سیرت نبویﷺمتفرقات

مقصودِ کونین محمدؐ، مطلوبِ دارین محمدؐ 

عائشہ صدیقی عائش ؔ

امام المرسلین خاتم النبین سرور دوعالمﷺ کا مقام و مرتبہ بہت بلند اور عالیشان ہے۔ ان کے مرتبے کی کوئی برابری نہیں کر سکتا۔ ان کی عظمت و رفعت کا یہ عالم ہے کہ چہار دانگ عالم میں رب العالمین کے ساتھ اس کے حبیب رحم للعالمینﷺ کا ذکر جاری ہے اور یہ رب کریم کی اپنے محبوب کے ساتھ محبوبیت کی نشانی ہے کہ جہاں جہاں رب کا ذکر ہوگا وہاں وہاں حبیب ربﷺ کا تذکرہ ہوگا۔

رب ذوالجلال نے نبیﷺ کی عظمت مقام و مرتبہ بتانے کے لئے قرآن میں فرمایا

"ورفعنا لک ذکرک” (القرآن)

” اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا”

اس آیت کی تفسیر میں امام بغوی لکھتے ہیں، کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول پاکﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ سے دریافت کیا، اے جبرائیل!ذرا بتا تو سہی، وہ بلندیاں کیا ہیں، جن سے میرے ذکر کو ہمکنار کیا گیا ہے؟حضرت جبرائیل ؑ نے کہا حدیث شریف ہے کہ رب العالمین نے فرمایا ہے:

اذا ذکرت، ذکرت معی

"جب جب میرا ذکر ہو گا، تب تب تیرا ذکر ہو گا”

نبیﷺ کی ذات اعلی اور بات بالا ہے نبی کے اخلاق، کمالات اور معجزات بیمثال ہیں ۔ نبی اکرم شفیع اعظمﷺ کی سیرت مبارکہ ایک گہرا سمندر ہے۔ بڑے بڑے مفکر، خطیب، دانشور اس میں غوطہ زن ہوئے ہیں لیکن کوئی بھی موتی نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ایسا موتی جس سے سمندر کی لمعانیات کا احاطہ ہو سکے۔

سرور کائنات احمد مجتبیٰﷺ کی سیرت مبارکہ ایک ایسا جامع اور لاجواب موضوع یے کہ کوئی زبان ایسی نہیں جس نے حضور اکرامﷺ کی تعریف نہ کی ہو۔ آپ کے حسن کو نہ بیان کیا ہو۔ آپ کی عظمتوں رفعتوں کو عاجزی و انکساری کے ساتھ قلم بند نہ کیا ہو۔

جس طرح لفظ "اللہ” مٹھاس سے بھرا ہے اسی طرح لفظ "محمد”ﷺ بھی شیرینی سے بھر پور ہے۔ لفظ "محمد”ﷺ کی شان تو دیکھیے اگر کوئی کہے کہ میں تعریف نہیں کرتا "محمد”ﷺ کی۔۔۔ لیکن لفظ محمدﷺ اس کی زبان سے ادا ہوگیا تو محمدﷺ کی تعریف ہوگئی۔

محمدﷺ کے معنی ” تعریفوں والا ” تعریف گویا لفظ محمدﷺ کی ادائیگی سے ہوگئی۔

یہ ذکر مصطفیﷺ صرف ایک جگہ یا ایک گھڑی نہیں بلکہ ہر جگہ ہر گھڑی ہوتا چلا جا رہا ہے شاعر نبی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ۔ اللہ تعالی نے نبی پاکﷺ کے ذکر کو اس طرح بلند کیا ہے کہ اپنے نبیﷺ کے نام کو اپنے نام میں یوں ضم کر لیا کہ مؤذن، ایک دن میں پانچ وقت کی اذان دیتے ہوئے جب کہتا ہے اشہدان لا الہ الا اللہ، تو ساتھ ہی کہتا ہے، اشہدان محمد رسول اللہ

