آزادئ نسواں اور اسلام

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مغربی معاشروں کو اکیسویں صدی میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں سے ایک عورتوں کی بے محابا آزادی اور اس کے نتیجے میں ازدواجی رشتوں کی شکست وریخت اور خاندان کا انتشار ہے۔
عورتوں کو یہ آزادی طویل جدّو جہد کے بعد حاصل ہوئی ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے صدیوں کا سفر کیا ہے اور انھیں زبر دست معرکہ آرائی کرنی پڑی ہے ۔ آزادئ نسواں کی یہ نام نہاد تحریکیں مغربی پس منظر رکھتی ہیں۔ اس لیے انھیں سمجھنے کے لیے ان کی ابتدائی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی ضروری ہے ۔
مغرب میں عورتیں صدیوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم تھیں۔ انھیں مردوں کے مقابلہ میں کم تر حیثیت حاصل تھی۔ وہ ہر طرح کے استحصال اور ظلم و ستم کا نشانہ بنتی تھیں۔ سماجی طور پر انھیں مردوں کا محکوم اور تابعِ فرمان خیال کیا جاتا تھا۔ کسی معاملے میں انھیں اختیار اور آزادی حاصل نہیں تھی۔ یورپ میں پندرھویں صدی عیسوی میں حقوقِ نسواں کی آواز دھیمے سروں میں بلند ہوئی ۔ اس کا آغاز فرانس سے ہوا۔ رفتہ رفتہ دیگر یورپی ملکوں کی خواتین میں بھی بیداری آئی اور انھوں نے اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کی۔ یہاں تک کہ ستر ہویں صدی تک آتے آتے بیش تر ملکوں میں مساوی حقوق کی تحریکیں (Equal Rights Movements) بر پا ہوگئی تھیں۔ ان تحریکوں کا بنیادی موقف یہ تھا کہ عورتیں خلقی طور پر مردوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ ہر وہ کام جو مردکرسکتا ہے اسے عورت بھی انجام دے سکتی ہے ۔ عورتوں کی نااہلی در حقیقت مردوں کی پیداکردہ اور ان کے استحصال کا نتیجہ ہے ۔ اس لیے باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں مردوں کے مساوی حقوق حاصل کیے جائیں اور ان کی بالادستی اور تسلّط سے نجات حاصل کی جائے۔
ابتدا میں عورتوں کے لیے حق تعلیم کا مطالبہ کیا گیا۔ تحریکِ نسواں کے علم برداروں کا کہنا تھا کہ اگر لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہوں تو وہ زندگی کے ہر شعبے میں لڑکوں کے مساوی کار کردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔ ان کی جدو جہد کے نتیجے میں انیسویں صدی کے اوائل سے لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہوئے ۔ پہلے ابتدائی پھر ثانوی سطح کے اسکولوں میں انھیں داخلہ دیا گیا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے حق سے وہ انیسویں صدی کے ربع اخیر تک بہرہ ور ہوسکیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد عورتوں کو روز گار اور ملازمت حاصل کرنے میں آسانی ہوئی ۔ اس وقت یہ مطالبہ کیا گیاکہ گھر کی چہاردیواری میں قید رکھنا ان کی انسانیت کی توہین اور ان کی سرگرمیوں کو محض شوہروں کی خدمت اور بچوں کی پرورش تک محدود رکھنا ان پر ظلمِ عظیم ہے ۔ انھیں گھر سے باہر کی کھلی فضا میں سانس لینے، ملازمت کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور سماج کی خدمت کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے مواقع ملنے چاہیں۔ اس وقت تک عورتوں کو اپنے مال و اسباب پر ملکیت کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ حق قانونی طور پر اسے انیسویں صدی کے اواخر میں مل سکا۔ عورتیں اپنے سیاسی حقوق سے بھی محروم تھیں۔ اس کے لیے انھوں نے تحریکیں چلائیں، بالآخر بیسویں صدی کے اوائل میں وہ حق رائے دہی اور دیگر سیاسی حقوق سے بہرہ ور ہوسکیں۔
