نظریات

 میرا جسم، میری مرضی

ابوالحسنات قاسمی

  اسلام مخالف طاقتوں نے جب جب اسلام کو بدنام کرنے، مسلم امہ کو گمراہ کرنے کی سازشیں رچی ہیں یا پروپیگنڈے کئے ہیں تب تب بمصداق:

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

وہ طاقتیں خود اپنے ہی بُنے ہوئے جال میں پھنس کر رہ گئیں ہیں اور یہ کوئی خود بخود انجام پانے والا امر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ضابطہ ہے کہ جب بھی کوئی ( فرد یا جماعت) دینِ فطرت کے اصولوں سے انحراف یا تعرض و چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو خود اس کی زد میں آجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وضاحت کے ساتھ فاما دیا ہے:( وَلَا  یَحِیْقُ  الْمَکْرُ  السَّیُِّ   اِلَّا بِاَھْلِہٖ) ( ترجمہ: بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں )۔

     اور معاملہ خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو آپ تاریخ کی ورق گردانی کرکے جائزہ لے سکتے ہیں کہ سازشی عناصر و طاقتیں ہمیشہ قوانینِ فطرت (اسلام) کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی ہیں،  گزشتہ( بیسویں ) صدی کے اواخر سے تا حال آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اسلام مخالف (فسطائی) طاقتوں نے  دہشت گردی کے لیبل کو جبراً اسلام پر چسپاں کرنے کی ناپاک کوششیں کی ہیں مگر آج خود اسی دہشتگردی سے جوجھ رہی ہیں اور چاہ کر بھی اس سے باہر نکلنا ان کے لئے نہ صرف یہ کہ مشکل ہورہاہے بلکہ ان کی نسلیں اسلام کے سائے میں امان تلاش کر رہی ہیں۔

وقتاً فوقتاً مختلف طرح کے پروپیگنڈے رچے جاتے رہے ہیں،  وقتی اثرات و نقصانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا تاہم بعد میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ حال ہی میں آپ حجاب کے خلاف آواز بلند کرنے والی خواتین کو ہی دیکھیں کہ اس مشن کی سربراہی کرنے والی جن غیر مسلم خواتین نے حجاب کو ہدف بنا کر غلط فہمیوں کو جنم دیا۔ اور مسلم خواتین کو  اسلامی احکام سے برگشتہ کرنے کی کوششیں کیں خودانہی کے اندر رغبت پیدا ہوئی اور تجسس بڑھا لہٰذا غیر مسلم خواتین کی بڑی تعداد نے اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لی اور حجاب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ اور اس طرح مغرب کی حجاب مخالف مہم کا ہدف نقص و ناتمامی کا شکار ہوگیا۔

اسی طرح ہالینڈ کے اسلام مخالف اور انتہائی متنازعہ سیاستدان ڈچ پارلیمان کے دائیں بازو کے ایک سابق رکن اور ماضی میں گیئرٹ ولڈرز کے دست راست سمجھے جانے والے سیاستدان جورم وان کلیویرین کا قبول اسلام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ  ( بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں )

باز آمدم برسرِ مطلب !

اس وقت آزادئ نسواں کے ابواب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ میرا جسم میری مرضی ‘ اب انتظار کیجئے اور دیکھئے کہ اس شر سے کونسا خیر وجود میں آتا ہے ( شمع کس رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک ؟ )

مگر فی الحال تو اس کے بُرے نتائج و مہلکات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔

میرا جسم میری مرضی کا نتیجہ دیکھ لیں  !

بوائے فرینڈ بنایا، پھر ڈیٹ ماری،

پہلی ڈیٹ میں بھروسہ،

دوسری ڈیٹ میں جسم کو نوچا،

تیسری ڈیٹ میرے دوست کو مطلوب ہو،

 چوتھی ڈیٹ، میرے چار  دوست کو مطلوب ہو،

پانچویں ڈیٹ تمھاری برہنہ ویڈیو دیکھو، بولو تو سوشل میڈیا پر وائرل کردیں ؟

لڑکی: نہیں نہیں نہیں کیا چاہیئے تجھے؟

عاشق: پورے دس لاکھ

لڑکی: میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔

جاؤ جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو۔

بہت ہو گئی بلیک میلنگ، اب میں تمھاری پولیس میں رپورٹ کراؤں گی۔

 لڑکا طیش میں آیا چُھری لیکر گردن کاٹ کر بوری میں لاش ڈال کر نہر کنارے پھینک کر چلا گیا۔

