متفرقات

مہاراشٹر سرکار کا بھگوا چہرہ عیاں

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کا ’بھگوا‘ چہرہ ایکدم عیاں ہوگیا ہے ۔ بھارت ماتا کی جئے‘ کے تنازعے میں وہ کھل کر میدان میں کود پڑے ہیں اور کودے بھی اس طرح ہیں  کہ ان کی زبان سے ان افراد کے لئے دھمکی نکلی ہے جو ’ بھارت ماتا کی جئے‘ کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ناسک میں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بڑے ہی واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’ وہ لوگ جو بھارت ماتا کی جئے بولنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں ان کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ ‘ حالانکہ  انہوں نے کسی فرقے کا نام نہیں لیا ہے مگر یہ اندازہ  لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان کا اشارہ مسلم اقلیت اور سکھوں کی طرف ہے جنہوں نے صاف صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ ’ بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ ان کے مذہب ، عقیدے اور ایمان کے خلاف ہے اس لئےوہ یہ نعرہ نہیں لگاسکتے ۔

وزیراعلیٰ فرنویس کے بیان کے خلاف کانگریس  اور این سی پی ، سمیت حزبِ مخالف کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ہنگامےاور مذمت کے بعد حالانکہ وزیراعلیٰ فرنویس نے اپنے بیان کی تاویلیں دی ہیں اور یہ کہا ہے کہ انہوں نے کسی مخصوص فرقے کو ذہن میں رکھ کر بیان نہیں دیا ہے مگر ان کی وضاحت اس لئے حلق سے نیچے نہیں اتررہی ہے کہ ان کی سرکار نے کئی ایسے فیصلے کئے ہیں جو ’ مسلم اقلیت مخالف ہیں ۔۔۔ ان کے فیصلوں اور ان کی سرکار کی پالیسیوں نے ان کے ’ مسلم مخالف‘ رخ کو پوری طرح سے اجاگر بھی کردیا ہے اور مہاراشٹر کی سیاست میں زہر بھی گھول دیا ہے ۔ دیویندر فرنویس کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہی سے مہاراشٹر کا سیاسی اور سماجی منظر نامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوا ہے ۔ ’بھارت ماتا کی جئے‘ والے بیان کے علاوہ سیاسی اور سماجی منظر نامے  میں تبدیلی کے لئے دومثالیں مزید دی جاسکتی ہیں ۔

ایک واقعہ مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کے سربراہ راج ٹھاکرے کی اپنی پرانی ’ پرپرانتیوں‘ یعنی غیر مہاراشٹرین کے خلاف تحریک کے احیاء کا ہے اور دوسرا واقعہ ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ( این سی پی) کے قد آور لیڈر چھگن بھجبل کی گرفتاری کا ہے ۔۔۔ اگرتھوڑی دیر کے لئے  ہم ریاست سے نظریں ہٹاکر ملک بھر پر نظر ڈالیں تو یہ صاف صاف پتہ چل جاتا ہے کہ مودی حکومت کے قیام کے بعد سے کوئی دن ایسا نہیں گذرا ہے جب کسی نئے ہنگامے نے سر نہیں اٹھایا ہے ۔۔۔

