متفرقاتمعاشرہ اور ثقافت

ہم اور ہماری زندگی کا نیا سال

محبوب عالم عبدالسلام

(سدھارتھ نگر، یوپی)

عیسوی سال ٢٠١٨ کا آخری مہینہ دسمبر ختم ہونے کے قریب قریب ہے۔ اور نئے عیسوی سال ٢٠١٩ کی آمد آمد ہے۔ ہم جلد ہی ٢٠١٨ء کو الوداع کہہ کر نئے عیسوی سال ٢٠١٩ میں قدم رکھنے والے ہیں، جو گزرے سال کی طرح زندگی کی ایک اور بہار بن کر آئے گا اور پھر خوشی و غم اور مختلف طرح کے حالات سے نبرد آزمائی کرتے ہوئے گزر جائے گا۔ اور ماضی کی دھندلی یادیں ذہن و دماغ میں مرتسم ہوکر رہ جائیں گی، اور رفتہ برفتہ آگے بڑھتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے ہم جیون کی سیڑھیوں کو سر کرتے ہوئے حیاتِ مستعار کے ایک ایک سال سے محروم ہوتے جائیں گے۔

عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز میں عموماً ہم مشاہدہ کریں گے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں نئے سال کا جشن بڑے ہی جوش و خروش اور دھوم دھام کے ساتھ منایا جائے گا ہمارے ملک ہندوستان میں بھی بہت سارے مسلم و غیر مسلم افراد بالخصوص نوجوان نئے سال کی آمد کے خوشی میں جشن منائیں گے، پٹاخے داغیں گے، آتش بازی کریں گے، گھروں میں قمقمے جلائیں گے، ایک دوسرے کو بڑی گرم جوشی کے ساتھ مبارکبادی پیش کریں گے، نام نہاد عاشق اپنی معشوقہ کو گریٹنک کارڈ کا ہدیہ دیں گے اور یوں اپنے روپے پیسوں کو بے تحاشا رائیگاں کیا جائے گا۔

بہت سارے نوجوان اس رات موسیقی اور شراب و کباب کا استعمال کریں گے اور نشے میں دھت ہوکر دوسروں کی بہن بیٹیوں پر نگاہِ بد ڈالیں گے، اُن پر آوازیں کسیں گے، اُن سے چھیڑ چھاڑ کی ناروا کوشش کریں گے۔

متعدد شہروں میں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے نام پر مشاعرے کیے جائیں گے، قوالی کی محفلیں منعقد کرکے باہم مقابلہ آرائی کی جائے گی۔ کالجزز اور یونیورسٹیز کے لڑکے اور لڑکیاں ٣١ دسمبر کی شب کو ہوٹلوں اور شاہراہوں پر رنگ رلیاں کرتے ہوئے دیکھائی دیں گے۔ غرض یہ کہ ٣١ دسمبر کی شب کو پورا ہندوستان رنگ رلیوں اور رقص و سرور کی محفلوں سے شرابور ہوگا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ نئے سال کی خوشی کے اظہار اور جشن کے اہتمام میں بہت سارے مسلمان بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ جب کہ شریعت اسلامیہ میں اس قسم کی لہو و لعب سے لبریز تقریبات کے اہتمام کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نئے سال کی آمد کی خوشی میں نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جشن منایا ہے نہ صحابہ کرام کے دور میں اس قسم کی کوئی تقریب منعقد کی گئی ہے اور نہ ہی تابعین اور تبع تابعین کے دور میں اس رسم کو ادا کرنے کا کوئی سراغ ملتا ہے۔

