نظریات

دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا، عالمی سازش

ریاض فردوسی

آکسفورڈ ڈکشنری میں لفظ ٹیررازم کے یہ معنی درج ہیں کہ سیاسی مقاصد کے حصول یا کسی منتخب یا غیر منتخب حکومت کو کسی کا م پر مجبور کرنے کیلئے پر تشدد افعال کے استعمال کو ٹیررازم کہا جاتا ہے۔ لفظ دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کا کھیل عالمی سازش کا حصہ ہے۔ جس کی خاکہ سازی اور عملی تدابیر میں لانے میں اسلام دشمن عناصر یہودیت ہی  ہے۔ جن کی جی حضوری اور حکم آوری میں مسلم ممالک کے بعض مذہب  اسلام سے بیزار حکمراں اور دیگر ممالک کی مسلم دشمن تنظیمیں پورے مکر و فریب کے ساتھ دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی ناپاک کوشش کررہی ہیں اور وہ اسلام کو ’’دہشت گرد‘‘ مذہب اور مسلمانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قوم ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ کیوں کہ ہمیں دنیا کا حاکم اور دنیا والوں کے لئے نعمت خداوندی بنایا گیا تھا لیکن ہمارے اکابرین کے علاوہ ہم اس مقام کی اہمیت سے غافل رہیں، فرض حاکمیت ادا ہی نہیں کیا۔اس کے سبب آج ہمارا وجود کسی کے لئے بھی نعمت نہیں۔ حتیٰ کہ ہم اپنے بھائیوں کو شیعہ سنی اور دیگر ناموں سے موسوم کرکے اپنے سے دور کر چکے ہیں۔

ہم مسجدوں کو اے سی اور سنگ مرمر سے مزین کرنے میں مصروف ہیں اگرچہ ہماری ایک آبادی گداگری میں ملوث ہے۔مزاروں کو بہترین طریقے سے سجانے میں لگے ہیں اگرچہ وہاں دست سوال کر نے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

جناب نیلسن روہیلا منڈیلا کو امریکی حکومت ایک زمانے تک دہشت گرد کہتی رہی اگرچہ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔امریکہ اور طاغوتی نظام کے اشاروں پر جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان پر قتل وغارت، دہشت گردی، ملک کا غدار اورکئی جھوٹے الزامات لگا کر  قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، اور دہشت گرد کہلاتے رہے۔انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔لیکن تحریک کی کامیابی کے بعد 1993ء کا نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا۔ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہوتا ہے۔

نیتاجی سبھاس چندر بوس،چندر شیکھر آزاد، لالا لاج پت رائے، رام پرساد بسمل،بھگت سنگھ،راج گرو،سکھ دیو اور دیگر محبان و شہیدان ملک ِہندوستان کو انگریزی اخبارات اور رسالے دہشت گرد،لٹیرا، چور، اور ڈاکو ہی لکھتے تھے۔لیکن ہم بھگت سنگھ اور ان کے تمام ساتھیوں کو تحریک آزادی کا عظیم ہیرو کہتے ہیں اور ان سب کو ’شہید‘ کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ 1785ء میں فرانسیسی انقلاب کے دوران اور1792، 1793 ء کو فرانسیسی انقلاب کے سالوں میں میکس ملین نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں چالیس ہزار افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ دو لاکھ لوگوں کو بھوک اور پیاس کے ذریعے مارا گیا تھا۔اپریل 1926 ء کوبلغاریہ کے صدر مقام صوفیا کے چرچ کے دھماکہ میں پچاس افراد ہلاک اور 500زخمی ہوجاتے ہیں، یہ دھماکہ بلغاریہ کی کیمونسٹ پارٹی نے کیا تھا جو مسلمان نہیں تھے۔پہلا عالمی جنگ 1930  ء میں ہوا جس میں ۱۷، لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔دوسرا عالمی جنگ 1939۔1945 ء میں ہوا جس میں ۵۵ لاکھ اموات ہوئی۔  1934 ء میں یوگو سلاویہ کے بادشاہ کوقتل کردیا گیا اور قاتل یہودی تھا،1961 ء میں پہلا امریکی جہاز اغوا ہوا جس کا ذمہ دار ایک روسی تھا۔1945ء میں امریکا نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا اور اس حملے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد جاپانی ہلاک ہوئے۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد 1941ء سے لیکر 1948ء تک یہودیوں نے 260سے زائد دہشتگرد کارروائیاں کیں، ہٹلر نے ساٹھ لاکھ سے زائد یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ویتنام کی جنگ میں ۵ لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔ 1975.۔1979 ء کمبودیا میں ۳ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی۔جوزیف سٹالن نے ۲۰ لاکھ انسانوں کی جان لی۔جس میں ۱۵ لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جان تڑپا تڑپا کر لی۔مائوتسے تنگ نے ۱۵ سے ۲۰ لاکھ لوگوں کو بے دردی سے قتل کروایا ہے۔بینیتو موسیلینی ۴ لاکھ لوگوں کو قتل کرکے ہی حکومت حاصل کی ہے۔سمراٹ اشوک نے کلنگ لڑائی کے درمیان ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا قتل عام کرکے کلنگ کی لڑائی فتح کی۔امبارگو کو جاج بش نے عراق بھیجا وہاں اس نے ظالمانہ طریقے سے۲لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جان لی۔جس میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے۔ہٹلر نے ۶۰ لاکھ سے زیادہ یہودیوں کا قتل عام کیا اور ناجیوں کے آفس میں ان یہودیوں کی بالوں کے قالین تھے۔یہ ان کی وحشی پن کی انتہا تھی۔ان میں سے ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔پھر ہم کیسے دہشت گرد؟اور ہماری کیسی دہشت گردی؟

