متفرقات

سائبان سے محرومی!

محمد رضی الاسلام ندوی

امی جان کو دفن کرکے واپس گھر پہنچا تو ایسا لگا کہ کسی نے سائبان نوچ کر پھینک دیا ہے اور میں چلچلاتی دھوپ میں کھڑا ہوں _ ماں کا وجود بیٹوں کے لیے کتنا باعثِ سکون ہوتا ہے، اس کا آج صحیح طور سے اندازہ ہوا _جی چاہا ، زور زور سے روؤں ، شاید اسی طرح طبیعت کچھ ہلکی ہوجائے ، لیکن پھر خیال آیا کہ مجھے روتا دیکھ کر گھر میں کہرام مچ جائے گا _ ہائے رے مجبوی کہ جی بھر کر رو بھی نہ سکوں _

میری امی پڑوس کے گاؤں سے بیاہ کر آئی تھیں _ ان کے اور ابّا کے مزاج میں کوئی مناسبت نہ تھی _ ابّا مزاج کے جتنے سخت ، وہ اتنی ہی نرم _ ابّا تعلیم یافتہ، وہ حرف ناشناس _ ابّا کی ہر بات حرفِ آخر ، وہ سراپا عجز و نیاز _ سنا ہے ، ابّا نے بارہا "وَاضْرِبُوھُنَّ” پر بھی عمل کیا تھا (میرے ہوش میں تو کبھی ایسا نہیں ہوا) لیکن نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط ازدواجی زندگی میں ان کی زبان پر کبھی کوئی حرفِ شکایت نہ آیا ، انھوں نے کبھی کسی خواہش کا اظہار نہ کیا _ وہ ایک سیدھی سادی ہندوستانی عورت کی مثال تھیں _

میں چھ سال کا ہوا تو ابّا نے ایک طرح سے ان کی گود سے چھین کر مجھے رام پور پہنچا دیا _ اس وقت سے آج تک میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں _ ہر سال دو تین بار بس چند روز کے لیے گھر جانے کا موقع ملتا ہے _ اُس زمانے کا ایک منظر میرے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا ہے _ ہر مرتبہ واپسی پر امی کے ساتھ خاندان کی عورتیں مجھے الوداع کرنے کے لیے نکلتیں
_ تھوڑا ساتھ دے کر ایک ایک عورت واپس ہوتی جاتی ، یہاں تک گاؤں سے باہر نکل کر باقی عورتیں ایک جگہ رک جاتیں ، میں سلام کرکے ، آنسو پونچھ کر آگے بڑھ جاتا ، لیکن امی کے قدم اس وقت تک برابر آگے بڑھتے رہتے جب تک کہ میں کھیتوں کی اوٹ میں آکر ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جاتا _ تب وہ اسی جگہ بیٹھ کر دیر تک روتی رہتیں ، یہاں تک کہ ساتھ کی عورتیں انھیں اپنے ساتھ واپس گھر لے جاتیں _

ایسا نہیں تھا کہ امی مجھے اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتی تھیں _ یہ بس ان کی ممتا کا اظہار تھا _ مہاجرت کی زندگی گزار کر مجھے جو کچھ علم اور دین کی دولت نصیب ہوئی ہے وہ ان کے صبر اور قربانی ہی کا نتیجہ ہے _ چنانچہ آخری برسوں میں جب ابّا مجھ سے گھر پر زیادہ دن رہنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو امی کہتیں : "جانے دیجیے، یہ قلم نہیں چلائے گا تو کھایے گا کیا؟ ” امی کی یہ بات میرا نصیب بن گئی ہے _

امی میری اہلیہ سے بہت مانوس تھیں _گاؤں میں کوئی گھر ایسا نہیں جو ساس بہو کے جھگڑے سے محفوظ ہو ، لیکن میری امی کی زبان پر تو اپنی بہو کے لیے ہر وقت دعائیں رہتی تھیں ، اتنی دعائیں تو وہ اپنی بیٹی کو بھی نہ دیتی تھیں _ اور اللہ کا شکر ہے کہ میری اہلیہ نے بھی ان کے آرام اور ضروریات کا ہمیشہ خیال رکھا _

امی کی جدائی پر یہ چند آنسو ہیں ، جو الفاظ کی شکل میں باہر آئے ہیں _ شاید طبیعت کو ہلکا کرنے کے لیے یہ ضروری تھا ، اس لیے میرے احباب اس ذاتی جذباتی اظہار پر مجھے معاف کردیں _

اے اللہ! میری تمام علمی و دینی خدمت کو امی جان کے لیے ذخیرہ آخرت بنادے _تیرے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کی اولاد کی دعائیں (اور اس کے نیک اعمال) اس کے لیے صدقہ جاریہ ہوتے ہیں _

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. اللہ تعالی آپ کی والدہ ماجدہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور آپ سمیت تمام متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

متعلقہ

Close