متفرقات

عظمتِ شیخ حرمین شریفین اور مقاماتِ مقدسہ کا عکاس

تحریر: محمد طفیلؒ ۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز
عظمت شیخ کون ہیں؟ ابھی تعارف کراتا ہوں، مگر عظمت شیخ کو کون نہیں جانتا۔ میں کیا تعارف کراؤں گا؟ شیخ صاحب مقاماتِ مقدسہ کے عکاس ہیں۔ خدا سے محبت اور حضورؐ سے محبت، ان کے حصہ میں وافر آئی ہے۔
میں مقامات مقدسہ کے عکاسوں میں سے مندرجہ ذیل استادانِ فن سے واقف ہوں۔ ان کی تصویریں دیکھی ہیں، مثلاً
1. MECCA BY ABDUL AZIZ FRIKHA
2. MECCA BY MOHAMED AMAIN
3. MECCA BYAZMAT SHAIKH
ایک دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ عظمت شیخ کی تصویروں کی نمائش ہورہی ہے۔ ایک دیرینہ آرزو پوری ہوئی۔ لاہور میوزیم پہنچ گیا۔ تصویریں دیکھیں تو ٹھنڈک ہی ٹھنڈک محسوس کی۔ تصویروں کے خالق سے ملنے کی خواہش جاگی۔ پوچھ پاچھ کر عظمت شیخ تک پہنچا جو کہ دفتر میں موجود تھے۔
میں نے اپنا تعارف کرایا۔ کہنے لگے ’’جانتا ہوں ، نام سن رکھا تھا۔ ملنے کی خواہش تھی‘‘۔ سوچا کہ ہم تو ایک دوسرے کے گھائل نکلے۔ میں نے بتایا کہ ’’جو کام آپ نے تصویروں کی صورت میں انجام دیا ہے اسے میں لفظوں کی صورت میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں‘‘۔
’’بہت خوب!‘‘
میں نے استفسار کیاکہ اگر سیرت رسولؐ، تصویروں اور لفظوں کی صورت میں یکجا سامنے آئے تو کیسا رہے؟
کہنے لگے ’’خوب رہے۔ میں ہر ممکن خدمت کروں گا‘‘۔
لیجئے میرا ان سے، ان سے میرا معاملہ پکا ہوگیا۔ ہم دونوں مطمئن ہوگئے۔ جیسے دونوں کا مشن ایک ہو۔
شیخ صاحب گجرات کے رہنے والے ہیں۔ مقاماتِ مقدسہ کی عکاسی کا شوق حجاز لے گیا۔ تصویریں اتاریں تو محتسب نے دھر لیا۔ معاملہ قاضی تک پہنچا۔ سزا یہ ملی کہ کیمرہ توڑ دیا گیا اور آئندہ تصویریں اتارنے سے روک دیا گیا۔
جب شیخ صاحب حکومت کویت کے چیف فوٹو گرافر کے عہدے تک پہنچے تو حکومت کویت کی کوششوں سے انھیں تصویریں اتارنے کی اجازت مل گئی۔ پھر کیا تھا، انگلی کیمر پر تھی اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں تصویریں لے ڈالیں۔
جب انھوں نے اپنی چند تصویریں ، سعودی عرب کے صاحب اختیار حضرات کو دکھائیں تو وہ بیحد متاثر ہوئے۔ انھوں نے مزید سہولتیں بہم پہنچائیں کہ ہیلی کاپٹر سے بھی تصویریں لیجئے؛ چنانچہ ان کا شوق پورا ہوا بلکہ خوب پورا ہوا۔
میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیمرہ کون سا ہوتا ہے۔ کہنے لگے: جرمنی کا ایک کیمرہ ہے Linholf، وہ میرے پاس ہوتا ہے۔
کیمرہ ہر شخص کے پاس ہوتا ہے مگر فن ہر یک کے پاس نہیں ہوتا۔ فن سے عشق بھی ہر شخص کے مقدر میں نہیں ہوتا۔ پھر وہ فن جو عشق رسولؐ سے نسبت رکھتا ہو۔ صاحب نصیب لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ شیخ صاحب نے اپنی زندگی خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ کی عکاسی کیلئے وقف کر رکھی ہے۔ یہ عطیۂ خداوندی ہے۔ اس دنیا میں بھی سرخرو، اس دنیا میں بھی سرخرو!
میں نے جن فوٹو گرافروں کا اوپر ذکر کیا ہے، بے شک وہ بھی بڑے فوٹو گرافر ہیں، مگر میں ان سے ملا نہیں ہوں؛ لیکن میں ایک بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ یہ کہ موضوع سے جو محبت شیخ صاحب کو ہے وہ اور کسی فوٹو گرافر کو نہ ہوگی۔ ہر دم ذکرِ رسولؐ! وہی کیفیت تصویروں میں بھی نمایاں!
یہ باتیں تو ہوئیں تصویروں کی، دو چار کلمے مصوری اور خطاطی کے بارے میں بھی ہوجائیں۔ اس نمبر کی آرائش میں جناب اسلم کمال نے بھی کمال دکھایا ہے۔ اس نمبر کے بیشتر حصہ کی کتابت جناب محمد گل نے کی۔ ان کے بعد قاضی مختار احمد، چودھری صادق علی اور جناب انور حسین نفیس رقم نے، ان کا ذکر بھی اس لئے ضروری تھاکہ مصنّفین کی طرح عاشقانِ رسولؐ میں ان کا بھی نام آجائے۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close