متفرقات

جامعہ نگر نئی دہلی کا ایک جائزہ

محمد شمشاد

جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی کا نام جیسے ہی لوگوں کی زبان پر آتا ہے تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی تعلیم یافتہ اور اسکالروں کے درمیان آگئے ہوں یہ علاقہ جامعہ نگر، نور نگر، غفار منزل، حاجی کالونی، جوہری فارم، اوکھلا وہار، اوکھلا گائوں ، ذاکر نگر، بٹلا ہائوس، جوگا بائی، بھاسکر کمپائونڈ، ابوا لفضل انکلیو اور شاہین باغ جیسے چھوٹے بڑے تقربا بیس محلوں اور پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتعمل ایک بڑا علاقہ ہے۔

 قابل ذکر بات یہ ہے کہ جامعہ نگر کو مسلمانوں کی ملی، سماجی، سیاسی واسلامی تنظیموں کا مرکزبھی تصور کیا جاتا ہے یہاں جماعت اسلامی، آل انڈیامجلس مشاورت، جمیعت اہل حدیث، مسلم پرسنل لاء بورڈ، شیعہ رویت ہلال کمیٹی، ملی کانسل، اسٹوڈینٹ اسلامک اورگنائزیشن، آئی او ایس، مسلم لیگ اورعلماء کانسل جیسی دیگر مسلم تنظیموں کی مرکزی وریاستی دفاتر ہیں اسکے علاوہ اس علاقعہ میں رہنے والوں میں سیکڑوں کی تعداد میں سابق اور موجودہ ممبران پارلیامنٹ اور مختلف اسمبلیوں کے ممبران کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، پروفیسر، ڈاکٹر، انجیٹئر، مینیجنگ ڈائریکٹر، مسلمانوں کے پڑے بزنس مین، مختلف اخبار ورسائل اور الیکٹرونک میڈیا کے ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر، نیوزریڈر، اور رپوٹر وں کا یہ گہوارہ تسلیم کیا جاتا ہے اس علا قہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں چھوٹے بڑے کم سے کم پانچ سو این جی اوز بھی ہیں آج کی تاریخ میں جامعہ نگر علاقہ تین کانسلر اورایک ایم ایل اے کا حلقہ ہے جہاں تقریبا 60کانسلر امیدوار اور 15 ایم ایل اے امیدوار بھی رہتے ہیں الیکشن کے دنوں میں یہ سبھی امیدوار خود کو علاقہ کا سب سے بڑا خدمت گار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر یہ سبھی لوگ  اس جامعہ نگر کی دو، دو گلیوں کی ذمہ دراری ادا کر دیتے تو امید ہے کہ اس علاقہ کا کایہ پلٹ ہو جاتا۔

اسکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر ایک یا دو گلی کے بعد کوئی نہ کوئی مسجد مل جائیگی لیکن وہ مسجدیں کسی نہ کسی مسئلک، ذات، علاقائیت اور تنظیم کے نام سے منسوب ہوگئیں ہیں اور ان میں زیادہ تر مقتدیوں کی تعداد بھی انکے پیروکار نظر آتے ہیں اسکے علاوہ ان مسجدوں میں مسلکی، علاقائیت اور تنظیموں کے نام پر شدت پسندی کے بنا پر تصادم بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے بلکہ کچھ مسجدوں میں ان تصادم کے خاتمے اور امن و شانتی سے نماز قائم کرنے کیلئے پولس و عدالت کا بھی سہارا لینا پڑا ہے بڑی عجب بات ہے کہ جو دین اسلام لوگوں کوسلامتی کا راستہ دکھانے آیا ہے اسکے پیرو کار ہی اپنی نماز قائم کرنے کیلئے پولس کا سہارا لے رہے ہیں۔

لیکن ان سارے اسکالروں ، سماجی کارکنوں ، ملی تنظیموں اور قائدین کے باوجود جامعہ نگر کو بھی دوسرے مسلم علاقہ سے الگ نہیں کیا جا سکتاہے اسکا بھی حال بہت برا ہے اسکا کوئی پرساں نہیں ہے اس علاقہ کے کسی بھی گلی کوچے میں جائیں تو اسے دیکھنے کے بعدایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں کوئی انسا ن نہیں رہتا یا یوں کہیں کہ یہ کوئی غیر مہذب سماج کی ایک بستی ہے جنہیں نہ رہنے کا سلیقہ معلوم ہے اور نہ ہی زندگی جینے کا مفہوم، ہر چوراہے پر دوچار نوجوان کھڑے مل جائیں گے جنہیں دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی کو چھیڑنے کیلئے تیار بیٹھے ہوں اسکے علاوہ انکا کوئی کام ہی نہیں ، جنہیں دیکھ کر ہماری ماں ، بہنیں اور لڑکیاں انکے سامنے سے گزرنے کی ہمت نہیں کرتی ہیں خصوصی طور سے وہ جو نقاب پوش ہوں یہاں کی سڑکیں ، گلی، نالی اور نالے کا بھی برا حال ہے صفائی کے نام پریہاں رہنے والے لوگوں کے دلوں میں کوئی حس نہیں اور نہ ہی کوئی اس موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی یہاں کے لوگ کبھی اس جانب رخ کرتے ہیں اکثر جامعہ نگر کی گلیوں میں چلتے پھرتے آپکے سروں پر کوڑے اور چھت سے پاک یانا پاک پانیوں کا بوچھار برستے مل جا ئیں گے۔

