نظریات

مذہب خود دہریت کو جنم دیتا اور اس کی پرورش کرتاہے (قسط دوم)

 ادریس آزاد

 دوسری قسط حاضر ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے اس موضوع پر قلم اس لیے اُٹھایا کہ میں فی الاصل اس کے بعد ایک اور موضوع ’’نظریات کی تشکیل میں داخلی واردات کا کردار‘‘ پر ایک مقالہ سا لکھ رہا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ وہ بھی احباب کے ساتھ شیئر کرونگا۔ میں چاہتا تھا کہ الحاد کومذہب کی موجودگی میں لازمی طور پر پیدا ہوجانے والی تشکیک کے مماثل دیکھتے ہوئے یہ بتانے کے قابل ہوسکوں کہ کس طرح ہماری ذاتی، اندرونی، داخلی واردات ہمیں ایک یا دوسرا عقیدہ اختیار کرنے پرمجبور کرتی  اور رکھتی ہے۔ تفصیل تو ظاہر ہے مقالے میں ہی پیش کرونگا۔ اتنا سا ذکر ان دو اقساط کے پس منظر  میں کرنا ضروری جانا۔

’’مذہب خود دہریت کو جنم دیتا اور اس کی پرورش کرتاہے‘‘  کا جملہ ہی زیادہ تر احباب کے لیے مسئلہ بن گیا تھا چنانچہ میرا خیال ہے کہ میں پہلے لفظ ’’دہریت‘‘ پر کچھ بات کرلوں۔   علامہ اقبال نے خطبات میں لکھا،

’’حکمائے اسلام اور حضرات صوفیا کو زمانے کے مسئلے سے بڑی دلچسپی تھی، کچھ تو اس لیے کہ قران پاک نے اختلافِ لیل و نہا ر کا شماراہم ترین آیاتِ الٰہیہ میں کیا ہے اور کچھ اس لیے کہ حضوررسالت مآب صلی للہ علیہ  واٰلہ وسلم  نے دھرکو ذاتِ الٰہیہ کا مرادف ٹھہرایا۔آپ کا یہ ارشاد جس مشہور حدیث میں نقل ہوا، اس کی طرف ہم اس سے پہلے اشارہ کر آئے ہیں۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ بعض اکابرصوفیا نے لفظ دھر سے طرح طرح کے صوفیانہ نکات پیدا کیے۔ ابن عربی کہتے ہیں ، دھر اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور ایسے ہی رازی نے بھی تفسیرقران میں لکھاہے کہ بعض صوفی بزرگوں نے انہیں لفظ ، دھر، دیہور، یا دیہار کے ورد کی تلقین کی تھی‘‘

اسی طرح پھر لکھتے ہیں کہ،

’’عالم ِ اسلام نے بھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کہ انسان اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرے مذہبی مشاہدات اور واردات کی طرف قدم بڑھایا تو جیسا کہ مطالعے سے پتہ چلتاہے اس تقرب و اتصال کی ترجمانی کچھ اسی قسم کے اقوال میں ہوتی رہی، مثلاً ’انالحق‘، یا ’اناالدھر‘ ، ’میں ہوں قرانِ ناطق(علیؓ)، ’سبحانی مااعظم شانی‘ (بایزید)۔ لہذا اسلامی تصوف کے اعلیٰ مراتب میں اتحادوتقرب سے یہ مقصود نہیں تھا کہ متناہی خودی لامتناہی خودی میں جذب ہوکر اپنی ہستی فنا کردے، بلکہ یہ کہ لامتناہی متناہی کے آغوشِ محبت میں آجائے‘‘

خطباتِ اقبال، ترجمہ سید نذیر نیازی موسوم بہ تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ

یعنی جس متناہی کی آغوش میں لامتناہی کے سماجانے کی گنجائش نہیں ہے وہ لامتناہی کے وجود سے انکار کرسکتاہے تو فقط اپنی تنگ دامنی کی وجہ سے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں کہا ہے کہ جیسے آنکھ کے چھوٹے سے تِل میں اتنا بڑا آسمان سماجاتاہے لامتناہی کو اپنے شہود کے لیے ایسی ہی آغوش کی طلب ہے۔ شاید اسی طلب نے اس سے یہ جہان و رنگ و بُو تخلیق کروایا۔ متناہی ہمیشہ لامتناہی سے ہی برآمد ہوتاہے کیونکہ لامتناہی کُل ہے اور محیط ہے۔ اقبال کے نظریات یہ ہیں کہ ہمیں ویدانت کی طرح خود کو خدا میں جذب نہیں کرنا، بلکہ خدا کو خود میں جذب کرلیناہے۔ ایسا کرنے کے لیے ایک خاص کسی قسم کی طاقت درکار ہے جو اقبال کے الفاظ میں استحکامِ خودی کہلاتی ہے۔ وہی انسان کی انفرادیت بمقابلہ خدا برقرار رکھتی ہے۔ اسی کی بگڑی ہوئی صورت کا نام الحاد ہے۔ یہ عالمِ فطرت اُس کا دشمن ہے اور اُسے بالآخر اس عالمِ فطرت کو تسخیرکرناہے۔