کبھی مسلمانوں کے تعلق سے ہنگامے برپا ہوتے ہیں ، ان کی ’گھر واپسی ‘ کی بات کی جاتی ہے ، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا شوشہ سراٹھاتا ہے ،بابری مسجد موضوع بحث بنتی ہے تو کبھی مسلم مردوں کی چار شادیوں کے جواب میں مسلم عورتوں کے لئے بھی چارشادیوں کے جواز جیسی ذلیل تقریریں سُننے میں آتی ہیں ۔۔۔ ان تمام ہنگاموں کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کیا جائے اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ سڑکوں پر اترآئیں اور پھر ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوکہ وہ دوبارہ کسی بھی موضوع پر گھر سے باہر نکلنے  کی جرأت نہ کرسکیں۔ کبھی آر ایس ایس کے کرتا دھرتا تو کبھی ہندو مہاسبھا کے لیڈر اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو تو کبھی دلتوں کو پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ دلت اسکالر روہت ویمولا کواسقدر ہراساں کیا جاتا ہے کہ وہ خودکشی کرلیتا ہے ۔۔۔ ملک بھر کے دلت طلباء بے چینی محسوس کرتے اور خود کو اعلیٰ ذات کے رحم وکرم پر پاتے ہیں ۔ پچھڑی برادریاں خود کو ٹھگاہوا محسوس کرتی ہیں ۔  حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی برقرار رہتی  ہے ۔۔۔ انہوں نے دوسرے من موہن سنگھ کا روپ اپنا لیا ہے ۔ یقیناً اس لئے کہ حکومت پر آنچ نہ آنے پائے ۔ مسلمان اور مسلم لیڈر یا دلت اورپچھڑے طبقے کی قیادت کوئی معمولی سا تنازعہ اٹھائے تو اس کے لئے جیلوں کے دروازے کھل جاتے ہیں لیکن اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر لعن طعن کرنے والے حوصلہ افزائی کے مستحق ٹہرائے جاتے ہیں! ہندوستان کی جمہوریت  ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ اب اگر اس سے لفظ ’ سیکولر‘ کو ہٹابھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور سیکولر عناصر ظلم وستم سہہ کر خاموش رہنے پر مجبور ہیں ۔

راج ٹھاکرے کی بات کرنے سے قبل گجرات کے ہاردک پٹیل کا ذکر ضروری ہے جس نے پچھڑی ذات کے پٹیلوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ نچلے طبقے کو اعلیٰ مقام دلانے کے لئے جدوجہد کررہا تھا مگر آج ہاردک پٹیل سلاخوں کے پیچھے ہے ۔ بغاوت سمیت قانون کی وہ دفعات اس پر لگادی گئی ہیں کہ اس کا جیل سے باہر نکلنا  ناممکن سا ہوگیا ہے ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جےاین یو) کا معاملہ بھی سامنے ہے ۔ وہاں فرقہ پرستی سے آزادی کے لئے نعرے بلند کئے جاتے ہیں اور وہ ’میڈیا‘ کے کمال سے ’ پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بنادیئے جاتے ہیں! اور اس سلسلے میں ’ بغاوت‘ کے الزام میں جے این یو کی طلبا یونین سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کی گرفتاری بھی عمل میں آتی ہے ۔ یہ سارے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں ’ سیکولرزم‘ کا بھرم رکھنے والوں اور اسے فروغ دینے میں محوری کردار ادا کرنے والوں کے لئے جیل کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔ جبکہ فرقہ پرستی کا پرچار کرنے والے شوروغل اور ہنگامے برپاکرکے ادھر سے ادھر آسانی سے گھومنے کے لئے آزاد ہیں ۔ اس ملک کی جمہوریت کا یہ ایک افسوسناک پہلو ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

