متفرقات

ماں- دل کی آواز

ابراہیم جمال بٹ
’’ماں‘‘ ۔۔۔ زبان سے نکلا ہوا لفظِ ’’ماں‘‘ایک ایسے احساس کا اظہار ہے کہ دل اور دماغ کو سکون مل جائے،ماں۔۔۔جس کا ذکر لبوں پر آتے ہی خوشی چھا جاتی ہے۔ ماں۔۔۔جسے جنت کی کنجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جنت تو جنت ہے لیکن جنت میں خوشبو دار پھول نہ ہو ں تو وہ جنت ہی کیسا ۔۔۔؟ جنت کا پھول ماں ہے۔اسی لئے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دیا گیا ہے۔ ماں۔۔۔جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ ماں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش نہ آنا ،جنت سے محرومی ہے۔ ماں۔۔۔ جسے کوئی ’’اَمی‘‘ کہہ کر پکارتا ہے تو کوئی’’ اَمّا‘‘ اور ’’مما‘‘کہہ کر۔ ماں کے انیک نام صحیح ،لیکن ماں ماں ہے، اسے کسی بھی نام سے پکارو، دلی کو سکون ملتا ہے۔ ماں۔۔۔ جس نے مشکلات اور تکالیف برداشت کرکے ہمیں اپنی پیٹ میں پالا۔ پیدا ہوئے تو یہی ماں شفقت کا جیتا جاگتا نمونہ بن کر ہمیں پالنے لگی، رات رات بھر جاگی، تاکہ بچہ بنا کسی مشکلات کے سویا رہے۔ بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا، تاکہ بچہ خوش رہے۔ غرض ماں پیار ہے اس میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب کبھی کسی بات پر ناراض ہوتی ہے، تو اس ناراضگی میں بھی دور سے پیار ہی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔دراصل ما ں کا دوسرا نام ہی پیار ہے۔ یہ پیار اگر ماں میں رچا بسا نہ ہوتا ،تو بچہ بچہ نہ رہتا ، رونے کی ایک آہستہ آواز سے ماں جاگ اُٹھتی ہے، یہ پیا ر نہیں تو اور کیا ہے؟ بھوک کے اظہار سے پہلے ہی اپنی چھاتی سے میٹھا میٹھا دودھ پلادیتی ہے،یہ دودھ نہیں دراصل ماں کا پیار ہوتا ہے، جسے وہ اپنے بچے کو دے کر پیغامِ محبت کا مخفی اظہار کرتی ہے۔ ماں۔۔۔جسے اپنی زندگی سے زیادہ بچے کی خوشی کی فکر رہتی ہے۔جب بچہ بیمار ہوجائے، تو بچے کی رونے کی آواز کانوں میں پڑتے ہی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپک پڑتے ہیں۔ درد اور اذیتیں برداشت کرنے والی ماں۔
وائے افسوس!
اسی ’’ماں‘‘ کا یہ بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے، تو یہی ماں جو کل تک اس کاسہارا تھی، خود ہی سہارے کی طلب گاربن کے رہ جاتی ہے۔ بڑا ہوکر جب یہی بچہ ماں کو ٹھوکر مار کر چلا جاتا ہے، اُس وقت بھی یہی ماں اس کا دور سے غیبی سہارا بن کر دعائیں دیتی ہیں۔سب کچھ برداشت کرلیتی ہے لیکن اپنے اس بچے کے لیے اُس و قت بھی اس کی زبان سے دعا کی صورت میں بار بار پیا رہی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ماں کا پیا ر اور دعائیں پالیتے ہیں،اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو ماں کے پیا ر کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔ یہ بات یادرہے ؂
’’دھوپ کاٹے کی بہت ،جب یہ شجر کٹ جائے گا‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close