عشرت جہاں کا قتل: کیا ہے سچ؟

شکیل رشید

عشرت جہاں کے لئے مہاراشٹر اسمبلی میں آواز اُٹھی ہے۔  سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے عشرت جہاں کے فرضی مڈبھیڑ یا قتل پر بی جے پی لیڈروں کے بیانات پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ دنیاجانتی ہے کہ فرضی مڈبھیڑ میں ، احمد آباد کی پولس کے ہاتھوں ہلاک کی جانے والی شہر ممبرا کی اس ۱۹؍سالہ طالبہ کو ایک نہیں تین بار دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دیا جاچکا ہے مگر پولس ، تفتیشی ایجنسیاں اور وہ سیاست داں جو اس طالبہ کے فرضی مڈبھیڑ میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہیں اور جن کی گردنیں قانون کے شکنجے میں کسنے کے قریب ہیں ، گھوم پھر کر عشرت جہاں پر دہشت گردی کا ’داغ‘ لگادیتے اور پھر یہ شور مچانا شروع کردیتے ہیں کہ ’ دیکھیئے ہم کہتے تھے نہ کہ عشرت جہاں بے قصور نہیں دہشت گرد ہے ! اس بار عشرت جہاں کے تعلق سے امریکہ میں قید ممبئی کے 26/11 حملوں کے ایک ملزم ڈیوڈ کولمن ہیڈلی کے ایک ایسے ’انکشاف‘ کو بنیاد بناکر جسے ’ انکشاف‘ کہنا  ’ انکشاف‘ کا خون ہوگا، عشرت جہاں کو دہشت گردوں کے کٹگھرے میں پھر سے لاکر کھڑا کردیا گیا ہے ۔۔۔ ہیڈلی نے 26/11 کے حملوں کے سلسلے میں گواہی دیتے ہوئے سرکاری وکیل اجول نکم کے ایک سوال کے جواب میں ، ان ہی کے پیش کردہ تین ناموں میں سے عشرت جہاں کے نام کو ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا کارکن بتاکر فرضی مڈبھیڑ کی ساری بحث کو ازسرِ نو زندہ کردیا ہے ۔۔۔ انگریزی کی معروف صحافی رعنا ایوب اس ’ انکشاف‘ کو فرضی مڈبھیڑ کے بارہ سال بعد عشرت جہاں کے ’ سیاسی قتل‘ سے تعبیر کرتی ہیں ۔۔۔

26/11 کے ممبئی حملوں کی گواہی بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ہوئی ہے ۔ ڈیوڈ کولمن ہیڈلی امریکہ میں کہاں ہے اس کی کسی کو خبر نہیں ہے ۔ وہ ویڈیو کانفرنسنگ پر گواہی کس ٹھکانے سے دے رہا ہے ، اس سے بھی لوگ بے خبر ہیں ۔۔۔ اتنا پتہ ہے کہ اسے 26/11 کے ممبئی حملوں کا ’ وعدہ معاف‘ گواہ بنایا گیا ہے ۔ اس روز یعنی  11؍ فروری کے روز، ممبئی کی عدالت میں کھڑے اجول نکم ، ایک سرکاری وکیل کی حیثیت سے جب ڈیوڈ کولمن ہیڈلی سے گواہی لے رہے تھے تب انہوں نے ہیڈلی سےجو سوال دریافت کئے اور انہیں جو جواب ملے ، وہ یہ تھے ۔ ۔۔

اجول نکم: کیا لشکر طیبہ میں خواتین کا بھی کوئی ونگ ہے ؟

ہیڈلی : ہاں۔

اجول نکم: اس کا سربراہ کون ہے ؟

ہیڈلی: ابوایمن کی والدہ ۔

اجول نکم: کیا لشکر طیبہ میں خودکش خاتون بمبار بھی ہیں؟

ہیڈلی: نہیں مجھے نہیں معلوم ۔

اجول نکم:کیا آپ کسی خودکش بمبار کا نام بتاسکتے ہیں؟

ہیڈلی:  نہیں میں کسی کا نام نہیں بتاپاؤں گا ۔

اجول نکم: کیا ہندوستان میں کوئی منصوبہ (خودکش بمباری کا) ناکام ہوا ؟

ہیڈلی: ہاں ایک آپریشن خراب ہوا تھا جس کے بارے میں مجھے اس وقت معلوم ہوا جب ذکی الرحمن لکھوی ، مزمل بٹ سے بات چیت کررہے تھے ۔ بعد میں میں نے مزمل سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ کسی ناکہ پر لشکر (طیبہ) کی ایک خاتون کا رکن فائرنگ میں ماردی گئی تھی۔ صحیح نام  مجھے یاد نہیں آرہا ہے ۔