نئے سال کا جشن دراصل عیسائیوں کی ساختہ پرداختہ رسم ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق ٢٥ دسمبر کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی لہذا اُن کی سالگرہ کی خوشی میں ٢٥ دسمبر کو کرسمس ڈے منایا جاتا ہے جس کی وجہ سے پوری عیسائی دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہ کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہماری زندگی سے ایک سال کی اور کمی ہوجائے گی اور ہم موت سے مزید قریب ہوجائیں گے پھر یہ جشن کیسا؟ یہ خوش کیسی؟ ہمیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم پٹاخے داغ کر دوسروں کو کس قدر نقصان پہنچاتے ہیں، بوڑھے اور دائمی مریضوں کے سکون کو کس طرح غارت کرتے ہیں، ساتھ ہی فضائی آلودگی میں اضافہ کرکے ماحول کو پراگندہ اور تعفن زدہ کرتے ہیں، جس سے نہ جانے کتنی قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نئے سال کے نام پر یہ بیہودہ حرکتیں ہم انگریزوں کی اندھی تقلید میں کرتے ہیں۔ جنھوں نے ہمارے ملک کے عوام کو برسوں تک غلامی کی زندگی جینے پر مجبور کیا اور اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ اور یہاں سے جاتے جاتے اپنی تہذیب کا کچھ نہ کچھ اثر ہم پر ضرور مسلط کر گئے، جس کے گرداب میں آج اکثر مسلمان پھنسے ہوئے ہیں اور اس کا مشاہدہ ہم  بارہا کرتے رہتے ہیں۔ سیاسی طور پر اگر چہ ہم ان کی غلامی سے آزاد ہوچکے ہیں مگر ذہنی و فکری طور پر آج بھی اُن کی غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں۔

ہماری تہذیب و ثقافت اور مختلف عبادتوں کے اوقات ہجری سال سے وابستہ ہیں۔ جس کی ابتدا و انتہا کا ہمیں علم ہی نہیں رہتا ہے، نئے ہجری سال سے ہماری اکثریت نابلد رہتی ہے اور اگر کچھ مہینوں سے وابستگی ہے بھی تو فقط چند بدعی امور کی انجام دہی اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب و شتم کرنے تک محدود ہے۔

 گزرنے والا سال ٢٠١٨ اپنے رخصت ہونے کے ساتھ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے، یہ دنیا فانی ہے، اِس کا ایک ایک لحمہ ہمارے لیے بہت ہی قیمتی ہے۔ کائنات کے یہ ماہ و سال یونہی گزرتے رہیں گے صبح و شام کی آمد ہوتی رہے گی اور ہم لمحہ بہ لمحہ موت سے قریب تر ہوتے جائیں گے۔

اگر ہم اپنے ملک کی معاشی حالات کا جائزہ لیں تو صورتحال اب بھی بڑی ناگفتہ بہ نظر آئے گی۔ اور اس کا اندازہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر بخوبی لگا سکتے ہیں۔ بہتیرے لوگ آج بھی غربت و افلاس کی زندگی جی رہے ہیں، دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں میں کتنے بے سہارا لوگ فٹ پاتھ پر زندگی گزارتے ہیں، پھٹے پرانے چیتھڑوں اور معمولی قسم کے لحافوں میں رہ کر سرد راتوں اور ہڈیوں میں سرایت کرنے والی برفیلی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ذرا آسائشِ زندگی سے محروم جگہوں میں بسنے والے گھرانوں اور اسٹیشنوں و عام شاہراہوں پر بسیرا کرنے والے بظاہر غیر ملبوس انسانوں اور معمولی قسم کے خفیف لباسوں میں رہنے والے بچوں کا مشاہدہ کریں کہ ہمارے ارد گرد کتنے ایسے لوگ ہیں جنھیں سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب کپڑے تک میسر نہیں، اُس پر مستزاد یہ کہ کتنے ایسے بے سہارا بچے ہیں جو کڑاکے کی سردی اور برفیلی ہواؤں کے باوجود گلی کوچوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں میں روزی تلاشنے پر مجبور ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جو ذرا صاف لباس میں ملبوس نظر تو آتے ہیں، لیکن ٹھنڈک کی شدت کے سامنے اُن کے ناپختہ لباس ناکافی ہوتے ہیں، پھر بھی وہ اُس کا اظہار نہیں ہونے دیتے۔ یہ ہے ہمارے سماج میں بسنے والے بہتیرے لوگوں کی خستہ حالت؛ مگر افسوس کہ ہمیں اُن کے درد کا مداوا کرنے کی فکر نہیں ہوتی، ہم لاکھوں روپے محض ایک رات کے اندر لا یعنی امور میں صرف کردیتے ہیں، ہزاروں روپے انواع و اقسام کے لطف اندوز کھانے میں برباد کر دیتے ہیں اور اللہ کے فرمان: "ان المبذرین کانوا اخوان الشياطين” کا عملی نمونہ پیش کرتے نظر آتے ہیں، اپنی آسائش کے سامنے کسی غریب کی بے بسی اور لاچاری کو دیکھنے اور اُسے دور کرنے کی ہمیں فرصت اور توفیق نہیں ملتی ہے، ہم اللہ کی نافرمانی میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کو تیار رہتے ہیں مگر اُسی خالق کائنات کی دی ہوئی نعمتوں سے کسی کے درد کا مداوا کرنے سے پہلو تہی برتتے ہیں۔ ہائے رے انسان! کتنی گھٹیا و پست ہے تیری سوچ کس قدر تو اپنے مالک کی نافرمانی میں دن و رات ایک کر رہا ہے؟