مذکورہ حالات کے پس منظر میں مہاراشٹر کی مثال لیں جہاں ’منسے‘ کے سربراہ راج ٹھاکرے کھلے عام اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ غیر مہاراشٹرین باشندوں کی آٹورکشاؤں کو آگ لگادی جائے ۔ اسٹیج سے کھلے عام ’ فرمان‘ کے جاری ہوتے ایک غیر مہاراشٹرین آٹورکشاوالے کی نئی گاڑی پھونک دی جاتی ہے ۔ ہنگامہ مچتا ہے، بہار سے لے کر دہلی اور مہاراشٹر تک راج ٹھاکرے کے خلاف آواز اٹھتی ہے لہٰذا  پہلے تو راج ٹھاکرے اپنا پروگرام واپس لینے کا اعلان کرتے ہیں لیکن پھر اچانک اپنے پہلے والے بیان پر اٹل ہوتے نظر آتے ہیں یعنی یہ کہ ’ غیر مہاراشٹرین ‘ کی آٹو رکشاؤں کو پھونک دیا جائے ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہاراشٹر ہندوستان سے باہر کی کوئی ریاست ہے جہاں یوپی ، بہار، راجستھان وغیرہ کی ریاستوں کے باشندوں کوآنے کے لئے ویزے اور پاسپورٹ حاصل کرنا ہونگے؟ یہ اعلان ملک سے بغاوت نہیں تو پھر کیا کہلائے گا ؟ ہندوستان کے باشندوں کو خود اپنی ریاست میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا ملک کے قانون کا مذاق اڑانا ہے یا نہیں؟ مگر افسوس کہ ہاردک پٹیل اور کنہیا کمار کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے والی بی جے پی حکومت ، افراتفری کا ماحول پیدا کرنے والے راج ٹھاکرے کے خلاف کوئی کارروائی  نہیں کرتی ۔ جیل کی سلاخیں تودرکنار پولس اسٹیشن میں مقدمہ تک درج کرنے  میں آنا کانی کی جاتی ہے ۔ ۔۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ راج ٹھاکرے کو ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے  جب راج ٹھاکرے نے اشتعال انگیزی کی ہے ۔ پہلے بھی وہ مہاراشٹرین اور غیر مہاراشٹرین کا شوشہ چھوڑ چکے ہیں ۔۔۔ 2008-9 میں انہوں نے ’ پرپرانتیوں‘ کے خلاف اپنی تحریک شروع کی تھی اور ساری  ریاست میں ایک ایسی دہشت پھیلادی تھی کہ یوپی ، بہار اور شمالی ہند کی دوسری ریاستوں کے بے شمار افراد روزی روٹی چھوڑ کر اپنے اپنے وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ممبئی سے لے کر ناسک اور اورنگ آباد تک اپنے ’ورکروں ‘کو تشدد پر اکسایا تھا اور بڑے پیمانے پر شمالی ہند کے باشندوں کو لوٹاپیٹا تھا۔ یہ وہی راج ٹھاکرے ہیں جنہوں نے انڈین ریلویز کے امتحان میں شرکت کے لئے دوسری ریاستوں سے آئے طلباء کے ساتھ مارپیٹ کی تھی ، یہ وہی راج ٹھاکرے ہیں جنہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے خلاف  کہ وہ شمالی ہند کے ہیں ، تحریک چلائی تھی ۔ انہیں اپنی تحریک کا فائدہ ملا تھا۔۔۔۔ 2009 کے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن میں ان کی پارٹی ’ منسے‘ ایک طاقت بن کر ابھری تھی ، اسے 13 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ۔ مگر 2014 کے کارپوریشن الیکشن میں راج ٹھاکرے کومنھ کی کھانی پڑی تھی ۔  لوگ کہتے ہیں کہ ہار کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی تحریک سے ہاتھ اٹھالیا تھا۔۔۔ اب کارپوریشن کے الیکشن کو ایک سال باقی ہیں اور راج ٹھاکرے کی یہ کوشش ہے کہ وہ شمالی ہند والوں کے خلاف تحریک چلاکر پھر سے ایک سیاسی طاقت بن جائیں ۔ پہلے انہیں کانگریس کی درپردہ مدد حاصل تھی، جو شیوسینا کے زور کو توڑنا چاہتی تھی اور اب فڈنویس سرکار کی درپردہ حمایت حاصل ہے جو اپنی حلیف شیوسینا کو سبق سکھانا چاہتی ہے۔ ’ منسے‘ کی طاقت میں اضافے کا مطلب شیوسینا کی طاقت میں کمی ہے ۔۔۔ مگر یہ بھی ممکن ہےکہ  ’ منسے‘ کی طاقت میں اضافے سے بی جے پی بھی نقصان اٹھالے ۔۔۔ بالخصوص دیگر ریاستوں میں ۔۔۔ لیکن فی الحال تو بی جےپی کی نظر ممبئی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن پر ہے ۔۔۔ فرقہ پرست ایسا ہی کرتے ہیں ، اپنی سیاسی دوکانیںچمکانے کے لئے وہ  ہر طرح کی حرکت کرگذرتے ہیں ۔ لیکن سیکولر طاقتیں اس تعلق سے کچھ سوچ بھی لیں تو پولس کی ان پر گرفت مضبوط ہوجاتی ہے ۔ اگر ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت میں انصاف  اسی کو کہا جائے گا تو پھر بھلا اس ملک کی جمہوریت  اور سیکولرزم کی  حفاظت کیونکر ممکن ہوگی؟

