نظریات

جدیدیت کے گمراہ کن اورخطرناک اثرات (قسط اول)

جدیدیت کی فکرمذہب کےخلاف بغاوت ہےاس امرمیں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ رنگ بدلتارہتاہے، بہت کچھ بدل چکاہےاورمزیدبدلےگا۔

آصف علی

عالم اسلام جدیدیت اورروشن خیالی کاسفرطےکررہاہے۔ ہرجگہ اسلامی اقدارکوپامال کیاجارہاہےاورجدیدیت کااعلان کیاجارہاہے. دنیا میں جہاں جہاں جدیدیت آئی وہاں جنسی جرائم۔ عریانیت اورفحاشی عام ہوئی۔ رشتوں کااحترام ختم ہوا۔ کیوں کہ جدیدیت محض ایک فلسفیانہ سوچ کانام ہی نہیں ہےبلکہ ایک عالم گیرفتنہ بھی ہے۔ اس فکرنےنہ صرف معاشی، سیاسی، سماجی اوراخلاقی شیرازہ بندی میں نفوذکرکےمغربی دنیاہی تسخیرنہیں کی بلکہ اپنی سامراجیت کووسعت دےکربین الاقوامی سطح پر اپنے اثرونفوذ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ نتیجتاًمغرب کےتہذیبی اورفکری ارتقاکی لہریں جب مشرق خصوصاًاسلامی دنیاسےٹکرائیں توجدیدیت کو ایک عالم گیرفکرکےبطورقبول کرلینےکی کشمکش برپاہوگئی۔

ماڈرن ازم کی قبولیت عامہ کی وجوہات

اس فکرکی قبولیت عامہ کی چندوجوہات بتائی جاسکتی ہیں۔

1۔ جدیدیت کی فکرکواس اصل تاریخ سےکاٹ کرمحض غیراقداری فکرکےطورپرسمجھنا

2۔ اسلامی علوم اورتاریخ کوجدیدیت کےفکری تناظرمیں سمجھنےکی کوشش کرنا

3۔ مغرب کی مادی اورسائنسی ترقی سےانتہادرجےکی مرغوبیت ومغلوبیت

4۔ مغربی فکر، فلسفہ، علوم وفنون کےمنظرپس منظر، تہہ منظراورمضمرات سےناواقفیت اوراس کےپس پردہ محرکات سےعدم آگہی۔

جدیدیت نےچوں کہ علمی بنیادوں پرصرف اورصرف وجودانسانی کوہرشک وشبہ سےعاری پایااورکائنات کوصرف اورصرف انسانی پیمانوں پرپرکھناہی علمیت کی میراث قرارپایا۔ جب انسان پرستی(ہیومن ازم)کواقداری ڈھانچےمیں کلیدی اورقطعی حیثیت اورانسان کوہی تمام خیروشرکےتعین کاحق حاصل ہوتوایسی صورت میں خداپرستی کاکیاسوال۔ حقیقتاًاگردیکھاجائےتوجدیدیت نےاللہ تعالی کی جگہ ایک ریشنل یعنی عقل پرست شخص کوخدابنادیایادوسرےلفظوں میں اللہ کی جگہ نفس پرستی نےلےلی۔ جسےقران نےبدترین شرک سےتعبیرکیاہے۔ کیوں کہ ہرشخص کی عقل نفس کےتابع ہےلہذاخواہش نفس ہی جدیدیت کاالہ قرارپایا۔ جدیدیت کیاہے؟جدیدیت انسان کی الوہیت کااعلان واعتراف ہے، زیادہ سےزیادہ سرمایہ کاحصول اورسرمایہ کامسلسل ارتکازانسان کی الوہیت کااظہارہے۔ جدیدیت انسان کوخدااوردنیامیں جنت بنانےکی ایک شعوری اورعملی کوشش ہے۔ جدیدیت کی علمیت جس کلمہ پرلوگوں کوجمع کررہی ہےوہ انسان پرستی کےسوااورکچھ نہیں کہ لاالہ الاالانسان۔ یعنی کوئی معبودنہیں سوائےانسان کے۔ اس صورت میں خداپرستی کاگمان خارج ازامکان ہے۔ حادثاتی طورپرتوجدیدیت پسندمعاشرےمیں خداپرستی ممکن ہےمگراس کی کوئی علمی بنیادپوری جدیدفکرمیں نہیں ملتی۔ مغربی فکرمیں انسان پرستی کی بہت سی شکلیں، رنگ وروپ اوردھارےموجودہیں۔

