متفرقاتمعاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

مزارت کے جعلی پیر، گندم نما جو فروش!

مولانا محمد جہان یعقوب

پنجاب کاضلع سرگودھا اس وقت خبروں میں نمایاں ہے،جہاں ایک صوفی بزرگ کے مزار میں مزار کے متولی کے ہاتھوں بیس افراد قتل ہوئے ۔ اہل وطن یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ جب مزارات اندرونی خطرات سے بھی محفوظ نہیں تو وہاں جانے والے کس طرح خود کو محفوظ تصور کریں ؟مزارات میں اب یہ بھی ہونے لگا کہ متولی لوگوں کے گناہوں کی معافی کے نام پر انھیں مادر زاد برہنہ کرکے ان پر انسانیت سوز تشدد کرتا ہے،ایک دوسرے کو ڈنڈے مارنے کو کہتا ہے اور یہ جلالی فرمان بھی جاری کرتا ہے کہ اگر میں تمھیں ٹکڑے ٹکڑے بھی کردوں تو اف تک نہ کہنا،اس طرح تم گناہوں سے پاک ہوجاؤگے اور جب تم پاک پوتر بن جاوگے تومیں تمھیں زندہ کردوں گا۔

ڈھٹائی کی انتہا دیکھیے! ظالم متولی کو اپنے اس گناؤنے فعل پر کسی قسم کی ندامت بھی نہیں اور وہ پولیس کے روبرو بھی نہ صرف اعتراف ِ جرم کرتا ہے ،بلکہ انھیں زندہ کرنے کا ’’کفریہ ‘‘دعویٰ بھی کردیتا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم کا کہنا ہے کہ وہ سب میرے بیٹے تھے، جنہیں میں نے اللہ کی راہ میں قربان کردیا۔بے دینی کی انتہا دیکھیے!سفاک ملزم کتنا بڑا دعویٰ کربیٹھا۔عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ خداوند نے اپنے بیٹے کو انسانی شکل میں سولی دے کر تمام عیسائیت کے پیروکاروں کو گناہوں سے پاک کردیا ،جب کہ اسلام ہی نہیں بائبل کے نسخوں میں بھی یہ بات ملتی ہے کسی کے گناہ کی سزا کسی اور کو نہیں دی جاسکتی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ظالم لوگوں کو اپنی سیاہ کاریوں کا کوئی ڈر وخوف ہے اور نہ ہی اسلامی عقائد کا کوئی پاس ولحاظ،کہ جس کے مطابق مرنے کے بعد زندہ کرنے والی ذات علی الاطلاق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور گناہوں سے پاک کرنے والیذات بھی اسی کی ہے اور اس نے گناہوں کی معافی کا ضابطہ اس قدر آسان اور ہر شخص کے لیے سہل الاصول بنا دیا ہے کہ جس طرح صابن سے دھونے سے کپڑے پاک صاف ہوجاتے ہیں ،اسی طرح سچے دل سے توبہ کرنے سے انسان گناہوں سے یوں پاک ہوجا تا ہے ،جیسے اس نے یہ گناہ کیا ہی نہ ہو۔

کاش! ہمارے اہل اقتدارفروغ تعلیم اورشعور بیداری کی کوئی سنجیدہ کوشش کرتے ،تو ان موسمی بٹیروں کو سادہ لوح عوام کا یوں شکار کرنے کا کھلا لائسنس نہ ملتا۔اگر یہ مفروضہ درست تسلیم کرلیا جائے کہ ظالم قاتل متولی نے تمام مریدین کو ان کے گھروں سے بلایا تھا کہ میں تمھیں تمھارے تمام گناہوں سے پاک کرنے والا ہوں اور وہ اسی آس میں درگاہ پر جمع ہوئے تھے ،تو سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو،جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے ،کیا اتنا بھی شعور نہیں تھا کہ گناہوں کی معافی کا منصب کس کو حاصل ہے؟