میں ان تنظیموں اور اداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہوں نے کوئی ایسی جگہ بنا ئی ہے جہاں یہاں کے لوگ مسلم معاشرے کے مسائل، تعلیم اور انکی اصلاح جیسے موضوعات کیلئے سمینار، سمپوزیم، لکچر، مباحثہ کا با آسانی کوئی پروگرام کر سکیں یا اس طرح کے مسائل کے غورو فکر کیلئے جمع ہوسکیں اور اس جگہ یا ہال کیلئے انہیں اسکی صفائی یا نظم کو صحیح طریقے سے چلانے کیلئے معمولی رقم ادا کرنی پڑے یا وہ بالکل فری ہو اور وہ جگہ ان لوگوں کی دلچسپی کا باعث بن جائے جو لوگ ان موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہوں اور وہ اس سلسلے میں ایک اہم رول ادا کرنے کے خواہش مند ہوں میں یہ باتیں اس لئے کہنا چاہتا ہوں کہ ان تنظیموں کے پاس جو ہال یا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں وہ انکا ذاتی نہیں ہے وہ اس مسلم قوم کا اثاثہ ہے جنکے چندے سے وہ تعمیرات بنائی گئیں ہیں تاکہ وہ مسلمانوں اور اس قوم کیلئے فلاحی کام کرسکیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ تعمیرات انکی ملکیت بن کر رہ جاتی ہیں۔

جامعہ نگرمیں سیکڑوں اسکول ہیں ان میں سے سیوائے چند کو چھوڑ کر زیادہ تر غیر منظور شدہ ہیں یہاں تک کہ ان اسکولوں کی انتظا میہ نے میو نسپل کارپوریشن(MCD ) وغیرہ سے کوئی اجازت نامہ یا کسی اتھاریٹی سے رجسٹریشن بھی کرا یا ہو جسکے وجہ کر ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں اور انکے والدین کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکے علاوہ ان اسکولوں کے نصاب و تعلیم کا کوئی اسٹینڈر یا ضابطہ بھی نہیں ہے اور شاید ہی ان اسکولوں میں کوئی ٹرینڈ گریجوئیٹ ٹیچر بھی ہو ہاں ا گر وہاں کسی چیز کو معیار بنایا جاتا ہے تو وہ ہیں ان کتابوں کی قیمتیں ، اسکول ڈریس اور ٹیوشن فیسوں کا اسکے علاوہ یہاں پر کوئی نصاب نہیں ہے ان اداروں میں بچوں کے لانے اور لے جانے کا نظام بھی بدتر حال میں ہے انہیں کبھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اس گاڑی میں کتنے بچوں کی جگہ ہے۔

جامعہ نگر میں رہنے والوں کیلئے آج تک پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں کیا جا سکا ہے بلکہ انہیں غیر سرکاری اور غیر منظور شدہ آراو(RO ) کے ذریعہ سپلائی کی جانے والے پانی کو خرید کر پینے کیلئے ہی مجبور ہونا پڑتا ہے اسکے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہے بلکہ وہ پانی مافیائوں کے رحم و کرم پر ہی جینے کیلئے مجبور ہیں جبکہ اس علاقہ سے کامیاب ہونے والے ممبران اسمبلی اور کانسلروں کی رہائش بھی اسی علاقہ میں ہے کچھ دنوں قبل یہاں سرکاری ہاسپیٹل کے طور پر صرف ایک ڈسپینسری اور ایک یونانی ہاسپیٹل تھا جہاں مریضوں کی تعداد کافی تھی اور وہاں ڈاکٹروں کی کمی پائی جاتی تھی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اب کچھ محلہ کلنک کے ذریعہ اسکی سہولیات مہیا کرائی ہے جبکہ سابق ممبر اسمبلی پروز ہاشمی بار بار اس بات کا اعلان کرتے رہے تھے کہ بہت جلد اس علاقہ میں دو سو بیڈ کا ایک ہاسپیٹل بن جائے گا لیکن وہ دن اس جامعہ نگر کے لوگوں کو دیکھنے کوکب ملے گا اسکے بارے میں خدا ہی بہتر جانتا ہییہ وہی علاقہ ہے جہاں نہ کوئی کسی بھی طرح کا پارک ہے نہ ہی کوئی لائبیری، انکی مین سڑکوں (جو ساٹھ فٹ پہ مشتعمل ہیں ) کی دونوں جانب کار کی پارکنگ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور ان راستوں پہ دوکانداروں نے بیجا قبضہ کر رکھا ہے اس علاقے میں گلیاں 15، 20 اور 25 فٹ کی تو ہیں لیکن کاروں کی پارکنگ اورمکان انکروچمینٹ  کے بنا پر یہ اتنی تنگ ہو گئی ہیں کہ ان میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔

جامعہ نگر میں بڑھتے جرائم کی روک تھام کینام پر تین تھانے نیو فرینڈس تھانہ، جامعہ نگر اور اوکھلا وہار میٹرو تھانہ تو آسانی کے ساتھ بنا دیا جاتا ہے اوراسی جرائم کے نام پر پولس کے ذریعہ بے قصور لوگوں اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے انکی گرفتاریوں پر روک لگانے کیلئے صحیح قدم اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن جامعہ نگر میں ایک بھی سرکاری یا غیر سرکاری بینک نہیں ہے یہ تو بھلا کرے بیگ صاحب کا جنہوں نے جامعہ کو آپریٹیو بینک کے ذریعہ لوگوں کو کچھ سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ جامعہ نگر ایک ان اورگنائز کالونی ہے اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں پہ پورے علاقے میں مقامی بلڈروں نے ایک طرح سے قبضہ جما لیا ہے گلیاں پانچ فٹ کی ہوں یا پچیس فٹ کی، ہر جگہ 60، 70 فٹ کی عمارتیں بنی دکھائی پڑتی ہیں یہی وجہ کہ یہاں کے 70% فیصد لوگوں کو نہ صاف اور کھلی ہوا میسر ہے اور نہ ہی دھوپ اور سورج کی روشنی، جسکی وجہ کر یہاں وٹامن ڈی کی کمیاں ، بلڈ پریشر اور سوگر کی بیماری عام طور پر پائی جاتی ہیں اور یہاں پلنے والے بچے کوپوشن جیسے مہلک بیماریوں کے شکار ہیں اسکے علاوہ ان مقامی بلڈروں کی عمارتوں میں پلمبنگ اتنا برا ہے کہ زیادہ تر عمارتیں سیپیج کی بنا پہ بوسیدہ لگتی ہیں اگر کسی عمارت میں آگ زنی ہو جاتی ہے تو ان گلیوں میں فائر بریگیڈ کا جانا بھی محال ہو جاتا ہے اور یہاں کے لوگوں کو کھڑے ہو کر اسے جلتا ہوا دیکھنا پڑتا ہے عام طور سے کہا جاتا ہے کہ کبھی زلزلہ آجائے تو جتنا جلد ہو سکے گھر سے باہر نکل جانا چاہئے لیکن ایسے حالات میں ان علاقے کے لوگ جائیں تو کہاں انکے لئے تو ایک طرف کھائی ہے تو دوسری جانب موت، قابل ذکر یہ ہے یہاں پہ شاید ہی کوئی ایسی عمارت ہوجس کی بنیاد زلزلہ کے پیمانہ پہ گئی ہو اس لئے یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ اگر کبھی یہاں پہ کچھ ہوجائے تو چند لمحوں یہ پوری کی پوری آبادی نست و نابود ہوجائے گی یعنی منٹوں میں یہ علاقہ قبرستان کی صورت اختیار کر لے گا ایک بات ضرور ہے کہ اتنا بڑا علاقہ ہونے کے باوجود یہاں قبرستان کی زمین نا کافی ہے اور جو قبرستان کی زمین ہے اس میں بھی قبرستان والوں کی خوب منمانی چلتی ہے بلکہ ان لوگوں نے ایک قبرستان کو بند کر کے مستقل طور پر کھیل کا میدان بنا رکھا ہے ۔

 جامعہ نگرمیں کام کرنے اور غور فکر کرنے کی باتیں :

ہم جن مسائل سے دوچار ہیں انکے حل اور اصلاح کیلئے ہم فکر مند ہوں اور سرجوڑ کر غور و فکر کریں ہم سے جو ممکن ہو سکے اسکے لئے اقدام کریں ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ انکی اصلاح اور صحیح تربیت کی فکر کریں ہم اپنے رہنمائوں اور حکومت کو اپنے اور اس علاقے کے مسائل سے آگاہ کرانے کی کوشش کریں ۔

اس علاقے کے اہم مسائل :

 جامعہ نگر میں آبادی کے لحاظ سے اچھے اسکول کی کمی کو دور کیا جائے اورخصوصی طور سے لڑکیوں کیلئے کوئی کالج کا قیام ہونا لازمی ہے

 سرکار کی جانب سے اس علاقہ کی کالونیوں میں جلد سے جلد پینے اور گھریلو استعمال کیلئے پانی کا کوئی انتظام کرایا جائے

جامعہ نگر یا اسکے آس پاس جلد سے جلدایک دو سو بیڈ کا سرکاری اسپتال کا قیام ہونالازمی بھی ہے

اس علاقے میں صفائی کا بہتر نظام قائم ہواور سیوریج و پانی کے نکاسی کیلئے صحیح انتظام کیا جائے۔

اس علاقے کے روڈ اور گلیوں کی وقت پر مرمت کرانے کیلئے صحیح انتظام کیا جائے۔

اس علاقے میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کیلئے ایک خاص منصوبہ کے تحت مستقل حل نکالا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close