متفرقات

دو دن جودھپور میں

ظل الرحمٰن

جودھپور راجستھان كا مشہور شہر ہے۔ یہ شہر اپنے حسن  وجمال كی وجہ سے كئی صدیوں سے جانا جاتا رہا ہے۔ 1459 میں راٹھور قبیلہ كے سربراہ  راؤ جو دھا نے اسے آباد كیا تھا،   انہیں كے نام پر  اس شہر كو جودھپور  سے موسوم كیا گیا،   جودھپور اور آس پاس كے علاقوں  كو مارواڑ كے نام سے   بھی جاناجاتا تھا،  یہ شہر اپنی ثقافت ، تہذیب، زبان ، مہان نوازی اور ملنساری   كی وجہ سے ہندوستان  كے شہروں میں ایك  اہم مقام ركھتا ہے۔

جودھپور میں  كئی  قلعے ہیں، ان قلعوں میں   مہران گڑھ قلعہ ، جسونت  ٹھاڈا،  امید بھون پیلیس اور رائے كا باغ پیلیس خاص طور پر قابل ذكر ہیں۔ دوسری قابل ذكر چیزوں میں گورنمنٹ میوزیم اور امید گارڈن اس شہر كی خوبصورتی ووقار كو دوبالا كرتی ہے،  اس شہر كو سن سیٹی كے نام سے جانا جاتا ہے كیونكہ  یہاں سنی موسم ہوتاہے ، پورے سال سورج اس شہر كو اپنی توانائی وروشنی سےنوازتا رہتا ہے۔

جودھپور كی  خوبصورتی وكشش   میں چارچاند لگانے میں مارواڑ مسلم ایجوكیشنل اور ویلفیر  ٹرسٹ كا بہت اہم رول ہے۔ یہ ٹرسٹ پچھلی نو دہائیوں سے پسماندہ طبقات اور مسلمانوں كی تعلیمی بیداری كے لیے گوناگوں كاوشیں  كرررہا ہے،اس سوسائٹی كے زیر انتظام كئی اسكول اور كئی پروفیشنل وٹكینیكل كالجز چل رہے ہیں،   اس ٹرسٹ كے تحت چلنے والے اداروں كی تعداد تقریبا 30 ہے۔ جہاں سے تقریبا ڈیڑھ ہزار سے زیادہ طلباء وطالبات  بی ایڈ سمیت پروفیشنل وٹیكنیكل كورسز مكمل كركے  میدان عمل میں قدم ركھتے ہیں اور تدریس سمیت دوسرے پیشوں سے جڑ كر  باعزت زندگی گذارتے  ہیں۔اس ٹرسٹ  نے اپنی دیرینہ كوشش اور ہمہ جہت جد وجہد كے نتیجہ میں   تاریخ رقم كرتے ہوئے "مولانا آزاد یونیورسٹی ” كے نام سے ایك ماڈرن یونیورسٹی قائم كرنے میں كامیابی حاصل كی ہے۔ جسے سال 2013 میں حكومت راجستھان كے ایكٹ    كے مطابق یونیورسٹی كا درجہ دیا گیا۔ پچھلے دنوں مشہور ماہر تعلیم ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی كے سرخیل پروفیسر اختر الواسع كو جس كا  (پریسینڈٹ) وائس چانسلر بنایا گیا ہے۔اس یونیورسٹی كے ذمہ داران كافی باعزم، محنتی  اور قوم وملت اور ملك ووطن كی خدمت  كے جذبہ سےسرشار ہیں۔ جس ٹرسٹ كے تحت یہ یونیورسٹی قائم ہوئی ہے اس  كے جنرل سكریٹری جناب محمد عتیق صاحب كافی ویزنری، ڈائنمك  اور باصلاحیت ہیں، آپ نے گرچہ كسی یونیورسٹی كا منہ نہیں دیكھا اور نہ ہی كوئی ڈگری حاصل كی لیكن آپ كی   دوررس نگاہوں  اور بالغانہ حكمتوں كا اعتراف كئی بین الاقوامی ماہرین  نے كیا ہے۔  آپ نہایت ہی حكمت و دور اندیشی كے ساتھ یونیورسٹی اور كالجز كو چلارہے ہیں اور جہالت كی تاریكیوں میں  علم  كی روشنی پھیلارہے ہیں، آپ سنجیدہ مزاج، دور رس، مہمان نواز، حالات پر گہری نگاہ ركھنے والے اور معاملہ فہم ہیں، آپ كی بالغانہ نگاہوں نے اس یونیورسٹی كو عظمت كی بلندیوں تك پہنچانے اور دوسرے كالجز میں معیار كو برقرار ركھنے كی ہرممكن كوشش كی ہے۔

