متفرقات

دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات

ایس احمد پیرزادہ

رواں بارہویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں اُمیدواروں کی بالترتیب 95 اور98 فیصد شرکت سے سرکاری حلقے بغلیں بجا رہے ہیں۔بی جی پی حکومت میں شامل ایچ آر ڈی منسٹر پرکاش جاویڈکرنے تو حد ہی کردی، انہوں نے امتحانات میں طلبہ و طالبات کی شرکت کو کشمیریوں کی تحریک پر نریندر مودی کی سب سے بڑی سرجیکل اسٹرائیک قرار دیا ہے۔ دلی سے سرینگر تک میڈیا چینلیں اور ادارے اس بات کی خوب تشہر کررہے ہیں کہ طلباءو طالبات نے امتحانات میں شرکت کرکے مزاحمتی قیادت کی کال کا عملاً انکار کردیا۔ حالانکہ حریت قیادت نے نہ ہی کبھی امتحانات منعقد کرانے کی مخالفت کی تھی اور نہ ہی اُنہوں نے اپنے کسی بھی مزاحمتی کلینڈر میں طلبہ و طالبات کو امتحانات میں شریک ہونے سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔ امتحانات منعقد کرانے کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اُس کی مخالفت میں طلباءاز خود سڑکوں پرنکل آئے۔ ریاست کے اطراف و اکناف میں طلباءو طالبات نے سینکڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر حکومت کے امتحانات منعقد کرانے کے فیصلے کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس فیصلے کو طلبہ مخالف اقدام قرار دینے کے علاوہ اِسے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔بے شک مزاحمتی قیادت نے امتحانات کو منعقد کرانے کے سرکاری فیصلے پر بات کرتے ہوئے طلباءو طالبات کی جائز مانگوں کا بھرپور انداز سے سپورٹ کیا ۔ اُنہوں نے طلباءکی اس مانگ کی حمایت کی جس کے تحت وہ مطالبہ کررہے تھے کہ امتحانات نومبر، دسمبر کے بجائے مارچ کے مہینے میں لیے جائیں۔اب جبکہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کا آغاز ہوچکا ہے اور طلباءو طالبات ان میںشریک ہورہے ہیں، حکومتی حلقے اور میڈیا ادارے اس کو تحریک حق خودارادیت اور رواں عوامی احتجاجی لہر کے خلاف”ریفرینڈم“ قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔حالانکہ یہ عوامی تحریک اور اُس کی قیادت کرنے والی لیڈرشپ کے خلاف بغاوت کے بجائے کشمیری سماج میں زندگی اور دور اندیشی موجود ہونے کی ایک زندہ مثال ہے۔جنگ زدہ خطے میں جہاں انسانی جانیں داو¿ پر لگی ہوئی ہوں، جہاں اسکول جانے والے بچوں پر پیلٹ اور گولیاں برسائی جارہی ہوں، جہاں امتحانی سنٹروں سے نوجوانوں کو گرفتارکرکے اُنہیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ شدومد سے جاری ہو ، جہاں سولہ ہزار مقید افراد میں پندرہ سو سے زائد طالب علم شامل ہوں، جہاں ”آپریشن توڑ پھوڑ“ کے ذریعے سے شہر و دیہات میں دہشت اور وحشیت کا ماحول برپا کیا گیا ہو، جہاں ایک ہزار سے زائد نونہالوں اور نوجوانوں کوجزوی یا مکمل طور پر بینائی سے محروم کردیا گیا ہو، وہاںکیرئیر بنانا، تعلیم کی اہمیت اور افادیت کا ادراک ہونا، علم کی شمع کو جلائے رکھنے کے لیے نوجوانوں کا محنت کرنامجموعی طور پر سماج کاذہنی طور پربالغ اور دور اندیش ہونے کی دلیل ہے۔کشمیر دشمن عناصر کے لیے یہ خوشیاں وقتی ہی ثابت ہوں گی کیونکہ علم کے لیے گھروں سے نکلنے والے یہ نونہال ہی مستقبل میں مقامی اور عالمی سطح پر کشمیر کاز کی آبیاری کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔
امتحانی مراکز میں بیٹھنے والے یہ وہی نوجوانوں ہیں جنہوں نے گزشتہ چار ماہ کی عوامی ایجی ٹیشن میں بڑے بڑے پُر امن عوامی جلسوں میں جان ڈال دی تھی، یہی وہ جیالے ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی حقوق کی باز یابی کی خاطر نہتے سڑکوں پرنکل کر وردی پوشوں کی گولیاں سینوں پر کھائی ہیں، قہر برپا کرنے والے پیلٹ کے چھروں کا سامنا کیاہے، اِن ہی میں وہ معصوم بھی شامل تھے جنہوں نے سیاسی حقوق کی باز یابی کے خاطر قبرستان آباد کیے، امتحانی مراکز میں بیٹھنے والے اِسی نسل کی انشاءبھی تھی اورجموں، ادھم پور اور کٹھوعہ کے جیلوں میں محبوس وہ نونہال بھی ، جن کے ہاتھوں سے قلم کاغذ چھین کر اُن کی کلائیوں میں ہتھکڑیاں پہنائی گئیں ۔ یہی اس قوم کا اثاثہ ہےں اور اِن ہی کے دم خم سے ہماری غلامی کی تاریک اور گھپ اندھیری راتوں کے بعد کامیابی کا سورج طلوع ہوجائے گا۔ یہ دور علوم کا ہے اور مختلف علوم پر دسترس حاصل کرنے والی قومیں ہی اقتصادی طور پر مضبوط طاقتوں کے خلاف حق پر مبنی اپنی لڑائی کو کامیابی سے ہمکنار کراسکتی ہیں۔ نریندر مودی کی سرکاری میں ایج آر ڈی منسٹر امتحانات میں طلبہ کی شرکت کو سرجیکل اسٹرائیک قرار دے رہے ہیں ،حقیقی معنوں میں یہ سرجیکل اسٹرائیک ہی ہے لیکن مودی کی جانب سے کشمیریوں کی رواں حق خود ارادیت کی جدوجہد پر نہیں بلکہ کشمیریوں کی جانب سے استعماریت اور طاقت کے نشے میں چورحقائق سے بھاگنے والی ذہنیت پریہ ایسا حملہ ہے جس کی کامیابی کے اثرات اگر چہ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے لیکن جب ہوں گے تو دہائیوں تک اپنے اثرات سے کشمیریوں کی تحریک کے خلاف برسرپیکار طاقتوں کی نیندیں حرام کرنے کا سبب بن جائیں گی۔
گزشتہ چار ماہ کی عوامی تحریک کو کمزور کرنے اور اس کا اثر زائل کرنے کے لیے جب ہر طرح کا ہتھکنڈا ناکام ہوا تو پھر برسر اقتدار موقع پرست لوگوں نے تعلیم ، تعلیمی اداروں اور امتحانات کا سہارا لینا شروع کردیا۔ وزیر اعلیٰ ہوں یا پھر اُن کی کابینہ کے وزیر تعلیم اور دیگر وزراءیا پھر دلی میں اُن کے ماسٹرس،کسی کو کشمیریوں کی نوجوان نسل کی فکر لاحق نہیں ہے۔ اگر یہ حقیقی معنوں میں کشمیریوں کی نوجوان نسل کے غم خوار ہوتے تو پھر وزیر اعلیٰ صاحبہ جان بحق اورزخمی ہوئے نوجوانوں کے بارے میں”مٹھائی اور دودھ لانے کی“ تذلیل آمیزمثال نہیں دیتی، پھر بیرون ریاست مقیم کشمیری طلباءکو ہراساں اور پریشان نہیں کیا جاتا، تو پھر سینکڑوں نوجوان سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوتے، آئے روز طالب علموں کو پولیس تھانوں پر طلب کرکے اُن کے ساتھ تذلیل آمیز سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ مزاحمتی کلینڈر اور عوامی جوش و جذبے کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ کشمیر میں نسل نو کے تعلیمی کیرئیر کو برباد کرنے کی دانستہ کوششیں ہورہی ہیں۔ نامعلوم افراد اور ایجنسیوں نے اسکولی عمارتوں کو نذر آتش کرکے ہندوستان کے لیے دنیا بھر میں ڈھنڈورہ پیٹنے کی راہیں ہموار کردی ہیں کہ کشمیر میں آزادی کی بات کرنے والے اصل میں تعلیم کے دشمن ہیں۔امتحانات کا راگ الاپ کراِسے عزت اور وقار کا مسئلہ بنادیا گیا، حالانکہ محبوبہ مفتی کے وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ تعلیم اور امتحانات کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اب دلی سے سرینگر تک اِنہی لوگوں نے امتحانات کو اپنے مفاد میں اور گھٹیا سیاست کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔اِنہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ یہاں کے نونہال پاس ہوجاتے ہیں یا فیل، وہ کامیابی کے منازل طے کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ وہ صرف امتحانات کا انعقاد کرکے بازاروں، سڑکوں اور اسکولوں میں لوگوں کا چلنے پھرنے میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کو تاثر دے سکیں کہ یہاں حالات نارمل ہوچکے ہیں۔