حقوق نسواں کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی خواتین حقوق کمیشن قائم کیا گیا۔ وقفہ وقفہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین عالمی کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ ایک عالمی معاہدہ تشکیل دیا گیا جسے ’عورتوں کے ساتھ امتیاز کے خاتمہ کا معاہدہ‘ (Convention for Elimination of Discrimination against Women) نام دیا گیا اور تمام ممالک کو اس کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔ حقوق نسواں کی اس عالمی تحریک کی دو بنیادیں ہیں: مساوات اور آزادی۔ ہر سطح پر مساوات اور ہر طرح کی آزادی ۔ عورت کی آزادی کی اب اس حق تک وکالت کی جانے لگی ہے کہ آزادئ رحم (Freedom of Womb) کو بھی اس کا بنیادی حق تسلیم کیا جانے لگاہے۔ یعنی بچہ پیدا کرنے یا نہ کرنے کا اسے پوری طرح اختیار ہے ۔ اگر وہ بچہ پیدا نہ کرنا چاہے تو کوئی اسے مجبور نہیں کرسکتا۔ اوراگر وہ بچہ پیدا کرنا چاہے تو اسے کسی ضابطے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ وہ چاہے تو شادی کے بندھن میں بندھے بغیر اپنے کسی ’دوست‘ کو ایک ’ذریعہ‘ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے ۔ اور اب تو اس کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ جدید تکنالوجی نے اسپرم بینک (Sperm Bank) کی سہولیات پیدا کردی ہیں۔ ماں بننے کی خواہش ہو تو کسی مرد کے واسطے کے بغیر مصنوعی طور پر بار آور ہوا جاسکتا ہے ۔
تحریک آزادئ نسواں کے اثرات اب مغربی معاشروں میں کھلے عام ظاہر ہونے لگے ہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں گہ ان کے نتیجے میں خاندان کا شیرازہ بری طرح منتشر ہوگیا ہے ۔بن بیاہی ماؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اور یہ رجحان اب نو عمر لڑکیوں میں بھی فروغ پارہا ہے۔ پہلے بغیر شادی کے ماں بننے کو معیوب سمجھا اور بنظرِ حقارت دیکھا جاتا تھا۔ اب نہ صرف یہ کہ اسے معیوب نہیں خیال کیا جاتا، بلکہ ایسی عورتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے لیے مختلف سطحوں پر خصوصی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ازداجی رشتہ شکست و ریخت سے دو چار ہے ۔ عورتوں کے خود کفیل ہوجانے اور مردوں پر ان کا انحصار کم سے کم ہوجانے کی بنا پر بہت معمولی باتوں پر طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اب رشتۂ ازدواج ہی کی ضرورت کا انکار کیا جانے لگاہے۔ جب شادی کے بغیر بھی ہر کام ہوسکتا اور ہر خواہش پوری کی جاسکتی ہے تو اس کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے ۔ چناں چہ اب ایسے جوڑوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو بغیر شادی کے میاں بیوی کی طرح ایک فلیٹ میں رہتے ہیں اور جب چاہتے ہیں ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ آزادی کی اس صورت حال سے عورت کو کچھ فائدہ پہنچاہو، بلکہ دیکھا جائے تو وہ سراسر خسارہ میں رہی ہے ۔ خاندان کا ادارہ (Institution) متزلزل ہوجانے اور شادی کا بندھن ڈھیلا پڑجانے ، بلکہ شادی کے بغیر جنسی تعلقات عام ہوجانے کا راست اثر عورت پر پڑاہے۔ مردوں کو ان ذمہ داریوں سے نجات مل گئی جو شادی کے نتیجے میں ان پر عائد ہوتی تھیں اور عورتوں کے سر دوہری ذمہ داریاں آگئیں۔ انھیں وہ بوجھ تو اٹھانا ہی تھا جو فطرت نے ان کے ذمے کیا ہے اور جس میں کوئی دوسرا شریک و سہیم نہیں ہوسکتا، بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داری بھی تنِ تنہا ان پر آگئی اور وہ کسی دوسرے کے تعاون سے محروم ہوگئیں۔ ان گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کے لیے گھر سے نکلنا اور معاشی جدّو جہد کرنا لازم ٹھہرا۔ متعدد سروے رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ اس صورت حال نے عورتوں کے جسموں ، ذہنوں اور نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے اور ان میں امراض اور اموات کا تناسب بڑھاہے ۔ بن بیاہی ماؤں سے پیدا ہونے والی نسل کی مناسب پرورش اور تربیت کا مسئلہ اس پر مستزاد ہے ۔ شفقتِ پدری سے محروم ہونے کی وجہ سے اس کی متوازن ذہنی اور نفسیاتی اٹھان نہیں ہوپارہی ہے جس کی بنا پر یہ نسل مغربی معاشروں کے لیے طرح طرح کے مسائل پیدا کررہی ہے ۔