سائنسی تحقیق کے مطابق بارش کبھی رکی نہیں۔ دنیا میں کسی نا کسی جگہ پر کسی خطے پر کسی گوشے میں باران رحمت کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ جس دن بارش برسنا رک گئی وہ دن اس کائنات کا آخری دن ہوگا۔۔۔۔ لیکن ہمارا یہ ایمان ہے کہ رسول اکرم شفیع امتﷺ کا ذکر کہیں نا کہیں جاری ہے جس دن ایک بھی نبیﷺ کا نام لیوا نہ رہا وہ دن کائنات کا آخری دن ہوگا۔

دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو جب مل بیٹھتے ہیں تو آمنہ کے لال کا تذکرہ کرتے ہیں کبھی آقاﷺ کی اداؤں اور وفاؤں کبھی خلوت وجلوت کا کبھی معاملات وتجارت کا کبھی معاشرت ومعیشت کا کبھی اخلاق و حسن جمال کا۔۔۔ہر زبان تعریف پیکر حسن جمال میں مصروف ہیں۔۔۔ آقاﷺ اتنے حسین و جمیل کہ جو ایک مرتبہ دیکھ لے آپ کا دیوانہ بن جائے۔کافر دیکھے تو کلمہ پڑھنے لگ جائے حسن یوسف کا جب دیدار ہوا تو عورتوں نے فریفتہ ہوکراپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں اور جنہوں نے میرے آقاﷺ کو دیکھا وہ تو تاجدار ختم نبوتﷺ کی اداؤں پر فدا ہوکر سارے کے سارے کٹ گئے۔ اور یہ مکرم ہستیاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کی نظر میں تو جمال محمد سید دوعالمﷺ اس چاند سے بھی نور افروز اور نور افزا تھا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چودہویں رات کی چاندنی میں میں کبھی تو سید دوعالمﷺ کے چہرہ انور کو دیکھتا اور کبھی چاند کو مگر سید دوعالمﷺ کا چہرہ انور میری نظر میں اس چاند سے زیادہ حسین نظر آتا ہے۔ (مشکوۃشریف)

؂چاند سے تشبیہ دینایہ بھی کوئی انصاف ہے
چاند پہ چھایاں میرے مدنی کاچہرہ صاف ہے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سید دوعالمﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا یوں معلوم ہوتا تھا جیسا کہ سورج آپ کے چہرہ انور میں چل رہا ہو(مشکوۃشریف)

نبیﷺ کے حسن کی بھلا کوئی کیوں کر نہ تعریف کرے جس کی تعریف میں رب سارے کا سارا قرآن اتار دے۔ تب بھی اس کی تعریف کا باب ختم نہ ہوسکے بلکہ پورے آب وتاب سے لوگوں کی زبانوں پر جاری رہے۔ صرف انسان ہی نہیں درخت بھی آپﷺ کے حسن و ادا پر واری گئے۔ آپﷺ کے دیدار کو بے چین رہتے تھے۔ جیسے ہی آپ کا گزر ہوتا جھک جھک کر سلامی دیتے۔ وہ پتھر جو ابو جہل کی مٹھی میں بند پڑا اس کوشش میں کہ یہ جلد ہاتھ کھولے تو دیدار مصطفیﷺ نصیب ہو۔ جھٹ سے اشھدان لاالہ الااللہ کی گواہی دے کر سرکار دوعالمﷺ کے دیدار کی سعادت پا جائے۔

کیا انسان؟؟ کیا حیوان؟؟ ہر جگہ چرچے میرے نبی کے ہیں۔ چاہے زمانہ آدم علیہ السلام کا ہو یا عیسی علیہ السلام کا دور ہو۔ آسمانی کتاب توارت یا زبور ہو انجیل یا قرآن مجید ہو۔آقا کے چرچے ہر جگہ ہر سمت قریہ قریہ ،بستی بستی گلی گلی، نگر نگر میرے نبی کے عشاق عشق و مستی میں رقص کرتے نظر آئیں گے۔ آپﷺ کے حسن کی ترجمانی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کی فرماتے ہیں کہ:

واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النسا ء
خلقت مبر ء من کل عیب 
کانک قد خلقت کما تشاء

