متفرقات

موت کا ایک دن معین ہے!

حفیظ نعمانی

ایک اُردو اخبار کے مالک تشریف لائے اور انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی سے ملنے گئے تھے۔ (ان سے یہ نہیں معلوم کیا کہ کون کون؟) ان سے کہا کہ اُردو اخباروں کے اشتہار بند ہوگئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر اخبار کو اشتہار نہیں دیا جائے گا۔ اور بھی باتیں ہوئی ہوں گی جو بے مطلب ہیں ۔ ہم نے کہا کہ گئے کیوں تھے؟ یہ تو سب دیکھ رہے ہیں کہ جب سے یوگی سرکار آئی ہے اُردو کے صرف ایک اخبار کو جس کا مالک ہندو ہے اسے اشتہار دیا جارہا ہے۔ اور مرکزی حکومت کے پورے پورے صفحے کے اشتہار بھی اور یوپی حکومت کے آدھے آدھے صفحہ کے اشتہار بھی سب صرف اس کو مل رہے ہیں ۔ یہ مسئلہ ایک اخبار کا نہیں ہے ہر اس اخبار کا ہے جو اُردو میں نکل رہا ہے اور پڑھنے والے بے چینی سے اس کا انتظار کرتے ہیں ۔ اور ان کا بھی ہے جو نکل تو رہے ہیں لیکن دوسرے تو کیا اخبار کے مالک اور اخبار میں کام کرنے والوں کو بھی نہیں معلوم کہ ان کے اخبار میں کیا چھپا ہے؟

انکار کرنے کا صرف یہ طریقہ نہیں ہے کہ زبان سے کہا جائے اس کے اور بھی طریقے ہیں ۔ کانگریس حکومت نے آزادی کی جدوجہد کے زمانہ میں کسانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے وعدہ کیا تھا کہ ملک آزاد ہوگیا تو زمینداری ختم کردی جائے گی۔ گنے چنے سیاسی شعور رکھنے والے زمینداروں نے دوسرا انتظام کیا یا کرنا شروع کردیا لیکن اکثریت ان کی تھی جو کہتے رہے کہ ہمارے باپ دادا نے گائوں خریدے ہیں ۔ آخرکار ملک آزاد ہوا اور کانگریسی حکومت نے زمینداری ختم کردی۔ انہوں نے گائوں گائوں اعلان کردیا کہ 18  گنا لگان سرکاری خزانے میں جمع کردو اور زمین تمہاری۔ اکثر کسانوں نے زیور اور گھر کے برتن بھی بیچ کر لگان جمع کردیا اور زمین کے مالک ہوگئے۔ اسی زمانہ میں زمینداروں کے بارے میں لطیفے بنائے گئے۔

ایک سب سے سنجیدہ لطیفہ یہ تھا کہ ایک بڑے زمیندار کے بڑے گھر میں رشتے کے اور منھ بولے رشتہ دار بھرے ہوئے تھے۔ گھر کے مالکوں نے صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اب زمینداری ختم ہوگئی اور اس کے بانڈ کاغذ کی شکل میں مل گئے ہیں جن کے روپئے آج نہیں چالیس سال میں رفتہ رفتہ ملیں گے جو شاید اپنے کھانے کے بھی پورے نہ پڑیں اب آپ لوگ دوسرے گھر دیکھ لیں اور رفتہ رفتہ پورا گھر خالی ہوگیا صرف ایک چچا جان رہ گئے جن کے بارے میں زمیندار سب سے کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے گھر کے بزرگ ہیں ۔ زمیندار صاحب پر وہ بھی بھاری تھے لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی ایک دن میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ زبان سے نہ کہا جائے چار روٹی کی تین کردی جائیں ۔ چچا جان نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی دس دن کے بعد گھر میں پھر مشورہ ہوا اور روٹی دو کردی گئیں ۔ چچا جان نے حالات کا اثر سمجھا اور سوچا کہ بڑھاپے میں دو روٹی کافی ہیں ۔ پھر مجبور ہوکر ایک دن کھانا آیا تو اس میں ایک روٹی اور دال تھی۔ چچا نے وہ نہیں کھایا اور بھتیجے کا انتظار کرتے رہے۔ وہ جب دیر رات کو یہ سوچ کر آئے کہ چچا جاچکے ہوں گے۔ لیکن چچا جان موجود تھے اور کھانا ایسے ہی رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھتیجے اگر اب تم کو میرا کھانا بھی بوجھ لگ رہا ہے تو صاف صاف کیوں نہ کہہ دیا کہ اب تم بھی جائو۔ زمیندار صاحب نے کہا کہ چچا جان ہم نے تو اسی دن کہہ دیا تھا جب چار روٹی کی تین کردی تھیں اب آپ ہی نہ سمجھیں تو ہم کیا کریں ؟

