھی نرا گھامٹر رہا۔ جو دل میں آتا ہے، اُوٹ پٹانگ لکھ مارتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ڈمراؤں کے آس پاس کے باشندے سورج گر ہن کو انگریزی اقبال کے زوال کی نشانی سمجھتے ہیں۔ سبحان اﷲ بھلا ہندیوں کا یہ دماغ کہاں کہ ایسی پولیٹکل چٹکیاں لیں۔ ہاں یہ انگریزی سانچے کے ڈھلے ہوئے خیالات البتہ ہو سکتے ہیں۔ ہندستانیوں کے دماغ میں تو یہ بات گھُسی ہوئی ہے کہ ہندستان ہی میں کامل کسوف ہوا ہے۔ اس لیے ہندستانیوں کا رہا سہا اقبال آفتاب کی طرح غروب ہوگیا اور انگریزی اقبال کا کیا پوچھنا، اس کی عملداری میں تو آفتاب سرے سے غروب ہی نہیں ہوتا۔ آفتاب دولت و اقبال درخشاں باد۔‘‘
قاضی عبدالودود نے 1902ء اور 1903ء کے بعض شماروں کا تعارف کراتے ہوئے ’معاصر‘، پٹنہ اور ’چراغِ راہ‘، کلکتہ میں دو مضامین شایع کیے تھے جن میں اس اخبار کے اصل اقتباسات موجود ہیں۔ ’اُردو انڈین کرانیکل‘ کے حوالے سے قاضی عبدالودود نے وہ عبارت بھی نقل کی ہے جس سے ’الپنچ‘ اخبار کی ابتدائی حالت کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ 2 فروری1885ء کے ’اُردو انڈین کرانیکل‘ میں یہ اطلاع شایع ہوئی :
’’اس ہفتے میں ایک اور ظریف اخبار ’’الپنچ‘‘ کی آمد آمد ہے۔ اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بہ طور آزمایش چار مہینے کے لیے جاری ہوا ہے۔ مہتم منشی محمد اعظم ہیں۔‘‘
9مارچ 1885 ء کے اردو انڈین کرانیکل میں ’’الپنچ‘‘ کے متعلّق یہ خبر شایع ہوئی ہے :
’’اس وقت تک اس کے چار پرچے شایع ہو چُکے ہیں۔ چند تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ ہفتہ وار پنجشنبے کو چار ورقوں پر شایع ہوتا ہے۔ نہایت معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ تیسرے ہی پرچے سے اشاعت 750 تک پہنچ گئی ہے۔‘‘
اِن دونوں نوشتوں سے ’’الپنچ‘‘ کے بارے میں بنیادی نوعیت کی چند اطلاعات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اخبار شایع ہونے کے ساتھ ہی قبولِ عام کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
’’الپنچ‘‘ کے بارے میں یہ بات اکثر و بیش تر کہی جاتی ہے کہ اس اخبار میں شاد عظیم آبادی کے سلسلے سے لگاتار مخالفانہ مضامین، شعری تخلیقات اور طنزیہ شذرات شایع ہوتے رہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ منشی محمد اعظم، جو اس کے مالک ومختار تھے، اُن سے ناول ’’صورۃ الخیال‘‘ کے سلسلے سے شاد عظیم آبادی سے معرکہ تھا۔ منشی محمد اعظم اور منشی حسن علی [مدیر بہار بندھو۔ ہندی اخبار] نے شاد پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ اِن دونوں کی مشترکہ کوششوں کو شاد نے اپنے نام سے شایع کرالیا۔ اس وجہ سے یہ بات غیر فطری معلوم نہیں ہوتی کہ یہ اخبار شادؔ کی غیر ضروری طور پر بھی مخالفت کرے۔ شادؔ کی ’’نوائے وطن‘‘ کے سلسلے سے بھی 19ویں صدی کے آخر میں بعض افراد خفا تھے۔ ان وجوہات سے شادؔ کی بعض حلقوں میں مخالفت سمجھ میں آتی ہے۔ اس سلسلے سے قاضی عبدالودود کا کہنا ہے کہ ’’1902 میں یا اس سے بھی پیش تر ’الپنچ‘ اور شاد میں صلح ہو چُکی تھی۔‘‘2 اگست 1902ء کے شمارے میں اس وقت کے مدیر سیّد رحیم الدین مہجور کی وفات پر شادؔ کے قطعاتِ تاریخ شایع ہوئے تھے۔ 1 نومبر 1902ء کے شمارے میں عظیم آباد کے یادگار مشاعرے کے سلسلے سے جو مراسلے شایع ہوئے ہیں، ان میں شاد کی استادانہ اہمیت ظاہر کی گئی ہے۔ قاضی عبدالودود نے اس اخبار کے بارے میں اپنے اجمالی تاثرات اس طرح رقم کیے ہیں :
’’آج کل جو اردو کے اخبار بہار میں جاری ہیں، اُن کی عُمر کیا ہوگی، اس بارے میں کُچھ کہنا ممکن نہیں۔ مگر یہ مسلّم ہے کہ جو اخبارات اب زندہ نہیں ہیں، ان میں سب سے پہلے طویل عُمر’ الپنچ‘ نے پائی۔’ الپنچ‘ جیسا کہ اُس کے نام سے ظاہر ہے، ظریفانہ اخبار تھا، لیکن اس کی ظرافت کا پایہ بلند نہ تھا، اور یہ بے تکلّف ذاتی حملے سوقیانہ انداز میں کیا کرتا تھا۔‘‘ [چند اہم اخبارات اور رسائل، ص۔ 199]۔۔۔  (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close