نظریات

کیا نظریہ ارتقا قرآن سے ثابت ہے؟

کیا حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے دنیامیں اور انسان بھی موجود تھے؟ 

ڈاکٹر احید حسن

منکرین حدیث، قادیانیت اور کچھ مغرب زدہ مسلمانوں کے نزدیک نظریہ ارتقا قرآن سے ثابت ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے اس زمین پہ اور انسان بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہے کہ آدم پہلے بشر نہیں یعنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یک دم پیدا کردیا ہو اور پھر ان سے نسل انسانی کا آغاز ہوا ہو، بلکہ ان سے پہلے بھی انسان موجود تھے، ان کے مطابق اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں آدم کے ذکر میں فرماتا ہے کہ اس نے فرشتوں سے کہا۔

انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ 30)

میں زمین میں ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آدم پہلے شخص تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اسے فرشتوں سے یوں کہنا چاہئے تھا کہ میں زمین میں ایک شخص کو پیدا کرنے والا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اور لوگ پہلے سے زمین میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے آدم کو اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ پس یہ پہلی آیت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق آتی ہے اور یہاں پیدائش کا کوئی ذکر ہی نہیں۔
ان کے مطابق دوسری آیت جس سے اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی آدمی موجود تھے سورہ اعراف کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

ولقد خلقنٰکم ثم صورنٰکم ۔۔۔ (الاعراف 11)

یعنی ہم نے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا، پھر ان کو مکمل کیا پھر ان کے دماغوں کی تکمیل کی اور انہیں عقل والا انسان بنایا اور پھر ہم نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔

یہ نہیں کہا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ بلکہ یہ فرماتا ہے کہ اے نسل انسانی! میں نے تم کو پیدا کیا اور صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ صورنٰکم میں نے تمہیں ترقی دی، تمہارے دماغی قوٰی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہوگئی تو میں نے ایک آدمی کھڑا کردیا اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو۔ ان کے مطابق اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہوچکے تھے کیونکہ خلقنٰکم اور صورنٰکم پہلے ہوا ہے اور آدم کا واقعہ بعد میں ہوا ہے حالانکہ اگر وہی خیال صحیح ہوتا جو لوگوں میں پایا جاتا ہے تو خداتعالیٰ یوں کہتا کہ میں نے پہلے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے تم کو اس سے پیدا کیا۔ مگر خداتعالیٰ یہ نہیں فرماتا بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ میں نے پہلے انسانوں کو پیدا کیا، ان کی صورتوں کی تکمیل کی اور پھر ان میں سے آدم کے متعلق ملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ پس یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پہلے کئی انسان پیدا ہوچکے تھے۔منکرین حدیث اور قادیانیت کی اس منطق کا جواب یہ ہے کہ
کیا یہ ان آیات کی "تفسیر بالرائے” نہیں، جو کہ "منکرین حدیث ” کا خاصہ ہے۔
اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیهم

ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن نازل کیا تاکہ آپ کھول کر بیان فرما دیں جو نازل کیا گیا ان کی طرف

چنانچہ پہلا سوال تو یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا جناب آدم کے متعلق ان درجنوں سینکڑوں روایاتِ نبوی کو نظر انداز کر کے اس معاملے میں تفسیر بالرائے کرنا کیا درست رہے گا؟

کیا اللہ کی خلافت فقط انسانوں تک محدود تھی؟ یا پھر نہ تو اللہ کی خلافت فقط انسانوں تک محدود، اور نہ ہی اللہ کا خلیفہ فقط انسانوں تک محدود۔ بلکہ یہ خلافت چرند، پرند، نباتات، جنات و فرشتے اور کائنات کے ایک ایک ذرے پر تھی جسکا ذکر اللہ اس آیت میں کر رہا ہے۔
اور سورۃ الاعراف کی آیت یہ ہے جو اوپر پیش کی گئی۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ﴿١١﴾

ترجمہ: اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا

اس آیت میں مخاطب جناب آدم ہی ہیں، اور اسی سورۃ الاعراف کی آگے آیت نمبر 27 اس پر گواہ ہے کہ بقیہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں۔

يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ۔۔۔﴿٢٧﴾

ترجمہ:اے آدم کی اولاد! خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں

اگر منکرین حدیث کے  نظریے کو مانا جائے تو یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں:

1۔ جناب آدم سے پہلے کے انسانوں کے لیے کوئی ضابطہ حیات ہی نہیں تھا، اور نہ ہی ان پر کوئی نبی اتارا گیا۔

2۔ جناب آدم سے پہلے انسانوں کو شیطان بہکا نہیں سکتا تھا، اور نہ ہی آدم علیہ السلام کے آنے کے بعد ان پہلے سے موجود انسانوں کی نسلوں کو آج تک شیطان بہکا سکتا ہے۔ بلکہ واحد انسان جن پر شیطان کا بس چلتا ہے، وہ آدم کی اولاد سے ہیں۔ اس لئے اللہ فقط آدم کی اولاد کو شیطان کے فتنے سے متنبہ کر رہا ہے بجائے تمام انسانیت کے۔

