متفرقات

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

ڈاکٹر سلیم خان
وزیراعظم ایک اور سرکاری پکنک سے لوٹ آئے۔ مودی جی کے سیاسی گراف کو دیکھنے کیلئے ان کے بیرونی دوروں پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہے۔مئی 2012کے اواخر میں حلف لینے والےساتھ ہی غیر ملکی دوروں کی منصوبہ بندی شروع ہو گئی اور وسط جون میں لامتناہی ”وشوا یاترا“ کا ا?غاز ہوگیا۔اب حال یہ ہے کہ دوسال کے اندر ہی وہ ۱۳ ممالک گھوم آئے جبکہ براک اوبامہ نے ۹ سالوں کے اندر صرف ۲۵ ممالک دورہ کیا اور روس کے صدرپوتن نےتو اپنے طویل دورِ اقتدار میں ۵۰ ممالک کی سیر کی۔ اس بابت اعدادو شمار کا جائزہ خاصہ دلچسپ ہے۔پہلے ۶ ماہ یعنی جون تا دسمبر۴۱۰۲ میں وزیراعظم نے جملہ ۹ ممالک کا دورہ کیا۔ اس دوران پانچ ریاستوں کی انتخابی مہم ان کے پیروں کی زنجیر بن گئی اور وہ من مانےاندازمیں رقص نہ کرسکے۔ایک سال بعد یعنی جون تا دسمبر۵۱۰۲کے دوران بہار کی جنگی مہم کے باوجود مودی جی کے دوروں کی تعداد ۹ سے بڑھ کر ۸۱ ہوگئی یہ سو فیصد کا اضافہ تھا۔
سال2015  میں مودی جی نےکل ۸۲ دورے کئے تھے یعنی ہر سہ ماہی میں اوسطاً ۷ دورے۔ اس غیر معمولی کارکردگی کی بدولت انہیں این آر آئی وزیر اعظم کے خطاب سے نوازہ گیا اور راہل گاندھی کو درخواست کرنی پڑی کہ اگر کبھی غیر ملکی دوروں سے فرصت ملے تو اپنے ملک کے کسانوں سے بھی ملاقات کرنے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ یہاں تک کہ سوشیل میڈیا میں ایسا کارٹون بھی دیکھنے کو ملا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج مودی جی کو الوداع کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی ہیں ”بھارت ماتا کی یاتراکرنے کیلئے دھنیا باد“۔ اب آئیے سالِ رواں کو دیکھیں۔پہلے تین ماہ میں صرف ۳ ممالک اور آئندہ ۶ ماہ کے منصوبے میں مزید ۳ ممالک اس طرح گویا اس سال کے پہلے ۹ ماہ میں صرف ۶ یعنی پچھلے سال کے پہلے ۹ ماہ میں۰۲ کی بہ نسبت زبردست گراوٹ جو ان کی ڈھلتی مقبولیت کی غمازہے۔
اس تیزی کے ساتھ کسی رہنما کا غیر مقبول ہوجانا اپنے آپ میں ایک تحقیق کا موضوع ہے۔اس کا سبب میزبانوں کی بیزاری ہے یا خودان کے دل کا اس موہ مایا سے اچاٹ ہوجانایا دونوں وجوہاتہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ جہاں تک ملک کی عوام تعلق ہے ان کا من نہ صرف وزیراعظم سے اچاٹ ہو چکا ہے بلکہ ان کی تصاویر دیکھ دیکھ کروہ حد درجہ بیزار ہوچکے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے جس وقت وزیراعظم مودیبیلجیم سے ہوتے ہوئےصدر براک اوبامہسے ملاقات کیلئے امریکہ روانہ ہو رہے تھے تو قومی ٹیلی ویڑن پر وراٹ کوہلی چھایا ہواتھااورلوگ بھارت ویسٹ انڈیز کے میچ میں مست تھے
