متفرقات

کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا،  تم مجھے مرنے مت دو

آسمان پانی برساتا ہے اورزمینیں اپنی شادابیاں اگل دیتی ہیں۔ یہ شادابیاں دیکھنے والوں کوبھلی معلوم پڑتی ہیں۔ آدمی اپنے ارد گرد ان شادابیوں کو دیکھ کرخوش ہوتا ہے اوریہ سوچنے لگتا ہے کہ اب زمین سے یہ شادابیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ اب یہ گل اوربوٹے کبھی مرنےوالے نہیں ہیں۔ اب ان ندیوں اورآبشاروں کی روانی میں کوئی خلل پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ اب ان پھولوں کی مسکراہٹ کو کوئی چھینے والا نہیں ہے۔

تاہم ایک وقت آتا ہے جب آدمی اسی خطہ زمین سے دوبارہ گزرتا ہے اوراس باروہ یہاں ایک برعکس دنیا کا نظا رہ کرتا ہے۔ وہ زمینیں جوکل تک شادابیاں اگل رہی تھیں، وہ آج بیان بیان نظرآتی ہیں۔ آدمی یہ دیکھ کرحیران رہ جا تا ہے کہ کل تک جہاں ایک دنیا آباد تھی، جہاں پھول کھلے تھے، پودے پروان چڑھ رہے تھے، پتیاں باد سرسرکے ساتھ جھوم رہی تھیں، جہاں پرندے خوبصورت نغمے سنا رہے تھے، وہ دنیا یکایک برباد ہوچکی ہے۔ جہاں کل تک ہر طرف زندگی رقص کر رہی تھی، اب وہاں ہرطرف خوفناک ریگستانی سناٹاہے۔

یہ ایک تمثیل ہے جس سے انسانی زندگی کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ آدمی ماں کے پیٹ سے نکل کرزمین پرآباد ہوتا ہے، پھروہ زمین پرطاقت حاصل کرتا ہے، وہ کم عمری سے جوانی کی طرف بڑھتا ہے،رفتہ رفتہ وہ مال اوراولاد والا بن جا تا ہے۔ اب اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس نے زمین پرکنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اب اس کی دنیا کبھی اجڑنے والی نہیں ہے۔ اب اس کی طاقت میں کوئی کمزوری پیدا ہونے والی نہیں ہے۔

لیکن تبھی انسان پرایک تجربہ گزرتا ہے جواس کی تمام خوش گمانیوں الٹ دیتا ہے۔ وہ صدماتی تجربہ اس کی زندگی کی تمام لذات کا خاتمہ کردیتا ہے۔ یہ تجربہ موت کا تجربہ ہے۔ موت کا تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے پاس آسما نی فیصلوں کو قبول کرنے کے سوا، کوئی چارہ نہیں ہے۔

وینزوئیلا کے صدرہوگو شاویز (28 July 1954 – 5 March 2013 ) جنوبی امریکہ کے بہت ہی طاقتور لیڈر تھے۔ انھوں نے امریکہ اور یوروپ کے کسی دبائو کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ محض   58 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوگئی ۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے آخری وقت میں کامریڈ کو بلا یا۔ وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن کمزوری کے سبب کچھ بول نہیں پا رہے تھے، تبھی کامریڈ نے اپنا کان ان کے منھ میں لگا دیا۔ تواس نے سنا۔

"کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا ہوں ، برائے مہربانی تم مجھے بچا لو، تم مجھے مرنے مت دو۔”

(I do not want to die, please do not let me die)

Mail Online 7, March 2013

قرآن میں زندگی کی اس حقیقت کا بیان ان الفاظ میں ہوا ہے: "ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی، اورکل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئ جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے” 18- 45

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد آصف ریاض

محمد آصف ریاض ملک کے معروف اسلامی اسکالرہیں۔ ان کی پیدائش 14 جولائی 1977 کو پٹنہ کےایک گائوں حضرت سائیں میں ہوئی۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا اوراس کے بعد صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے بہار کے موقر روزنامہ پندارسے اپنی صحافت کی ابتدا کی۔ پھردہلی سے نکلنے والی میگزین سنڈے انڈین میں ورکنگ ایڈ یرکے عہدے پر فائز ہوئے۔ اب تک موصوف کے سینکڑوں مضامین ملکی اورغیر ملکی رسالے میں شائع ہوچکے ہیں۔ موصوف "امکانات کی دنیا"، "مظفر نگر کیمپ میں"، " موت کے اس پار" نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

متعلقہ

Close