’بھارت ماتا کی جئے‘ کے تنازعے میں مجلس اتحاد المسلمین ( ایم  آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی کا ذکر ضروری ہے ۔ ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اپنی ایک تقریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اگر ان کے گلے پرچھری بھی رکھ دی جائے تب بھی وہ ’ بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ بلند نہیں کریں گے ۔ ایم آئی ایم کے صدر اویسی نے یہ بیان کیوں دیا ، انہیں یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،یہ تو وہی جانتے ہیں اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا انہیں کھلے عام یہ  بات کہنے کی ضرورت بھی تھی؟ اگر انہیں ’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ نہیں لگانا تھا تو وہ ایسے کسی اجتماع میں ، جہاں ایسا نعرہ لگتا ہو خاموش رہ کر بچ سکتے تھے ۔ اس طرح ،ان کے اعلان سے جو کشیدہ ماحول پیدا ہوا ہے وہ ماحول نہیں بنتا مگر اب ہر جگہ ان کا بیان موضوع بحث بن گیا ہے ۔اور ان کے ایک رکن اسمبلی وارث پٹھان مہاراشٹر اسمبلی سے اسی لئے معطل بھی کئے جاچکے ہیں کہ انہوں نے ’ بھارت  ماتا کی  جئے‘ کا نعرہ لگانے سے انکا کردیا تھا۔ اب بالخصوص مہاراشٹر اور عروس البلاد ممبئی میں جہاں شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اویسی کے خلاف تحریک چھیڑدی ہے ۔ انہوں نے اویسی کو ’ پاکستان بھیجنے‘ کا مشورہ دے ڈالا ہے ۔۔۔ شیوسینا اور دوسری  فرقہ پرست طاقتیں اس نعرے کو اچھال کر اپنے مقصد ، یعنی فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کے لئے سرگرم ہوگئی ہیں ۔۔ وہ اب دنیا کو ، اویسی کے اس بیان کے بعد ، یہ دکھانے کے لئے سرگرم ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان ملک سے محبت نہیں کرتے ۔ کسی نعرے کو لگانا نہ لگانا نجی فعل ہے اسے موضوع بحث بنانا حماقت ہے ۔۔۔ ادھر شیوسینا اور بھگوا تنظیموں کا یہ زورہے کہ اویسی کی گرفتاری عمل میں آنی چاہئے اور ادھر اویسی اپنے بیان پر اٹل ہیں ۔ لگتا یوں ہےکہ یہ ساری حرکتیں ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں جن کا مقصد ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر ملک میں ایم آئی ایم کا دبدبہ بڑھتا ہے اور مسلمان اس کی جانب لپکتے اور اویسی کو اپنا سب سے بڑا لیڈر مان لیتے ہیں تو مسلم ووٹوں کے بٹوارےکی راہیں آسان ہوسکتی ہیں ۔۔۔ سیکولر پارٹیوں کے ووٹ بکھرسکتے ہیں اور فائدہ بی جے پی کوپہنچ سکتا ہے ۔ فی الحال اس تعلق سے کوئی حتمی بات تو نہیں کی جاسکتی ہے لیکن  یوپی مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں چناؤ کا جو ماحول پیدا ہورہا ہے اس میں یہ فرقہ پرستی بی جےپی کے لئے فائدہ مند اور سیکولر پارٹیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور شاید ان ہنگاموں کا مقصد یہی ہے ۔ این سی پی لیڈر ، ریاست کے سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ چھگن بھجبل کی روپیوں کے ہیر پھیر میں انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے گرفتاری کے واقعے نے بھی ریاست کی سیاسی اور سماجی فضا کو متاثر کیا ہے ۔ بھجبل کی گرفتاری سے پچھڑے طبقے، این سی پی سے کٹ سکتے ہیں ۔ عام تاثر یہ ہے کہ چونکہ بھجبل مالی سماج کے ہیں اس لئے شردپوار نے انہیں بلی کا بکرا بناکر اپنے بھتیجے اجیت پوار کو بچالیا ہے جو خود بھی کرپشن کے جال میں پھنسے ہیں ۔ بہرحال  ان حالات میں لوگوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور یہ  بات مدنظر رکھنی ہوگی کہ محض جذباتی سیاست ملک کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے ۔ کوئی ایسا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا  کہ مسلمانوں اور پچھڑوں کے ساتھ سارے سیکولر عوام اور ساری سیکولر پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں تاکہ فرقہ پرستوں کا قلع قمع کیا جاسکے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close