متفرقات

قرآن مجید کا فلسفئہ وصیت

وصیت خاص قسم کے حکم اور فریضہ کو کہتے ہیں، عام فرائض کے مقابلہ میں اسے تخصیص حاصل ہوتی ہے۔

قمر فلاحی

وصیت خاص قسم کے حکم اور فریضہ کو کہتے ہیں، عام فرائض کے مقابلہ میں اسے تخصیص حاصل ہوتی ہے۔

اللہ تعالی کی وصیتی حسب ذیل ہیں:

مرتے دم تک مسلمان رہنا،شرک نہ کرنا،والدین کےساتھ احسان کرنا،تنگی کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرنا،یہ عقیدہ رکھنا کہ رزق کا مالک اللہ ہے،فحش ظاہری و باطنی کے قریب نہ جانا،ناحق قتل نہ کرنا،اللہ کا تقوی اختیار کرنا،اللہ تعالی اور والدین کا شکر گزار ہونا،دین قائم کرنا اور تفرقہ میں نہ پڑنا،مرتے دم تک نماز اور زکوٰۃ کو قائم رکھنا،وراثت میں جن کا حق ہے انہیں دینا،بیوی والدین اور اقرباء کیلئے وصیت کرنا۔

وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ  البقرہ: (132)

اللہ تعالی کے نبی حضرت ابراہیم و یعقوب علیھما السلام نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ مرتےدم تک اسلام کو نہیں چھوڑنا۔

 قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّڪُمۡ عَلَيۡڪُمۡ‌   ۖ   أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيْئًا‌   ۖ   وَبِٱلۡوَٲلِدَيۡنِ إِحۡسَـٰنًا‌   ۖ   وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَـٰدَڪُم مِّنۡ إِمۡلَـٰقٍ‌   ۖ   نَّحۡنُ نَرۡزُقُڪُمۡ وَإِيَّاهُمۡ‌   ۖ   وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٲحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ‌   ۖ   وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ  ۚ  ذَٲلِكُمۡ وَصَّٮٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ۔ (الانعام ۱۵۱)

اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔

مذکورہ سارے احکامات دین میں نہایت اہم ہیں فرض بھی ہیں اور قابل ترجیح بھی۔

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ   ۗ   وَلَقَدۡ وَصَّيۡنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَـٰبَ مِن قَبۡلِڪُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ  ۚ  وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ  ۚ  وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا۔( النساء ۱۳۱)

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو، آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے، ہر تعریف کا مستحق۔

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ بِوَٲلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُ  ۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٍ وَفِصَـٰلُهُ  ۥ فِى عَامَيۡنِ أَنِ ٱشۡڪُرۡ لِى وَلِوَٲلِدَيۡكَ إِلَىَّ ٱلۡمَصِيرُ۔ (لقمان ۱۴)

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھوٹنے میں لگے (اِسی لیے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے.

 شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًا وَٱلَّذِىٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦۤ إِبۡرَٲهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ‌   ۖ   أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ  ۚ  كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِ  ۚ  ٱللَّهُ يَجۡتَبِىٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَہۡدِىٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ۔ (الشوری ۱۳)

اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہو جاؤ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف اے محمدؐ تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے

وَجَعَلَنِى مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا ڪُنتُ وَأَوۡصَـٰنِى بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّڪَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا۔ (مریم ۳۱)

اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوۡلَـٰدِڪُمۡ‌   ۖ   لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ  ۚ  فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌   ۖ   وَإِن كَانَتۡ وَٲحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصۡفُ  ۚ  وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ ۥ وَلَدٌ  ۚ  فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُ ۥ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ ۥۤ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ  ۚ  فَإِن كَانَ لَهُ ۥۤ إِخۡوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ  ۚ  مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِہَآ أَوۡ دَيۡنٍ   ۗ   ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا  ۚ  فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ   ۗ   إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔ (النساء ۱۱)

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔

كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ إِن تَرَكَ خَيۡرًا ٱلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَٲلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ‌   ۖ   حَقًّا عَلَى ٱلۡمُتَّقِينَ۔ (البقرہ ۱۸۰)

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنڪُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٲجًا وَصِيَّةً لِّأَزۡوَٲجِهِم مَّتَـٰعًا إِلَى ٱلۡحَوۡلِ غَيۡرَ إِخۡرَاجٍ  ۚ  فَإِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡڪُمۡ فِى مَا فَعَلۡنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعۡرُوفٍ   ۗ   وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَڪِيمٌ۔  (البقرہ ۲۴۰)

تم میں سے جو لوگوں وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، اُن کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close