متفرقات

مسلم یو نیورسٹی کے لئے آخری جنگ

حفیظ نعمانی
جب جب یہ یاد آتا ہے تو دکھ ہوتا ہے کہ لال بہادر شاستری کی ایک تصویر تو وہ ہے کہ آندھراپردیش میں ایک ٹرین کا ایکسیڈنٹ ہوا تو انہوں نے ریلوے کی وزارت سے استعفیٰ دیدیا۔ اور اپنے سیاسی گرو وزیر اعظم پنڈت نہرو کے اصرار کے باوجود اسے واپس نہیں لیا۔ اور جب تک پنڈت جی زندہ رہے شاستری جی ان سے وابستہ وزیر کی حیثیت سے انکی مدد کرتے رہے۔
اور دوسری تصویر وہ ہے کہ اپریل 1965میں انھوں نے وزیر تعلیم چھاگلا کے کہنے سے یا چھاگلا نے ان کے کہنے سے بے وجہ مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں سے چھین کر ایک عام یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا جسکے نام سے لفظ مسلم ہٹا دیا جائے اور جس کا انتظام پوری طرح حکومت اپنے ہاتھ میں لے لے۔جبکہ پورا ملک یہ جانتا تھا کہ اس یونیورسٹی میں مسلمانوں کا سیکڑوں کروڑ روپیہ لگا ہوا ہے۔ اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے نام سے ہند و نام ہٹا کر مساوات کا جو بھونڈا بہانہ ڈھونڈا گیا تھا اسکی اس لئے کوئی حیثیت نہیں تھی کہ بنارس یونیورسٹی کے بارے میں کسی نے دعوا نہیں کیا کہ اس میں ہندوؤں نے کروڑوں روپیہ لگا یا ہے۔
اس زمانہ میں کانگریس نے اپنے اخبار اور اپنے ترجمان نیشنل ہیرالڈ میں چھا پا تھا کہ علی گڑھ یونیورسٹی مسلمانوں کی نہیں ہے۔ جس کا مطلب سب نے یہ سمجھ لیا تھا کہ نہروجی کے بعد اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ مسلمان جو 61میں جبل پور میں اور 63میں بہار اڑیسہ اور بنگال میں مسلمانوں کے بد ترین قتل عام کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں کانگریس سے جڑے رہے تھے۔  وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شدھی کو برداشت نہ کرسکے۔ اور لنگر لنگوٹ کس کر وہ کانگریس کے سامنے آگئے اور 1967میں نوصوبوں میں اتنی کمزور حکومتیں بنیں کہ وہ ایک سال میں ہی چرمرا کر گر گئیں۔ اوراسکے بعد نو صوبوں میں جن کانگریس بنی جو بعد میں بی کے ڈی بنی پھر اسکے اور ٹکڑے ہوگئے۔ لیکن مسلم یونیورسٹی کے بارے میں اسکا موقف وہی رہا۔
برسوں کے بعد سونیا گاندھی اور وزیر اعظم من موہن سنگھ نے یہ اندازہ لگایا کہ صرف ایک یونیورسٹی کی خاطر 18کروڑ مسلمانوں کو دشمن بنائے رکھنا عقلمندی نہیں ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر دیا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کو مسلم یونیورسٹی ہی رہنے اور اسکا اقلیتی کردار بحال رہنے دیا جائے۔ کانگریس نے ہر طرح کے تجربہ کے بعد یہ فیصلہ اس لئے کیا کہ وہ مسلمانوں کو واپس لانا چاہتی تھی لیکن وقت کسی کا پابند نہیں ہوتا۔ اور یہی ہوا کہ کانگریس 2014میں سمٹ کر مٹھی بھر رہ گئی۔ اور بی جے پی کی حکومت آگئی جو چاہتی ہے کہ مسلمان اسکی پارٹی میں نہ آئیں تاکہ سادھو اور سادھوی کے چیلے چاٹوں کی بھیڑ اسے چھوڑ کر نہ جائے۔ اسی لئے اس نے وہ حلف نامہ جو سونیا حکومت نے دیا تھا وہ واپس لے لیا۔ اور دوسرا حلف نامہ داخل کردیا گیا کہ یہ یو نیورسٹی مسلمانوں کی نہیں ہے۔