اُترپردیش کی حکومت جب بدلی اور ایک دھرم گرو کو وزیر اعلیٰ بنایا تو حساس لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے پھر جب ان کی سرکار میں مرکزی حکومت کا پہلا پورے صفحہ کا اشتہار صرف اُردو کے ایک اخبار میں (ہماری معلومات کی حد تک) چھپا تو یہ چار روٹی کی تین روٹی جیسا تھا اور اس کے دو دن کے بعد ہی پھر بڑی سرکار کا ایک حلقہ کا اور یوگی سرکار کے آدھے صفحے کے دو اشتہار اس اخبار میں چھپے تو یہ ایک روٹی اور دال جیسا اعلان تھا اس کے بعد بھی کوئی جاکر معلوم کرے تو بے غیرت ہے۔ ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ آخرکار دیر سویر اُردو والے وہ اخبار جنہیں مسلمان اور اُردو والے پڑھنا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو نام کے اور اشتہار کے لئے نکل رہے ہیں رفتہ رفتہ بند ہوں گے اور یہ بات ہر اخبار والا جانتا ہے۔ بس وہ اخبار رہ جائیں گے جو کالے کو سفید کرنے کے لئے نکل رہے ہیں  یا جن کے نکالنے والے یوگی کے تلوے چاٹنے کی دوڑ میں کامیاب ہوجائیں ۔

آج کے اخبار والواں میں شاید ہی ہمارے جیسے دو چار ہوں جو اس وقت بھی اخبار نکالتے یا پڑھتے تھے جب سرکاری اشتہار کا ذکر بھی نہیں تھا وہ تو ہیم وتی نندن بہوگنا تھے جنہوں نے اندراجی سے کہا کہ ہر وہ اخبار جو مسلمان نکالتے ہیں وہ حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں ۔ اور عام مسلمان ہو یا خاص وہی اخبار پڑھتا ہے۔ اگر ان کو بھی سرکاری اشتہار ملنے لگیں تو دھیرے دھیرے سب ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ مسز اندرا گاندھی نے اس مسئلے کو بہوگنا جی کے اوپر ہی چھوڑ دیا۔ بہوگنا جی نے ایک نام کے صحافی عابدی الہ آبادی جو اُن سے قریب تھے ان سے کہا کہ آل انڈیا اُردو ایڈیٹرس کانفرنس بلائو۔ ملک بھر کے اخبار والوں سے دو دو آدمی بلائو سب کا کرایہ، قیام، کھانا پینا سب حکومت کے ذمہ ہوگا۔

ابھی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے قیصر باغ بارہ دری میں  وہ کانفرنس دیکھی ہوگی عابدی ہمارے دوست تھے جمیل مہدی بھی لکھنؤ میں ہی تھے۔ بہت کامیاب کانفرنس ہوئی اور اندراجی نے اعلان کردیا کہ اشتہارات کے بجٹ میں سے 10  فیصدی اُردو اخبارات کو دینے کے لئے حکم دے دیا جائے گا۔ اس کے بعد نہ جانے کتنے برس ایسے گذرے کہ اخباروں کو اشتہار ملنے لگے اور ایڈیٹروں کے قلم زہر کے بجائے روشنائی سے لکھنے لگے۔ اب یہ یاد نہیں کہ کب صحافت کی پاک صاف دنیا میں شاطر آگئے اور انہوں نے محکمہ اطلاعات کے بے ایمان افسروں اور کلرکوں سے سازباز کرکے اخبار کو صنعت بنا دیا اور ہر نشہ کی طرح یہ نشہ بھی رفتہ رفتہ اتنا ہونے لگا کہ محکمہ اطلاعات سے لاکھوں روپئے کے اشتہارات اُن اخباروں کو ملنے لگے جن کے نام یا مالک کو معلوم تھے یا افسر کو یا اس پریس والے کو جہاں دس کاپی چھپتی تھیں اور ان لاکھوں میں صرف سیکڑوں اخبار والے کو ملتے تھے باقی سب دفتر میں بندر بانٹ ہوجاتا تھا۔ اور 25  فیصدی، 40  فیصدی، 50  فیصدی اور 75  فیصدی کا تو عام ریٹ تھا۔

