متفرقات

موجودہ صحافت کومزیدبے باک ہونے کی ضرورت

ہندوستان کے موجودہ سیاسی حالات نازک ترین موڑپر،جمہوری اقدارکے تحفظ کے لیے پوری قوت سے آوازاٹھائیں،مضامین ڈاٹ کام اور شعبہ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ سیمینارمیں شرکاء کاخطاب

نایاب حسن

ہندوستان اس وقت اپنے نازک ترین دورسے گزررہاہے اور تمام باشعور طبقات کی ذمے داری ہے کہ اس کے جمہوری ڈھانچے کے تحفظ میں اپنامطلوبہ کرداراداکریں۔یہ بات معروف اسکالروادیب ڈاکٹرسیدہ سیدین حمیدنے مضامین ڈاٹ کام اور شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں تعمیری صحافت کاکردار‘‘کے موضوع پر منقعدہ سیمینارمیں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہی۔انھوں نے ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں حق اور انصاف کی آوازاٹھانے والے صحافیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ افرادکواس سلسلے میں کوششیں کرنی ہوں گی۔ان سے قبل مولاناآزادیونیورسٹی جودھپورکے وائس چانسلرپروفیسراخترالواسع نے اپنے خطاب میں اردوصحافت کے سیکولر اقدارپر گفتگوکرتے ہوئے تاریخی حوالوں سے کہاکہ سب سے پہلے مولاناابوالکلام آزادنے الہلال اور البلاغ کے ذریعے ملک کی آزادی کی تحریک اٹھائی اور پھر اس کے بعدمتعدداردواخباروں نے اس سلسلے کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان کی آزادی میں نمایاں کرداراداکیا،انھوں نے کہاکہ سوشل میڈیاکی سطح پرمضامین ڈاٹ کام اسی سلسلے کوآگے بڑھانے کاکام کررہاہے جس پراس کے ذمے داروں کی تحسین وتعریف کی جانی چاہیے۔ڈاکٹرظفرالاسلام نے کہاکہ آزادہندوستان کایہ المیہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں اورقومی رہنماؤں نے گزشتہ سترسالوں میں ملک کودیگرشعبوں میں ترقی دلانے کی کوششیں توکیں لیکن کبھی ملک کے شہریوں کی اخلاقیات کوبلندکرنے کی طرف توجہ نہیں کی گئی اورچوںکہ پرنٹ میڈیایاالیکٹرانک میڈیامیں کام کرنے والے لوگ اسی معاشرے سے آتے ہیں جہاں مختلف سطحوں پراونچ نیچ اور اخلاقی خرابیاں پائی جاتی ہیں،تووہ لوگ اسی ذہنیت کے ساتھ صحافت کواختیارکرتے اوراپنے پراگندہ خیالات کی تبلیغ کرتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اورصحافتی اخلاقیات کی تعلیم بھی بہت ضروری ہے۔معروف صحافی اور سماجی کارکن انل چمڑیانے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اس ملک کی مٹی میں شامل ہے اوراسے کوئی بھی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی،انھوں نے کہاکہ موجودہ وقت میں ہمارامسئلہ یہ نہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بات کریں،ضرورت یہ ہے کہ ان طاقتوں کے خلاف مضبوط آوازاٹھائی جائے جوملک کے سیکولر تانے بانے کونقصان پہنچاناچاہتے ہیں۔سماجی کارکن اور انہدکی سربراہ شبنم ہاشمی نے موجودہ مرکزی حکومت کے ذریعے صحافت کوپابندکرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت بھی ایسے جرأت مندصحافی موجودہیں جوملک کے دبے کچلے طبقات کے انصاف کی آوازپوری قوت سے اٹھارہے ہیں اورحکومتِ وقت کی تمام تر سازشوں کے باوجودہندوستانی عوام اور جمہوری اقدارکے تحفظ کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ آؤٹ لک میگزین سے وابستہ منیشابھلانے موجودہ قومی صحافت کودرپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں ایسی قوتیں مسلسل مضبوط ہوتی جارہی ہیں جوملک کے مختلف طبقات کے مابین پائی جانے والی ہم آہنگی کوختم کردیناچاہتی ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ اس سلسلے میں کچھ صحافتی ادارے اورافرادبھی منفی رول اداکرنے میں مصروف ہیں،لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ ایسی طاقتوں کے خلاف مضبوطی سے آوازاٹھانے کی ضرورت ہے۔معروف صحافی رعناایوب نے زوردیاکہ ہمیں خوداپنے اندربھی جھانکنے اوران اسباب پرغورکرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے فرقہ ورانہ طاقتیں سراٹھاررہی ہیں،اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں اورظلم کے خلاف ہمیں خودآوازاٹھانی ہوگی۔ سیمینارمیں روزنامہ سہاراکے گروپ ایڈیٹرسیدفیصل علی،صبانقوی اوردیگرصحافی ودانشوران نے بھی اظہارخیال کیا۔اس موقع پر گجرات فسادات کے حوالے سے رعناایوب کے ذریعے لکھی گئی انگریزی کتاب کے اردوایڈیشن کابھی اجراہوا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close