متفرقات

فاتح خیبر کی نرالی شان

راحت علی صدیقی قاسمی

خلاق کائنات نے کرۂ ارض کو خوبصورتی اور کمالات سے مزین کیا، اس کا حسن وجمال، نیرنگیاں قابل دید بھی ہیں اور قابل داد بھی۔ محیرالعقول نظام خداوند تعالی کے وجود اور تعارف کی علامت ہے۔ یہ عالم گیتی اور کرۂ ارضی انسانوں کا مسکن اور مدفن ہے، اس کو جب معرض وجود میں لایا گیا اور اعلان ہوا کہ اللہ تعالی دنیا میں اپنا نائب اور خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو فرشتوں نے تشویش کا اظہار کیا، اپنی عبادت ریاضت تسبیح وتہلیل کی دہائی دی، مگر کائنات کے خالق نے اس امر کو واضح کردیا کہ انسان لائق خلافت ہے، افضل ہے، اشرف ہے، معتمد ہے اور قابل ولائق ہے۔ اس منصب عظمیٰ کا اس کی عبادت، ریاضت، تقویٰ، طہارت مثالی اور حیرت زدہ کرنے والی ہے، اس کے کارنامے قابل تحسین لائق ستائش اور آب زر سے رقم کرنے کے لائق ہیں، جس کو خداوند قدوس نے اپنے ازلی علم کی بنیاد پر اسی وقت فرشتوں کے روبرو ان الفاظ میں ظاہرکردیا (انی اعلم مالا تعلمون) اور دنیا آباد ہوئی، اس پر بسنے والے خلیفة اللہ کو بڑے اعزاز و اکرم کے تمغوں سے نوازا گیا۔ ولقد کرمنا بنی آدم کہہ کر اس کی عزت افزائی کی گئی، لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے ذریعہ اس کے وجود کی خوبصورتی کو نمایاں کیا، جو کائنات کے سارے حسن و خوبصورتی سے بڑھ کر ہے۔ ان سے مقام انسان کی افضلیت ظاہر ہوئی ہے اور ایسے افراد بھی اس زمین پر پیدا ہوئے، ایسے پاکیزہ اور مقدس نفوس نے بھی اس دھرتی پر جنم لیا اور انسانیت اور آدمیت کے وقار کو اتنا بلند کیا، زمین ان کے قدم کے بوسے لیتی ہے، ان کے وجود پر فخر کرتی ہے اور کائنات کے نور میں ان کا وجود دوبالگی پیدا کرتا، ان کے اخلاق و کردار، ان کے اطوار وانداز سے امن اور صلح وآشتی کے پودے اگتے، اسلام وانسان کی آبیاری ہوتی، پرچم اسلام کی بلندی میں اضافہ ہوتا، ان کی شجاعت وبہادری سے کفر لرزہ براندام ہو جاتا، کفرکدے ویران، میکدے جنگل ہوجاتے، ان کے لئے اعزازات مذکورہ چھوٹے لگے تو خدواند قدوس نے ان کے عشق اور محبت پر نظر کرتے عشاق محمد کے خطاب سے اصحاب محمد کے اعزاز سے سرفراز کیا اور رضی اللہ عنہم ورضی عنہ کا قیمتی خزانہ اور لازوال سرمایہ ان کے لئے مقدر کردیا۔
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک کو ستاروں کے مانند باور کرایا، ان کی اتباع پر کامیابی کا پروانہ اور سرٹیفکیٹ عطا کیا، ان کے عدل وانصاف کے قصہ زمین وآسمان میں آج بھی بے نظیر اور بے مثل ہیں۔ انہی مقدس، پاکیزہ، عظیم اور بلند مرتبہ افراد میں سے ایک ذات وہ بھی ہے جس کی کفالت خاتم الانبیاء نے فرمائی، جس کی پرورش پرداخت آمنہ کے لال، یتیموں کے مولیٰ کے زیر سایہ ہوئی، جس کے اخلاق وکردار نے اس شجرسایہ دار سے فیض حاصل کیا، جو ساری کائنات کو آگ کی شدت اور تکلیف سے چھٹکارا دلانے کے لئے آیا تھا، جس کی جوانی اس بحرذخار کی نگاہ داشت میں گذری، جس نے ساری انسانیت کو ہدایت کی دولت سے مالا مال کردیا، جس کی زندگی اس کی معیت اور محبت میں گذری، جو جگر گوشہ رسول ہیں، جنت کی سردار اسلام کے دو سرخیلوں اور بہادروں کی والدہ، میرے آقاکی نور نظر، قلب کا ٹکڑا، آپ کا قرار، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شریک حیات، کیا ہی نرالی شان ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اور کیا ہی شخصیت ہے شیر خدا کی، اسلام قبول کرنے میں بھی اولیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان نثاری میں بھی اولیت۔