معیار کوچونکہ مقدار پر فوقیت حاصل ہے اس لئےان دوروں کی کمیت کے بعد کیفیت کا موازنہ بھی ہوجائے۔ اس دوران مودی جی نےا مریکہ کا ۳ باراور مشرق وسطیٰ کے دو دورے کئے۔یہ دونوں خطے چونکہ ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں اس لئے ان کاجائزہ کافی ہے۔ گجرات قتل عام کے سبب چونکہ امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی اس لئے ان کے پہلےامریکی دورے کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی۔ اس موقع پر میڈیسن اسکوائر پر منعقدہونے والے تفریحی پروگرام میں مودی جی کو راک اسٹار کے طور پر پیش کیا گیا۔ امریکہ میں رہنے بسنے والےعام ہندوستانیوں کا جوش خروش اور خاص طور پر گجراتیوں کا جنون قابلِ دید تھا۔زعفرانی جنونیوں کے غیض و غضب کا شکار ہونے والوں میں سے ایک راجدیپ سردیسائی بھی تھے۔ اس کے بعد قصر ابیض میں مودی جی کی عام سی ملاقات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ لوگ اٹل جی کو بھول گئے۔
مودی جی نےایک سال بعد جب دوسری مرتبہ امریکہ کیلئے رختِ سفر باندھا تووقت بدل چکا تھا۔ مودی جی کا سحر کیجریوال نے توڑ دیا تھا۔ اچھےدنوں کی آس میں نریندر مودی کو منتخب کرنے والے لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوکر منموہن سنگھ کا زمانہ یاد کررہے تھے۔ ان کی زبان پرراجکپور کی بڑے بجٹ کی فلاپ فلم میرا نام جوکر کا نغمہ ” جانے کہاں گئے وہ دن “ مچل رہا تھا۔ مودی جی کےانتخابی مہم پر خرچ ہونے والے سرمائے کا کارکردگی سے موازنہ کیا جائے تو ”میرانام مودی“جوکر سے بھی بڑی فلاپ نکلے گی۔ بہت ممکن ہے حزن ملال کے عالم میںخودمودی جی بھی ”جانے کہاں گئے وہ لوگ“ گنگنا رہے ہوں۔اس لئے کہ ایک سال قبل پھول بچھانے والی گجرات کی پٹیل برادری آگ برسا رہی تھی۔ ہاردک پٹیل کی رہائی کیلئے مظاہرے کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ پٹیل سماج میڈیسن ااسکوئر کے لئے دیا جانے والا اپنا چندہ واپس مانگ رہا تھا۔
ان زمینی حقائق کے اعترافنے دوسرے امریکی دورے کو کسی قدر پروقار بنا دیا۔ عوامی خطاب سےاجتناب کرتے ہوئے صنعتکاروں کی جانبتوجہ کی گئی۔ میک انڈیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئےگوگل ، فیس بک اوربجلی سے چلنے والی گاڑی بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کا دورہ کیاگیا۔ ٹیسلاچونکہ امریکہ سے باہر کارخانہ کھولنے پر غور کررہی تھی اس لئے اسےہندوستان بلانے کی کوشش کی گئی۔ اس غرض سے وہ لوگبنگلورو بھی ا?ئے لیکن چین کو ترجیح دی اور میڈ ان چائنا گاڑی بنانے کا فیصلہ کیا۔ فیس بک والے انٹر نیٹ بیسکس نامی ایک پروجکٹ بازار میں لانا چاہتے تھے لیکن دنیا بھر میں اس کی مخالفت ہورہی تھی۔ فیس بک کے زوکربرگ نے مودی جی کو اپنے جھانسے میں لےکر ہندوستان کے بازار میں گھسنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوگئے لیکن انٹر نیٹ کی خودمختاری کیلئے سرگرمِ عمل غیر سرکاری تنظیموں نے حکومت پر اس قدر دباوبنایاکہ اس سے رجوع کرنےپرمجبورکردیا۔