اجول نکم: میں آپ کے سامنے تین نام پیش کرتا ہوں ، نوربیگم ، عشرت جہاں  اور ممتاز

ہیڈلی: عشرت جہاں

یہ وہ سوال اور جواب ہیں جو کمرۂ عدالت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سرکاری وکیل اجول نکم اور ملزم ڈیوڈ کولمن ہیڈلی کے درمیان ہوئے ۔ ان سوالوں اور جوابوں  پر بات کرنے سے اور ڈیوڈ ہیڈلی سے ہی دفاعی وکیل کی گفتگو کرنے سے قبل عشرت جہاں کے فرضی مڈبھیڑ کے ’ واقعے‘ پر ایک نظر ڈالنا  ضروری ہے، لیکن اس سے بھی قبل ہیڈلی کی ’گواہی‘ پر جو ’ ردّعمل‘ آئے ، انہیں جاننا لازمی ہوجاتا ہے۔۔۔ ہیڈلی کے اس ’ انکشاف‘ نے جو اس سے بھی پہلے گجرات کی پولس اور تفتیشی ایجنسیاں کرچکی ہیں ، عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ کے ایک ملزم گجرات کے معطل پولس افسر ،ڈی جی ونجارا نے ایک پریس کانفرنس لےکربڑے ہی جوش سے کہا ’ عشرت جہاں دہشت گرد تھی اور اس کی مڈبھیڑ فرضی نہیں تھی، ہیڈلی نے بھی یہ بات اب کہہ دی ہے ، ہم تو بار بار یہی کہتے چلے آرہے ہیں مگر ہماری بات پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے ۔‘۔۔ ونجارا نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ ’ اگر عشرت جہاں واقعی کالج کی طالبہ تھی تو وہ دوپاکستانی باشندوں کے ساتھ گجرات کیوں پہنچی تھی؟ گجرات کی پولس جب یہ بات کہہ رہی تھی کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے تب کسی نے یہ بات تسلیم نہیں کی تھی لیکن آج ہیڈلی  نے بھی یہی بات  کہہ دی ہے ، اس نے بتادیا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کی کارکن اور خودکش بمبار تھی‘۔ ہیڈلی کی گواہی اور ’ انکشاف‘ کے بعد بی جے پی نے پھر یہ شورمچانا شروع کردیا ہے کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی خودکش بمبار تھی اور نریندر مودی کو قتل کرنے کی نیت سے احمد آباد پہنچی تھی۔ حالانکہ کانگریس نے ہیڈلی کے دعوے پر سوالات کھڑے کئے اور یہ کہا ہے کہ ’ ہیڈلی کے نام نہاد بیان کی بنیاد پر عشرت جہاں کے فرضی مڈبھیڑ کو جس طرح جائز ٹہرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کی اجازت نہ ملک کا قانون دیتا ہے اور نہ ملک کا آئین مگر بی جے پی اور اس کے ان حواریوں کو جو عشرت جہاں ’ فرضی مڈبھیڑ‘ کے معاملے میں گلے گلے تک پھنسے ہوئے ہیں ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘ کے مصداق سرکاری وکیل اجول نکم نے ہیڈلی کے ’ انکشاف‘ کی شکل میں ایک سہارا دلادیا ہے ۔۔۔ اور شاید یہ ’ سہارا‘ ہی تھا جس کا بی جے پی کی مرکزی سرکار پہلے سے اندازہ لگاچکی تھی ۔اجول نکم کو ’ پدم شری‘ کے اعزاز سے جو سرفراز کیا گیا ہے! ’ پدم شری‘ کے اعزاز پر یاد آیا کہ اعزاز والے ہی دن ’ این ڈی ٹی وی انڈیا‘ پر سینئر صحافی اور اینکر رویش کمار کے ساتھ بات کرتے ہوئے اجول نکم نے کہا تھا کہ 8؍ فروری کے بعد وہ ایک بار پھر ملیں گے اور ملک کے سامنے ایک بڑا انکشاف ہوگا ۔۔۔ رعنا ایوّب نے ہیڈلی کی گواہی سے متعلق اپنے ایک مـضمون میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس روز اجول نکم اسی  ’انکشاف‘ کی بات کررہے تھے ؟ اگر ہاں تو انہیں پہلے ہی سے کیسے ہیڈلی کے جواب کا اندازہ ہوگیا تھا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اجمل قصاب کو بریانی کھلانے کا بدنام زمانہ جھوٹ بولنے والے سرکاری وکیل کو ہیڈلی کا ’ بیان‘ 8؍فروری کے چند روز بعد ہی حاصل ہوا ؟ رعناایوب نے اپنے اسی مضمون میں اجول نکم  اور ڈیوڈ ہیڈلی کے سوالوں اور جوابوں کو’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کھیلنے سے تعبیر کیا ہے ۔۔۔