عجیب طرف تماشہ ہے فلسطین میں کہ جبراَ َقبضہ کرکے اسرائیلی طاغوتی نظام بے گناہ مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ مسلم بہنوں کی عزت کو تار تار کیا جارہا ہے اور اس کے باوجود اگر وہ غیور مسلمان صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تب وہی دہشت گرد ہیں ؟کیا کسی کا دہشتگرد، کسی کا حریت پسند ہوتا ہے؟کئی سالوں تک روسی حکومت کا افغانستان میں قبضہ رہا اور افغان جوانوں کے جوابی حملوں کو لگاتار روسی اخبارات نے دہشتگردانہ حملہ ہی لکھا تھا۔

وسنیا ہرزیگوینا میں سربوں نے مسلمانوں پر چڑھائی کر کے 10ہزار بے گناہ مائیں، بہنیں، بچے اور بچیوں کوظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا۔ایک کنٹینر میں بند کر کے ہاتھ پائوں باندھ کر ان مظلوم مسلمانوں کوگولیوں سے چھلنی کردیاگیا۔ عراق میں 5لاکھ عراقی شہید کئے گئے۔ لیبیا میں 59ہزار لیبیا کے مسلمان جن میں شیرخوار بچے اور بچیاں شامل تھیں شہید کئے گئے۔ افغانستان میں روس نے جب  چڑھائی کی تھی تو جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ بے گناہ افغانی شہید کئے گئے اور بعدازاں نائن الیون کا بہانہ بناتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 20لاکھ عام شہری نام نہاد جنگ کا ایندھن بن گئے۔شام میں 6لاکھ بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔کنبہ کا کنبہ ختم ہوگیا لیکن انسانی حقوق کی بات کرنے والی تنظیموں کوان مظلوموں کی آہ وبکا کہاں سنائی دیتی، اس لئے کہ وہ انسان کہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو مسلمان ہیں ؟اور ہم انسان نہیں ہوتے، اس لئے ہماراکوئی حق کہاں۔ ۔۔ہم تومسلمان ہیں ؟

میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ہے۔ ان کی کوئی پہچان نہیں کہ وہ انسان بھی ہیں ؟کوئی گھر نہیں۔ کوئی زمین نہیں۔ کشتیوں میں سمندر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بھی ان کو پناہ نہیں ہے۔سمندر میں پینے کے پانی کی کمی ہے،اس لئے وہ مظلوم اپنا پیشاب جمع کرکے پھر اسے صاف کرکے پیتے ہیں، ان کو مارنے والے بدھ مذہب کے پیروکار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چونٹی کو بھی نہیں مارتے۔ بدھ مذہب میں کسی کی جان لینا گناہ عظیم ہے۔ لیکن لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد بھی ان کو کوئی بھی دہشت گرد نہیں کہہ رہا۔ سارا قصور مسلمانوں کا ہی ہے، اور اسے ظالم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلایا بھی گیا ہے۔ان مظلوموں کاسب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں ؟