مودی سرکار مسلم یونیورسٹی یاملک کے دوسرے مسلم اداروں کے ساتھ کیا کررہی ہے؟۔اور کیا کرے گی ؟ اس کا ہلکا سا اندازہ اس سے کیاجا سکتا ہے کہ مودی صاحب نے پہلے فروغ انسانی وسائل کی وزیر سابق ایکٹریس اسمرتی ایرانی کو بنایا۔ اورر وایات کو پامال کرتے ہوئے اسکے باوجود بنایا کہ وہ امیٹھی میں مودی کی زبردست حمایت اور چھوٹی بہن کہے جانے کے باوجود ہار گئیں تھیں۔ انھوں نے ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سوچا کہ تعلیم کی وہ وزارت جو سب سے پہلے مولانا آزاد کے ہاتھ میں رہی۔ اور جب اٹل جی وزیر اعظم بنے تو انھوں نے ماہر تعلیم مرلی منوہر جوشی کو یہ محکمہ دیااور انکا نائب شاہنواز حسین کو بنایا جنہیں 15دن گزر نے کے بعد بھی جوشی جی نے اس قابل نہیں سمجھا کہ ان سے بات بھی کریں لیکن مودی صاحب نے وہ محکمہ اسمرتی ایرانی کو دیدیا جنکا گریجویٹ ہو نا بھی ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ اور انھوں نے محکمہ واپس لینے کے بعد اپنی کارگذاری بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک لاکھ اسکولوں میں بیت الخلا بنوائے تھے۔ وہ بیچاری یہی سمجھتی رہی کہ وزیر تعلیم کا کام پیخانے بنوانا ہے۔ لیکن حکومت کے سرپرست آر ایس ایس کی طرف سے یہ اشارہ ملاکہ اسمرتی ایرانی تعلیم کے بھگوا کرن کی اہمیت کو سمجھ ہی نہیں سکیں۔
تین دن پہلے ہی ہم نے اس انٹرویو کا ذکر کیا تھا جو افتخار گیلانی نے ڈاکٹر پروین توگڑیا سے لیا تھا۔ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مدارس اور مارکسزم کو کینسر سمجھتے ہیں۔ اور اگر مسلمان بھی اپنے گھروں میں ہمارے 32کروڑ دیوی دیوتا ؤں میں سے کسی کی مورتی اور کسی کی تصویر لگالیں تو دونوں کے درمیان بھائی چارہ ہوسکتا ہے۔ حیرت ہوئی کہ گیلانی نے ان سے یہ کیوں نہیں کہا کہ کیا انھوں نے کسی مسلمان کے گھر یا دکان میں اللہ رسولؐؐکی مورتی یا کسی بابا کا فوٹو دیکھا ہے ؟مدارس کی بات تو بعد میں اس لئے آئے گی کہ جو واقعی دینی مدارس ہیں انکے دروازوں میں سرکاری مدد کا داخلہ بند ہے۔ لیکن جو سرکاری عربی فارسی بورڈ بنے ہوئے ہیں انکے آپریشن کئے جائیں یا انہیں بھوکا مارا جائے اس لئے صرف ا ن پر اثر پڑے گا جو سرکار کے رحم و کرم پر ہیں۔ اور عام مسلمانوں کو ان سے کوئی مطلب نہیں۔ لیکن اس میں اگر مسلم یونیورسٹی کو بھی شامل کیا گیا تو مسلمان بھی دوسرے انداز سے سوچنے پر مجبور ہونگے۔
مرکزی حکومت کے نئے حلف نامہ کا جواب اب سونیا گاندھی کو نہیں بلکہ ملک کے ان مسلمانو ں کو دینا ہے جو 50سال سے کانگریس سے لڑتے رہے ہیں۔ اور اسی لئے انہوں نے جواب دینے کے لئے وقت مانگا تھا جسکے جواب میں سپریم کورٹ نے 4ہفتے کا وقت دیا ہے۔ پورے ملک کے مسلمانوں کو معلوم ہے کہ شاستری جی چھاگلا اور علی یاور جنگ سے جنھوں نے سب سے زیادہ مورچہ لیا وہ اردو یعنی مسلم اخبارات تھے۔ اور ان میں سب سے بڑھ چڑ ھ کر جس نے حصہ لیا وہ ندائے ملت تھا جس نے سب سے زیادہ قربانی بھی دی۔ اس وقت میں پورے ملک کے چوٹی کے مسلم وکیل ایک پلیٹ فارم پر تھے۔ اور اس وقت بھی سب سے زیادہ ضرورت قانون کے ماہروں کی ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ نے اترا کھنڈ اور اترانچل کے الجھے ہوئے معاملہ میں جیسا رویہ اختیار کیاہے اس سے ہر کسی کو یہ امید ہے کہ محترم جج صاحبان وہ کریں گے جس پر انصاف بھی فخر کرے گا۔ آج وہ نسل تو ہے نہیں جس نے دوران تعلیم یونیورسٹی کوماں سمجھا اور بعد میں اسے محبوبہ کی طرح چاہا۔ ہمیں فخر ہے کہ جب ہم گرفتار ہوئے تھے تو نہ جانے کتنے ماہر قانون علیگ ہمارے مقدمہ میں مدد کرنا چاہتے تھے۔ آج بھی جو نام آرہے ہیں وہ بھی یونیورسٹی کے ہی فرزند ہیں۔ اگر بزرگ قانون داں رام جیٹھ ملانی کو بھی اس مشورہ میں شریک کیا جائے تو کیامناسب نہ ہوگا؟۔ (جنہیں ملائم سنگھ نے راجیہ سبھا کا ممبر بنایا ہے )اس لئے کہ اب تو بات اٹارنی جنرل کے کہنے کے مطابق صرف یہ رہ گئی ہے کہ جمہوری ملک میں اقلیتی ادارہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close