مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ جسے عالمی سطح پر منانے کی ابتدا 1886 ء سے امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوتی ہے ۔ آج کے دن بیشتر ممالک میں شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی فلاح و بہبود ، ان کی بہتر طرز زندگی اور ان کے حقوق کے لئے سیمنار ، سمپوزیم، اورمزاکرے کے انعقاد کے لئے قومی سطح پرتعطیل ہوتی ہے ۔ لیکن المناک پہلو یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت او راپنے حقوق سے خود مزدور طبقہ ہی لاعلم ہوتاہے ۔ وہ آج کے دن بھی روز مرّہ کی طرح صبح ہوتے ہی اپنے گھر سے مزدوری کے لئے نکل جاتا ہے اور شام گئے تھکا ، ماندہ، ٹوٹا ، بکھرا گھر لوٹتا ہے ، کہ وہ اگر تعطیل منائے گا ، تو کھائے گا کیا ؟ اس لئے کہ مزدوروں کو تو روز کنواں کھودنا ہوتا ہے اور اپنی اور اپنے بال بچوں کی بھوک پیاس بجھانی ہوتی ہے ۔
مزدور کی جو شبیہ عام طور پر ابھرتی ہے ، وہ ہے ، ننگے بدن سے بہتا پسینہ اور چہرے پر درد و کرب کا پرتو۔ مزدورکو سردی کے دنوں میں ، سردی لگتی ہے، نہ ہی انھیں گرمی کی تپش میں لو کی شدت کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی انھیں برسات کی جھما جھم بارش کی پرواہ ہی ہوتی ہے ،کہ ان تینوں موسم میں ان کے پیٹ کی آگ کی شدت حاوی ہوتی ہے ۔ پہلے مزدور کا تصور یہ تھا کہ وہ صرف جوان مرد ہی ہوتے ہیں ،لیکن اب تو پیٹ کی آگ بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو بھی مزدوری کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ مزدور عورتیں اکثر عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لیتی نظر آتی ہیں ۔ اینٹ کے بھٹوں پر بھی وہ اینٹ ڈھوتی ملتی ہیں ۔ اپنے شیر خوار بچے کو وہ اکثر اپنے جسم کے پچھلے حصہ میں کپڑوں سے باندھ کر بھی مزدوری کیا کرتی ہیں ۔ ان کا جس طرح جنسی اور جسمانی استحصال کیا جاتا ہے ، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔مزدوری کرنے کے لئے مزدوروں کے بچے بھی مجبور ہیں ، اکثر ہوٹلوں ، دوکانوں اور چھوٹے موٹے کل کارخانوں میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر یہ بچے مزدوری کرتے مل جاتے ہیں ۔ گرچہ بچوں کو مزدوری کرنا اور کرانا قانوناََ جرم قرار دیا گیا ہے ، لیکن جب قانون ان مزدور بچوں کی غربت وافلاس کا کوئی متبادل پیش کرنے میں ناکام ہے تو پھر مزدوری کرتے ہوئے کیسے روکا جا سکتا ہے ۔ اکثر ان مزدور بچوں کے والدین کو اپنے بچوں سے مزدوری نہیں کرائے جانے کی بات کہی جاتی ہے تو مزدور اپنی غربت وافلاس کا دکھڑا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی بھوک وپیا س کا انتظام کر دے ، میں انھیں مزدوری کرنے نہیں بھیجونگا ، ایسے وقتوں میں سوال کرنے والا لا جواب ہو کر رہ جا تا ہے ۔