کچھ دنوں پہلے اسرائیل کے کچھ نوجوان اپنے ہاتھوں میں ایک بینر لے کر سڑکوں کو نظر آئے جس پر لکھا تھا:

(Khaibar Was Your Last Chance)

خیبر آپ کا آخری موقع تھا۔   یہودی آج بھی ایسی ہی ذہنیت کو لے کر اپنے دل و دماغ میں دشمنی نبھا رہے ہیں۔ جس پر لکھا ہوتا ہے۔ ”مسلمانوں خیبر کی فتح تمہاری آخری جیت تھی” اب تم ہم سے کبھی نہیں جیت سکتے؟

ملک ہندوستان میں مسلمانوں پر اب جئے شری رام نہ کہنے پر جئے بجرنگ بلی، جئے ہنومان نہ کہنے کی صورت میں روز بروز بھیانک حملے ہی نہیں بلکہ جان تک لی جارہی ہے۔ صرف اس لئے کہ ہم ڈر سے مرتد ہوجائیں۔ لیکن یہ ظالم نہیں جانتے کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا بلکہ اللہ اور رسولﷺ کی عزت اور ناموس کے لئے زندہ ہے، جس دن اسے لگے گا دین خطرے میں ہے، ناموس رسالت ﷺ کا معاملہ ہے پھر اس کی غیرت ایمانی انشاء اللہ دنیا دیکھے گی۔ مسلمان اپنے اوپر ہرظلم تو برداشت کرسکتاہے، لیکن قانون شریعت پر ایک حرف بھی ہم سے برداشت نہ ہوگا۔

ہمیں عمر ؓ کا انصاف یاد ہے کہ اپنے بیٹے کو قانون الہی توڑنے کے پاداش میں سخت سزا دی تھی۔حتیٰ کے ان کا انتقال ہو گیا۔ ہمیں عثمان ؓیاد ہیں جنہوں نے خوں ریزی نہ ہونے دیا اور خود کو اللہ کے دین پر قربان کردیا۔ ہمیں وہ معصوم علی کرم اللہ وجہ بھی یاد ہیں جو اپنی شہادت پر خوشی منا کر اعلان کرتے ہیں کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا۔ہمارے کابرین نے اپنی اپنی قربانی دے کر اس شجر اسلام کی آبیاری کی ہے۔اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم بھی ان کی سنت پر عمل کریں گے۔

مسلمان جان دے سکتا ہے۔۔۔مگر ایمان نہیں۔

لفظ جہاد کو شرپسند عناصرنے صرف اور صرف ہمارے خلاف استعمال کیا ہے۔راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ترجمہ: دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔(راغب الصفہانی، المفردات: 101)

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں ’’دین اسلام کی اشاعت  و ترویج، سربلندی و اعلاء اور حصول رضائے الٰہی کے لیے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔مولاناسید سلیمان ندوی صاحب لکھتے ہیں :’’جہاد کے معنی عموماً قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں۔ مگر مفہوم کی یہ تنگی قطعاً غلط ہے، لغت میں اس کے معنی محنت اور کوشش کے ہیں ‘‘ (سیرۃ النبی جلد۔5 صفحہ.210 طبع اول۔ دارالاشاعت کراچی نمبر۔1)جہاد کو ان اقسام میں قرآن اور حدیث نے تقسیم کیا ہے۔

نفس اور شیطان کے خلاف جہاد۔ جہاد بالقرآن یعنی دعوت و تبلیغ۔جہاد بالمال۔ جہاد بالسیف (تلواروں سے یا ہتھیاروں سے)اور سب سے بڑھ کر ظالم کے ظلم کا منھ توڑجواب دینے کے لئے جہاد ضروری ہے۔چاہے طاقت سے ہو، ہتھیاروں سے ہویا زبان سے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ریاض فردوسی