مودی جی کا تیسرا دورہ امریکہ خالص سیاسی اورسفارتی نوعیت کا تھا۔ اس میں نہ کوئی تفریحی ڈرامہ تھا اور نہ ہی تجارتی نشانہ۔ اس بار مودی جی بی جے پی کے ماتھے پر لگا پرانا کلنک مٹانا چاہتے تھے۔ ممبئی حملے کی بعدپٹھانکوٹ حملے کا الزام مسعود اظہر پر ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسعود اظہر ایک زمانے تک ہندوستان کی جیل میں تھے۔ حکومت ہند اس کے خلاف کوئی فردجرم داخل نہیں کی اور بالآخر اٹل بہاری واجپائی کے دور میں وزیر خارجہ جسونت سنگھ خود اغوائ طیارے کے عوض انہیں کابل چھوڑ آئے۔ اس بارمودی جی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قراردینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ جملہ ۵۱ میں سے ۴۱ ارکان کواپنا ہمنوا بنا لیا لیکن چین نے حسب سابق اس تجویز کو ویٹو کردیا۔
جیش محمدکو۱۰۰۲ میں دہشت گرد قراردیا جاچکاہے لیکن۸۰۰۲میں ممبئی حملے کے بعد جب مسعود اظہر پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی تھی تو چین نے اسے ویٹو کردیا تھا۔ گزشتہ سال ہندوستان کی جانب سےمطیع الرحمٰن لکھوی پر کارروائی کرنے کی خاطر پاکستان کو مجبور کرنے کیلئے جو مہم چلائی گئی اسے بھی چین کی مداخلت کے سبب ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا۔اس باراگر وہ چین کو راضی کرلی تو۱۴ کے بجائے دیگر ۷ ارکان سے کام چل جاتالیکن وزیراعظماگرایسی سمجھداری کا مظاہرہ کرنے لگیں تو ا±ن بیچاروں کا کیا ہوگا جن کی بہترین مصروفیت مودی جی پر نت نئے کارٹون بنا کر لوگوں کو ہنسانا ہے۔
اس سفارتی ناکامی کی پردہ پوشی کیلئے پہلے تو ڈھکے چھپے انداز میں چین اور پاکستان کو دہشت گردوں کا محافظ قرار دیا گیا لیکن بعد میں پارلیمانی امور کے وزیر وینکیا نائیڈو نام لینے سے بھی نہیں چوکے۔ اس طرح سعود اظہر کا تو بال بیکا نہ ہوا مگر چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں جو پیش رفت ہوئی تھی اس پر پانی پھر گیا۔ اس سرکار کی غیر دانشمندی نے پاکستان تو کجا نیپال نامی واحد سابقہ ہندو راشٹر کو بھی چین کی گود میں ڈھکیل
دیا ہے۔ مودی جی نےدو مرتبہ نیپال کا دورہ کیا اس کے باوجود وہ دشمن بنا ہواہے۔ چین اور نیپال کے درمیان ریلوے کی پٹری بچھائی جارہی ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں ینی اشیائ نیپال سے ہوکر بلا روک ٹوک ہندوستان کے بازار میں پھیل جائیں گی اور ہم لوگ میک ان انڈیا کی مالا جپتے رہ جائیں گے۔
امریکہ کیلئے چین ہی فی الحال سب سے بڑا خطرہ بناہوا ہے۔ چین کے خلاف امریکی حکام ہندوستان کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ہندوستان کا چین سے برسرِ پیکار ہوجاناامریکہ کے مفاد میں ہے اس لئے وہ ہمیں اکساتے ہیں اور ہم ان کے دامِ فریب میں آجاتے ہیں۔ اس موقع پر سوچنے والی بات یہ ہے کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات ہندوستانی عوام کے حق میں مفید ہیں یا نہیں؟ نیز امریکہ کس قدر قابلِ بھروسہ دوست ہے؟ چین ہمارا پڑوسی نیز وہ معاشی اور فوجی اعتبار سے بہترحالت میں ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے اندر ہند چینی تجارت میں اچھی خاصی پیش رفت ہوئی اور ہندوستان کےاندر چین سرمایہ کاری کاارادہ بھی رکھتا ہے جو دونوں ممالک کی عوام کیلئے فائدہ بخش ہے ایسے میں کسی تیسرے کی خشنودی کیلئے خود اپنا نقصان کرلینا خلافِ دانشمندی ہے؟
