متفرقات

زندہ باد، زندہ بادمولانا توقیررضا، مولانا ارشدمدنی زندہ باد

ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

اسی ماہ مئی 2016کے ابتدائی ہفتہ میں ایک ایسی مسرت انگیز خبر اردواورہندی اخبارت کی زینت بنی جس سے یقین ہونے لاگا ہے کہ جرأتمندانہ کوشش ملت اسلامیہ کیلئے موجودہ حالات میں ان کے تشخص کی حفاظت اورہندوستان میں مسلمانوں کو حکومت اور متعصب سسٹم کے سامنے متحدہوکر اپنا دفاع کرنے میں معاون ومدد گار ثابت ہوگی۔وہ واقعہ یوں ہوا کہ بریلوی مکتبۂ فکر کے نامورعالم دین اور مولانااحمدرضاخان کے نبیرہ و جانشین حضرت مولانا توقیر رضا خان دیوبندتشریف لائے اور مبینہ طور پر پاکستان کی شدت پسند تنظیم جیش محمد سے تعلق کے الزام میں گرفتار کئے گئے شاکر نامی نوجوان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور مصیبت کی اس گھڑی میں بے گناہ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے بے بنیاد الزام میں گرفتار کئے جانے کیخلاف متحدہ آواز اٹھانے پر زور دیا۔اگر آزادی کے بعد ہندو ستا نی مسلمانوں کی کس مپرسی کو اپنا درد سمجھ کر محسوس کرنے والے محب وطن مسلمان اس واقعہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مولانا توقیر رضاخان نے ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ میں ایک جرأ تمندانہ باب کااضافہ کیا ہے ۔حالاں دونوں مکتبہ فکر کے درمیان اختلافات کی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کی گئی اوربعدمیں ملت کے ٹھیکیداروں نے اپنی اپنی دکانیں چمکانے کیلئے اس دیوار کو دبیز اور پختہ کرنے میں ساری توانائیاں ضائع کردیں۔ اس بے مقصد اختلاف کوہوادینے والوں کو قریب سے جاننے والے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں مولانا نے اتحاد امت کیلئے پیش قدمی کرکے اپنوں کے درمیان ایک بڑی جنگ کی قیادت کا بیڑا اٹھالیا ہے۔
ہندوستان میں1990کی دہائی کے بعد مسلم نوجوانوں کو مبینہ دہشت گردی کے واقعات میں پھنساکر پابند سلاسل کر نے کی جو مہم چھیڑی تھی اس ناپاک کھیل کو محض اس لئے کامیابی ملتی رہی کہ اس منظم سازش کیخلاف مسلمانوں کی متحد آواز ہندوستانی سسٹم اور مسلم دشمن سازشوں کے خلاف بلند نہیں کی جاسکی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ دانستہ یاغیر دانستہ طور پرہم اس مسلم مخالف سازش کوسمجھنے میں ناکام رہے۔حالاں کہ آزادی کے بعد ملک کے اندرفرقہ فسادات کا جو مذموم سلسلہ شروع کیا گیا اس میں مسلم دشمنوں کے خنجر مسلک دیکھ کر مسلمانوں کے سینوں میں پیوست نہیں کئے گئے، بلکہ مجموعی طورپر صرف مسلمان دیکھ کر مارا اور کاٹا گیا۔مسلمانوں کے مردو عورت،بچے بوڑھے اور جوانوں کو صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر ذبح کیا گیا۔گجرات فسادات2002میں نیزوں کی انیوں پر جن معصوم بچوں کو اچھالا گیا انہیں یہ جان کر نہیں اچھالا گیا کہ تم بریلوی یادیوبندی مسلمان ہو اس لئے تمہیں سرزمین ہندمیں جینے کا حق حاصل نہیں ہے۔مگر اس درد کا ادراک وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے اپنے اورسگے فرقہ پرستوں کی گولیوں اورترشولوں کا نشانہ بنے ہوں ۔ایک بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ گجرات اور مہاراشٹر سمیت ملک کے درودراز علاقوں میں آج بھی عددی قوت کے لحاظ سے طبقہ بریلوی کی آبادی مسلمانوں کے تما م طبقات سے زیادہ ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ اسی تناسب فرقہ وارانہ فسادات میں ان کی گردنیں بھی کام آئی ہوں گی اوران خونچکاں واردات میں شہید ہونے والوں میں بریلوی حضرات کی تعدادسب سے زیادہ رہی ہوگی۔مگر اس کا احساس وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے اپنے سہارے ان فسادات میں ماردیے گئے ہوں گے ،یا اس کا احساس ان قائدین کوہی بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے قتل عام کو مسلک کی عینک اتارکر دیکھا ہو۔مولانا توقیررضاخان کے حالیہ اقدام سے بھی ان کے ملی ہمدردی کے جذبہ کا ادراک ہوتا ہے۔ اللہ سے دعاء کیجئے کہ رب کریم مولانا کی اس پیش قدمی کو شرف قبولیت سے نوازے اورنظر بدسے اس کی حفاظت فرمائے ،ورنہ تو اس وقت حکومتی مشنری بھی یہی چاہ رہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے مسلکی اختلافات کی دیوارمنہدم نہ ہونے پائے اوراس کے درمیان وہ مسلمانوں کاعرصۂ حیات تنگ کردینے کی اپنی سازش کو انجام تک پہنچانے نے میں کامیاب ہوجائیں۔