اب بتلائیے قصور کس کا ؟

لڑکی کا؟

لڑکے کا؟

ماں باپ کا؟

قانون کا؟

(اقتباس مع قطع و برید)

غضب تو یہ ہے کہ یہ اور اس طرح کی دیگر واہیات سازشیں و اسکیمیں،  خرافات اور بے حیائیاں و فحاشیاں،  غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی و غیر اخلاقی حرکتیں و سرگرمیاں مملکتِ خداداد ( میں کریم سروس) کے ذریعہ فروغ پا رہی ہیں جس کا وجود ہی اسلام کے نام پر ہوا تھا۔

  مسلم خواتین کو گمراہ کرنے کے لئے اس کریم سروس کے مزید دیگر کیا منصوبے ہیں ان پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں۔

غربت کی شکار یا کم تنخواہ بردار خواتین کو ورغلا کر ان کو مختلف نعروں والی تختیاں (play cards) تھماکر جلوس کے ذریعے بے حیائی پر مبنی منصوبوں کو اجاگر کرکے مرد و خواتین کے درمیان اختلاف کی خلیج کو گہرا کرتے ہوئے آزادئ نسواں کے نام پر مختلف حیاء سوز و غیر اخلاقی سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔

مثلاً ان خواتین سے جو نعرے لگوائے جاتے ہیں،  آوازیں بلند کروائی جاتی ہیں اور جو مطالبات ( حکومت یا عدلیہ سے ہوتے ہیں ان میں سے ” مشتے نمونہ از خروارے ” چند ) یہ ہیں :

* ملک آزاد ہے اب عورت کی باری ہے۔

*نکاح کو ختم کیا جائے

* جب تک عورت تنگ رہے گی،  جنگ رہے گی جنگ رہے گی۔

* میں لالی پاپ (LOLLIPOP) نہیں عورت ہوں۔

* اگر دوپٹہ نا پسند ہے تو خود لے لو۔

* کھانا خود گرم کرنا سیکھ لو۔ وغیرہ وغیرہ

یہ تمام کی تمام باتیں مرد و خواتین میں نہ صرف دوریاں پیدا کرتی و بڑھاتی ہیں،  بلکہ مذہبی ( خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو ) اقدار و روایات کے بھی منافی ہیں۔

اب نکاح ( شادی) ہی کو لے لیجئے یہ تو دہریہ بھی کرتے ہیں جو کہ کسی بھی مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ اور ان کے وہاں بھی کھانا خواتین ہی پکاتی و گرم کرتی ہیں۔

مسلم امہ اور مؤمنین کے درمیان بے حیائیوں کو عام کرنے والے یہ بخوبی سمجھ لیں کہ دیر سویر ان کے یہ داؤں اور تدبیریں تو الٹی پڑیں گی ہی ساتھ ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب بھی ہے۔

جیسا کہ فرمان باری تعالٰی ہے :

(اِنَّ  الَّذِیْنَ  یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَاب  اَلِیْم فِی الدُّنْیَا  وَالْاٰخِرَۃِ  وَاللّٰہُ یَعْلَمُ  وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ)

ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں،  ان کے لیے عذاب ہے دردناک دنیا اور آخرت میں، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

تفسیر: یعنی بدکاری پھیلے یا بدکاری کی خبریں پھیلیں۔ یہ چاہنے والے منافقین تھے۔ لیکن ان کا تذکرہ کر کے مومنین کو بھی متنبہ فرما دیا کہ اگر فرض کرو کسی کے دل میں ایک بات کا خطرہ گزرا اور بے پروائی سے کوئی لفظ زبان سے بھی کہہ گزرا تو چاہئیے کہ اب ایسی مہمل بات کا چرچا کرتا نہ پھرے۔ اگر خواہی نہ خواہی کسی مومن کی آبروریزی کرے گا تو خوب سمجھ لے کہ اس کی آبرو بھی محفوظ نہ رہے گی۔ حق تعالیٰ اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑے گا۔ کما فی حدیث احمد رحمہ اللہ۔

 دنیا میں حد قذف، رسوائی اور قسم قسم کی سزائیں اور آخرت میں دوزخ کی سزا۔

  یعنی ایسے فتنہ پردازوں کو خدا خوب جانتا ہے گو تم نہ جانتے ہو۔ اور یہ بھی اسی کے علم میں ہے کہ کس کا جرم کتنا ہے اور کس کی کیا غرض ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابوالحسنات قاسمی

دار الثقافہ، اسونجی بازار، ضلع گورکھپور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close