بے قید آزادئ نسواں کی اس تحریک کے سلسلے میں اسلام کچھ تحفّظات رکھتا ہے ۔ اس نے مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق متعین کیے ہیں اور دونوں پر ذمہ داریاں عائد کی ہیں:
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرۃ۔228)
’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے (مردوں کے حقوق)ان پر ہیں‘‘
اس نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا اعلان کیا اور زندگی کے مختلف میدانوں میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق عطاکیے۔ اس نے عورت کو تعلیم کا حق دیا۔ یہاں تک کہ لونڈیوں کو بھی زیور علم سے آراستہ کرنے کی تلقین کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
رجل کانت عندہٗ امۃ، فادّ بہا فاحسن تادیبہا، وعلّمہا فاحسن تعلیمہا، ثم اعتقہا فتزوّجہا فلہٗ اجران
(صحیح بخاری، کتاب العلم، باب تعلیم الرجل امتہ وأہلہ ، حدیث نمبر 97)
’’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو ، وہ اس کی خوب اچھی تربیت کرے ۔ بہترین تعلیم دے ، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے اس کے لیے دوہرا اجر ہے ‘‘
اس نے عورت کو معاشی جدّو جہد اورملکیت کا حق دیا۔ قرآن میں ہے :
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (النساء۔32)
’’جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ‘‘
اس نے شوہر کے انتخاب میں اس کی پسند و ناپسند کو اہمیت دی اور اس کا اعتبار کیا ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لاتُنکح الایّم حتی تُستأمر، ولا تُنکح البکر حتی تُستأذن
(صحیح بخاری، کتاب النکاح ، باب لا ینکح الاب وغیرہ البکر والثیّب الا برضاہا ، حدیث نمبر 5136۔ صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب استئذان الثیب فی النکاح والبکر بالسکوت۔ حدیث نمبر 1419)
’’شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، جب تک (بصراحت) اس سے معلوم نہ کرلیا جائے اور دوشیزہ کا نکاح نہیں ہوسکتا جب تک اس سے اجازت حاصل نہ کرلی جائے‘‘
ایک خاتون نے اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر شکایت کی کہ اس کے باپ نے ایک جگہ اس کا رشتہ کردیا ہے جسے وہ نا پسند کرتی ہے ۔ آپؐ نے اس نکاح کو فسخ کردیا۔
(صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب اذا زوّج ابنتہ وہی کارہۃ فنکاحہ مردود۔ حدیث نمبر 5138)
اسلام نے اسے مہر و نفقہ کا حق دیا ۔ قرآن میں ہے :
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً (النساء۔ 4)
’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے ) ادا کرو‘‘
اس نے میراث میں عورتوں کے حقوق متعین کیے:
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَ قْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہٗ اَوْ کَثُرَ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً (النساء۔ 7)
’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہے اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔ خواہ تھوڑا ہو یا بہت ۔ اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے ‘‘
الغرض مغرب میں عورتوں کو جو حقوق لمبے چوڑے مطالبات، زبردست احتجاجات اور مظاہروں اور طویل عرصے تک تحریکیں چلانے کے بعد انیسویں اور بیسویں صدی میں حاصل ہوسکے ہیں اسلام نے صدیوں پہلے سے عورتوں کو ان سے بہرہ ور کررکھا ہے ۔