چنانچہ اقبال کے ان اقتباسات کی روشنی میں سب سے پہلے تو میں لفظ  دہریت کی اُس شدت کو کم کرنا چاہتاہوں جو احباب نے محسوس کرلی۔ اس سے اگلے مرحلے میں ہم کلمہ ٔ توحید میں موجود ’لا‘ کے عالمگیر انکار کی اہمیت پر غور کرتے ہیں۔اس موضوع پر میں اپنے ہی ایک سابقہ مضمون سے چند اقتباسات یہاں درج کرنے کی ہمت کررہاہوں،

’’ رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تحریک بنیادی طور پر ’’مذہب مخالف‘‘ تحریک تھی۔ ابراھیمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک تمام نہیں تو زیادہ تر انبیأ کی جنگ اپنے وقت کے فراعین و نمارید کے ساتھ رہی یعنی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف۔لیکن اسلام اپنے وقت کی مذہبی پیشوائیت کے خلاف آیا اور کلمہ اسلام کا آغاز تمام خداؤں کے انکار سے کیا گیا‘‘

’’ سردارن ِ قریش (استعارۃً) فرعون اور نمرود کی اولاد نہیں تھے، بلکہ ہامان کی اولاد تھے۔ مکہ حجاز کا سب سے بڑا ’’مذہبی مرکز‘‘ تھا نہ کہ ممفس (مصر) یا بابل کی طرح کسی بڑی سلطنت کا دارالحکومت۔ مکہ سرمائے اور جاگیر کا نمائندہ ہرگز نہیں تھا، مکہ مذہبی پیشوائیت کا نمائندہ تھا۔ چنانچہ رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تحریک بنیادی طور پر مذہبیت کے خاتمے کی تحریک تھی۔ آپ نے اپنی پہلی دعوت میں ہی یہی فرمایا تھا کہ ’’قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا‘‘۔ کہہ دو کہ کوئی الہ نہیں سوائے اللہ کے، تم کامیاب ہوجاؤگے۔ ’’لا‘‘ کی شمشیر سے بھانت بھانت کے خداؤں کا سرقلم کرنے والی تحریک بعد میں خود ایک مذہب کیسے بن گئی، اس کی داستان الگ ہے۔ لیکن اس میں چنداں شک نہیں کہ اسلام کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک تحریک تھا جو مذہب کے خلاف اُٹھی تھی اور جسے قران نے ’’دین‘‘ کہہ کر پکارا‘‘

’’ غرض جیسے ابراھیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیؑ یا باقی انبیأ کی تحریکیں سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف اُٹھی تھیں ویسے ہی اسلام مذہبیت اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف اُٹھا تھا۔ ریاست ِ مدینہ اپنی کنہ اور ماہیت میں ایک سیکولر سٹیٹ تھی جو ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں (مسجدِ ضرار)  کو گرانے کا حکم جاری کرتی تھی۔مسجد ِ نبوی، کسی مذہبی مرکز سے زیادہ ایک کمیونٹی سینٹر کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔ ریاست ِ مدینہ میں دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کا ماحول تھا۔ اسلام اگر مذہب ہوتا تو قبلہ کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ اور پھر واپس پہلی جگہ منتقل نہ ہوتا۔ قبلہ کی تبدیلی سے متعلق آیات کا سیاق و سباق دیکھیں تو واضح ہوجاتاہے کہ بیت المقدس سے واپس مسجد حرام کو قبلہ بناتے وقت قران نے اس بات کا باقاعدہ اظہار کیا کہ یہود سے قبول ِ اسلام کی توقع عبث ہے‘‘