پچھلے دنوں یونیورسٹی نے انگلش ہاؤس كے كولیبریشن سے ایك 40 روزہ پرسنالٹی ڈولپمنٹ كا ریفرشر كورس ركھا تھا، جس میں تقریبا 600 بچے بچیوں كو پبلك اسپیكنگ، انگریزی زبان ، كمیونیكیشن اسكل ، انگریزی گرامر اور انگریز ی بولنے اور لكھنے  كی ٹریننگ دی گئی ۔ اس كورس كے اختتامی سیشن میں ہندوستان كی  كئی اہم شخصیات كو بطور مہمان دعوت دی   گئی۔ اس پروگرام میں ایسوسی ایشن آف انڈین یوینورسٹیز كے سكریٹری جنرل جناب  فرقان قمر صاحب ، انٹیگرل یونیورسٹی  لكھنؤ كے وائس چانسلر جناب وسیم  اختر صاحب، شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز كے بانی وچیرمین جناب ڈاكٹر عبدالقدیر  صاحب، شادان گروپ آف میڈیكل كالجز كے اڈوائزر ڈاكٹر رفیق احمد صاحب، مشہور تاجر اور كئی اسكولوں كے بانی جناب ندیم ترین صاحب  اور دوسرے كئی ماہرین تعلیم حاضر ہوئے تھے،  ازراہ اتفاق مجھے بھی اس پروگرام میں گیسٹ آف آنر كی حیثیت سے بلایا گیا تھا،  ہم لوگ بذریعہ ٹرین دلہی سے جودھپور پہنچے جہاں یونیورسٹی كے وائس چانسلر اختر الواسع صاحب اور ٹرسٹ كے سكریٹری جنرل محمد عتیق صاحب نے ریلوے اسٹیشن پہنچ  كر بذات خود مہمانوں كااستقبال كیا اور سبھوں كو پھول كا مالا پہنا كر خوش آمدید كہا، پھر ہم لوگ ہوٹل پہنچے جہاں فریش ہوكر ناشتے كے لیے محمد عتیق صاحب كے گھر لے جایا گیا۔ سبھوں كو كافی اہتمام سے ناشتہ كرایا گیا، ناشتہ میں نہایت باریك جلیبی، عمدہ قسم كی كچوڑی اور دوسرے انواع واقسام كے كھانے  نے مہمانوں كو لكھنؤ  اور علی گڑھ  اور اڑیسہ وبنگال سمیت دوسرے اہم شہروں كے كھانوں كی یا د تازہ كرائی اور ناشتہ پر انواع واقسام كے كھانے كے تعلق سےپرلطف گفتگو ہوتی رہی، ہم لوگ كھانے سے فارغ ہوكر  یونیورسٹی كے اولڈ كیمپس پہنچے  جہاں ٹرسٹ كے تیس  سے زائد ادارے ، مختلف اسكول ، اور كئی پروفیشنل وٹیكنیكل  كالجز چل رہے ہیں، وہاں سب سے پہلے تمام مہمانوں كو اسكاؤٹ كے ذریعہ سلامی دی گئی اور پھر  روایتی پگڑی اور پھولوں كے مالا سے استقبال كیا گیا، اس كے بعد ہم لوگوں كو ایك ایك كالج كا معائنہ كرایا جانے لگا، جناب عتیق صاحب   نہایت خوبصورتی سے یونیورسٹی كا  تعارف كرانے كا ایك خاص ہنر جانتے ہیں اور  چند منٹوں میں ہی مہمانوں كو اپنا اسیر بنالیتے ہیں، ایسا ہی ہوا وہ ایك ایك ادارہ كا تعارف كراتے گئے، اس كی خصوصیات ، كورسز كے امتیازات،  كم پیسے میں لیب كی تیاری،  بہتر سے بہتر انفراسٹركچر  اور دسری خوبیوں كی  وضاحت كرتے رہے اور سارے مہمانان عتیق صاحب كی ذہانت  و كمال كی داد  دیتے رہے، اس طرح ہم لوگ اولڈ كیمپس كے تمام كالجز كا دورہ كرنے كے بعد نیو كیمپس گئے ، جو 55 ایكڑ اراضی پر زیر تعمیر ہے۔ اس كی ایك بلڈنگ كے تقریبا چار فلور تیار ہوچكے  ہیں جو بہترین آركیٹكچر كی منہ بولتی تصویر  ہے۔ نئی عمارت كے طرز تعمیر كو دیكھ كر مشہور انجینیر اور تعمیراتی  دنیا  میں پوری زندگی گذارنے والے ماہر فن جناب ندیم ترین صاحب كے الفاظ تھے،” میں نے بہت ساری عمارتیں تیار كروائیں، سعودی عرب میں كئی یونیورسٹیا ں بنوائیں ، لیكن جو طر ز تعمیر میں نے مولانا آزاد  میں پایا وہ منفرد ہے۔ "