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکہ نے اپنے ہر ہمنوا کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ افغانستان میں القائدہ کو ساتھ لے سوویت یونین کا مقابلہ کیا اور پھر اس کے دشمن بن گئے۔ ایران کے مقابلے صدام حسین کی ہمنوائی کی اور پھر اقتدار سے بے دخل کرکےتختہ دار تک پہنچا دیا۔ شام کے مجاہدین کی پہلےحمایت کی اور آگے چل کر وہاں داعش کو اتار دیا جو بشار کے بجائے النصرہ کی سرکوبی کرنے لگی۔ اس کی ایک مثال خود سعودی عرب بھی ہے۔اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں مجاہدین خلق سے لے کر صدام حسین تک سب کو میدان میں اتار گیا۔ جوہری اسلحہ کا بہانہ بناکر ایران پر معاشی پابندی مسلط کردی گئی لیکن سارے حربے یکے بعد دیگرے ناکام ہوگئے۔ اس دوران امریکہ نے یہ بھی محسوس کیا کہ اب ایران کی جانب سے پہلے جیسا نظریاتی خطرہ نہیں ہے اس لئے ایران کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا۔
مسقط کے اندر سفارتی گفت و شنید کا آغاز ہوا اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد ایران نے جوہری ایندھن پر محدود پابندی قبول کرلی۔ اس طرح امریکی انتظامیہ کو معاشی پابندی ختم کرنے کا جواز مل گیا۔ مشرق وسطیٰ کے اندر سعودی عرب امریکہ کا ایک ایسا حلیف رہا ہے جو ہر سرد و گرم میں اس کا باجگذار بنا رہالیکن ایران کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے سے قبل اس کو پوچھا تک نہیں گیا۔ امریکہ کے اس رویہ سے جزیرہ العرب کے سارے حلیف امریکہ سے ناراض ہوگئے اور ان کا اعتماد امریکہ کے اوپر سے اٹھ گیا۔ اس حوالے سے عرب حکام کے اندر پائی جانے والی شدید بے چینی کا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ مودی جی کو اس سے عبرت پکڑنا چاہئے۔
مودی جی کی سعودی یاتراکا گزشتہ سال کے امارات کے دورے سے موازنہ بھی ضروری ہے۔ یمن میں فوج کشی سے انکار کے پاکستانی موقف نےان دونوں ممالک کو پاکستان سے ناراض کیا ہے۔ اسی کشیدگی نے مودی جی کے دورے کی راہ ہموار کی ہے۔ مودی جی جب ابوظبی پہنچے تھے تو ہوئی اڈے پر ان کا استقبال وزیردفاع محمد بن زائد نے کیا تھالیکن ریاض میں ان کے استقبال کیلئے شہر کے گورنر تشریف لائے۔ اس کے بعد مودی جی کو شیخ زائد مسجد دکھلائی گئی۔ ریاض شہر میں بھی بہت ساری خوبصورت مساجد ہیں لیکن ایسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ ابوظبی میں مودی جی نےایک لیبر کیمپ کا بھی نمائشی دورہ کیا لیکن سعودی عرب میں زیادہ تعداد کے باوجود وہ ہندوستانی محنت کشوں سے ملاقات نہ کرسکے۔ ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں مخصوص لوگوں کے خطاب پر انہیں اکتفائ کرنا پڑا جبکہ دبئی کے اندر ایک اسٹیڈیم میں ہندوستانی عوام کے جم غفیر سے انہوں نے خطاب
کیاتھا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ سال اور اس سال کے دورے میں کیا فرق ہے؟