مولانا توقیررضاخان نے دیوبند میں شاکر کی والدہ اوردیگر خانہ سے ملاقات کے بعد ملک کی معروف علمی دانشگاہ دارالعلوم کے اندر ذمہ داران دارلعلوم کے سامنے جو باتیں کہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے باطل طاقتوں کی ساش کا احساس مولانا کو تڑپانے لگا ہے اوران کا دل دردمند یہ چاہتا ہے کسی طرح بھی مسلمانوں کومسلک کے خول میں قید کرنے سے بچایا جائے اور بحیثیت مسلمان اپنے فروعی اختلافات کو نظراندازکرکے سیاسی محاذپر مسلمانوں کو متحد کرکے ان کے خلاف رچی جانے والی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔اللہ مولانا کے اس درد کو ہر مسلمان کومحسوس کرنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مولانے دیوبند میں برجستہ کہا کہ ہم ملت کے حق میں کبھی بھی تفرقہ کاشکار نہیں ہوں گے،بریلوی اوردیوبندی کے نام پرہمیں کوئی لڑا نہیں سکتا،دہشت گردی پوری دنیا کے لئے ایک لعنت ہے۔کوئی بھی مسلمان آتنک وادی ہرگزنہیں ہوسکتا۔خاص طور پر مدارس کو دہشت گردی کا اڈابتانے والوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے۔اس حقیقت کا اعتراف بی جے پی کے قدآور لیڈر لال کرشن اڈو ا نی بھی کرچکے ہیں کہ ملک کا مسلمان کسی بھی قیمت پر ملک مخالف طاقتوں کا ساتھ نہیں دے سکتا اورہمارے ملک کے تمام دینی مدارس بلااستثنا ملک سے محبت اور بقائے باہم اور قیام امن کی تعلیم دیتے ہیں ۔
مولانے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کیخلاف ایک منظم سازش چل رہی ہے، آرایس ایس کی ذہنیت والے افسران علماء وزعماء قوم کو آتنکی گردان کر مسلمان اور اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں،جب ہمارے قائدین ملت دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں،تو ہم اپنے بچوں کوکیسے دہشت گردی کیلئے چھوڑ سکتے ہیں۔یہ وہ تاریخی کلمات ہیں جو مولانا نے دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں بیان فرمایے۔ مولانا توقیر رضا خان نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کے بعدصحافیوں کے سامنے مسلمانوں کیخلاف رچی جانے والی سازش پر کھل کراپنے درد اورکڑھن کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ میرے دیوبند آنے کامقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ عقائد میں اختلاف کے باوجود ہم سارے مسلمان سیکولرزم اور جمہوریت کے محافظ ہیں۔ہم دیوبندی اور بریلوی سب مل کرملک کی ایکتااوراکھنڈتا کی حفاظت کریں گے۔عقائد میں سمجھوتا نا کرکے بھی ہم ملک وملت کے لئے سارے مسلمان بلاتفریق مسلک کل بھی ایک تھے آج بھی ایک ہیں۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سے گزارش کی کہ ملت اسلامیہ ہند کیلئے ہم سب ایک ہیں۔ بریلوی یادیوبندی کے نام پرہم آپس میں لڑکر دوسروں کو ہمارے اتحاد میں سیندھ لگانے نہیں دیں گے۔ مولانا توقیر رضا بریلوی(نبیرۂ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ ) نے اپنے اس سفر کے دوران دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم دیوبند وقف کے اربابِ اہتمام سے ملاقاتیں کیں اور حالاتِ حاضرہ کے سنگین و نازک مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لیے ایک لعنت ہے اورکوئی بھی مسلمان آتنک وادی ہرگزنہیں ہوسکتا۔ انھوں نے واضح کیا کہ دیوبند حاضری کا مقصد صرف یہ ہے کہ عقائد میں اختلاف کے باوجود ہم سارے مسلمان سیکولرزم اور جمہوریت کی حفاظت کریں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم نوجوانوں کوحکومتی اہل کار اور تفتیشی ایجنسیاں جس طرح بغیر کسی ثبوت کے پابندِ سلاسل کررہی ہیں،ہم سب اس کے خلاف ہمہ وقت سینہ سپرہیں۔شاکر اور اس جیسے جتنے بھی بے گناہ گرفتار کیے گئے ہیں، وہ سب میرے اور ہمارے بچّے ہیں اور میں اس یقین کے ساتھ ہی دیوبند شاکر کی والدہ سے ملنے آیا ہوں کہ شاکر بالکل بے قصور ہے،اسے جلد ازجلد رہا کیا جائے ۔ہم بے گناہ مسلم نوجوانوں کورہائی دلانے کیلئے آخری لمحہ تک جد وجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر انھوں نے مولانا ارشد مدنی کو بھی ان کی کارکردگی پر مبارک باد پیش کی۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اس تاریخی ملاقات پر مولانا توقیر رضا کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ فرضی طور پر جس طرح سے ہمارے بچوں کو گرفتار کرکے زدو کوب کیا جارہا ہے ہم دیوبند و بریلوی مسلک کے نمائندے،ایک آواز میں حکومتِ ہندسے مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کے اس دوہرے رویّے کو بندکرکے اپنے بے مہار افسران پرقدغن لگائے۔یہ حالات بتارہے ہیں کہ مسلمانوں کی مظلومیت پر کائنات کا مالک ترس کھارہا ہے اوربے شمار گناہوں کے باوجود مسلمانان ہند کو متحدہوکر اپنے دفاع کی توفیق عنایت فرما رہاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close