یوم مزدور دراصل شکاگو(امریکہ) میں پہلی بار 1886ء میں مزدوروں نے باضابطہ طور پر کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے اور ہفتہ میں ایک دن کی تعطیل کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جنھیں نہیں ماننے پر مزدوروں نے پہلی بار احتجاج بلند کی اور ہڑتال کردیا ۔ اس ہڑتال اور مظاہرہ کے دوران کسی انجان شخص نے ایک بم بلاسٹ کر دیا ، جس سے ناراض ہو کر وہاں پر موجود پولیس نے فائرنگ شروع کر دی اور اس فائرنگ میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے۔
اس حادثہ کے بعد 1889 ء میں پیرس میں عالمی جنرل اسمبلی کی دوسری میٹنگ میں فرنچ انقلاب کو یاد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کیا گیا کہ اس سانحہ کی تاریخ یعنی یکم مئی کو عالمی سطح پر یوم مزدور کے طور پر منایا جائے ۔ اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اسی وقت 80 ممالک نے یوم مئی یا یوم مزدور کے موقع پر قومی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا ۔ اس طرح یوم مزدور وجود میں آیا اور اس وقت نعرہ دیا گیا ’’ دنیا کے مزدور ایک ہوں ‘‘ ۔ ہمارے ملک بھارت میں 1923 ء سے یوم مزدورکے طور پر منانے کے لئے یکم مئی کو قومی تعطیل کا اعلان ہوا تھا ۔
حقیقت یہ ہے کہ یوم مزدور وجود میں آیا ضرور ، لیکن جب تک سوویت یونین کا دور دورہ یا یوں کہیں کہ عروج رہا ، ا سوقت تک یقینی طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں مزدوروں کی بہتر طرز زندگی کے لئے اور ان کے حقوق کی پامالی پر قد غن لگانے کے لئے طرح طرح کے پروگرام ، منصوبے اور قوانین بنتے رہے اور ان پر عمل بھی ہوتے رہے ۔ مزدوروں کی اس تحریک کو بین الاقوامی سطح پراس زمانے میں اس قدر اہمیت دی گئی کہ ایک وہ زمانہ بھی آیا جب ترقی پسند تحریک کے رہنما شاعر فیض احمد فیض نے یہاں تک مطالبہ کر دیا تھا کہ……
ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں ، اک دیش نہیں ، ہم ساری دنیا مانگیں گے
لیکن افسوس کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے بعد مختلف ممالک میں مزدورں کی آواز اٹھانے والے بھی سرد پڑ گئے ۔ اپنے ملک میں بھی مختلف ٹریڈ یونین کا جو حال ہو ا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ بھارت میں کمیونسٹ پارٹی اور ان کی تحریک کے دن بہ دن کمزور پڑنے کے بعد تو اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا ۔ حال کے برسوں میں نئی اور جدید تکنالوجی کی آمد اور صنعتی انقلاب نے بھی مزدوروں کی مزدوری پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ جس کے باعث مزدوروں کی ملازمت کے بہت سارے راستے مسدود ہو گئے ہیں ۔ سنگرور اور نندی گرام وغیرہ میں مزدوروں کا احتجاج ، مظاہرہ اور ان کی اموات لوگوں کو اب بھی ضرور یاد ہوگا ۔ مزدوروں کو بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہے ۔ آج وہ جس حال میں ہیں ، ان میں کوئی مثبت تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں جس طر ح مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، اس سے ان ممالک میں پناہ لینے والے مہاجرین بھی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ سقوط بنگلہ دیش کے بعد حکومت پاکستان کی نظر عنایت کے منتظر لاکھوں کی تعداد میں ڈھاکہ اور اس کے ارد گرد ہزاروں کیمپوں میں پناہ گزیں مرد ، عورتیں اور بچے مزدوری کررہے ہیں ۔ ان پناہ گزینوں کی نا گفتہ بہہ زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے والے امریکی شہری احتشام ارشد نظامی نے ان کے درد و کرب اور ان کی بد ترحالات کو جس طرح بیان کیا ہے ۔ وہ یقینی طور پر انسانی اقدار کو پشیماں کرنے والا ہے ۔