بنی آدم سے اللہ نے کئی جگہ خطاب کیا۔ اگر تمام انسان آدم کی نسل سے نہیں تو فقط آدم کی نسل سے اللہ کا یہ خطاب (معاذ اللہ) مہمل ٹہر جائے گا۔
سورۃ یس:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٦٠﴾

ترجمہ: اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

سورۃ الاعراف:

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَ۔ٰذَا غَافِلِينَ ﴿١٧٢﴾

ترجمہ: اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔

سورۃ الاعراف:

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾

ترجمہ: اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،

سورۃ الاعراف:

يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٥﴾

ترجمہ: اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔

اور منکرین حدیث اور قادیانیت کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ولقد خلقنٰکم ثم صورنٰکم ۔۔۔ (الاعراف 11) یعنی ہم نے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا، پھر ان کو مکمل کیا پھر ان کے دماغوں کی تکمیل کی اور انہیں عقل والا انسان بنایا اور پھر ہم نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ یہ نہیں کہا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔ بلکہ یہ فرماتا ہے کہ اے نسل انسانی! میں نے تم کو پیدا کیا اور صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ صورنٰکم میں نے تمہیں ترقی دی، تمہارے دماغی قوٰی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہوگئی تو میں نے ایک آدمی کھڑا کردیا اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو۔
اس آیت سے منکرین حدیث نے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرنے کی کوشش کی ہے اور قرآن کی آیت کے عربی متن کا اپنی مرضی کا ترجمہ کرکے اس سے نظریہ ارتقا کو مسلمان کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کی آیت میں ہے

ولقد خلقنکم

اور تحقیق ہم نے تم کو پیدا کیا۔ اس پیدائش میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ ارتقا کے ذریعے پیدا کیااور کوئی حدیث ایسی نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو، منکرین حدیث نے آگے قرآن کی آیت کے عربی متن ثم صورنکم یعنی پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی کا ترجمہ یہ کر دیا کہ میں نے تمہیں ترقی دی، تمہارے دماغی قوٰی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جب ہر لحاظ سے تمہاری ترقی مکمل ہوگئی تو میں نے ایک آدمی کھڑا کردیا جب کہ اس آیت میں انسان کی مٹی سے تخلیق کے بعد اسے ایک خاص شکل دینے کے متعلق ہے، صورنکم کا لفظ کبھی بھی عربی میں جسمانی ترقی یا ارتقا کے لیے استعمال نہیں ہوتا لیکن منکرین حدیث و مغرب زدہ مسلمان نظریہ ارتقا کے کافرانہ تصور کو مسلمان کرنے کے لیے اپنی مرضی سے قرآن کا ترجمہ اور تفسیر شروع کر دیتے ہیں۔ آج تک صحابہ کرام رضی اللٰہ تعالٰی عنہم، تابعین و تبع تابعین کی ایک بھی تفسیر یا عربی لغت کی کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جس میں صورنکم کے لفظ کا ترجمہ جسمانی ترقی و ارتقا بیان کیا گیا ہو۔ دوسری بات یہ کہ اگر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ انسان درجہ بدرجہ ارتقا کے ذریعے کسی جانور سے پیدا ہوا تو پھر یہ بات بھی لازمی تسلیم کرنی پڑے گی کہ انبیاء کرام بھی اسی طرح پہلے ایک جراثیم، پھر آبی جانوروں، پھر رینگنے والے جانوروں، اور پھر بن مانس یا بندر جیسے کسی جانور کی اولاد ہیں۔ انبیاء کرام اور آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم کی اس سے بڑی توہین اور کفر کیا ہو سکتا ہے۔ کیا ایک کافرانہ او سائنسی طور پہ غلط نظریہ ارتقا کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کی من مانی تشریح کی جائے گی اور  انبیاء کو بھی اسی ارتقا کے مطابق نعوذ باللٰہ جانوروں کی ارتقائی اولاد مان کر ان کی بدترین توہین کی جائے گی؟ اس سے بڑا کفر کیا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن کہتا ہے

لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم

یعنی ہم نے انسان کو بہترین صورت پہ پیدا کیا

اگر نعوذ باللٰہ انسان کسی جانور کی ارتقائی اولاد ہے تو انسان کی بہترین تقویم میں پیدائش کا قرآن کا بیان کہاں جائے گا یا ارتقا کو اسلام کا جامہ پہنانے والوں کے نزدیک بہترین تخلیق اور تقویم جانوروں کی ہے جن سے انسان نعوذ باللٰہ ارتقا پذیر ہوا؟

حوالہ:

http://www.urduweb.org/mehfil

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close