نظریات

 مذہب خود دہریت کو جنم دیتا اور اس کی پرورش کرتاہے (قسط اوّل)

ادریس آزاد

علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں دو جنّتوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ جہاں سے انسان کو نکالا گیا اور ایک وہ جو آخرت میں نیک لوگوں کے حصے میں آئے گی۔ جہاں سے انسان کو نکالا گیا اُسے علامہ اقبال نے ’’خوشی اور سعادت کی مفروضہ حالت‘‘ کہا ہے۔ لفظ مفروضہ یہ ثابت کرتاہے کہ علامہ اقبال آفرینش میں کسی جنت ِ حقیقی کے قائل نہیں ہیں۔ ایک جگہ انہوں نے اس مفہوم کا جملہ بھی لکھا ہے کہ وہ جنت جس کا آغاز ہی گناہ (پھل کھانا) سے ہوا ہے اصل جنت کیسے ہوسکتی ہے جس کے بارے میں قران میں ہے کہ فیھا لغواًولاکذابا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں لغو ہوگا نہ کذب۔ اسی طرح اقبال جہنم کو دارالاصلاح مانتے ہیں۔ اور ’’دلوں کو چھُو لینے والی آگ‘‘ سے ایک تکلیف دہ قلبی حالت مراد لیتے ہیں۔

میری دانست میں، لوگوں میں عقیدہ کے چار درجات ہیں:

۱۔ تصوراتی عقائد
۲۔ تخیلاتی عقائد
۳۔ توھماتی عقائد
۴۔ تفکراتی عقائد

تصوراتی عقائد

لوگوں کی بڑی تعداد تصوراتی عقائد کے زیر اثر زندگی گزارتی ہے۔یہ وہ عقائد ہیں جو ان کے والدین اور مذہبی پیشواؤں نے انہیں بچپن سے رٹوائے ہیں۔ یہ تصوراتی عقائداس لیے ہیں کہ لوگوں کے دماغ میں باقاعدہ تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ جب انہیں قبر کے عذاب کا خیال آتاہے تو وہ باقاعدہ سانپ اور بچھوؤں کی شکلیں تصور میں لاتے اور یہ سوچتے ہیں کہ قبر میں سانپ اور بچھو انہیں ڈسینگے۔ جنت کے مناظر، باغات، شراب، کباب، پھل پھول، نہریں، حوریں۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ اُنہیں انہی تصورات پر دکھائی دیتاہے جو اس دنیا میں اشیأ کو دیکھنے کے بعد ان کے دماغوں نے قائم کیے ہیں۔ جہنم کے داروغے، کوڑا بردار فرشتے، آگ کے شعلے اور پیپ وغیرہ ۔

تخیلاتی عقائد

تخیلاتی عقائد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ ان میں لوگ وہ تصورات جو بچپن سے بنائے گئے تھے اپنے تخیل سے تبدیل کردیتے ہیں۔ تخیلاتی عقائد، دراصل تصوراتی عقائد میں بدعت کی ایک شکل ہے۔ ان عقائد کی وجہ سے مذاہب میں حکایات اور جھوٹے قصے، کہانیاں جنم لیتی ہیں اور پہلے سے موجود تصورات کے ذخیرہ میں اضافہ ہوتا چلا جاتاہے۔ وہ بچے جن کے تصوراتی عقائد بچپن میں انہیں ٹھیک سے رٹوائےنہ جاسکے عموماً تخیلاتی عقائد کے دائرہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ قبر کے عذاب کو اور بڑا کرکے دیکھنے کے اہل ہوتے ہیں اور جنت کے لذتوں کو مبالغہ آمیز تصورات سے مزین کرنے کے ماہر۔

توھماتی عقائد

توھماتی عقائد تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ بوعلی سینا کی بتائی ہوئی قوتِ وہمیہ کو اگر تصور میں لایا جائے تو ہم وھم اور توھم کو اس کے عام معانی سے الگ کرکے دیکھنے کے اہل ہوپاتے ہیں۔ قوتِ وہمیہ ایک صلاحیت ہے جو خودکار طریقے سے کام کرتی ہے اور عام طور پر ذہین لوگوں کے پاس وافر ہوتی ہے۔ یہ عقائد کا وہ مقام ہے جہاں لوگ سابقہ مذاہب کا قلع قمع کرتے اور پچھلے تصورات پر کاری ضربیں لگاتے ہوئے نئے نئے سوالات کے تحت تحت نئے نئے مذہبی عقائد اختیار کرتے چلے جاتے ہیں جو عموما تصوراتی اور تخیلاتی عقائد سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ عقائد کے اس مقام پر مذاہب میں فرقے جنم لیتے اور جوں جوں یہ فرقے بوسیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں باقاعدہ الگ مذاہب میں تبدیل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

تفکراتی عقائد

تفکراتی عقائد متکلمین کے ہوتے ہیں جن کے پاس فلسفیانہ تفکر کی صلاحیت ہوتی ہے۔ عقائد کی یہ قسم باقی اقسام کی خفیہ رہنما ہوتی ہے۔ معاشرے میں علم کلام کا وجود ہی مذہبی عقائد کو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق زندہ رکھتاہے۔ اوپر اقبال کی جنت کا کچھ حصہ یا اقبال کا جہنم کو محض ’’دارالاصلاح‘‘ کہنا اور جہنم کے شعلوں کو فقط ایک قلبی کرب کی کیفیت قرار دینا دراصل ایک متکلم کا ہی کارنامہ ہے جو نئی صدیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اور اپنے مذہبی عقائد کی تنزیہہ کررہا ہے۔

مدعا یہ ہے کہ مذہب جو دہریت ِ حاضرہ کے بقول ایک سفید جھوٹ ہے اور جو محض انسانوں کے ساتھ اس لیے بولا گیا ہے تاکہ وہ تسلی میں رہیں اور یہی سمجھتے رہیں کہ اس دنیا میں نہ سہی تو آنے والی دنیا میں انہیں بہتر زندگی میسر آسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دراصل خود محدود عقائد کا نظام ہے ہی نہیں، جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے۔

’’مذہب دراصل کسی کلچر میں پنپنے والا ایک خودکار فکری (فلسفیانہ) نظام ہے جو اپنے قطبین کا تعین کرتے ہوئے فلسفہ یا کسی نام نہاد فکر جدید کا مرہون ِ منت نہیں ہوتا۔‘‘

مذہب ہر سطح کے انسانوں کو ہر قسم کے عقائد اختیار کرنے کی طرف خود مائل کرتاہے۔ اس لحاظ سے یوں کہنا بھی غیر درست نہیں ہے کہ مذہب خود دہریت کو جنم دیتا اور اس کی پرورش کرتاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close