متفرقات

سمپوزیم رپورٹ: فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تعمیری صحافت کا کردار

سبطین کوثر

ممتاز معاصر نیو ز پورٹل مضامین ڈاٹ کام کے زیر اہتمام وشعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تعمیری صحافت کا کردار‘‘کے اہم ترین موضوع پر آج ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں سمپوزیم کا انعقاد تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا۔
سمپوزیم کی صدارت معروف سماجی خدمت گار و حقوق نسواں کی علم بردار و مصنفہ ڈاکٹر سیدہ سیدین حمیدی نے کی۔سمپوزیم کا افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد یونیورسٹی (جودھپور) کے وائس چانسلر پدم شری اخترالواسع نے کہا کہ اردو صحافت اول روز سے تعمیری صحافت کی طرف گامزن ہے اور اردو صحافت کی خشت اول سرسید احمد خان نے رکھی۔ ’تہذیب الاخلاق‘ کے ذریعہ انہوں نے صحافت کونئی جہت عطاکی اور اس کے بال وپر سنوارے۔بعد ازاں،اس میدان کے ہر اول دستہ کے سپہ سالارکا کردار ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادنے ادا کیا۔’الہلال و البلاغ ‘کے ذریعہ انہوں نے وہ لکیر کھینچ دی جسے بعد میں ’زمیندار، اور ’وکیل ‘نے باقی رکھا اور اسے مہمیز دی ۔ان کے نقش قدم پر حسر ت موہانی نے اردو معلی کو پیش کیا اور قوم کوصحافت و ادب کے نئے خطوط سے روشناس کرایا۔غرضیکہ ان اکابرین نے مثبت صحافت کے لئے ایک کہکشاں ترتیب دی جسے آج’مضامین ڈاٹ کام‘آگے لے جانے کی جسارت کر رہا ہے اور خالد سیف اللہ اثری و ان کے رفقاء (خالد مبشرو عرفان وحید)نے اس خاردار میدان میں چلنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے اس نیوز پورٹل کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور اس کی جم کر ستائش کی۔ماہر تعلیم پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ معاشرہ کو مثبت خطوط پر استوار کرنے کے لئے قومی یکجہتی، اعلی اخلاقی اقدار اور مثبت جمہوری صحافت ناگزیر ہے اور جب تک ہم ان اعلی روایات کی پاسداری کرتے رہیں گے معاشرہ بدامنی کا شکار نہیں ہوگااور ملک میں امن و سلامتی کا دور دورہ ہوگا اور مٹھی بھر شرپسند عناصر اپنے مفسدانہ عزائم کو کبھی پورا نہیں کرسکتے۔مضامین ڈاٹ کام کے سرپرست اعلینے اس موقع پر ایک اہم نکتہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج مدارس کے فارغین بھی مختلف شعبہ حیات میں وہ کلیدی کردار ادا کرہے ہیں اور مدارس کے تعلق سے جو منفی رجحانات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی انہوں نے اس کے پر َکتر دئے ہیں اور یہ ہمارے لئے انتہائی تسکین کا موضوع ہے۔
ممتاز صحافی و کالم نگارانل چمڑیا نے اپنے پرمغز خطاب میں کہا کہ صحافت تو صرف ’مثبت صحافت ‘کو ہی کہتے ہیں اور جو اس طرز سے کنارہ کش ہوتے ہیں وہ صحافی نہیں ہوسکتے انہیں کچھ اور کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے خلاف دفاعی پوزیشن اختیار کرنا خطر ناک ہے بلکہ سچ کو سچ کہنے کی ہمت رکھنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اسے نیوز میٹیرل بنانے والوں کی شناخت کرکے ان کا بائیکاٹ کرنا ہوگا اور جہاں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی آوازیں بلند کی جا رہی ہوں ان میں اپنی آواز پوری قوت سے شامل کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ الفاظ کے ذریعہ بڑھتی فرقہ واریت کا بہتر انداز میں دفاع کرنا ہوگا۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو کمیونلزم کا کارکن بنایا جا رہا ہے جو ملک و قوم کے لئے انتہائی خطرناک رجحان ہے اور سول سوسائیٹی کو اس کے خلاف صف آرا ہونا ہوگا۔