الشفاء کلینک سکہ ٹولی عالم گنج (نزد سکہ ٹولی مسجد )پٹنہ۔

2 تبصرے

  1. ڈیبیٹ میں شریک نہ ہونے سے دین کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ دین کا نقصان تو آج خود مسلمانوں سے ہی ہورہا ہے
    – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
    جاوید اختر بھارتی رابطہ 8299579972

    جو مسلمان اور مسلم نمائندگان و علماء کرام نیوز چینلوں پر مباحثے میں شرکت کرتے ہیں وہ اسلام کا دفاع نہیں کرپاتے اور انہیں اس بات کی فکر بھی نہیں ہوتی ہے کہ ہم مذہب اسلام کی سچی تصویر پیش کریں انہیں تو بس یہ خوشی رہتی ہے کہ ہم اس وقت نیوز چینل پر ہیں دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے واہ واہ کر رہی ہے مذہب اسلام کی تعلیمات کو واضح طور پر پیش نہ کرنے کی ہی سزا ملتی ہے کہ گالی گلوج تھپڑ بازی اور دھکامکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکے دلائل بھی اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ مسلمانوں کا سر اونچا ہونے کے بجائے نیچا ہوجاتاہے یہ بھی حقیقت ہے کہ نیوز چینل والے مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے مسلم نمائندوں کو مدعو کرتے ہیں یاتو وہ ایسا چہرہ لاتے ہیں جو جواب نہ دے سکے یاکہ پھر وہ خود انکی بولی بول سکے مسلم نمائندگان نیوز چینلوں پر جا کر مذہب اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں تو دین کو فروغ حاصل ہوگا لیکن نیوز چینل والے ایسے لوگوں کو نہیں بلائیں گے اور بلائیں گے بھی تو انہیں برداشت نہیں کرپائینگے انکی باتیں بہت گراں گذرے گی اور نیوز چینل والوں کا ہاضمہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کو برداشت نہیں کر پاتے اور اسی غرض سے مذہب اسلام سے متعلق انکے سوال ہوا میں اڑنے والے ہوتے ہیں وہ ایسی پوائنٹ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اسلام کی شبیہ کہاں سے خراب شکل میں پیش کیجائے تاکہ مذہب اسلام کو بدنام کیا جاسکے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاسکے مسلم نمائندوں اور علماء کرام نیوز چینل پر مباحثے کیلئے نہ جائیں تو دین کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا آج تو دین کا نقصان خود مسلمانوں کے گھروں سے ہورہا ہے ہر گھر سے رقص و سرور کی آوازیں ارہی ہیں آج کے دور میں موبائل کے ناجائز استعمال نے مسلمانوں کے معاشرے کا جنازہ نکال دیا ہے معاملہ تو یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جب دشمنان اسلام بھی تجارت یا دیگر ضروریات سے کہیں جایا کرتے تھے تو وہ اپنی لڑکیوں کو مسلمانوں کے گھر پہنچا دیا کرتے تھے کہ یہاں یہ محفوظ رہیں گی اور آج حالت یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی لڑکیوں کی عزت مسلم نوجوانوں سے ہی خطرے میں ہے پڑوسی کی عزت کو خطرہ پڑوسی سے ہے رشتہ داروں کی عزت کو خطرہ رشتہ داروں سے ہے جبکہ پڑوسی کا مقام و حقوق یہ ہے کہ نبی سید الکونین صل اللہ علیہ وسلم جب پڑوسیوں کے حقوق بتاتے تو اصحابِ کرام کو یہ اندیشہ ہوتا کہ کہیں پڑوسی کی جائداد میں پڑوسی کا حق نہ ہو جائے آج صرف غیروں کی برائی بیان کی جاتی ہے لیکن خود کا محاسبہ نہیں کیا جاتا گھر کے ذمہ داران بچوں سے کبھی سوال نہیں کرتے کہ جب تمہارے ذمے کوئی کام نہیں ہے تو آدھی رات تک کہاں گھوم تے ہو کیوں گھوم تے ہو کیا کرتے ہو اس لئے کہ ڈر ہے کہ بیٹا کہیں ناراض نہ ہوجائے بھلے ہی اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے فرمان