حکومت اور اُن کے وزیروں کو طالب علموں کی ذرا برابر بھی ہمدردی ہوتی تو وہ اُن کی یہ بات ضرور تسلیم کرتے کہ امتحانات مارچ کے مہینے میں لیں جائیں، وہ تب تک انتظار کرتے جب تک فورسز کی جبر و زیادتیوں کی وجہ سے زخمی ہوئے طالب علم صحت یاب ہوجاتے، وہ اُن سینکڑوں طلبہ کو رہا کرتے جنہیں جرم بے گناہی میں پابند سلاسل بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس سیاست دانوں کی چھتر چھایہ میں کام کرنے والے وردی پوش اب امتحانی سنٹروں کے اندر سے مطلوب طلبہ کو گرفتار کرکے پولیس تھانوں میں بندکررہے ہیں۔
امتحانات نومبر میں منعقد ہوتے ہیں یا پھر مارچ میں، یہ کبھی یہاں مسئلہ ہی نہیں تھا۔ 2014 ءکے بھیانک سیلاب کے بعد2فیصد سے بھی کم طلباءکا وقت ضائع ہوا تھا، وہ امتحانات کی تیاری نہیں کرسکے تھے، ان 2فیصد طلباءکے لیے اُس وقت کی سرکار نے امتحانات مارچ کے مہینے میں منعقد کرائے،اُس وقت یہ کوئی مسئلہ نہیں بناتھا۔ طلباءکوبھی موسم سرما کے دوتین ماہ میں امتحانات کے لیے تیاریاں کرنے کا موقع ملا۔آج کے حالات میں وادی¿ کشمیر کے 99فیصد طلباءحالات کا براہ راست شکار ہوگئے ہیں، وہ اسکول نہیں جاسکے، گھر میں پڑھائی نہیں کرسکے، پولیس اور دیگر فورسز اہلکاروں کے قہر سے بچنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، نہ ہی اُنہیں پڑھائی کے لیے وقت ملا، نہ ہی پڑھائی کے لیے پرسکون ماحول…. یہ ساری صورتحال حکومت کے سامنے تھی لیکن اپنی انّا اور دلی کے آقاو¿ں کو یہ تاثر دینے کے لیے کہ حالات معمول پر آگئے ہیں یہاں کی سرکار بضد رہی کہ طلباءامتحانات میں شریک ہوجائیں۔ اُنہیں سلبس میں پچاس فیصد چھوٹ دینے کا لالچ دے دیا گیا اور طلباءو طالبات کی ہزار مخالفتوں کے باوجود امتحانات کے لیے تاریخوں کا اعلان کردیاگیا۔امتحانات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد طلباءکے پاس دو صورتیں تھیں، یا تو وہ امتحان میں شریک ہوجائیں ، یا پھر احتجاجاًامتحانات سے دوری اختیار کرتے۔ دوسری صورت آسان بھی تھی اور امتحانات میں بیٹھنے سے بچنے کا سہل اور آسان طریقہ بھی…….. لیکن یہاں کے طلباءوطالبات نے امتحان میں شریک ہوجانے کو ہی ترجیح دی۔دراصل امتحانات میں شریک ہوکر طلباءو طالبات نے محبوبہ مفتی اور اُن کے پوری ٹیم کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس قوم کی نوجوان نسل اس قدر باصلاحیت اور ذہین ہے کہ ایک ہی وقت میں وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج بھی کرسکتے ہیں، قومی کاز کی آبیاری کرنے کے لیے خدمت خلق کے کام میں بھی جٹ سکتے ہیں اور مستقبل میں مغرور طاقتوں کے سامنے حق کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے تعلیم سے بھی غافل نہیں رہ سکتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ امتحان میں پچاس فیصد رعایت دے کر حکومت ِ وقت نے ہماری نوجوان نسل کے تعلیمی کیرئیر کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ ہمارے ان نونہالوں کو کل بڑے بڑے مسابقتی امتحانات میں شریک ہونا ہے، وہاں اپنے لیے جگہ بنانی ہے اور قوم و ملّت کا مستقبل سنوارنے کے لیے اپنی علمی کاوشوں کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ایسے میں اگر اِنہیں مطلوبہ نصاب کا صرف پچاس فیصد پڑھنے کی رعایت دی گی تو اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اِنہیں دنیا کے دیگر قوموں سے پیچھے رکھنے کی جان بوجھ کر کوشش کی گئی ۔