متفرقات

وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے!

محمد خمیل الد ین

وطن سے محبت سے مراد کسی شخص کی اپنے وطن کے لیے بے پناہ محبت اور پیار ہے۔ایک محب شخص اپنے ملک سے ثقافتی اور فکری طور پر جڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے ملک وقوم کی بقا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتاہے۔کیونکہ وہ اس ملک کی مٹی میں جنا ہوتا ہے اور پھر یہی مٹی میں وہ پروان کو چڑھتا ہے اور پھر یہی مٹی اس کی باقی تمام ملکوں کی مٹی سے افضل نظر آتی ہے۔وطن سے محبت کا ایک جز یہ بھی ہوتا ہے جس کی بنا پر ایک ملک قائم ہوتا ہے۔ مثلا ایک پاکستانی شخص اپنے ملک سے محبت کرتا ہے تو اس نظریہ کی بنیاد پر کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو دو قومی نظریہ پر بنا ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد ہم مسلمانوں کی اپنی سرزمین پر اختیار دینا، اپنی ثقافت کی حفاظت کرنا اور آزادی سے بلا خوف وخطر مذہبی کام سرانجام دیناہے۔

جس طر ح ماں باپ، بہن بھائی،اور اولاد کی محبت فطری اور طبعی ہوتی ہے اسی طرح وطن سے محبت بھی بلا تکلف ہوا کرتی ہے۔جس سرزمین پر وہ اپنی زندگی پہلی آنکھیں کھولتا ہے، پروان چڑھتاہے، شادی بیاہ کرتا ہے، اپنے سپنوں کو پورا کرتا ہے، خوبصورت رشتے بناتا ہے جس میں ماں باپ کا پیار، بھائی بہن میں جگڑا، دوستوں میں ڈانٹ کو محسوس کرتا ہے وہ یہ سب کیسے بھول سکتا ہے اور یہ سب اس کو اسی وطن کی مٹی سے ہی نصیب ہوتا ہے جسے وہ چاہ کر بھی بھول نہیں سکتا۔یہ مٹی اس کا اپنا گھر کہلاتی ہے۔ وہاں کی گلی، وہاں کے پہاڑ، وہاں کی وادیاں، وہاں کی فضائیں، وہاں کے ندی نالے، وہاں کے کھیت کھلیان،وہاں کی چٹانیں، وہاں کا پانی، وہاں کے درودیوار غرض یہ کہ وہاں کی ہر ایک چیز سے اس کی یادیں جڑی ہوتی ہیں اور یہ یادیں ہی اس کو وطن کی محبت کا احساس دلاتی ہیں۔

ایک شخص وطن سے کتنی محبت کرتا ہے اس کا اندازہ یہا ں بیٹھ کر لگانا مشکل ہے مگر جب آپ وطن سے دور ہوں تو آپ کو اس کا صیح پتہ چلے گا کہ وطن سے محبت کیا ہوتی ہے اور کیوں ہے۔ جب ایک تارکین وطن ملک سے باہر روزی کمانے کے لیے جاتا ہے تو اس کا دل پھٹا جاتا ہے۔ وہ اپنوں کے پیارسے دور ہو جاتا ہے۔ اس کو وطن کی مٹی کی خوشبو ستانے لگتی ہے کہ وہ کس دیس میں اور کیوں اس دیس میں آگیا ہے۔ وجہ صرف یہی ہے کہ اسی کے دل میں وطن کی محبت گھر کر چکی ہوتی ہے جو اس کے اپنے پن کا ہمیشہ احساس دلاتی ہے۔ اس لیے جو لوگ ملک سے غداری کرتے ہیں انہیں کھبی بھی اچھے لفظ سے یاد نہیں کیا جاتا جبکہ اس کے برعکس جو لوگ وطن کی خاطر جان دیتے ہیں اور اس کی حفاظت کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے نہ صر ف لکھا جاتاہے بلکہ وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور لوگ چاہ کر بھی اس کو بھول نہیں پاتے۔