’’ فرض کریں اگر یہود اسلام قبول کرلیتے تو کیا ہمارا قبلہ مسجد ِ حرام ہوتی؟ یقیناً ایسی صورت میں وہ آیات بھی نازل نہ ہوئی ہوتیں جن میں قبلہ دوبارہ تبدیل کردینے کا حکم صادر ہوا۔ غرض یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کسی مادی مقام کو پوجنے کا درس دینے والا ’’مذہب ِ محض‘‘ ہرگز نہیں تھا۔ مکے کے تمام سردار کس بنا پر سردار تھے؟ محض اس بنا پر کہ وہ خانہ کعبہ کی توسط سے ہی اپنی روزی روٹی کماتے تھے۔ ابولہب کون تھا؟ اور کیوں وہ اسلام کے اس قدر مخالف تھا؟ محض اس لیے کہ اسلام خانہ کعبہ کے ساتھ جڑی ہوئی تمام مذہبیت کا قلع قمع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور یہی بات ابولہب کے لیے ناقابل ِ برداشت تھی‘‘

’’ ایک بات بہت اہم ہے۔ ہم جو کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں وہ خداؤں کے انکار سے شروع ہوتاہے۔ یوں کہنا بالکل بے جا نہ ہوگا کہ اسلام اپنے وقت کے خداؤں کا انکار کرنے کے لیے دنیا میں آیا اور اس نے الاللہ سے پہلے ’’لا‘‘ کی تلوار چلا کر تمام تر مذہبیت اور توہمات کو انسانیت کے رگ و پئے سے نکال دینے کی تدبیر کی‘‘

غرض سب سے پہلے تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ ’’خدا کاانکار‘‘ یعنی دہریت  خود مذہب کا ہی اختیار کیا ہوا طریقہ کار ہے۔وہ خدا جو معاشرے میں بطور خدا مقبول ہو لیکن وہ فی الحقیقت خدا نہ ہو، اس کا انکار عین اسلامی عمل  اورسنتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہے۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ مذہب کے بطن سے دہریت کیسے جنم لیتی ہے؟ بالکل ویسے جیسے قران نے فرمایا کہ ’’یخرج الحی من المیتِ ویخرج المیتَ من الحی‘‘۔ ایک ملحد کی مثال زمانہ ٔ رسالت کے وقت سے ہی ہمارے پاس موجود ہے۔ ایک شخص مسلمان ہوا۔ صحابی ِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مرتبے پربھی پہنچ گیا۔ پھر اس سے بڑھ کر کاتبِ وحی کے بلند ترین مقام پر بھی فائز ہوگیا۔ ایک روز وہ رسول اطہرصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس بیٹھا آپ پر نازل ہونے والی وحی کی کتابت کررہا تھا کہ اُس نے آیت کے الفاظ مکمل ہونے سے پہلے خود ہی اپنی سوچ سے آیت مکمل کردی۔ بعد میں جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آیت مکمل سنائی توآیت انہی الفاظ کے ساتھ ختم ہوئی جو اس شخص نے اپنی سوچ سے پہلے ہی لکھ دیے تھے۔بس یہ ہونا تھا کہ وہ بِدَک گیا اور کہنے لگا۔ یہ کوئی وحی نہیں(معاذاللہ) اگر یہ وحی  تھی تو کیا مجھ پر بھی وحی نازل ہوئی؟ اس نے اسلام کو سچا دین ماننے سے انکار کردیا اور واپس مکّے لوٹ گیا۔

معاملہ یہ ہے کہ ہم اپنے نظریات اپنی ذاتی، داخلی واردات کی بنا پر اختیار کرتے ہیں۔ زمانہ ٔ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم میں بھی ایسا ہی تھا۔ ہر کوئی اسلام کو طلوع ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ہرکوئی اپنی ذاتی داخلی واردات کی بنا پر ہی اسلام کو اختیار یا مسترد کررہا تھا۔ابوجہل کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ابوجہل کالقب ہی اسی لیے دیا کہ وہ اپنی داخلی واردات پر کان نہ دھر رہا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) سچ کہہ رہے ہیں۔ لیکن اس کی سرداری اور شان و شوکت میں فرق آتاتھا، اگروہ اسلام قبول کرتا۔ ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جن کی اپنی واردات انہی مذہبی ہونے کی تلقین کرتی رہتی ہے اور ان کے معروضی مسائل انہیں ابوجہل بنے رہنے پر مجبور رکھتے ہیں۔ اب بھی ہیں۔ یہاں بھی ہیں۔ ہمارے آس پاس۔