ڈیوڈ ہیڈلی کے ’ انکشاف‘ کو ’ عشرت جہاں کی والدہ شمیمہ کوثر نے یہ کہتے ہوئے یکسر ردکردیا ہے کہ ’ ہیڈلی خود ایک دہشت گرد تنظیم کا کارکن ہے مجھے اس کے بیان سے کوئی سروکار نہیں ہے ، میری بیٹی بے قصور ہے اور عدالت سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسے فرضی مڈبھیڑمیں ہلاک کیا گیا تھا، مجھے آج بھی عدالت پر پورا بھروسہ ہے ۔‘‘ شمیمہ کوثر اپنی بے قصور بیٹی کے ’قتل‘ کی عدالتی  لڑائی آج بھی پوری تندہی سے لڑرہی ہے ۔ یہ لڑائی اسی روز شروع ہوگئی تھی جب احمد آباد میں عشرت جہاں کو مزید تین افراد کے ہمراہ فرضی مڈبھیڑ میں مارگرایا گیا تھا۔۔۔ وہ 15 جون 2004ء کا دن تھا یعنی تقریباً بارہ برس پہلے ۔۔۔ عشرت جہاں ممبرا کی رہنے والی اور ممبئی کے ماٹونگا علاقے  کی گرونانک خالصہ کالج کی طالبہ تھی۔ اس روز اس کے ساتھ مزید جن تین افراد کو پولس نے ہلاک کیا تھا ان کے نام امجد رانا ، ذیشان جوہر اور پرنیش پلئی عرف جاوید شیخ تھے ۔ اوالذکر دونوں افراد کے تعلق سے پولس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی تھے  اور لشکر طیبہ کے کارکن اور یہ دونوں لشکر طیبہ کے کارکن جاوید شیخ اور عشرت جہاں کے ساتھ مل کر نریندر مودی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ ’ مڈبھیڑ‘ کی واردات کے بعد یہ سوال اٹھا تھا کہ عشرت جہاں کیوں جاوید شیخ کے ساتھ گجرات گئی تھی، اس سوال کا جواب اس کے گھر والوں کی طرف سے یہ ملا تھا کہ اسے گجرات میں ایک ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی۔۔۔ ’مڈبھیڑ‘ کی واردات  علی الصبح انجام پائی تھی۔ پولس ٹیم کی قیادت  ڈی جی ونجارا کے ہاتھوں میں تھی۔ پولس کا یہ دعویٰ  تھا کہ محکمۂ انٹلی جنس (آئی بی) نے مودی کو نشانے بنانے کے لئے آنے والے ممکنہ قاتلوں کے تعلق سے الرٹ جاری کیا تھا۔۔۔ پولس نے مارے گئے ’ دہشت گردوں‘ کے قبضے سے برآمد اسلحہ جات کا ذخیرہ بطور ثبوت پیش کیا تھا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اپنی موت کے وقت بھی عشرت جہاں اپنے گلے میں کالج کا شناختی کارڈ ڈالے ہوئے تھی! پولس کی کہانی معمول کے عین مطابق تھی، میڈیا نے اسے معمول کے عین مطابق قبول بھی کرلیا تھا مگر عشرت جہاں کی والدہ شمیمہ کوثر اور بہن مسرت نے اس کہانی کو’سچ‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے عشرت جہاں کی موت کو ’ فرضی مڈبھیڑ‘ قرار دیا  اور گجرات کے ایک مجسٹریٹ تمنگ کی رپورٹ نے عشرت جہاں کی ہلاکت کے ’ فرضی مڈبھیڑ‘ ہونے پر مہر ثبت کردی ۔

