متفرقات

کس برہمن نے کہا تھا کہ سال اچھا ہے

زندگی کا ایک سال اور ختم ہوگیا، 2016 عالمی اعتبار سے بھی کافی اہم رہا ہے اور ملکی سطح پر بھی اس سا ل بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں،اس سال کا اگر جائزہ لیا جائے تو بہت سے ایسے واقعات ہیں جو نہیں ہونے چاہیے تھے لیکن انہیں زبردستی واقعہ کی شکل دے دی گئی۔عالمی طور پر بھی یہ سال انتہائی اہمیت کا حامل رہا۔ جہاں ایک طرف مسلم مخالف کے طور پہچانے جانے والے ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے وہیں مشرق وسطی میں جاری خونریزی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جہاں عورتوں کے حقوق کی باتیں کرنے والوں نے ہیلری کو صدارتی امیدوار ی میں ناکام کیا وہیں عالمی اتحادیو ں نے حلب میں مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ ایک طرف فلسطین میں اقوام متحدہ نے اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے یہودی کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں ان کی تعمیرات وبازآبادکاریوںکو روکنے کے لئے ٹھوس اقدام اْٹھائے۔ وہیں اسرائیلی صدر نے اقوام متحدہ کے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تقریباً درجنوں ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرلیے۔ اسی سال عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن رجب طیب اردگان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی جس کے پس پردہ گولن تحریک کے روح رواں کا نام لیاگیا اور بے باک عوام نے فوجیوں کی بغاوت کو ناکام کردیا۔ وہیں امسال اپنے ملک عزیز میں بھی بہت سارے واقعات رونما ہوئے جس میں سرفہرست جنوری میں پاکستانی دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ حملہ کے ذریعہ شب خون مارا جو اڑی سیکٹرپر حملہ تک جاری رہا۔ جس کے جواب میں ہندوستان نے بھی سرجیکل اسٹرائک انجام دیا جس پر ہنگامہ ہوا، واویلا مچا اور جھوٹ و سچ کے مابین سرجیکل کو فرضیکل قرار دیا گیا۔ اسی سال ہندوستان کی تاریخ میں سب سے بڑا کرفیو کشمیر کا کرفیو قرار دیا گیا جو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک جاری رہا۔ ابھی تک کشمیر میںسکون کا ماحول نہیں بن پایا ہے بلکہ وانی کی ہلاکت کے بعد سے اس میں مزید شدت آگئی ہے اور آئے دن فوجیوں اور عوام میں جھڑپ جاری  رہتی ہے۔ اسی سال سب بڑا حملہ ملک کی موجودہ حکومت نے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی صورت میں کیا اور طلاق ثلاثہ نکاح و حلالہ کے ذریعہ مسلمانوں کو اس طرح الجھایا کہ وہ اس میں الجھ کر ترقی کی دوڑمیں پیچھے چلے گئے۔ اسی سال 8 نومبر کو وزیر اعظم کے ذریعہ نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیا جس سے صرف غریب عوام کو نقصان پہنچا اور وہ اس پریشانی میں ابھی تک مبتلا ہیں۔ ان واقعات نے ہم ہندوستان کے رہنے والوں کے دل و دماغ کو اس طرح جکڑ کر رکھ دیا کہ ہم دوسرے اصل مسائل سے بالکلیہ الگ ہوگئے۔اسی سال جے این یو طالب علم نجیب کی گمشدگی کا واقعہ رونما ہوا جو ابھی تک مل نہیں پایا ہے۔ دنیا کی بہترین ہندوستانی پولس آج دو ماہ قبل اے بی وی پی کے کارکنوں کے ذریعے زدوکوب کئے جانے کے بعد غائب نجیب کا سراغ نہیں لگا پائی جو بھوپال واقعہ میں محض چند گھنٹوں میں مسلمانوں کو انکائونٹر کے ذریعہ سلادیاتھا۔ بھوپال انکائونٹر کا ڈرامہ اتنی خوبصورتی سے رچا گیا تھا کہ ہر باشعور ہندوستانی نے اس بات کا یقین کرلیا تھا کہ  یہ محض جھوٹ ہے اور مسلمانوں کو اس سے ڈر وخوف میں مبتلا کرنا مقصود ہے۔ ایک طرف بھوپال فرضی انکائونٹر کے ذریعہ مسلم بچوں کو قتل کیاگیا وہیں خالصتان تحریک کے روح رواں کو اس طرح آزاد کرایاگیا کہ مسلمانوں اور باشعور سیکولر ہندوستانیوں کے ذہن میں یہی آیا کہ اگریہ شخص مسلمان ہوتا تو انکائونٹر کردیا جاتا۔ قبل اس کے کہ بھوپال انکائونٹرکے خلاف باضابطہ ایکشن لیا جاتا،کمیشن ترتیب دی جاتی پورے ملک کی عوام کو قطار میں کھڑا کردیاگیا، پندرہ لاکھ اکائونٹ میں تو نہیں آئے لیکن جو کچھ بھی رکھا ہوا تھا سب واپس لے لیا گیا۔ بلیک منی کے نام پر ایسا پانسہ پلٹا کہ امیر اور صاحب ثروت تو گھروں میں بیٹھے رہے اور غریب اپنے خون پسینہ کی کمائی کے حصول کیلئے قطار میں جان گنواتے رہے۔ وزیراعظم نے 50 دنوں کا وقت مانگا تھا جو مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن گزشتہ تمام وعدوں کی مانند یہ بھی محض ’جملہ‘ ثابت ہوا عوام کی پریشانی جوں کی توں اب تک برقرار ہے۔ اور آئندہ بھی کچھ اچھی اْمید نہیں ہے۔ خیر اب 2017 ہندوستانیوںکیلئے کیا کچھ لے کر آتا ہے اور اس سال کچھ اچھا ہوگا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن موجودہ حکومت کی گزشتہ کارکردگی سے یہ عیاں ہے کہ یہاں مسائل الجھ سکتے ہیں سلجھ جائے یہ مشکل ہے۔ یہ تو ہمارے ملک کے سیاسی حالات کی ایک ہلکی سی جھلک تھی۔ یہ وہ واقعات ہیں جو ہمارے ملک میں 2016 میں پیش آئے،2016 میں پیش آئے واقعات میں ایک بہت ہی اہم واقعہ مولانا توقیر رضا صاحب سے متعلق ہے، جب انہوں نے صدیوں پرانی دوری کو دیوبند کا دورہ کرکے پل بھر میں پاٹ دیا،اور پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اب ہم مسلک کے نام پر یونہی آپس میں دست وگریباں نہیں رہ سکتے اب ہمارے آپسی معاملات اور تعلقات بہتر ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ بہتررہیں گے۔( سبرامنیم سوامی کا خواب کہ’’ملک میں مسلمانوں کو آپس میں بھڑا کر انہیں فرقہ فرقہ میںبانٹ دیا جائے گا‘‘نہایت فراست سے علمائے دیوبند وبریلویت نے اسے چکنا چور کردیا۔)  جس کے جواب میں جمعیۃ علماء  ہند نے اپنا پروگرام خواجہ کی نگری میں منعقد کرایا اور جہاں سے ایک پیغام عام ہوا کہ اب مسلمانان ہند فرقوں میں الجھنے والے نہیں ہے۔ خیر ہم نے ذاتی اور ملی اعتبار سے اس سال کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ کیا ہمارے لئے اس سال کچھ ایسا ہوا ہے جس کا فائدہ ہماری ذات کے علاوہ دوسروں کو بھی ہوا ہے۔ہم اپنے ملک و ملت کیلئے کتنے نافع ہیں۔کیا ہمارا کوئی عمل ایسا بھی ہوا ہے جس سے ضرر کا پہلو ابھر کر سامنے آیا ہے۔اگر اب تک نہیں ہوا ہے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم قوم و ملت کیلئے نافع اور ملک کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close