خدا اور فرمان رسول کی نافرمانی کرتا جائے کوئی بات نہیں کل تک لوگ قرآن کی ایک آیت سن کر حالت کفر سے نکل کر صاحب ایمان ہوجاتے تھے اور آج رات بھر دینی جلسے میں علماء کرام کی تقریریں سن کر نعرہ لگا کر فجر کی نماز بھی نہیں پڑھ تے دوسری بات کہ دین کو فائدہ پہنچانے کی فکر ہی کس کو ہے مسلک کے نام پر، فرقہ بندی کے نام پر ویسے ہی دین کا زبردست نقصان ہورہا ہے جمیعۃ علماء ہند. مسلم پرسنل لا بورڈ، علماء مشائخ بورڈ وغیرہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا ایک چینل قائم کریں لیکن اس پر کبھی غور بھی نہیں کیا جاتا اور مذہب اسلام کا سب سے بڑا ذرائع ابلاغ تو خطبہ جمعہ ہے لیکن افسوس کہ بہت کم ایسی جامع مساجد ملینگی جہاں حالات حاضرہ پر خطیب خطبہ دیتا ہو بہت سی جامع مسجدوں میں اتفاق ہوا ہے تو ایک رقعہ لیکر چھوٹے چھوٹے مسائل بیان کرتے دیکھا گیا ہے اور کچھ مسجدوں میں تو مکتب فکر کی بنیاد پر اختلافات میں ڈوبی ہوئی تقریریں کر تے دیکھا گیا جبکہ بستی میں ایک جامع مسجد کی تعمیر کا مقصد ہی یہی ہے کہ پوری بستی کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں تو جب ہفتے میں ایک دن پوری بستی کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں تو خطبہ بھی اسی معیار کا ہونا چاہیے بات تلخ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر مساجد کے امام تو خطبہ دینے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں اور کتنے تو مسلے مسائل سے بھی ناواقف ہیں اور نیوز چینل والے ایسے ہی مسلم نمائندے اور عالم کو ڈھونڈتے ہیں جو اینکروں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتے اور وہ مست مگن رہتے ہیں کہ ہم تو ٹی وی چینل پر ہیں انہیں یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ اینکروں کا لہجہ ہمارے ساتھ حقارت بھرا ہے یا کیسا ہے جبکہ انکے سوال کرنے کے انداز سے مسلم شرکاء کے ساتھ حقارت کا اظہارِ ہوتا ہے مسلم پرسنل لا بورڈ کو یہ خیال آیا کہ ہر ضلع میں دار القضاۃ ہونا چاہیے چاہے وہ خود اپنا مقدمہ ملک کی عدلیہ میں لڑیں لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ایک ایسا شعبہ قائم ہونا چاہیے کہ جو ہر ہفتے میں خطبہ جمعہ تیار کرے اور جمعرات سے لیکر جمعہ کے دن دس بجے تک ملک کی جامع مسجدوں تک پہنچ جائے اور جو لوگ مباحثے میں شریک ہوتے ہیں تو جواب نہ دے پانے کی صورت میں چینلوں کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ مذہب اسلام کی صحیح تصویر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو فلاں عالم کو بلالو ایسا مشورہ دینے میں انکی خود کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے بھلے ہی مسلمانوں کی بے عزتی ہوجائے دین کا نقصان ہوجائے تو کوئی بات نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ سارے لوگ ایک جیسے ہیں آج بھی ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین موجود ہیں انکو چینل والے نہیں بلاتے کیونکہ وہ جب بھی بولیں گے حق بولیں گے کیونکہ انکے سینے میں قوم کا درد ہے دین کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم عمل ہونے کا جذبہ ہے انکے سینوں میں امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت اور امام مالک، امام احمد بن حنبل، مجد الف ثانی کی قربانیوں اور مستقل مزاجی کا احترام ہے انکے سامنے مذہب اسلام کی توہین ناقابل برداشت ہے –
    – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