پچاس فیصد کی جو رعایت طلبہ و طالبات کو دی گئی اُسی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ مارچ کے مہینے میں امتحانات منعقد کرانے کی مانگ کررہے تھے اور حریت لیڈران اُن کے اِس مو¿قف کی حمایت کرتے رہے کیونکہ وہ اپنے قوم کی نئی نسل کے محسن ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود لوگوں نے کشمیر اور کشمیریوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرکے ہماری نئی نسل کے تعلیمی کیرئیر کو اپنے مکروہ سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اُنہیں دھونس ، دباو¿ اور لالچیں دے کر امتحان میں بیٹھنے پر مجبور کردیا۔سرکاری کی جانب سے شروع کیے گئے موجودہ امتحانات سے اگر چہ امتحان کی روح فوت ہوچکی ہے اور اس کی مقصدیت پر سوالات کھڑے ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں کے طلباءو طالبات نے دنیا پر واضح کردیا کہ وہ کسی بھی حال میں تعلیم سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہماری یہی نوجوان نسل تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر مستقبل میں تحریک حق خود ارادیت کی ہر محاذ پر آبیاری کرنے کے اہل ہوںگے۔
اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ عوامی ووٹ سے منتخب ہوکر اورعوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے لوگ عوام کے بجائے دلی کے لیے کام کررہے ہیں۔ دلی کی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے اپنی قوم سے دغا کرکے ہندوستانی قبضے کے ساتھ جس وفاداری کا یہ لوگ مظاہرہ کرتے ہیں اُس کی شاید ہی دنیا کی تاریخ میںمیں کوئی اور مثال موجود ہوگی۔یہ لوگ تعلیم جیسے مقدس شعبے کو بھی اپنے مکروہ عزائم کی آبیاری کے لیے استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے ہیں۔سرکاری مشینری کا استعمال کرکے اپنی ہی قوم اور ملت کو بدنام کرکے انہیں سکون میسر آتا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ جھوٹ، فریب اور دغا پر مبنی سیاست بالآخر ناکام ہوجاتی ہے اور سچائی و مبنی برحق تحریکات ہزار مشکلوں کاسامنا کرنے کے باوجودکامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہےں۔امتحانات میںاُمیدواروںکی شرکت نہ ہی کشمیر میں ہندوستان کی جیت ہے اورنہ ہی اُن کے لیے کام کرنے والے یہاں کے سیاست دانوں نے کوئی تیر مارا ہے۔ امتحان میں شریک ہوکر ان ہزاروں طلباءنے نہ ہی تحریک حق خود ارادیت کے ساتھ کوئی بے وفائی کی ہے اور نہ ہی اُن کے اس عمل سے تحریک کا کوئی نقصان ہوا ہے بلکہ یہ سب شکوک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیدا کیے جارہے ہیں۔ دور اندیشی کااگر مظاہرہ کیا جائے تو طلباءو طالبات کا امتحانات میں شریک ہونا بھی ہماری ہی جدوجہد کے لیے مستقبل میں فائدہ مند ثابت ہوگا، کیونکہ تعلیم سے کامیابی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور تعلیم ہی مدمقابل کی بڑی بڑی طاقتوں کا غرور خاک میں ملاسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایس احمد پیرزادہ

ٔایس احمد پیرزادہ جموں وکشمیر کے معروف اخباروں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ ایک کتاب 'وادی خونناب' کے منصف بھی ہیں۔

متعلقہ

Close