آزادی بنیادی آئیڈل

آزادی سےمرادیہ ہےکہ انسان اپنےخیروشرکےمعیارات کےتعین کانہ صرف خودمجازہےبلکہ حق دارہےاوراس کی انسانیت کاجوہراورروح ہی یہ ہےکہ وہ اپنی آزادانہ متعین کردہ اقدارکواپناسکےاوران کےمطابق اپنی زندگی گذارسکے۔ وہ کسی خارجی ذریعے(وحی۔ نقل)سےاپنی خواہشات کےتعین وترتیب کاپابندنہ ہوبلکہ خواہشات کامنبع اس کااپنانفس ہو۔

مغربی فکرمیں پھرآزادی کی بھی کئی قسمیں ہیں اوراس کےمختلف اشکال اوررنگ وروپ ہیں، اوراس کےحصول کےلیےطریقے، قرینےاورسلیقےبھی موجودہیں۔

جب جدیدیت نےانسان کوفائنل اتھارٹی یاخدابنادیاتوآزادی اس کاحاصل نتیجہ تھاچوں کہ ہرانسان خودہی خداہےاورکسی کاتابع نہیں ہےلہذاعقلی طورپرمرد، بوڑھااوربچہ سب برابرہیں۔ اس مغربی تصورنےحفظ مراتب اوراحترام کوختم کردیا۔ حقیقتوں کےمراتب بدل گیےاورحقیقتوں کےمقاصدبھی تبدیل ہوگیے۔ اسی مساوات کی وجہ سےخاندانی نظام درہم برہم ہوگیاکیوں کہ ہرآدمی برابرہے۔ بڑےچھوٹے، پیغمبرامتی۔ استادشاگرد۔ کاکوئی فرق ہی نہیں۔ کیوں کہ انسان پرستی کاتقاضہ ہےکہ سب کوایک نوع سمجھاجائے۔
مغربی فکرمیں انسان خودخداہے۔ وہ آزادہے۔ جوچاہےکرسکتاہےاورجوبھی شخص جس طریقےسےبھی مادی ترقی کرنا چاہےکرسکتاہے۔ سرمایہ کاارتکازجس طریقےسےبھی ممکن ہووہ اس کےحصول میں لگے۔ مادی اورسائنسی ترقی نےانسان سےاس کاقلب چھین لیاہے۔ مادی ترقی کرنےوالی اقوام، سارےکےسارےگناہوں میں مبتلاہیں۔ کیوں کہ زندگی کامقصدصرف لہولعب بن کررہ گیاہے۔ اس کےلیےایجادات کاسیل رواں چلاآرہاہے۔