اور تو چھوڑیے! اس دامِ عقیدت میں علاقائی پولیس تک گھٹنوں گھٹنوں پھنسی نظر آتی ہے۔ایک ریٹائرڈ پولیس افسر،جن کے بارے میں اہل علاقہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ درگاہ میں ہونے والی تمام سیاہ کاریوں کے سپورٹر تھے اور مقتولین میں خود ان کا نوجوان بیٹا بھی شامل ہے،ان کا یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کرنا ،کہ یہ عقیدت کا معاملہ ہے،کیا تاثر دیتا ہے؟زخمی خاتون ،جس نے اس اندوہ ناک واقعے کی اطلاع دی اس کی پولیس اسٹیشن میں کسی قسم کی شنوائی نہ ہونا،پولیس کا مقتولین کے ورثاکے بجائے خود اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرنا اور ڈی پی او کایہ دعویٰ کرنا کہ مقتولین کے ورثا میں سے کوئی بھی اس مقدمے کی مدعیت کے لیے آمادہ نہ تھا،حالاں کہ مقتولین میں شامل ایک گریجویٹ نوجوان کے والد نے اس بات کی تردید کی ہے ،بعض ورثا پولیس سے مایوس ہوکرعدالت کے ذریعے ایف آئی آردرج کروارہے ہیں ،پولیس کا یہ کردار کس بات کی نشان دہی کرتا ہے؟یا تو وہ بھی شریکِ جرم ہے یا پھر اندھی عقیدت کا شکار۔سب سے بڑھ کر المیہ یہ کہ یہ ظالم قاتل خود الیکشن کمیشن میں گریڈ اٹھارہ کا افسر رہ چکا ہے،تو کیا ہمارے ادارے کسی شخص کا انتخاب کرتے ہوئے اس کی جانچ پڑتال کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے!

سانحہ سرگودھاپروزیراعلی پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ کی تضاد بیانیاں ملاحظہ فرمائیے!رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی مرید کو نشہ آور مشروب نہیں پلایا گیا تھا ،جب کہ ہسپتال میں ہی موجود زخمی محمد کاشف کا کہنا ہے:میں جب وہاں گیا تھا تو مجھ سے پوچھا: پانی پیو گے؟میں نے کہا ہاں ، پانی پی کر مجھے چکر آنے لگے اور ان سب نے مل کر مجھے ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پانی نہیں نشہ آور مشروب تھا۔رپورٹ عبدالوحید کو ذہنی مریض بھی قرار دیتی ہے، جبکہ ایک زخمی کاشف ،جو چوبیس گھنٹے دربار میں ہوتا تھا، کا کہنا ہے کہ ملزم کا دماغی توازن بالکل درست ہے۔ایسی گمراہ کن رپورٹوں سے فائدہ کس کو ہوگا؟ظالم وسفا ک متولی کو یا مظلوم مقتولین کے ورثا کو؟کیا ان ظالموں کے سیاہ کرتوتوں کو اس طرح عقیدت کے پردوں میں ملفوف کرکے پیش کرنے سے اس نوع کے عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟کیا عبدالوحید کے بچ جانے سے ایسے درندوں کو شہ نہیں ملے گی؟

آخر کیا وجہ ہے کہ بعض ستم ظریف پاکستان میں پیر ی مریدی اور قبر پرستی کو سب سے منافع بخش کاروبار قرار دیتے ہیں ؟اداروں کو اپنی ذمے داریوں کا ادارک کرنا ہوگا۔صوفی بزرگوں کے عقیدت مند وں کی جہالت اور عقیدت سے فائدہ اٹھانے، دم ٹونے کے نام پرانھیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے، تشدد کا نشانہ بنانے،آگ کی دھونی دینے ،جس کے دوران متعدد مریض جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ، عقیدت مندعورتوں سے ناجائز جنسی مراسم استوار کرنے اور ان کی عزتیں لوٹنے کی داستانوں کا سدباب آخر کون کرے گا۔ان ’’گندم نماجوفروشوں ‘‘سے سادہ لوح عوام کی جان وایمان کو بچانے کا فرض کس پر عاید ہوتاہے؟کس سے شکایت کی جائے؟کس سے منصفی کی امید رکھی جائے؟چیف جسٹس کو اس واقعے کا ازخود نوٹس لینا اور فوجی عدالت میں اس مقدمے کو بھیج کر سفاک ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے ،تاکہ آیندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close