متفرقات

سری دیوی اور سرسوتی

ڈاکٹر سلیم خان

للن نے کلن پوچھا یہ  آٹو کب سے یہاں پھنسا ہوا ہے؟ کو ئی حادثہ تو نہیں ہوگیا۔

نہیں بھائی!   یہ سڑک کا نہیں بلکہ بالی ووڈ کا بہت بڑا سانحہ ہے۔

بالی ووڈ  یہ تو دنیا کے نقشہ پر  کہیں نظر نہیں آتا۔ وہ  بس ایک خیالی دنیا ہے۔ اس لیے وہاں حادثہ کیسے ہوسکتا ہےَ؟

اب تم کہو گے کہ ہالی ووڈ بھی خیالی ہے؟

نہیں یہ میں کیوں کہوں گا۔ وہ تو سان فرانسسکو کے قریب ایک علاقہ کانام ہے۔ جہاں دنیا کی بہترین انگریزی فلمیں بنتی ہیں۔

اگر ایسا ہے تو بالی ووڈ  بھی ممبئی کی وہ نامعلوم بستی ہے جہاں بہترین ہندی فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

چلو مان لیا۔ اب یہ بتاوکہ وہ سانحہ کیا ہے؟

لگتا ہے تم نہ اخبار پڑھتے ہو اور نہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہو بلکہ شاید سوشیل میڈیا سے بھی تمہارا کوئی رابطہ نہیں ہے۔

کیسی باتیں کرتے ہو کلن۔ تمہیں تو پتہ ہے کہ میرے روزوشب کا ایک تہائی وقت اسی کی نذر ہوجاتا ہے اور کبھی کبھار تو دوتہائی یا تین تہائی بھی۔

یہ تین تہائی تو پہلی مرتبہ سنا !  کوئی نئی اصطلاح ایجاد کرلی ہے کیا؟

اس میں نیاکیا ہے؟ دوتہائی ہوسکتا ہے تو تین تہائی کیوں نہیں؟ چھٹی کوصبح اٹھ کر اخبار، شام میں ٹی وی اور دن بھر   واٹس ایپ، فیس بک یعنی پورا دن۔

اچھا پھر بھی نہیں جانتے کہ کل  ممبئی ہوائی اڈے سے آنے والے سارے راستے کیوں بند تھے اور آج لوکھنڈوالا سے یہ جام کیوں  ہے؟ حیرت ہے!

اوہو سمجھ گیا۔ یار لوگ  توسردیوی کے جنون میں  جینندر سرسوتی کی موت کو بھی بھول گئے ؟

کون سرسوتی ؟ یہ سری دیوی کی ماں کا نام ہے کیا؟

ارے نہیں بھائی تم  جینندرکو چھوڑ کر سرسوتی میں اٹک گئے۔ یہ  زنانہ نہیں مردانہ  نام ہے۔

ہاں سمجھ گیا۔ سری دیوی پہلی ہٹ  فلم ہمت والا کا ہیرو جیتندر؟کمال ہےسر دیوی کے صدمہ میں تم اپنے پسندیدہ اداکار  کا نام تک  بھول گئے۔

اس بے وفا  کا نام نہ لو۔ اس نے سری دیوی کے ساتھ ۱۹ فلمیں کیں اور اس  کے جنازے میں تک نہیں آیا۔

یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ تمہیں کیسے پتہ کون آیا اور کون نہیں آیا ؟

مجھے نہیں پتہ ؟ میں صبح سے ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں۔ حمام کے اندر بھی  میں موبائل پر زی ٹی وی دیکھتا رہا۔

جیتندر کو آج کل کون پوچھتا ہے؟ وہ آیا بھی توپاجامہ  قمیض پہن کر اس لیے پہچانا نہیں جاسکا لیکن میں کانچی مٹھ کے سوامی جینندر سرسوتی کی بات کررہا تھا.

ہاں یاد آیا اپنے اردو اخبار اندر چھوٹی سی خبر تھی اور انگریزی میں بھی اندر کچھ تھا۔ میں نے نہیں  پڑھا   اورٹیلی ویژن والوں کی  بھی نظر نہیں پڑی۔

وہ  بھی سری دیوی کی طرح  تمل ناڈو کے انقلابی آدمی تھے، اچھوتوں کو مندر میں بلاکرپجاری تک بنایا۔ کئی اسپتال، اسکول اور فلاحی ادارے  قائم کیے۔

آج کل تنازع کھڑا نہ ہو تو میڈیا توجہ نہیں دیتا۔ سری دیوی  بھی اگرنشے کی حالت میں ٹب کے اندر ڈوب کر نہیں مرتی تو ٹی وی والے ۵ دن کیا  دکھاتے؟

 ارے بھائی سرسوتی پر بھی قتل کا مقدمہ بنا ،وہ جیل گئےاوربری ہوے۔ وزیر اعظم تک سے رابطہ  تھا پھر بھی سب سری دیوی کے پیچھے پڑے ہوے ہیں

یہ سچ ہے کہ سری دیوی نے فلموں سے روپیہ کمانے کے سوا کچھ نہیں کیامگر یہ ہمارا ٹائم پاس  ہے۔  اپنے لیےسری دیوی ہویا سرسوتی سب یکساں ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close