    مکرمی مدیر باوقار سلام مسنون امید کہ مزاج بخیر ہوں گے آپکی خدمت میں برائے اشاعت مضمون ارسال کر رہا ہوں امید کہ شکریہ کا موقع عنایت کریں گے فقط والسلام

    جاوید اختر بھارتی محمد آباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
    javedbharti508@gmail.com

  2. ڈیبیٹ میں شریک نہ ہونے سے دین کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ دین کا نقصان تو آج خود مسلمانوں سے ہی ہورہا ہے
    – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
    جاوید اختر بھارتی رابطہ 8299579972

    جو مسلمان اور مسلم نمائندگان و علماء کرام نیوز چینلوں پر مباحثے میں شرکت کرتے ہیں وہ اسلام کا دفاع نہیں کرپاتے اور انہیں اس بات کی فکر بھی نہیں ہوتی ہے کہ ہم مذہب اسلام کی سچی تصویر پیش کریں انہیں تو بس یہ خوشی رہتی ہے کہ ہم اس وقت نیوز چینل پر ہیں دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے واہ واہ کر رہی ہے مذہب اسلام کی تعلیمات کو واضح طور پر پیش نہ کرنے کی ہی سزا ملتی ہے کہ گالی گلوج تھپڑ بازی اور دھکامکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکے دلائل بھی اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ مسلمانوں کا سر اونچا ہونے کے بجائے نیچا ہوجاتاہے یہ بھی حقیقت ہے کہ نیوز چینل والے مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے مسلم نمائندوں کو مدعو کرتے ہیں یاتو وہ ایسا چہرہ لاتے ہیں جو جواب نہ دے سکے یاکہ پھر وہ خود انکی بولی بول سکے مسلم نمائندگان نیوز چینلوں پر جا کر مذہب اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں تو دین کو فروغ حاصل ہوگا لیکن نیوز چینل والے ایسے لوگوں کو نہیں بلائیں گے اور بلائیں گے بھی تو انہیں برداشت نہیں کرپائینگے انکی باتیں بہت گراں گذرے گی اور نیوز چینل والوں کا ہاضمہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کو برداشت نہیں کر پاتے اور اسی غرض سے مذہب اسلام سے متعلق انکے سوال ہوا میں اڑنے والے ہوتے ہیں وہ ایسی پوائنٹ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اسلام کی شبیہ کہاں سے خراب شکل میں پیش کیجائے تاکہ مذہب اسلام کو بدنام کیا جاسکے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاسکے مسلم نمائندوں اور علماء کرام نیوز چینل پر مباحثے کیلئے نہ جائیں تو دین کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا آج تو دین کا نقصان خود مسلمانوں کے گھروں سے ہورہا ہے ہر گھر سے رقص و سرور کی آوازیں ارہی ہیں آج کے دور میں موبائل کے ناجائز استعمال نے مسلمانوں کے معاشرے کا جنازہ نکال دیا ہے معاملہ تو یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جب دشمنان اسلام بھی تجارت یا دیگر ضروریات سے کہیں جایا کرتے تھے تو وہ اپنی لڑکیوں کو مسلمانوں کے گھر پہنچا دیا کرتے تھے کہ یہاں یہ محفوظ رہیں گی اور آج حالت یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی لڑکیوں کی عزت مسلم نوجوانوں سے ہی خطرے میں ہے پڑوسی کی عزت کو خطرہ پڑوسی سے ہے رشتہ داروں کی عزت کو خطرہ رشتہ داروں سے ہے جبکہ پڑوسی کا مقام و حقوق یہ ہے کہ نبی سید الکونین صل اللہ علیہ وسلم جب پڑوسیوں کے حقوق بتاتے تو اصحابِ کرام کو یہ اندیشہ ہوتا کہ کہیں پڑوسی کی جائداد میں پڑوسی کا حق نہ ہو جائے آج صرف غیروں کی برائی بیان کی جاتی ہے لیکن خود کا محاسبہ نہیں کیا جاتا گھر کے ذمہ داران بچوں سے کبھی سوال نہیں کرتے کہ جب تمہارے ذمے کوئی کام نہیں ہے تو آدھی رات تک کہاں گھوم تے ہو کیوں گھوم تے ہو کیا کرتے ہو اس لئے کہ ڈر ہے کہ بیٹا کہیں ناراض نہ ہوجائے بھلے ہی اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے فرمان خدا اور فرمان رسول کی نافرمانی کرتا جائے کوئی بات نہیں کل تک لوگ قرآن کی ایک آیت سن کر حالت کفر سے نکل کر صاحب ایمان ہوجاتے تھے اور آج رات بھر دینی جلسے میں علماء کرام کی تقریریں سن کر نعرہ لگا کر فجر کی نماز بھی نہیں پڑھ تے دوسری بات کہ دین کو فائدہ پہنچانے کی فکر ہی کس کو ہے مسلک کے نام پر، فرقہ بندی کے نام پر ویسے ہی دین کا زبردست نقصان ہورہا ہے جمیعۃ علماء ہند. مسلم پرسنل لا بورڈ، علماء مشائخ بورڈ وغیرہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا ایک چینل قائم کریں لیکن اس پر کبھی غور بھی نہیں کیا جاتا اور مذہب اسلام کا سب سے بڑا ذرائع ابلاغ تو خطبہ جمعہ ہے لیکن افسوس کہ بہت کم ایسی جامع مساجد ملینگی جہاں حالات حاضرہ پر خطیب خطبہ دیتا ہو بہت سی جامع مسجدوں میں اتفاق ہوا ہے تو ایک رقعہ لیکر چھوٹے چھوٹے مسائل بیان کرتے دیکھا گیا ہے اور کچھ مسجدوں میں تو مکتب فکر کی بنیاد پر اختلافات میں ڈوبی ہوئی تقریریں کر تے دیکھا گیا جبکہ بستی میں ایک جامع مسجد کی تعمیر کا مقصد ہی یہی ہے کہ پوری بستی کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں تو جب ہفتے میں ایک دن پوری بستی کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں تو خطبہ بھی اسی معیار کا ہونا چاہیے بات تلخ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر مساجد کے امام تو خطبہ دینے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں اور کتنے تو مسلے مسائل سے بھی ناواقف ہیں اور نیوز چینل والے ایسے ہی مسلم نمائندے اور عالم کو ڈھونڈتے ہیں جو اینکروں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتے اور وہ مست مگن رہتے ہیں کہ ہم تو ٹی وی چینل پر ہیں انہیں یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ اینکروں کا لہجہ ہمارے ساتھ حقارت بھرا ہے یا کیسا ہے جبکہ انکے سوال کرنے کے انداز سے مسلم شرکاء کے ساتھ حقارت کا اظہارِ ہوتا ہے مسلم پرسنل لا بورڈ کو یہ خیال آیا کہ ہر ضلع میں دار القضاۃ ہونا چاہیے چاہے وہ خود اپنا مقدمہ ملک کی عدلیہ میں لڑیں لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ایک ایسا شعبہ قائم ہونا چاہیے کہ جو ہر ہفتے میں خطبہ جمعہ تیار کرے اور جمعرات سے لیکر جمعہ کے دن دس بجے تک ملک کی جامع مسجدوں تک پہنچ جائے اور جو لوگ مباحثے میں شریک ہوتے ہیں تو جواب نہ دے پانے کی صورت میں چینلوں کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ مذہب اسلام کی صحیح تصویر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو فلاں عالم کو بلالو ایسا مشورہ دینے میں انکی خود کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے بھلے ہی مسلمانوں کی بے عزتی ہوجائے دین کا نقصان ہوجائے تو کوئی بات نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ سارے لوگ ایک جیسے ہیں آج بھی ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین موجود ہیں انکو چینل والے نہیں بلاتے کیونکہ وہ جب بھی بولیں گے حق بولیں گے کیونکہ انکے سینے میں قوم کا درد ہے دین کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کیلئے سرگرم عمل ہونے کا جذبہ ہے انکے سینوں میں امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت اور امام مالک، امام احمد بن حنبل، مجد الف ثانی کی قربانیوں اور مستقل مزاجی کا احترام ہے انکے سامنے مذہب اسلام کی توہین ناقابل برداشت ہے –
    – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close