متفرقاتمعاشرہ اور ثقافت

زوال اقدار کاجشن

14  فروری کو دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے دھوم دھا م اور زور وشور سے منایا جاتا ہے دنیا بھر کے عا شقان اپنے اظہار عشق کیلئے نت نئے طریقے اور  انداز اپنا تے ہیں۔ دنیا کے ہر گوشہ میں گویا عشق کی بہار آجاتی ہے۔ ہمارا میڈیا سارے کام کاج چھوڑ کر عاشقوں کے عشق کے مناظر اور انداز ِ عشق کی تشہیر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی جدو جہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔

عشق کے متوالے یہ نو جوانوں کے جھنڈکے جھنڈ جنون عشق میں اس قدر پاگل ہو جاتے ہیں کہ  انھیں  سماجی  ‘  مذہبی  ‘  تہذیبی یہاں تک کہ اخلا قی حدوں کا پاس  و لحاظ بھی نہیں ہو تا ہے۔ یہ بے لگام نسل بے سمت اور بے تحاشہ دوڑ تی چلی جارہی ہے۔ نہ راستے کا شعور ہے نہ منزل کی خبر۔ اظہار ِ عشق کا یہ تماشہ اب بھارت کی گلی، کالج اور بازار میں آ پہنچا ہے۔

 سماج کا ایک طبقہ اس کی پذیرائی کر رہا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی مخالفت اور مخالفت کرنے والوں کی تعداد قلیل ہو تی جارہی ہے اور جو مخالفت کرنے کیلئے آگے آرہا ہے اس کی آواز کو دبا دیا جارہا ہے۔

 سماج کا وہ طبقہ جو اپنے آپ کو دانشور سمجھ رہا ہے بڑی آسانی سے یہ سوال اُ ٹھا رہا ہے کہ کیا عشق گناہ ہے ! کیا اظہار عشق کو ئی غلط بات ہے ؟

جہاں دنیا میں نفرت کا بازار گرم ہے وہاں محبت کی بات کرنا کِس طرح جُرم ہو سکتا ہے ؟ اور یہ سوال  بھی اُٹھا یا جارہا ہے کہ عشق و محبت کی زبان کیا سارے عا لم میں امن و امان کے قیام کی ایک کوشش نہیں ہے ؟اگر ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے۔ ان دانشور ان کے مطابق مخالفین یا تو نفرت کے سو داگر ہیں یا دقیا نوسی ہیںیا مذہب کے ٹھکیدار۔

 اس طرح کھُلّم کھُلاّ اظہار عشق کے حاملین نے ہمیشہ اپنی دلیل میں ان واقعات اور  ان انسانوں کا سہارا لیا ہے جس میں عشق کرنے والوں کو یا تو مرجانا پڑا یا ما ر دیا گیا ہے۔ کِسی کو سولی پر لٹکا یا گیا۔ کسیِ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا یا کِسی کو دیوار وں میں چنوا دیا گیا۔ یہ داستانیں ان نوجوانوں کیلئے محرّک بنتی جارہی ہے مزید ہمارا  Bollywood    اور  Hollywood   اس طرح کے کلچر کے فروغ میں کوئی کثر باقی نہیں رکھ رہا ہے۔

اس دن کو منانے کیلئے سُرخ گلابوں کے تحفے، اظہار ِ محبت کیلئے بے ہودہ فحش جملے و فقرے ‘  رات بھر مردوزن کی مخلوط رقص و سرور کی محفلیں و غیرہ جیسی رسومات نے فروغ حاصل کیا ہے۔

جیسے جیسے گلو بلا ئزیشن کے اثرات بڑھتے جارہے ہیں ہمارے ملک میں بھی یہ رسم ہزار ہا غلا ظتوں اور قباحتوں کے ساتھ عام ہو تی جارہی ہے  ‘ ٹیلی ویژن میڈ یا  ‘  Whats App  اور Facebook  جیسی دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے اس آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اب ہر آئے دن نئے  رسم رواج اور برائیوں کے نت نئے طریقے سامنے آرہے ہیں ۔ اس پر Valantine Day کی یہ مقبو لیت تشویش کا باعث ہے۔

  اب  Valantine Day  محض جذبہ محبت کے اظہار کا مو قع نہ رہا اور نہ صرف تحفہ و تحا ئف کے لین دین کا مو قع بلکہ ہوس پرستی  ‘ جنسی بے راہ روی  ‘  ناچ گانا  ‘  شراب اور  نشیلی اشیاء کے فروغ کا ایک Event   ہو گیا ہے ۔ Valantine Day   کے موقع پر جہاں Greeting card   ہو ٹلوں کی بُکنگ  ‘  تحفہ و تحا ئف کی فروخت  ‘  مو بائیل کے استعمال  SMS   اور سو شل نیٹ ورکنگ کااستعمال بڑھ جاتا ہے۔ وہیں شراب اور نشیلی ادویات کی فروخت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اظہار محبت جو یقینا ایک انسانی جذبہ ہے لیکن  اس کوجذبہ ہوس اور جذبہ حیوانی میں تبدیل کردیا جارہا ہے۔

  زیادہ تشوش کی بات تو یہ ہے کہ اب مسلم لڑکے اور لڑکیا ں بھی اس میں ملوث ہوتے جارہے ہیں۔ مسلم خاندانوں میں آج بھی پردہ کا نظم ہے اور لڑکیاں حجاب استعمال کرتی ہیں۔ لیکن یہ پردہ کا نظم کمزور ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں ۔ تعلیم ہماری ایک بنیادی ضرورت ہے ہم نے بڑی محنت سے لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیداری پیدا کی ہے۔ لیکن اس بیداری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکیاں اپنے اصول و ضوابط  ‘  اقدار کو فراموش کرتے ہوے  اس Popular Culture   کا حِصّہ بن جایئں۔

    فکرمندی کی بات تو یہ ہے کہ اہم اس Valentine Day   کے بارے میں کیا مو قف اپنا ئیں ؟  اب مسلم نوجوان لڑکےاور لڑکیاں بھی اس میں ملوث ہو تی نظر آرہی ہیں اور ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اسے بر وقت روکا نہ جائے تو اس کے شدید یہ نقصانات سامنے آسکتے ہیں۔  اس کیلئے کِسی چوراہے پر دھرنا  ‘  کِسی اخبار میں مضمون یا ریا لی اس کا حل نہیں ہے بلکہ ایک ٹھوس  لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ یہ کام انسانی، اخلاقی نیز مذہبی تعلیمات کے فروغ سے ممکن ہے۔ قبل اس کے ہم  لائحہ عمل  پرروشنی ڈالیں مختصر اً Valentine Day   کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

  Valentine Day  کی تاریخ

  Valentine Day  کی تاریخ ایک طویل تاریخ ہے اس کی روایتیں بھی مختلف ہیں۔ کونسی روایت کتنی درست ہے اور کتنی درست نہیں                 ہے یہ طے کرنا ہمارا کام نہیں ہے مختصراً جو روایات مشہور ہیں ان کا ہم جا ئزہ لیں گے۔

  ایک روایت یہ ہے کہ روم کے بہت سے مشرکین فروری میں جشن مناتے تھے جس میں عشق و محبت کی دیو یاں بھی ہوتی تھیں۔ اس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں محبت کے اظہار کے طور پر تحفہ و تحائف دیتے تھے۔

 ٭دوسری روایت 14فروری کو رومیوں نے ایک عیسائی پادری کو سزائے موت دی تھی۔جس کانام ویلنٹائن  ‘ تھا جو نوجوانوں کی شادیاں کرواتا تھا اور خود بھی عشق میں ملوث ہو چکا تھا۔

  ٭ ایک اور روایت میں ‘  جونی  ‘ جو رومن دیوی ہے اور عورتوں اور شادی کی دیوی مانی جاتی ہے  یہ دن اس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

 ٭ 14       فروری اہل روم کیلئے اس لیے بھی مقدس تھا کہ یہ ایک موسم کی تبدیلی کا زمانہ تھا۔

٭ بعد کے دور میں پوپ نے سینٹ ویلنٹائن کے یوم و فات کو ( 14  فروری 270 ء ) کو یوم محبت قرار دیا تھا۔

 ٭ ملکہ وکٹوریہ نے اس دن محبت کے پیغام پر مبنی کارڈ کی تقسیم کی رسم شروع کروائی تھی۔ اور امریکی تاجروں نے اسے تجارت کا ذریعہ بنایا۔

 کالج  ‘  یو نیورسیٹوں اور اعلیٰ تعلیم کے  اداروں اور خصوصیت سے شہروں میں رہنے والے مسلم لڑکے اور لڑکیوں کی ایک  تعداد    valentine Day   کے کلچر میں شامل ہوتی نظر آرہی ہیں گو کہ یہ تعداد قلیل ہے لیکن اسے بڑھتے دیر نہ لگے گی اگر ہم نے اس کا کوئی حل نہیں نکا لا تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

 ملک کے چند نوجوانوں اور ملت کی کچھ تنظمیں اس کلچر کے حامی نہیں ہیں اور اس کے خلاف آواز اُٹھارہے ہیں لیکن ان کی آواز کو دبا یا جا رہا ہے۔ بعض نے اس کی روک تھام کیلئے تشدد کا سہارا بھی لیا لیکن تشددکسی بھی مسلہ کا حل نہیں ہے۔

 لائحہ عمل

 ایک طرف مسلم نوجوانوںمیں بیداری اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس کیلئے انھیں جدید تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اسلامی تعلیمات ‘  اسلامی اقدار اور اسلامی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے بھی کوشش کرنا ضروری ہے۔  قران  ‘ حدیث ‘  سیرت اور اسلامی تہذیب کی تعلیمات کو شدت کے ساتھ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف اس ملک کی خواتین اور لڑکیوں کو مغرب پرستی کے سحر سے بچانا ہوگا  اوراسلامی تعلیمات کے ذریعے  حجاب  ‘ پردہ  ‘ عورت  کی عفتّ اور پاکدامنی کی اہمیت کو واضح کرنا ہوگا۔    خاص طور پر اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر اسلام کی تعلیمات عام کرنے کا بہترین موقع ہے۔  نہ  صرف  مسلم نوجوانوں کو اس دن  کی تباہ کاریوں سے واقف کروانا چاہیے  بلکہ اس ملک کہ  ہر نوجوان کو اس کلچر سے بچانے کی کی کوشش  ضروری ہے۔ اُنھیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ یہ نام نہاد آزادانہ کلچر عورت کی عزت  و احترام کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

ان تمام پر ا گندہ تہذیبوں سے بچ کرہی ایک عورت اپنی آزادی  ‘ وقار اور سماج میں کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے۔ اور ملک اپنی تہذیب کو پروان چڑھا سکتا ہے۔  ورنہ  ’’ زوال اقدار کا جشن  ‘‘  جب تیز ہو جائے گا توتہذیبوں کا دم ٹوٹ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close