ہرانسان یکساں طورپرعقل رکھتاہےلہذاعقلی بنیادوں پرکوئی بھی انسان اپنےسواکسی بھی چیزخواہ وہ خیالات ہوں یااقدار۔ معیارات خیروشرہوں یاوحی اورخداکاوجود۔ غرض کسی بھی چیزکاانکارکرسکتاہے۔ اکیلےانسان کی عقل اورذات اس کااپناوجودہے۔ جس کاہوناکسی بھی قسم کےشک وشبہ سےبالاترہے۔ جدیدیت کےنزدیک عقلِ انسانی ہرحقیقت سےماورا اوربلنداورایک ایسا وجود ہے جو ہرشےکی حقیقت جاننےکےلیےبہ مثل میزان ہےکہ ہرشےکی حقیقت تواس پرمنحصرہےمگریہ کسی اورشےکےتابع نہیں، گویا عقلِ انسانی قائم بالذات ہےاوریہی انسان کاجوہرہے۔ جدیدیت کااصل مطلب اوراساس وحی پرمبنی نقلی علوم کوبے اعتبار سمجھنا اورعقلیت اورانسان پرستی اختیارکرناہے۔ اس لیےاس کادوسرانام انسان  پرستی(ہیومن ازم)بھی ہے۔ لہذامغرب کےبنیادی اصول آزادی، مساوات، ترقی کانصب العین عقل ہی کےذریعہ ممکن ہے۔

آزادی، مساوات، فلاح انسانیت، عدل وغیرہ کواسلام کلیتاًردنہیں کرتالیکن ان تصورات کےمعنی ومطالب اس تاریخیت میں پنہاں ہیں جوانبیاکرام کی تاریخ سےمنسلک ہیں۔ یہ بالکل ممکن ہےکہ مغربی تصور، حقوق انسانی اورتصوربرداشت، تصورجمہوریت کوآپ اسلام کےتصورحقوق العباد، تصورصبر، تصورشورائیت کےمماثل کرلیں اوراس کی حمایت میں قران وحدیث کوبطوردلیل پیش کردیں لیکن یہ ان تصورات کی مجردتفسیرہوگی اورانہی علمی بنیادوں پراستوارہوگی جوکہ غالب اکثریت کی عقلیت سےمطابقت رکھتی ہوں۔ اس طرزفکرکالامحالہ یہ نتیجہ نکلےگاکہ آپ اسلام کومغربی اقسام میں ٹھونستےچلےجائیں گےاوراس کوعین عبادت بھی سمجھتےجائیں گے۔ اگرہم اپنےمخلص مفکرین پرنگاہ ڈالیں توواضح ہوجاتاہےکہ یہ لوگ بھی مغرب کےتہذیبی اثرات سےمحفوظ نہیں رہ سکےاورہم نےمغرب کی اسلام کاری کےلیےبہت سےایسےاسلامی جوازاسلامی علمیت کی بنیادپرپیش کیےجن کےسہارےحقوق کی سیاست، سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ جیسےکافرانہ اورخالص مغربی اقداراورتصورات اسلامی سیاست کاجزولاینفک متصورہونےلگےاوران کوخالص اسلامی تصورات کےیابعض معنی میں غیراقداری تصورکرلیاگیا۔

جدیدیت کی فلسفیانہ بنیادیں واضح ہوجانےکےبعدمعلوم ہوتاہےکہ جدیدیت کی فکراوراسلامی فکرمیں کسی بھی قسم کی کوئی بھی مطابقت نہیں ہےاورنہ پیداکی جاسکتی ہے۔ جدیدیت کی فکرمذہب کےخلاف بغاوت ہےاس امرمیں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ رنگ بدلتارہتاہے، بہت کچھ بدل چکاہےاورمزیدبدلےگا۔ لیکن سوال یہ ہےکہ کیازمانی ارتقاکی ہرتبدیلی اور ہرجدید چیزصحت مندہے؟ کیاہرتغیرباعث خیرہے؟کیاتاریخ کاہرقدم عروج کی طرف اٹھتاہے؟کیاہرحرکت بلندی کی سمت لےجاتی ہے؟