مزدوروں کی مشکل بھری زندگی کو اردو ادب میں بھی کافی جگہ دی گئی ہے ۔ مشہور افسانہ نگار راجند سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانہ ’’جنازہ کہاں ہے ‘‘ میں مزدوروں کی غم سے نڈھال ، مایوس اور تھکن سے چور زندگی کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے ۔ انھوں نے اپنے اس افسانہ میں بتایا ہے کہ مزدور جب اپنے کام سے لوٹتے ہیں تو ان کے چہرے پر اتنا درد و کرب اور اداسی ہوتی ہے کہ ایک حساس انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ مزدور، مزدوری کر کے نہیں بلکہ کسی جنازے کو سپرد خاک کرنے جا رہے ہیں ۔ خواجہ احمد عباس کی کہانی پر مبنی فلم ’’شہر اور سپنا ‘‘ آج بھی لوگوں کے ذہن پر ہتھوڑے برساتی ہے کہ بڑے شہر میں کس طرح مزدور طبقہ ہیوم پائپ میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ مزدوروں کو موضوع بنا کر اور ان کی حالت زار کو بیان کرنے والے کئی اشعار منور رانا نے بھی کہے ہیں ، مثلاََ …..
تم اس کی لاش کو دیکھو نہ یوں حقارت سے * یہ شخص پہلے امیروں کے گھر بناتا تھا
مزدوروں کی زندگی کو سامنے رکھ کر منور رانا کا دوسرا شعر ہے …..
ہم پرندوں کی طرح صبح سے دانے کے لئے * گھر سے چل پڑتے ہیں کچھ پیسے کمانے کے لئے
منور رانا کا یہ ایک شعر تو زبان زد خاص و عام ہے کہ ……
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر * مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
مزدوروں کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ان کا ہر سطح پر استحصال ہو تا ہے ۔ لیکن ان کے لئے اب کوئی بولنے والا نہیں ۔
ان کے لئے کوئی فکر کرنے والا نہیں ۔ ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی بہتر طرز زندگی کے لئے پہلی بار جہاں سے یہ آواز اٹھی تھی ، یعنی امریکہ ( شکاگو)سے ، وہاں کے مزدوروں دوسرے ممالک کے مقابلے بہت بہتر ہے ۔ میں نے خود امریکہ میں وہاں کے مزدوروں کی حالت کو قریب سے دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ یہاں مزدوروں کے حقوق ، ان کی بہتر طرز زندگی کے لئے جو قوانین ہیں ، ان پر پوری طرح عمل کیا جاتا ہے ۔ امریکہ میں گھاس کاٹنے والے مزدور کو بھی ، میں نے دیکھا کہ وہ جس طرح اپنی چمچماتی کار میں لگے ٹریلر میں گھاس کاٹنے کی مشین وغیرہ کے ساتھ آتے تھے، وہ انداز ہمارے ملک میں اچھے اچھوں کو نصیب نہیں ۔ امریکہ میں مزدوروں کے لئے ان کام کے دوران ان کے لئے سارے حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں ۔انھیں کبھی کسی غلطی سے کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ان کے علاج ومعالجہ کی بھی بہت بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔ دوسری طرف اس کے ٹھیک برعکس ہمارے ملک میں صبح صبح جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح، ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں لد کر مزدور اپنے گاؤں سے شہر کی جانب مزدوری کرنے جاتے ہیں ، انھیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ بھی انسان ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ مزدور اگر دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے خود پر زیادہ بھروسہ کریں اور اپنے غم غلط کرنے کے لئے شراب سے دور رہ کر اپنے بچوں کی خاطر ایثار و قربانی دے کر انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تو اتنا تو ضرور ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ضرور سنو رجائے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم ہر یوم مزدور کے موقع پر ایسے تمام ممالک میں ، جہاں مزدوروں کی حالت حیوانوں سے بھی بدتر ہے ، وہاں اس بات کے لئے ان کی ذہن سازی کی جائے ۔



⋆ سیّد احمد قادری

سیّد احمد قادری
ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

اردو زبان سے  ہمارا تعلق: عالمی یوم مادری زبان کے حوالے سے

 اردو والوں کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی ملے ستّر سال ہو گئے، لیکن اب تک  قومی سطح پر’  یوم  اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ  طیٔ نہیں ہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21   فروری کو  عالمی سطح پر مادری زبان کی اہمیت اور افادیت  کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے۔