متفرقات

غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست‘‘

ابراہیم جمال بٹ
محبوب کی محبت ایک فطری عمل ہے لیکن اگر اس محبت کے بیچ محبوب کی پسند وناپسند کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ محبت نام کی ایک ’’مشق گردانی‘‘ کہلائے گی۔ محبت محبوب کی ہر عمل پر وقت، پیسہ حتیٰ کہ جان بھی قربان کردینے کا نام ہے۔ اس کی ہر ادا ہی نہیں بلکہ ہر حکم کی تعمیل میں لفظِ محبت کی تشریح موجود ہوتی ہے، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس کے دوستوں اور ہمنواؤں کی قدرکرنے میں محبوب کی ہی کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ مرزا غالب ؔ نے کیا ہی خوب کہا ہے ؂
غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست‘‘
غرض محبت ایک ایسے عمل کا نام ہے جس میں مٹھاس ہے، جس کی مٹھاس کا نتیجہ تازہ تازہ پھل اور پھولوں کی خوشبو ہے۔ یہ تازہ پھل اور گلابی خوشبو جس شخص کو حاصل ہو جائے اسے اور کیا چاہیے۔ ایک طرف لذیز اور تازہ پھل اور دوسری جانب رہنے کو پھولوں سے بچھا ہوا ایسا نرم نرم بچھونا کہ چاہتے ہوئے بھی کوئی اس سے نہ اُٹھے۔ آج دیکھئے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں پوری دنیا میں اس محبوب کے محب ستارے ہر جانب چمکتے نظر آرہے ہیں۔ ہر ستارہ انسانی دلوں پر راج کر رہا ہے، زبانوں پر ان کا نام ادب واحترام سے لیا جا رہا ہے، اور جب کبھی بھی ان ستاروں کے متعلق بات چھیڑی جاتی ہے تو ہر جانب آہ آہ کی صدائیں سنائی دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی اصل محبت کا نتیجہ توہے۔
اس کی ہر ادا ہے میری جان
وہ جان ہی کیا جو نہ ہو اُس پر قربان
لیکن!ہم کیا دیکھتے ہیں کہ محبوب نے جو کہا ،ہم نے اس پر غور نہیں کیا۔۔۔ اس کو سنا مگر سنتے ہی رہ گئے، نہ حکم کی تعمیل اور نہ ہی سن کر ہمارے اندر وبیرون کوئی تبدیلی رونما ہوئی،بس سنتے ہی رہ گئے۔ محبوب کی بات سننی تھی تو ہم نے لبیک کہا۔۔۔ جب قریب سے دیکھا تو لبیک کے سوا کچھ نہ پایا۔۔۔محبوب کی محبت کا اصل (اس کی ہر ادا اور ہر حکم پر قربان ہونا) مقصد ہی نہیں پایا۔ محبت کی راہ میں جو اقرار کرنے کا وقت آیاتو زبان پر صرف محبوب محبوب ہی نکل رہا تھا۔یاد رہے! وہ دعوی ہی کیا جس میں زبان پر محبت ہو لیکن عمل سے خالی، وہ محبت نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو ہی دھوکاہے۔ جس دل میں خمیرِ محبت کے ساتھ ساتھ ’’قربان علی المحبوب‘‘ کا جذبہ نہ ہو اس محبت میں کوئی دم نہیں۔ افسوس ہم لوگ محبت کے معنی، مفہوم اور مقصد وغایت سے ناآشنا ہونے کی بنا پرہی ’’زبانی محبت‘‘ کو اصل محبت سمجھ بیٹھے ہیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ایک جانب محبوب کی زبانی محبت ہے اور دوسری جانب محبت کی ہر ادا اورہر پسندو ناپسند پر ہمارا عملی انکار۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل اور مطلوب ومقصودِ محبت کی کوئی حیثیت ہمارے دلوں میں موجود ہی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں محبت اور محبوب کی ہر خواہش پر عمل ہے۔ جس انسان میں محبت کے ساتھ اتباعِ محبوب نہیں، اس کے اندر مطلوبہ محبت نہیں ہے۔ دراصل ان کے دل محبت کے نور سے خالی پڑے ہیں۔وہ دل محبت کے اصل جوہر سے خالی ہیں، جو اگرچہ زبان سے بکھیر دیتے ہیں محبت کے پھول، مگر عملی اعتبار سے محبوب کے وفادار نہیں ہوتے ہیں۔محبوب سے محبت کرنے والے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ
:’’اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو (میرے محبوبﷺ) کی اتباع کرو، میں تم سے محبت کروں گا۔‘‘
اے کاش ہم نے بات مانی ہوتی!تو آج اس قدر ذلیل وخوار نہ ہوتے۔۔۔ محکوم ومجبور نہ ہوتے۔۔۔ اعلیٰ سے ادنی نہ بنتے۔۔۔ ہر کسی کا نوالہ نہ بنتے۔۔۔ اور ہر ایک کا آلۂ کار نہ بنتے۔ یہ بات واضح ہے کہ جب تک ہم محبوب ﷺکی اصل محبت میں کام کر رہے تھے تو دنیا کی کوئی بھی شئی ہماری تابع وفرماں برداری سے خالی نہ تھی اور جب ہم نے راہ بدلی تو دنیا کی ہر حقیر شئی ہم پر غالب وحاکم ہو گئی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close