 یوینورسٹی كی نئی عمارت كا معائنہ كرنے كے بعدمہمانوں كو آڈیٹوریم میں لے جایا گیا، وہاں  یونیورسٹی میں ایك پروقار تقریب كا انعقاد كیا  گیا ، جس كا موضوع تھا” ویزن 2030″ اس موضوع پر تمام مہمانوں  نے اظہار خیال كیا اور اپنے قیمتی تاثرات پیش كیے اور یونیورسٹی كے ساتھ ہر ممكن تعاون كا وعد ہ كیا۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی كے ذمہ دارارن اور شہر كی اہم  شخصیات شریك تھیں، پروگرام میں جناب عتیق صاحب نے نہایت جامع انداز میں یونیورسٹی كی پیش رفت اور آگے كی تعلیمی وتعمیراتی پلاننگ  كا اظہار كیا ، یونیورسٹی كے وائس چانسلر نے نئے ویزن كے ساتھ ماڈرن انداز میں اس یونیورسٹی كو آگے بڑھانےكاعزم  ظاہر كرتے ہوئے فرمایا كہ ہم ہرممكن كوشش   كریں گے كہ معیاری سے معیاری تعلیم دی جائے۔ راقم الحروف  نے اپنی باتیں ركھتے ہوئے تعلیم كے ساتھ تربیت پر توجہ دینے اور اس سلسلے میں منصوبہ بند پلاننگ  كرنے كی سمت میں توجہ دلائی۔

شام میں پرسنالٹی ڈولپمنٹ كے چل رہے 40 روزہ ریفریشر كورس  كا اختتامی سیشن تھا۔ یہ كورس مایہ ناز بین الاقوامی ٹرنیر جنار منور الزماں صاحب اور ان كی ٹیم كے ذریعہ  كرایا جارہا تھا ، چالیس دن میں ان كی ٹریننگ كے ذریعہ بچوں میں انگریزی بولنے اور انگریزی میں اپنی مافی الضمیر كو ادا كرنے كی كیسی صلاحیت پیدا ہوئی ، اس كے اظہار كرنے كا موقع  تھا، بچوں  نے پبلك اسپییكنگ،  ورڈ میننگ ، ایڈیم  اور محاورے كے ترجمہ  بتانے میں اس مہارت و ذہانت كا استعمال كیا جس  نے سبھوں كو حیران كردیا۔

یونیورسٹی كے پروگرام  كے اختتام كے بعد وہاں كے نوجوانوں  نےوہاں  كی مختلف مساجد میں میرے كچھ پروگرام ركھے،  میرا ایك لكچر ” اتباع كتاب وسنت ” پر بعد نماز عشاء ہوا ، فجر كے بعد جودھپور كی مسجد میں درس قرآن ہوا، اور دوسرے ہی دن  جامع مسجد میں” اتباع نبوی میں صحابہ كا طریقہ ” كے موضوع پر خطبہ جمعہ دیا، عصر بعد القلم انٹرنیشنل اسكول میں اساتذہ وذمہ  داران كو خطاب كیا۔ اور بھاگتے دوڑتے اسٹیشن پہنچا جہاں 7.50 پر اپنے  مقررہ وقت  پرٹرین دلہی كے روانہ ہوگئی ۔ اس طرح جودھپور میں دو دن گذار كر، بہت كچھ سیكھ كر اور عظیم شخصیات سے مل كر اور ان سے استفادہ كركے ہم واپس دلہی پہنچ گئے۔

 اس موقع كو غنیمت جانتے ہوئے میں نے شاہین گروپ كے ڈائركٹر اور بانی جناب ڈاكٹر عبد القدیر صاحب سے گذارش كی كہ وہ ہمارے اسكول كادورہ فرمائیں جو دلہی میں رحیق گلوبل اسكول كے نا م سے چل  رہا ہے، انہوں نے نہ صرف میری دعوت كو قبول كیا بلكہ میرے ساتھ دلہی تشریف لائے اور اسكول كا دورہ كیا اور مجھے بہت سارے قیمتی مشورے دیے، جزاہ اللہ خیرا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close