"اور آپﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا، اور آپﷺ سے زیادہ جمیل آج تک کسی عورت نے نہیں جنا، آپﷺ ہر عیب سے محفوظ کیے گئے، گویا کہ جیسا آپﷺ نے چاہا اسی طرح آپ کو پیدا کیا گیا”

نبی الثقلین، امام الانبیاء، محسن اعظم، فخر دوعالمﷺ کائنات کی وہ مبارک ہستی، جن کی کوئی مثال نہیں جن کی ہر ادا جان سے پیاری۔ جن کا کردار سب پر بھاری۔جن کا حسن وجمال کہ رب نے نہ پہلے ان جیسا کوئی بنایا نہ ہی بنائیں گے۔ جس کی صفات اور ذات اتنی بابرکت ہے کہ کائنات کا کوئی شخص آپﷺ کی تعریف کا حق ادا نہیں کرسکا۔

احمد مجتبی آقا مدنیﷺ خوبرو، خوبصورت کہ کائنات کی کسی آنکھ نے ایسی صفات والا انسان دیکھا ہی نہیں، اور آپ جیسا حسن و جمال کا پیکر، رعنائیوں کا مرکب، کائنات کی کوئی آنکھ کس طرح دیکھ سکتی ہے؟ قرآن مجید نے حسن نبیﷺ کو یوں بیان کیا۔۔۔۔ آپ کے چندا روپ، سندر سے روپ کو والضحیٰ کہا۔۔۔۔۔۔سیاہ گھنی زلفوں کو واللیل فرمایا۔۔۔ آپﷺ کی خوبصورت اور سوہنی آنکھوں کو مازاغ البصر وما طغی کہا۔۔۔۔۔۔آپﷺ کے مبارک ہونٹوں کو لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ کہا۔۔۔آپﷺ کے چہرہ انور کو وجہہ اللہ کہا۔ آپﷺ کے ہاتھ کو ید اللہ فرمایا۔آپﷺ کے سینے کو الم نشرح لک صدرک بتا دیا۔آپﷺ کے عمدہ اخلاق کو انک لعلی خلق عظیم بتایا۔ خوش خصال، صاحب جمال، صاحب کمال کہ اعلی کمال کو پہنچے ہوئے اور حسن صفات کے اتمام کو پہنچے ہوئے نبیﷺ کی صفات کو انا ارسلنٰک شاھداً۔۔۔ مبشراً۔۔۔ نذیراً۔۔۔ وداعیاً الی اللہ باذنہ وسراجاًمنیراًفرمایا۔آقاﷺ کو نازوں میں کبھی مزمل۔۔۔کبھی مدثر۔۔۔کبھی طہ۔۔۔۔۔ تو کبھی یس کہہ کر پکارا۔

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عربی شاعر نے آقا مدنیﷺ کی شان اقدس میں چالیس ہزار اشعار لکھے اور یہ چالیس ہزار اشعار رسول کریم نبی الملاحمﷺ کا معجزہ ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس نے چالیس ہزار اشعار ایک انسان کی عظمت کے لئے لکھے ہوں۔ اور آخر میں ایک بے مثال شعر کہا اور کمال کردیا:

تھکی ہے فکر رسا مدح باقی ہے
اور قلم ہے آبلہ پا مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا مدح باقی ہے
اور ورق تمام ہوا مدح باقی ہے

رب کائنات نے نبیﷺ کا ذکر اتنا بلند کیا کہ دنیا کہ کوئی طاقت کوئی قوت بھی مل کرروکنا چاہے تب بھی روک نہیں سکتی۔ نبیﷺ کے ذکر کو ختم کرنے والے خود نیست ونابود ہوجاتے ہیں لیکن آپﷺ کی عزت مآب پر حرف نہیں آسکتا۔ اللہ پاک ہم سب کو نبی کریم رحمۃللعالمین کی مدح سرائی کی دولت سے خوب مالا مال فرمائے (آمین ثم آمین)

مزید دکھائیں

عائشہ صدیقی

نوشہرہ کینٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close