اس بنا پر کہا جاسکتاہے کہ ملحدین دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی داخلی ،ذاتی واردات کی بنا پر ملحد ہیں اور وہی اصل ملحدین ہیں اور دوسرے وہ جو ری ایکشنری ہیں، محض غصے کی وجہ سے ملحد ہیں۔ ثانی الذکر ملحدین ہمیشہ آخری عمر میں واپس مذہبی یا پہلے سے بھی بڑھ کر مذہبی بن جاتے ہیں۔ کتنے ہی کردار تو میں نے خود دیکھے ہیں اپنی زندگی میں۔اب جو اصل ملحدین ہیں ان کی واردات کو سمجھنا ہم بیرونی لوگوں کے لیے کیسے ممکن ہے۔ مثلاً وحدانیت کے نظریہ کے حاملین (پاکستان میں اہلحدیث)  شیخ ِ اکبرمحی الدین ابن عربی کا نام اپنی کتب میں اس طرح لکھتے ہیں،

’’الصوفی، الملحد ابنِ عربی‘‘

اگر کسی بھی گروہ کی طرف سے ابنِ عربی کو ملحد کہاجاتاہے تو ضرور اس گروہ کے اپنے(ناقص ہی سہی) دلائل ہونگے۔ بس! یہ ہے ثبوت کہ ہم کسی ملحد کے ظاہری بیانات سے اس کے بارے میں الحاد کا فتویٰ اُس وقت تک دینے کے اہل نہیں ہیں جب تک ہمیں خود معلوم نہ ہو کہ کہاں ملحد ہو جانا عین اسلامی فریضہ ہے اور کہاں نہیں۔کسی بھی قسم کے خداؤں کو ماننے سے پہلے جن خداؤں کا انکار کیا جاتاہے وہ اپنے وقت کے معاشرے میں نافذ مذہب کا سب سے بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ ہمارے عہد کے ملحدین خوگرِ پیکرِ محسوس ہونے کی وجہ سے مادے کے بُت کے پجاری ہیں اور اپنے عقیدے کے مطابق ان کی ہر رسائی خالص یوٹیلیٹیرین ہے۔قدیم کامکس سے لے کر آج کے دن تک اس کے شواہد ہرطرف بکھرے ہوئے ہیں۔ اہرمن و یزداں کا پورا قصہ اِسی پر قائم ہے۔یہاں اگر کوئی سوال کرے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ اگر ملحد کا بھی عقیدہ ہے تو پھر وہ اپنی طرز کا مذہبی ہوا نا؟ تو میں عرض کرونگا کہ کون نہیں مانتا کہ سامی قصے میں سب سے پہلا ملحد ابلیس تھا۔اورکیا ابلیس خدا کو مانتا نہیں تھا؟ کیا ابلیس نے خدا کے وجود سے انکار کیا تھا؟ وہ یقیناً خدا کو مانتا تھا اور کہنے کو تو یہ بھی کہا  جاسکتاہے کہ ’’خدا کا انکار تو ابلیس نے بھی نہیں کیا فلہذا ابلیس ماننے والوں میں سے ہے‘‘۔ کیسی عجب بات ہوگی یہ؟ غرض استدلال یہ ہے کہ اگر بلھے شاہ ؒ کو ملحد کہا جارہا ہے تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ بلھے شاہؒ نے انکار کیا تو کس چیز کا؟ اور اگر بلھے شاہؒ کو صوفی کہا جارہاہے تو وہ کون تھا جس نے اس کے الحاد کی گہرائی میں جاکر اس کے قلب کی رسائی کا راز پالیا؟

یہ قسط بھی دوہزار الفاظ سے زیادہ بڑھ گئی۔ ابھی میں نے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔ لیکن اتنی طوالت کے بعد میں خود کو جبراً روک رہاہوں۔ عرض یہ ہے کہ جیسے ابلیس جیسا  مُنکر ، سجدہ ریز ملائک کے جھنڈ میں سے نمودار ہوسکتاہے بالکل ویسے ہی مذہب کے بطن سے الحاد نمودار ہوتاہے۔

مذہب خود دہریت کی پرورش کیسے کرتاہے؟ یہ وہ حصہ ہے جس تک میں  روانی میں ابھی پہنچ ہی نہ پایا کہ مضمون  حد سے بڑھ کر طویل ہوگیا۔ اس لیے ایک قسط کا مزید انتظار کرناہوگا خاص خاص احباب کو۔  سلامت باشید

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close