آؤٹ لک میگزین کی مایہ ناز صحافی منیشا بھلا نے کہا کہ صحافت ایک متبرک پیشہ ہے اور اس سے پوری قوم کے رجحانات بنتے ہیں اسے مذموم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ہمیں محاذ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یرقانی صحافت سے ملک کو نقصانات کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور اس معاملے پردانشوروں کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے اچھی صحافت اور بری صحافت کو صاف اور گندے پانی سے تشبیہ دی اورحالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ صحافت ذات پات، مذہب ، علاقہ سے اوپر کی چیز ہے اور اس میں کسی فرقے کو نشانہ بنانا اس کے ساتھ بے ایمانی کرنے کی طرح ہے۔
انہد کی سربراہ و معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے دوران خطاب کہا کہ آج کے اس پر آشوب دور میں ہمیں نہایت غیر جانبداری اور ہمت و بہادری کے ساتھ اپنی بات پیش کرنی ہوگی۔ سیاست ہر جگہ اپنی جگہ بنا لیتی ہے لیکن ہمیں معاشرہ کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔موجودہ حکمرانی عوام کی آواز دبانا اور ان کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہی وہ دور ہے جب ہمیں متحد ہوکر پوری قوت سے معاشرہ کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف صف آرا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حالات کا رونا رونے سے اس میں بہتری نہیں آسکتی بلکہ جواں مردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا نیز حالات کو اپنے موافق بنانے کی بیڑا اٹھانا ہوگا۔
کہنہ مشق صحافی و ملی گزٹ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بین الاقوامی میڈیا اور ہندوستانی میڈیا کا جائزہ پیش کیا اوراس اسلوب کی طرف نشاندہی کی جسے مثبت صحافت سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں سامعین کوجھوٹ پر مبنی خبروں کی طرف توجہ نہ دینے اور انتشار و افتراق برپا کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی بھی ہمارے ہی معاشرے کا فرد ہے اور اگر اس میں بگاڑ آرہا ہے تو ہمیں اپنے اقدارو روایات پر بھی غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر میدان میں کچھ کمیاں و خامیاں ہیں لیکن اگر صحافی حکمرانوں کی زبان بولنے لگے گا تو پھر معاشرہ ٹکڑوں بخروں میں بٹ جائے گا اور ہمیں اپنے معاشرے کو بچانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تجارت و صحافت کی آمیزش نے اچھی خبروں کی اشاعت روک دی ہے۔ ایک صحافی کو سماج کا آئینہ بننا چاہئے اسی میں سب کی بھلائی مضمر ہے۔
سمپوزیم سے صبا نقوی،رعنا ایوب،روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی، منجل کمار پانڈے،نے بھی خطاب کیا۔
اس شاندار سمپوزیم میں بے باک صحافی رعنا ایوب کی کتاب’’گجرات فائلس،پس پردہ حقائق کا انکشاف‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
پروگرام کا آغاز شعبہ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر شہپر رسول کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد مبشر نے بحسن و خوبی انجام دئے۔ مضامین ڈاٹ کام کے بانی خالد سیف اللہ اثری کے کلمات تشکر کے ساتھ سمپوزیم کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ سیدہ سیدین حمیدنے اپنے صدارتی خطاب میں تمام ہی اسپیکرس کی باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس کا نچوڑ پیش کیا۔ مضامین ڈات کام کے بانی برادرعرفان وحید نے ویب سائٹ کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سبطین کوثر

سبطین کوثر نے صحافت کا آغازاپنے وطن بہار میں واقع چمپارن کی سرزمین (موتہاری) سے کیا۔ انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا بحیثیت نامہ نگاراپنی خدمات کا آغاز کیا جہاں وہ بعدمیں ڈسٹڑکٹ انچارج اور بیورو چیف ہوئے۔ سبطین فی الوقت ایشیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی) سے وابستہ ہیں۔ ادارتی شعبے سے ان کا تعلق ہے، جہاں بنیادی طور پر خبر نگاری اور خبر نویسی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

متعلقہ

Close