سرکاری اشتہارات سے پہلے بھی روزنامہ، سہ روزہ،  ہفت روزہ اور پندرہ روزہ اخبار نکلتے تھے وہ کالی روشنائی سے چھپتے تھے اور وہ مسلمان تاجر جو اُن اخباروں کو ملت کی آواز سمجھتے تھے اور ان میں چھپنے والے مضامین کو پڑھ کر محسوس کرتے تھے کہ یہ ہمارے دل کی آواز ہے۔ اپنے کاروبار کی ضرورت کے بجٹ اخبار کی مدد کیلئے مسلمان اشتہار دیتے تھے۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کہ جب 1962 ء میں ندائے ملت نکالا تو یہ فیصلہ کیا کہ تنخواہوں کا بوجھ کم سے کم ہو۔ جتنے بھی کام کرنے والے تھے وہ اسے کاروبار کے بجائے تحریک سمجھتے تھے۔ اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ دو مہینے کے بعد ہی اشتہار ملنے لگے پھر جب پہلا سال نامہ نکلا تو اتنے اشتہار ملے کہ چھ مہینے کے لئے کافی ہوگئے اور جو مسلم یونیورسٹی نمبر نکالا تو اس میں پورے صفحہ اور آدھے صفحہ کے اشتہار دس صفحات میں ہیں جو اگست کی ہی کسی تاریخ کو انشاء اللہ دوبارہ چھپے گا اور ہر علیگ کے لئے وہ ایک تاریخی دستاویز ہوگی اور ہر مسلمان کے لئے ایک تحفہ اور ایسا بھی ہوا ہے کہ از خود کوئی آیا اور کہا ہمیں بھی خدمت کا موقع دیجئے ہر ہفتہ ہمارا اشتہار چھاپ دیجئے۔

آج پوزیشن اتنی خطرناک ہے کہ نہ زبان سے کوئی لفظ نکالا جاسکتا ہے اور نہ قلم سے لکھا جاسکتا ہے۔ ہم جو کہنا چاہتے ہیں اس کے لئے دوسروں کی مثال دینے کی ضرورت نہیں ہمارا سارا گھر کاروباری ہے۔ وہ پریس جو ہر دن 16  گھنٹے چلتا تھا بند پڑا ہے ہمارے بھائی نے بتایا کہ ان کی فور کلر کی مشین کا اسٹاف دن بھر لوڈو کھیلتا رہتا ہے۔ ہمارے نواسوں کو اپنے پیارے نانا کے پاس آنے کی صرف اتوار کو فرصت ملتی تھی آج جس کو جب چاہیں بلالیں کوئی کام نہیں ۔ کل بڑے نواسے نے بتایا کہ بڑی دُکان اکثر رات کو 11  بجے بند ہوتی تھی اس لئے کہ پلائی ووڈ کی مارکیٹ کھلی ہونے کی وجہ سے گاہک آتے رہتے تھے۔ اب پلائی ووڈ مارکیٹ سات بجے بند ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ایسے میں جس مسلمان سے اشتہار کی بات کرو وہ خود مدد کے لئے ہاتھ پھیلا دے گا۔ کاش ایسا ہوجائے کہ ایک ایک کرکے مرنے کے بجائے سب ایک ساتھ اعلان کرکے ایک ہی دن میں آخری مضمون لکھ کر بند کریں اور اس دن ہر اخبار کی شاہ سرخی ہو کہ ’’یوگی کی اور مودی کی سازش سے آج سے اخبارا بند‘‘ تاکہ پوری دنیا کے میڈیا میں یہ خبر چھپے کہ ایک دن میں … اخباروں نے خودکشی کرلی۔

زہریلی شراب پینے سے ہر دن ایک یا دو مرتے رہتے ہیں کوئی خبر نہیں چھاپتا جس دن 15  یا 20  ایک ساتھ مرتے ہیں تو ہر اخبارمیں خبر چھپ جاتی ہے۔ مرنا تو سب کو ہے لیکن ؎

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close