لیکن مردوں اور عورتوں کے حقوق میں مساوات کا مطلب ان کی یکسانیت نہیں ہے۔ اسلام نے دونوں کا دائرۂ کار الگ الگ متعین کیا ہے ۔ کاموں کی یہ تقسیم ان کی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ عورتوں کو مساوی طور پر بچوں کی پیدائش ، پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا ہے ۔ مردوں پر خاندان کی کفالت کا بار ڈالاگیا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
الرجل راع علی اہل بیتہ وہو مسؤل عن رعیتہ، والمرأۃ راعیۃ علی اہل بیت زوجہا وولدہ وہی مسؤلۃ عنہم
(صحیح بخاری ، کتاب الاحکام ، باب قول اللہ تعالیٰ اطیعوا للہ۔۔۔ ۔ حدیث نمبر 7138۔
صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب فضیلۃ الامام العادل، حدیث نمبر 1829)
’’مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے ، اس سے اس کی زیر نگرانی لوگوں سے متعلق سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگراں ہے ۔ اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا‘‘
اسی اہم ذمہ داری کی بحسن و خوبی انجام دہی کے لیے اسے گھر سے باہر کے کاموں اور خاص طور پر معاشی دوڑ دھوپ سے مستثنٰی رکھا گیا ہے اور اس کی کفالت کرنے اور اس کا نان و نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام نے عورت کو مرد کا دست نگر اور محکوم بنادیا ہے اور مرد کو اس پر حاکمانہ اور جابرانہ اختیارات دے دیے ہیں۔ عورت کو معاشی تگ و دو سے آزاد رکھنا اس کا اعزاز ہے، نہ کہ اس کی حیثیت کے کم ہونے کا مظہر ۔ اسلام میں مرد اور عورت فریق نہیں، بلکہ رفیق ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ حبیب ہیں۔ ہر ایک کے حقوق متعین کردیے گئے ہیں اور ہر ایک کے فرائض اور ذمہ داریاں بھی بتادی گئی ہیں۔ ارشاد ہے :
اَلْمُوْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْضٍ (التوبہ۔ 71)
’’مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘‘
اسلام عورتوں کو ایسی بے مہار آزادی نہیں دیتا جو انھیں مغرب میں تحریک آزادئ نسواں کے نتیجے میں حاصل ہوگئی ہے ۔ اس لیے کہ ایسی آزادی سے تقسیمِ کار کا وہ توازن بگڑ جاتا ہے جو اس نے مردوں اور عورتوں کے درمیان قائم کررکھا ہے ، ایک صالح تمدن میں فساد در آتا ہے اور خاندان کا شیرازہ منتشر ہونے لگتا ہے جو صالح تمدن کی تشکیل کے لیے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے ۔
افسوس کہ کچھ نام نہاد مصلحین مسلم خواتین کو آزادی کی اسی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسلم سماج میں عورتیں مظلوم اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔ انھیں گھر کی چہار دیواری میں قید کرکے رکھا گیا ہے ۔ ان کے گھر سے باہر نکلنے اور کہیں آنے جانے پر بے جا پابندی عائد کردی ہے ۔ انھیں ملازمت کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے روکا جاتا ہے ۔ ان کی آزادی کو بیڑیاں پہنائی جارہی ہیں۔ ان مصلحین کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اسلام میں آزادی کا تصوّر مغرب کے تصوّرِ آزادی سے قطعی مختلف ہے ۔ مغربی معاشروں میں اس آزادی کے جو کڑوے کسیلے پھل ظاہر ہورہے ہیں، جس طرح خاندن کے تارو پود بکھر رہے ہیں، اخلاقی گراوٹ ، بے حیائی ، آوارگی ، فحاشی اور عریانیت کو فروغ مل رہا ہے اور محترم رشتوں کا تقدس بری طرح پامال ہورہا ہے ، کیا آزادئ نسواں کی مہم چلاکر وہ مسلم معاشرے میں بھی اسی طرح انتشار و پراگندگی پیدا کرنا چاہتے ہیں؟!!

(مضامین ڈیسک)



⋆ محمد رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے

کہا جاتا ہے کہ وراثت میں عورت کا حصہ مر دکے مقابلے میں نصف رکھا گیا ہے، یہ اس کی حق تلفی ہے۔ یہ بات درست طریقے سے اور مکمل نہیں کہی جاتی۔ ادھوری بات کہہ کر اسلام کے نظام وراثت کو عورت کی حق میں ظالمانہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو مرد کے دوش بدوش کھڑا کردینا اور اس سے ہر اس کام کا تقاضا کرنا جو مرد کرتا ہے، اس کے ساتھ ہم دردی نہیں ہے، بلکہ اس پر سراسر ظلم ہے۔