ابھی بھی وقت ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، اپنا محاسبہ کریں، اپنی دولت و ثروت کو طغیان و سرکشی کا ذریعہ نہ بنائیں؛ بلکہ اسے صحیح مصرف میں خرچ کریں۔ اپنے اٹھنے والے قدم کو اللہ کی رضا و خوشنودی کی راہوں میں آگے بڑھائیں۔ اپنی تہذیب وثقافت کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں، غیروں کی نقالی کرکے اسلامی تشخص و امتیاز کو مجروح نہ کریں۔ نئے سال کے نام پر انجام پانے والے غیر شرعی امور کے بجائے اللہ کو راضی و خوش کرنے والے کام انجام دیں، بالخصوص ٹھنڈک کے اِن ایام میں مفلس و خستہ حال لوگوں کا خیال کریں، ہم خود ہی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ انتہائی دبیز و پُر زور لباس میں ہوتے ہوئے بھی ہم ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں تو پھر آدھے لباس میں رہنے والے لوگوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس لیے اُنھیں بھی اپنی جیب سے اللہ واسطے بغیر کسی ریا و نمود کے گرم کپڑے اور اوڑھنے کے چادر و کمبل وغیرہ مہیا کرائیں۔

محترم قارئین! یہ زندگی اللہ رب العالمین کی جانب سے عطا کردہ ایک نعمت ہے اور اس نعمت سے ایک سال کم ہونے پر ہمیں خوش ہونے اور جشن منانے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم نے سال گذشتہ نیکیوں سے اپنے دامن کو بھرا ہے یا پھر گناہوں کے بوجھ سے لدے ہیں؟ آنے والا نیا سال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: "حاسبوا قبل ان تحاسبوا” کے تحت اپنے ماضی کا احتساب کریں، کہ ہماری محدود زندگی سے ایک اور سال کی کمی واقع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن یہ عمر بھی تمام ہوجائے گی اور ہم شہر خموشاں کی طرف کوچ کرکے ہمیشہ ہمیش کے لیے قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔ ماضی کے احتساب کے ساتھ ساتھ ہم اپنے مستقبل کے لیے بھی ٹھوس منصوبہ بندی کریں اور فرصت کے لمحات میں غور کریں، کہ یہ دنیا جو ہزاروں سال سے قائم ہے، اب تک ہزاروں، کروڑوں، اربوں لوگ اس کرہ ارضی پر آئے اور اپنی اپنی متعینہ زندگی گزار کر رخصت ہوگئے اور کسی دن ہماری زندگی کی بھی شام ہوجائے گی اور ہم اِس دنیا کو خیر باد کہہ کر ملک عدم سدھار دیں گے۔ دنیا چھوڑنے والے بہتیرے ایسے ظالم و جابر لوگ ہیں جو اپنے اعمالِ بد اور قتل و غارت گری کی وجہ سے آج بھی نمونۂ عبرت بنے ہوئے ہیں اور دنیا مسلسل اُن پر لعنت ملامت کر رہی ہے، جب کہ کچھ ایسے خوش نصیب لوگ بھی ہیں جو آج بھی اپنے نمایاں کردار اور بہترین اعمال کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں جگمگا رہے ہیں۔ ہماری بھی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اِس انداز سے ڈھالیں کہ دنیا والے ہمیں اچھے ناموں سے یاد کریں اور ہمارے لیے دعا کے واسطے اُن کے ہاتھ اٹھ جایا کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close