جب نبی آخرالزماںؐ نے قریش کو خطاب کیا، اسلام کی دولت اور ہدایت کا نور تاریک دلوں پر پیش کیا اور ان کو حق وباطل کی حقیقت اور حقائق سے باخبر کرنے کی کوشش اور صدا بلند کی کہ ہے کوئی حق کی آواز میں آواز ملانے والا، کوئی ہے میرے مشن اور میرے طریقہ کو اپنانے والا؟ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے (طبری صفحہ 1272اور سیرالصحابہ 252)پر مذکور ہے تین مرتبہ علی مرتضیٰ شیر خدا کھڑے ہوتے رہے اور آپ کے ساتھ ہونے کا اعلان کرتے، باطل سے ٹکرانے کے عزم پیہم کا اظہار کرتے رہے، جس کو وقت گذرنے کے بعد بدر سے لے کر اکثر معرکوں میں زمین وآسمان نے مشاہدہ کیا، روئے زمین عش عش کر اٹھی اور اصحاب محمد نے ان کی بہادری کے ترانے گنگنائے اور شیر خداکے لقب سے ملقب کیا گیا۔ غزوۂ تبوک میں شامل نہ ہونے پر ملال، افسوس اور رنج وغم کا اظہار؛ جب کہ رسول خدا نے ان کا رتبہ ومقام حضرت ہارون کے مثل کر دیا جوموسی علیہ السلام کی نگاہ میں ان کا تھا اور (ابن ماجہ صفحہ12) پر روایت موجود الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی یہ بڑے اعزاز و اکرام انعام کی بات تھی۔ یہ تمام چیزیں اسی عزم پیہم کی عملی تصویر ہیں جس کا اظہار اس چودہ سالہ بچہ نے تمام قریش کے سامنے کیا اور تیسری نبی اکرم صلی اللہ نے فرمایا تو میرا بھائی اور وارث ہے۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام و مرتبہ ان کی عظمت ہے، اس کے علاوہ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ میں روایت موجود ہے (علی فی الجنۃ)حضرت علی کے لئے جنت کی بشارت ہے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور باقاعدہ حضرت علی کے فضائل کے عنوان پر باب قائم کئے گئے ہیں جو ان کی عظمت کے علم بردار اور بہت سی احادیث اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان کی رفعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے عیاں ہوتی ہے۔
آپ کی عظمت اور بلند مرتبہ کی علامت اور آپ کی نرالی شان کا مظہر خیبر کا وہ معرکہ ہے جو 7ہجری میں پیش آیا۔ اسلام کے بڑے بڑے جرنیل، عظیم کمانڈر، بے مثل سپہ سالار، جان نثار نبی جس در کو توڑ نہیں پارہے تھے لاکھ تدبیریں، لاکھ جتن کوششیں رائیگاں ہوتی نظر آرہی تھیں اور وقت کے گذران کے ساتھ مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیات پیدا ہورہی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا، آپ آشوب چشم میں مبتلا ہیں، آپ کا میدان کارازار میں آنا خارج از امکان، بعید از عقل، بعید از قیاس، جو آدمی آنکھیں کھولنے پر قادر نہ ہو وہ میدان میں دشمن سے آنکھ کیسے ملائے؟ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیم نے آپ کی آنکھوں میں وہ دوا ڈالی جس کا مثل کوئی حکیم، کوئی طبیب، ڈاکٹر معالج تیار نہیں کر سکتا۔ آپ نے اپنا لعاب دہن علی رضی عنہ کی آنکھ میں ڈالا اور انہوں نے وہ عظیم خدمت انجام دی جس کے لئے ہر ایک شخص کے دل میں تمنا امڈ رہی تھی، جذبات میں تلاطم تھا، آرزوئیں مچل رہی تھیں مگر یہ عظیم دولت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حصہ میں آئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر اسلامی معرکہ میں اپنی چھاپ چھوڑی، بجلی کی طرح کوندتے چلے جاتے، آندھی اور طوفان کی مانند صفوں کو الٹ دیتے، کفار کو پست کردیتے، ان کی زندگی مثالی، ان کے کارنامے عظیم، ان کا دور خلافت محترم، بے پناہ کارنامے ان کے نام پر درج ہیں۔
رجب کو آپ نے حجاز کے عظیم خاندان قریش کے اہم ترین قبیلہ بنوہاشم میں اس عظیم گھرانے اور شخصیت کے یہاں آنکھیں کھولیں، جنھوں نے سلسلہ نبوت کی تکمیل کرنے اور خدا کے محبوب کی حفاظت کی اور ان کی کفالت حفاظت میں ذرہ برابر کسر اور کمی باقی نہیں رکھی۔ انہیں نوازشات کا ثمرہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی ملااورتمام زندگی مذہب اسلام کی خدمت میں گذار گئے اور بہت سی ناقابل یقین و بیان خدمات اوربہت قیمتی پہلوان کو بہت حسن و خوبی سے انجام دے گئے اور سدا نبی اکرم صلی اللہ کی آنکھوں میں عزیز رہے اور اب آپ کی امت کی نظر میں قیامت تک معزز ومحترم ہیں۔ جب خدا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ آپ شیر خدا ذوالفقار پھر آپ کی شان میں کیا کمی رہ جاتی ہے؟ آخری سانس تک اسلام کی ترویج و اشاعت میں سرگرم عمل رہے اور شہادت کی عظیم نعمت سے جان سے تن جدا ہوتے ہوئے بھی اسلام کی فکر دامن گیر تھی ۔

(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close