وطن کے اس فطری جذبے کا اسلام نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ اس کے لیے ایک پر امن ماحول بھی فراہم کرتا ہے جس میں رہ کر ہم وطن کی محبت کو یقنی بنا سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں وطن سے محبت کر کے ثابت کر دیا کہ وطن سے محبت کیسے کی جاتی ہے اور باقی تمام انسانوں کے لیے وطن سے محبت کر کے ایک بہترین پیغام دیا ہے کہ وطن سے محبت کیسے کی جاتی ہے۔

ایک موقعے پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ

؂ اے مکہ تو کتنی مقدس سرزمین ہے، کتنی پیاری دھرتی ہے میری نظر میں، اگر میں قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں یہاں سے نہ نکلتا (ترمذی)

یہ کلمات ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر تھے جب انہیں مکہ سے نکالا جا رہا تھا اور اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ مکہ کی سرزمین سے کتنی محبت کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پتہ نہیں کتنی اذیتوں کا سامنا کیا مگر پھر بھی مکہ میں رہنے کو ترجیح دی۔ مگر پھر مجبورا آپ ﷺ کو جانا پڑا او ر جاتے ہوئے آپ کی چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں آنسو تھے اور یہ ا پنے پیارے وطن کی محبت کی وجہ سے ہی تھے۔

اسلام نے ملک میں امن وامان کو تباہ کرنے اور وطن سے محبت نہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت سزا سنائی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے کہ؛

؂ جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین پر فساد مچاتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے، یا ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے یا ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دیاں پاؤں کاٹ دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ (المائدہ)

اس کے برعکس حضورﷺ نے وطن سے محبت کی خاطر رشتہ داروں میں ایک دوسر سے اچھا سلوک قائم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ریاست کے لوگوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا؛
؂تم میں سے ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

وطن سے مجت جزو ایمان ہے کیونکہ ایمان کی شرط اولین ہے کہ اپنے آپ سے وفاداری اور اپنے آپ سے وفاداری تب تک ممکن نہیں جب تک اپنے گھر اور اپنے وطن کے ساتھ وفاداری نہ کی جائے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ نبی کریم ﷺنے اپنی پہلی جنگ وطن کے لیے لڑی تھی اور یہ وطن کی محبت کے لیے ہی لڑی تھی۔ غرض وطن کی محبت محض جزو ایمان ہی نہیں بلکہ عین ایمان ہے اور کیوں نہ ہم کہیں کہ؛

یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے
یہ چمن ہمارا ہے ہم ہیں نغمہ خواں اس کے

وطن چاہے جیسا بھی ہومگر یہ ہر شخص کے لیے کسی جنت سے کم نہیں ہے۔ جزو ایمان کیوں نہ ہو جب وطن کی سوندھی مٹی ہی محراب سجدہ اور سجدہ محراب کی اکلوتی ضامن ہو۔وطن سے محبت کیوں نہ ہو جب یہی وطن اس کے لیے خوشیوں کا پیکر بنتا ہے۔جیسا ہی کوئی وطن کے خلاف بات کرتا ہے سارا ملک ایک پیج پر کھڑا ہو جاتا ہے وہ اپنے تمام لوگ اپنے شکوہ شکایات بھول جاتے ہیں کیونکہ اس وقت سب کو ایک ہی مسئلہ نظر آتا ہے اور وہ ہے ملک کی بقا اور اس کے لیے بے پناہ محبت جو لوگوں کے دلوں کے اندر مجودہے۔یہ سب صرف وطن سے محبت کی بدولت ہے۔

وطن سے محبت صرف جذبات اور احساس میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے کردار میں بھی نظر آنی چاہے ہمیں اس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک کو اﷲ ہمیشہ سلامت رکھے اور لوگوں کے دلوں میں وطن کی محبت کو اﷲ ہمیشہ زندہ رکھے۔ ہم نے وطن کے لیے کیا کیا اور ہمار ا معاشرے میں کیا کردار ہے جو ہم نے وطن کے لیے ادا کیا ان سب چیزوں پر غور کرنے کی ضررت ہے تبی ہم ایک عظیم ریاست قائم کر سکیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close