ان سوالات پرتاریخ کی روشنی میں غورکیاجائےتواس کاجواب نفی میں ملتاہے۔ ہرحرکت ترقی کےلیےمثبت نہیں ہے، ایک نوع کی حرکت اگرآپ کوثریاکی بلندیوں تک لےجاسکتی ہےتودوسری قسم کی حرکت تحت الثری کی پستیوں تک لےاترتی ہے۔ ۔ ۔ مطلوبِ نفس حرکت نہیں بلکہ درست سمت میں حرکت وہ ہےجوہمیں اللہ اوراس کےرسول بتائیں گے۔ قابل تقلیدوہ نہیں جوگرگٹ کی طرح صبح وشام رنگ بدلتارہےبلکہ وہ ہےجوخوداپناتورنگ رکھتاہواوردنیاکواپنےرنگ میں رنگتارہے۔ مسلمان دنیامیں زمانےکی پیروی کےلیےپیدانہیں کیےگیےبلکہ وہ پوری انسانیت کی فلاح وصلاح کاذریعہ بنائےگیےہیں۔

ایک مسلمان کےلیےاس بڑی ذلت اورکوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ کانائب سنت رسول کامدعی اوردینی روایات کاامین ہونے کے باوجود جدیدیت کواپنےدین کےمطابق بدلنےکی بجائےاپنےہی دین کومسخ کرناشروع کردے۔ لہذاجدیدیت اسلام مخالف ایک فکر، ایک نظریہ ایک فلسفہ ایک عقیدہ ہے۔ یہ کوئی غیرجانب دارغیراقداری چیزنہیں بلکہ ایک اقداری چیزہے، جدیدیت جہاں آتی ہےوہاں وہ اپنےتمام شروراورمفاسدبھی ساتھ لاتی ہےلہذابحیثیت مسلمان جدیدیت کی تمام شکلوں اوررنگوں کومنہدم کرناہرایک کافریضہ ہے۔

جدیدیت موت اورمابعدالموت کاانکارہے۔ جدیدیت کی مختلف شکلیں اوررنگ وروپ ہیں۔ جدیدیت کےمظاہروآثارپورےعالم اسلام کواپنےنرغےمیں لےچکےہیں، اورہرجگہ اقداروروایات ٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں۔

ذیل میں جدیدیت گزیدہ عالم اسلام کےاقتصادی، معاشی، خاندانی، اجتماعی اورمعاشرتی حالات پرکچھ معروضات پیش خدمت ہیں، جوغربت اوربےکسی کی لفظی اورنثری تصویریں ہیں۔ ان تصویروں کےپس منظرمیں جدیدیت سےمرغوب ومغلوب قوم اور معاشرےکی تنہائی، تباہی وبربادی، بےکسی وبےبسی، حیرت واستعجاب اوراضطراب میں مبتلاعالم اسلام کی دھندلی سی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ جدیدیت کی یلغارجہاں بھی وارکرےگی نتائج کم وبیش یکساں ہوں گے۔ معاشرےکےمزاج، روویوں، طبقات، نسلوں، عورتوں، بچوں، غریبوں، مظلوموں کی یہ ترجمانی جوکسی بھی لمحےشعلہ جوالہ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ہم بارود کے ڈھیرپربیٹھےہوئےہیں اورہمارےخوش حال اورسرمایہ دارلوگ اس ڈھیرپرمسلسل جلتی ہوئی تیلیاں پھینک رہےہیں۔ یہ ڈھیر کسی بھی لمحہ خاکسترہوکرپھٹ سکتاہے۔ جدیدیت نےعصرحاضرکےانسان کوکیادیاکس اندازمیں انسان کوتبدیل کردیا۔ عصر حاضرکےبےکس۔ بےبس۔ حاسد۔ حریض مریض۔ غریب اورمظلوم انسان کی داستان کےچنداشارے، کنائے اور المیے ضرور پڑھیے۔ یہ جدیدیت کی لپیٹ میں آنےوالےجدیدانسان کی ترجمانی ہےیہ سارےمسائل۔ مشکلات آشوب ذات وکائنات اہل علم وفکرکوتوجہ کی دعوت دےرہےہیں کہ جدیدیت کےاثرات کتنےمہلک ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Close