مجسٹریٹ تمنگ نے اپنی رپورٹ میں عشرت جہاں کی موت کو اس وقت سے جو پولس نے بتایا ، بہت پہلے ہونا قرار دیا ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مارے گئے افراد پولس سے ’مقابلہ آرائی ‘ کرتے نظر نہیں آتے کیونکہ ان سب کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئی ہیں۔ تمنگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مارے گئے افراد جب بیٹھے ہوئے تھے تب ان پر انہیں مارنے کے لئے گولیاں داغی گئیں ۔ تمنگ نے اپنی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ پولس سے مقابلہ آرائی کررہے تھے تو پولس والوں کو کیوں نقصان نہیں پہنچا۔۔۔ ان کے  مطابق لاشوں کے پاس جو اسلحے پائے گئے وہ بغیر لائسنس کے تھے اور وہاں ’پلانٹ‘ کئے گئے تھے تاکہ مڈبھیڑ کے منظر کو حقیقی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرنے والوں کے ہاتھوں کی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں تھے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن دوافراد کو پاکستانی کہا گیا ہے ان کے شناختی کارڈ میں فرضی نام تھے وہ بھی انگریزی میں جبکہ پاکستان کی زبان اردو ہے ۔ مجسٹریٹ تمنگ نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ تحریر کیا ہے کہ’ ’ مارے جانے والوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا اور پھر بے رحمی کے ساتھ انہیں منصوبہ بندی سے گولیاں ماری گئیں ، عشرت اور جاوید کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ ‘‘

تمنگ کی رپورٹ نے اس وقت کی گجرات کی مودی سرکار کے پیروں تلے سے زمین نکال دی ۔ تمنگ رپورٹ کو بہت دبانے کی کوشش کی گئی مگر اسے دبایا نہیں جاسکا ۔ بعد کی چھان بین نے ’ فرضی مڈبھیڑ‘ کی پرتیں مزید کھول دیں ۔ ’ سفید داڑھی‘ اور ’ کالی داڑھی‘ کی بات سامنے آئی۔ گجرات کے اعلیٰ پولس افسران کی ملی بھگت سامنے آئی ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی طرف انگلیاں اٹھیں ، حالانکہ مودی اور امیت شاہ پر عدالتی شکنجہ  نہیں کسا مگر آج بھی ’ سفید داڑھی‘ اور ’ کالی داڑھی‘ کا سوال برقرار ہے ۔۔۔ یہ بات سامنے آئی تھی کہ پولس والوں نے باکخصوص ونجارا نے ان ’دو داڑھیوں‘ سے ’فرضی مڈبھیڑ‘ کی اجازت طلب کی تھی۔ ان دنوں امیت شاہ گجرات کے وزیرداخلہ تھے اس لئے ان کے کردار پر سب سے زیادہ انگلیاں اٹھیں۔۔۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جو ہیڈلی کے ’ انکشاف‘ کے محرکات کو خوب واضح کرتے ہیں ۔۔ اس سوال کا جواب بھی کہ اجول نکم کوعشرت جہاں کی فکر کیوں کھائے جارہی تھی جبکہ سوال جواب یا گواہی ممبئی حملوں کی تھی جس میں عشرت جہاں کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا، مل جاتا ہے ۔۔۔۔ فکر ممبئی حملے کے مجرموں کی نہیں ’ سفید داڑھی‘ اور ’ کالی داڑھی‘ کی ہے ۔ فکر یہ ہے کہ کسی طرح عشرت جہاں کو دہشت گرد ثابت کرکے اسے لشکرطیبہ سے جوڑدیا جائے تاکہ ’ فرضی مڈبھیڑ‘ کے سچ کو لوگ جھوٹ مان لیں اور ونجارا اینڈ کمپنی سمیت ان سارے سیاست دانوں کی گردنیں قانون کے شکنجے سے بچ جائیں جو عشرت جہاں کے قتل میں کسی نہ کسی طرح ملوث ہیں ۔

جہاں تک ہیڈلی کی گواہی کا سوال  ہے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔دفاعی وکلاء سے جرح کے دوران یہ سچائی سامنے آگئی ہے کہ وہ عشرت جہاں سے واقف تک نہیں تھا۔ اس نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ’لشکر طیبہ‘ کا خواتین دہشت گردوں کا کوئی ونگ نہیں تھا۔ اس نے این آئی اے پر بھی اپنے بیان کے تعلق سے سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی تضادات سے بھری ہوئی ہے ۔ عشرت جہاں کے تعلق سے اس کے ’ انکشاف‘ کی ویسے بھی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ایک بار وہ اجول نکم کے سوال پر لشکر طیبہ کے کسی خاتون خودکش بمبار کے وجود کی نفی کرتا ہے اور پھر اس سوال کے جواب میں عشرت جہاں کا نام لے لیتا ہے !



⋆ شکیل رشید

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