امارات کے دورے پر مودی جی کا سب بڑا ناٹک ابوظبی میں بننے والے ایک مندر کے منصوبے پر خوشی کا اظہار تھا۔ سوامی نارائن کے مندر کو دوسال قبل تعمیر کی اجازت مل چکی تھی لیکن مودی جی اور ان کے بھکتوں نے یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی یہ مندر ان کی سعی کا حاصل ہے۔ سعودی عرب کے اندر تو اس کا تصور محال تھا۔ ابھی حال میں وزیر اعظم نے دہلی کے اندر ورلڈ صوفی کانفرنس کے نام جو ڈرامہ کیا اس میں وہابیت کی خوب جم کر مخالفت ہوئی۔ سلفیت کو داعش کا مرجع و ماویٰ قراردیا گیا اور حرمین شریفین کو سعودی عرب کے چنگل سے آزاد کرنے کا عزم دوہرایا گیا۔ ایسے اجتماع کی سرپرستی کرنے کے بعد بھی اگر مودی جی سعودی عرب سے توقع رکھیں کہ ان کے ساتھ گرمجوشی کا مظاہرہ ہو گاتو یہ سراسر حماقت ہے۔
وہ تو خیر ’حب امریکہ اور بغض پاکستان‘ میں یہ دورہ منسوخ نہیں ہوا ورنہ ممکن ہے کہ عالمی صوفی کانفرنس کے بعد ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات بگڑجاتے۔ اس بات کا امکان ہے کہ مودی جی نے سعودی حکومت کو یقین دلا دیا ہو کہ وہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ایک جمہوری تماشا تھا لیکن اس دورے کےسبب مودی جی کو بریلوی مکتبِ فکر کے علمائ اور عوام کی جو تھوڑی بہت حمایت حاصل ہوگئی تھی اس پر تو پوری طرح پانی پھر گیا ہے۔ بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش میں مودیجی کی لٹیا آئے دناسی طرح ڈوبتی رہتی ہے اس لئے کہ فوری فائدے کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کے اندر دور اندیشی کا فقدان ہے۔دوست اور دشمن میں تمیز کئے بغیر مخالف فریقوں کو خوش کرنے کی کوشش میں وہ دونوں کو ناراض کردیتے ہیں۔ان کی حالتپر یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؟
گئے دونوںجہاں سے خدا کی قسم نہ اِدھر کے ہوئے نہ ادھر کے رہے
نہ خدا ہی ملانہ وصال صنمنہ اِدھر کےہوئے نہ ادھرکے رہے
وزیراعظم کے سعودی عرب دورے کو ایسے پیش کیا جارہا ہے گویا کوئی معجزہ ہوگیا۔ این ڈی ٹی وی نے لکھا ۰۱۰۲کے بعد کسی ہندوستانی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ۰۱۰۲ میں منموہن سنگھ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ منموہن کے بعد مودی پہلے وزیراعظم بھی تو ہیں اور یہ صرف ۶ سال پرانی بات ہے ۶۰ سال نہیں۔ اس دورے سے قبل سعودی ہندوستان کا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک تھا۔کاروبار ۰۴ بلین ڈالر اور ۰۳لاکھ ہندوستانی پہلے سے وہاںزیر ملازمت تھے تو اس میں نیا کیا ہوگیا؟سدھیندر کلکرنی فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک پاکستان کے دوست کو دوست بنا لیا لیکن سوال یہ ہے کہ سعودی عرب ہندوستان کا دشمن کب تھا؟ لیکن کیا وہ اب پاکستان کا دشمن بن گیا ہے؟اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ حال میں سعودی عرب کے اندر جو سب سے بڑافوجی مظاہرہ ہوا اس میں شرکت کیلئےان لوگوں نے نواز شریف کو بلایا تھا نریندر مودی کو نہیں۔ مودی جی سعودی عرب سے ہندوستانی عوام کیلئے کیا لائے؟ اس سوال کا جوب دوسرے دن کے اخبارات میں تھا پٹرول دوروپیہ اور ڈیزل ایک روپیہ مہنگا ہوگیا۔ اس سوغات کیلئے جو لوگ وزیراعظم کو مبارکباد دینا چاہتا ہیں وہ شوق سے دے سکتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close